پیراسٹامول کمر کی شدید درد کے لیے موزوں نہیں،تحقیق

لندن(ثناء نیوز)برطانیہ میں سالانہ ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد کو کمر کی درد کی شکایت ہوتی ہے اور معذور ہونے کی یہ ایک بڑی وجہ ہے.میڈیکل جرنل لینسٹ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کمر کی شدید درد میں پیراسٹامول اتنی ہی کارآمد ہے جتنی کہ فرضی دوا۔تحقیق کے مطابق پیراسٹامول نہ تو

شدید کمر کے درد کو جلد ٹھیل کرتی ہے اور نہ ہی اس سے آرام ملتا ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ میں سالانہ ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد کو کمر کی درد کی شکایت ہوتی ہے اور معذور ہونے کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔تحقیق دانوں نے آسٹریلیا میں 1650 سینٹرز پر ان لوگوں پر تحقیق کی جن کو چھ ہفتے یا اس سے کم عرصے تک کمر کی درد ہوئی۔ان افراد میں سے ایک تہائی کو ایک ماہ کے لیے پیراسٹامول دی گئی، ایک تہائی کو موزوں دوا دی گئی جبکہ ایک تہائی کو پلیسیبو یعنی جعلی دوا دی گئی۔ایک ماہ کے استعمال کے بعد تحقیق دانوں کو یہ معلوم ہوا کہ پیراسٹامول کے استعمال سے نہ تو تکلیف میں کمی ہوئی اور نہ ہی نیند میں بہتری۔سائنسدانوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ تینوں گروپس میں درد کے دور ہونے کا وقت ایک ہی تھا جو 17 روز تھا۔اس تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی آف سڈنی کے ڈاکٹر کرسٹوفر ولیمز کا کہنا ہے اس نتیجے سے یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اس سوچ سے نکلنا ہو گا کہ علاج میں سب سے پہلے پیراسٹامول دی جائے۔تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ کمر کی درد اور دیگر دردوں میں فرق ہے جیسے کہ سر اور دانت کا درد جن میں پیراسٹامولکافی کارآمد ہے۔آکسفرڈ کے چرچل ہسپتال کے ڈاکٹر اینڈریو مور جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے نے کہا کہ پیراسٹامول ہر درد اور ہر انسان کے لیے نہیں ہے۔nt/shz/ah/jk

Archives