’’نیا ہیرو مبارک ہو ‘‘

’’نیا ہیرو مبارک ہو ‘‘

شکیل احمد ترابی

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جانتے بوجھتے اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ خیانت نہ کرو ، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ( فتنہ ) ہیں اور اﷲ کے پاس اجر دینے کے لئے بہت کچھ ہے ۔ ( سورہ انفال ، آیت 28 )
رمضان المبارک میں معمولات کو کافی حد تک تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ عشاء کی نماز کے بعد دن بھر کی مشقت کے بعد تھکاوٹ دور کرنے کے لئے بستر پر لیٹا ہی تھا کہ ایک عزیز کا ٹیلی فون پر پیغام موصول ہوا ۔ ’’ ہر چینل پر انٹرویو ! مبارک ہو ، آپ زرائع ابلاغ والوں نے قوم کو ایک نیا ہیرو دے دیا ۔ ارسلان افتخار کی مبارک ہو ‘‘ ۔
ہمارے مہربان رب نے مال و اولاد کو فتنہ قرار دیا ۔ ان فتنوں کا سامنا بڑے بڑے علماء اور صوفیا کو بھی کرنا پڑا۔
فوجی آمر کے سامنے ’’ نہ ‘‘ کرنے کے بعد بلا مبالغہ مہربان رب نے چوہدری افتخار حسین کو بڑا مقام ، بڑی عزت بخشی ۔ سچ یہ ہے کہ فوجی آمر نے جب ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا اُس موقع پر جو فرد جرم عائد کی گئی تھی ۔ اس میں بغض باطن پوشیدہ تھی ۔ مگر ارسلان کے تعلیمی اداروں میں داخلوں ، میڈیکل سے سول سروس اور سروس میں تیز تر ترقیوں کے پیچھے کئی کہانیاں پوشیدہ تھیں ۔ جسٹس صاحب کی ’’ نہ ‘‘ کے نتیجے نے سالہا سال بعد قوم میں ایک نیا ولولہ اُبھارا ۔ قومی جذبے اور حمایت کے نتیجے میں جسٹس افتخار ایک نہیں دو بار بحال ہوئے ۔ افتخار ایک عام وکیل سے جج بنے تھے ۔ این آر او کے تحت حلف بھی پڑھا تھا ۔ مگر خدا جب چاہے کسی کو ہدایت دے دے ۔ قوم کی حمایت سے جسٹس افتخار میں بڑی تبدیلیاں آئیں ۔انہوں نے ایسے مشکل فیصلے کئے جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے ۔ باپ پُل صراط سے گزر کر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا تھا ۔ جسٹس افتخار کے عروج کے دن تھے جب ارسلان کی ’’ ہوس ‘‘ اور ’’ ڈانز ‘‘ کی شاطرانہ چالوں کے نتیجے ارسلان پر ملک ریاض نے ایسے الزامات عائد کئے ، جن سے جسٹس افتخار کی ایک اور آزمائش شروع ہو گئی ۔
منیر نیازی نے کہا تھا ۔

ایک  اور دریا  کا  سامنا  تھا  منیر  مجھ  کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جسٹس افتخار کے جرات مندانہ فیصلوں سے جن قوتوں کو سخت تکلیف تھی وہ مسلسل سازشوں کے تانے بانے بنتی رہیں کہ جسٹس کو کیسے دام میں لایا جائے ۔ بالآخر ’’ وہ ‘‘ کامیاب ہو گئے ۔ ارسلان کی ہوس نے باپ کو شدید ترین آزمائش میں پھنسا دیا ۔ اﷲ نے انہیں ہمت دی اور انہوں نے اپنے بیٹے کے خلاف بھی از خود نوٹس لے لیا ۔ مقدمے کی سماعت میں بظاہر تو یہ بات سامنے آئی کہ مدعی گواہی اور شہادتیں پیش نہ کر سکا اور کسی جزا سزا کے بغیر ختم کر دیا گیا مگر سچ یہ ہے کہ جس ملک ریاض نے ’’ بڑے سازشیوں ‘‘ کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بندی کی تھی ۔ اس نے ثبوت بھی پیش کرنا تھے اور ان ثبوتوں کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے بینچ نے ارسلان کو قرار واقعی سزا بھی دینی تھی ۔ شطرنج کی چالیں چلنا اور ترپ کا پتہ پھینکنا کوئی جناب آصف علی زرداری سے سیکھے ۔ شاطر دماغ زرداری نے جب بغور جائزہ لیا تو اس نے اسٹیٹ ایجنٹ ملک ریاض کو کہا جسٹس افتخار پہلے ہی ہیرو بن کے ہمیں زیرو کر رہا ہے ۔ تم نے ارسلان کے خلاف ثبوت فراہم کر دئیے تو یہ حضرت عمر ؓ کی راہ اپناتے ہوئے اپنے بیٹے کو بھی سزا دے کر مقبولیت کے کوہ ہمالیہ پر پہنچ جائے گا اور پھر جسٹس کی سزا سے ہمیں کوئی نہ بچا پائے گا ۔
زرداری صاحب کے ’’ صائب مشورے ‘‘ نے ملک ریاض کے ارادے تبدیل کر دئیے اور ’’ ہمارا نیا ہیرو ‘‘ سزا سے بچ گیا ۔ ارسلان ایک معمولی وکیل اور جج کا بیٹا ہے ۔ MONACO کے مہنگے ترین اور عیاشیوں کے حوالے سے بدنام زمانہ جزیرے MONTE-CARLO کی سیر عام آدمی کر سکتا ہے ؟ ۔ سچ یہ ہے کہ باپ کی نیک نامی کا غلط استعمال کر کے آج وہ کروڑ پتی ہے ۔ بلوچستان کے وزیر اعلی ڈاکٹر عبد المالک انتہائی شریف انسان ہیں ، نہ جانے ان کو کیا سوجھی اور انہیں ارسلان کے اندر پوشیدہ مہارت کہاں سے نظر آئی کہ اسے بلوچستان انوسٹمنٹ بورڈ کا وائس چیئرمین بنا دیا ۔ ؟
باپ کی نیک نامی پر بٹہ لگانے والے کی تعیناتی پر حد سے زیادہ تنقید ہوئی ۔ ناقدین میں جناب عمران خان سرفہرست تھے ۔ خان صاحب کی یہ خام خیالی ہے کہ 2013 ء کے انتخابات وہ جیت چکے تھے ، چیف جسٹس کے جانبدارانہ کردار کی وجہ سے وہ وزیر اعظم نہ بن سکے ۔ عمران خان جن سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ روایتی سیاست دانوں سے ہٹ کر کسی تبدیلی کا باعث بنیں گے ۔ آئے روز ایسی غلطی پر غلطی کئے جا رہے ہیں کہ جس سے خود ان کی مقبولیت کا گراف نیچے جا رہا ہے ۔ باپ کا بدلہ بیٹے ارسلان سے لینے کے لئے انہوں نے ایسی بیان بازی کی کہ ارسلان مستعفی ہو گئے ۔ عمران خان نے شیشے کے گھر میں بیٹھ کر ایسی سنگ باری کی جس سے ملک میں ایک نیا تماشہ شروع ہو گیا ۔
ارسلان کو نیا قومی ہیرو تو کسی صورت قرار نہیں دیا جا سکتا مگر بقول شاہ محمود قریشی کے وہ کسی اور کا کھیل کھیل رہے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی کے بیان میں واضح اشارے موجود ہیں کہ مسلم لیگ نواز ارسلان کو استعمال کررہی ہے ۔ اِس بات کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
عمران خان مختلف اوقات مختلف شخصیات پر سخت تنقید کر چکے ہیں ۔ ٹی وی پر آ کر وہ کہتے ہیں کہ شیخ رشید ، خدا مجھے تم جیسا نہ بنائے پھر انہوں نے پرویز الہی کو ڈاکو قرار دیا ۔ الطاف حسین کے خلاف اُن کے ارشادات کس سے مخفی ہیں ؟ مگر با اصول عمران ماضی کے ڈاکوؤں کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر گھوم رہا ہے ۔

؎ غیرت نام تھا جس کا رُخصت ہوئی تیمور کے گھر سے

سینکڑوں کنال اراضی کے گھر میں ریشم و کم خواب کے بستروں میں ’’ مزے ‘‘ کرنے والے دوسروں کے لئے حضرت عمر ؓ کی مثالیں دیں گے تو پھر کچھ پتھر کھانے کے لئے انہیں خود بھی تیار رہنا چاہیے ۔ ارسلان افتخار ، عمران کی گرل فرینڈ سیتا وائٹ کے بطن سے پیدا ہونے والی عمران کی بیٹی ٹیران کا معاملہ ایک بار پھر نہ صرف ذرائع ابلاغ میں لائے بلکہ الیکشن کمیشن میں بھی اس معاملے پر عمران خان کے خلاف ریفرنس سے تحریک انصاف اور سب سے زیادہ دھول عمران کے چہرے پر پڑے گی ۔ دوسروں پر حد سے زیادہ تنقید کرنے والے عمران ٹیران کے حوالے سے عجیب مخمصے اور شرمندگی کا شکار ہو کر کہتے ہیں کہ خدا اپنی اور دوسروں کی پردہ پوشی کا حکم دیتا ہے ۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ دوسروں کے گناہ نہیں اچھالنے چاہئیں ۔ مگر جناب عمران جو رعایت آپ اپنے لئے لینا چاہتے ہیں ، کبھی کبھی دوسروں کو بھی ایسی رعایت ’’ بخش ‘‘ دیا کریں ۔
لوگوں پر سخت تنقید کرنے والے خان صاحب نے عمر چیمہ کے ٹویٹ میں ایک ارب پتی تاجر کی بھانجی کے کسی سیاست دان سے معاشقے کے نتیجے میں حمل کے معاملے کو بھی اپنے کھاتے میں ڈال لیا ۔ لوگ کہتے ہیں کہ دال میں ضرور کچھ کالا کالا ہے ۔ بلکہ لوگ تو یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ ساری دال ہی کالی ہے ۔
جناب خان جن حضرت عمر ؓ کی مثالیں آپ دیتے ہیں ان کے بارے میں سیدنا ابو بکر صدیق ؓ نے کہا تھا کہ عمر ؓ کا باطن اُس کے ظاہر سے بہتر ہے ۔
آپ جس تبدیلی کی بات کرتے ہیں اس کے لئے ظاہر و باطن اور دن و رات کی سب سرگرمیاں ایک جیسی ہونی چاہیے ۔
سورہ انفال اور بعض دیگر مقامات پر خدا نے اولاد کو فتنہ قرار دیا ہے ۔ ارسلان ایک ایسا فتنہ ہے جس نے اپنے سگے باپ کے لئے کئی آزمائشیں کھڑی کیں ۔ لگتا یوں ہے کہ یہ ’’ فتنہ ‘‘ عمران کو منزل پر پہنچنے سے قبل ہی کہیں اور پہنچا دے گا ۔

Archives