سینیٹر ڈاکٹر بابراعوان
کوّا ہنس کی چال کس طرح چلتا ہے یہ بات وہ خاص آدمی ہی بتا سکتا ہے جس نے ہنس اور کوّے کو اکھٹے کسی ریمپ پر ” کیٹ واک” کرتے دیکھا ہو۔ جس طرح کرئہ ارضی کے اولین قاتل نے مقتول کو دفنانے کا فن کوّے سے سیکھا تھا بالکل اسی طرح سے یکطرفہ چِلّانے کا فن بھی جس جس نے سیکھا ہے، یقینا اسی کوّے سے سیکھا ہے۔ اپنے آپ اور اپنے گلے سے ُاوپر سیاہی کے خاتمے کے لیئے سُرمئی میک اَپ پر اِترانے کے فن کا مُوجد بھی کوّا ہی ہے۔ اس کے بارے میں یہ بات بھی مشھور ہے کہ کوّا انتہائی سیانا، چالاک اور مکّار ہونے کے باوجود “گند بازی” سے باز نہیں آتا۔ کوّا لاکھ لیپا پوتی کرے کوئی اس کا مزاج نہیں بدل سکتا۔ کیونکہ مزاج کا تعلق فطرت کے ساتھ ہوتا ہے، اور حیاتیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ فطرت بارہ سال سے لیکر پندرہ سال کے درمیان مکمل ہو جاتی ہے اس کے بعد انسانی فطرت کا بدلنا تقریباً خارج از امکان ہو جاتا ہے۔ کوّے کی عمر تقریباً تین سے چار انسانی نسلوں کی عمروں تک محیط ہوتی ہے، اس لیئے اسکی فطرت کی پختگی کا عرصہ بھی بڑا وسیع ہے۔ سماجی اور معاشرتی علوم کی دُنیا میں جو لوگ فیصلہ پہلے کرتے ہیں اور سوچتے بعد میں ہیں وہ اکثر و بیشتر خود آپ اپنے ہی خلاف فیصلے لکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس طرز کے فیصلوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ ماضیء بعید میں جن منصفوں نے انصاف کی لاش گِرا کر سیاسی نظام میں عسکری مداخلتوں اور مارشل لاؤں کو تخفظ دیا بعد ازاں اُنہیں وقتاً فوقتاً خود آپ اپنے خنجر سے خود کشی کرنی پڑی، اوریا اُنھوں نے ایل ایف او کی کالک سے مُنہ ہاتھ دھوے۔ مارشل لاؤں کا تحفظ تو ایک طرف دو ججوں نے تو مارشل لاؤں کے کہنے پر کیئے جانے والے جوڈیشل قتل کا اعتراف بھی یہ کہکر کیا کہ انھوں نے پاکستان کو آئین، ملکی نظام کو جمھوریت اور غریب کے جھونپڑے اور بے نوا کی کُٹیا میں سوچ اور شعور دینے والے اور سیاست کو محل سے مُحلے میں لانے والے کے قتل کی واردات میں صرف کارندے کا کردار ادا کیااور ان میں سے ایک نے تو بڑی دیدہ دلیری سے ٹی وی پروگرام میں اس اعترافِ کا اعلان کر دیا۔
یوں تو فطرت اور مزاج کے اس جیسے کئی اسیروں کے بے شمار لشکر ہمارے قومی منظر نامے میں خون ریز اور خون آشام فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے اُنہیں داد سے محروم نہیں رکھنا چاہیے جن کے لشکریوں نے اپنے سپہ سالار کو ایک معمولی سی عدالتی نوٹس نما نوٹسی جاری کرنے کے جُرم میں ، پنجاب ہاؤس میں سری پائے، تافتان اور گشتابے کھا کر سپریم کورٹ پر لشکر کشی کی، اور وقت کے قاضی اُلقضاء کو نازک مزاجِ شاہاں پر عدالتی نوٹس کی بجلی گِرانے کے جُرم کی پاداش میں چیف جسٹس سے محض جسٹس بنا کر رکھ دیااور وہ بھی ریٹائرڈ۔ بہرحال یہ ہماری قومی تاریخ کا ایسا باب ہے جس کے بارے میں یہ بھی تاریخ کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس” یُدھ” میں “پرتھوی راج” بن کر کون اُبھرا تھا۔ بریف کیس بھجوانے والا، لے جانے والا، چھپانے والا یا کھانے والا؟
فیصلے صرف عدالتی ہی نہیں ہوتے ہیں، یہ انتظامی بھی ہوتے ہیں، سیاسی ہوتے ہیں، پارلیمانی ہوتے ہیں، قومی ہوتے ہیں، دفاعی ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ایسے فیصلے ہوتے ہیں جنہیں غیر پارلیمانی یا” پسپائی فیصلے” بھی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے فیصلے رات کے اندھیرے میں نورتنوں کے جلُو میں کیئے جاتے ہیں۔ جب کہ ان کی واپسی برسرِ بازار اور دن کے اُجالے میں ہوتی ہے۔ ایک معروف دانشور نے ایسے ہی تازہ صادر شدہ فیصلے پر بالکل درست کہا ہے کہ جو فیصلہ ڈکٹیشن دے کر کروایا جائے گا وہ فیصلہ ڈکٹیشن لے کر “چاٹنا ” پڑتا ہے۔فیصلے کروانے والے کبھی تہہ خانوں میں بیٹھتے تھے مگر اب یہ” کاری گر”بالا خانے میں پائے جاتے ہیں۔جو اُن کی نہ مانے اُن کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ سب جانتے ہیں۔ لیکن جو اُن کی مانتے ہیں اُن کے ساتھ وہ ہوتا ہے جسے وہ باہر نکل کر بتا نہیں سکتے کیونکہ بتانے سے ڈھول کا پول کھلتا ہے۔ اس طرح کے دانشوروں کے ڈکٹیشن زدہ معززین باہر نکل کر کیوں بتا نہیں سکتے اسکے بارے میں سال 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے فوراً بعد راولپنڈی کینٹ کے نواحی علاقے میں ایک سچّا واقعہ سینکڑوں لوگوں کا آنکھوں دیکھا اور بھُگتا ہوا ہے۔ جہاں ایک ریٹائرڈ فوجی افسر نے الیکشن ہارنے کے بعد اپنی برادری کے معززین اور چیدہ چیدہ سپورٹروں کی انتہائی پُرتکلف دعوت کی۔ مرحوم کبھی کبھی بطور وکیل پنڈی کچہری بھی آتے تھے۔ اُن کی دعوت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے والے راویوں کے مطابق اُنھوں نے کھانے کا بندوبست ایک حویلی میں کیا، جبکہ معززین کو اسی کے ساتھ جڑواں حویلی میں ” تقریب اعزاز “کے لیئے باری باری بُلایا۔ قوی الجثہ اور” ہتھ چھُٹ” جوان ڈھول سپاہی کے پاس جو جو معزز باری باری آتا ، اُمیدوار اسکا سر گھٹنوں میں دے کر اپنے دست و بازو سے اسکی” لترول ” کرتا اور پھر اکثر معززین چھترول کے دوران اپنی ٹوپی، صافہ، پگڑی اور چپّل چھوڑ کر پچھلے دروازے سے باعزت خاموشی سے نکل جاتے اور کسی کو اسلیئے نہ بتاتے کہ کہیں باقی معززین اس “تقریب ِ اعزاز” سے محروم نہ ہوجائیں۔ کچھ فیصلے کرنے والے وہ بھی ہیں جن سے نجومی، طوطے، فال نکالنے والے، مستقبل کا حال بتانے والے اور تاریخ دان سخت کتراتے ہیں کیونکہ ان کے لکھے فیصلے میں ان کی خواہشیں، ضرورتیں، ایجنڈا اور روزگار چھُپا ہے۔ ایسے فیصلوں کے لیئے دی گئی تاریخوں پر جہاں جہاں سے “سپاری” پکڑی جاتی ہے وہاں وہاں سے “مشن امپاسبل” کی تکمیل کا تقاضہ ہونا فطری بات ہے۔ اس شریف گروہ نے دُنیا کے معلوم رنگوں کے سارے کے سارے غبارے پھُلا کر دیکھ لیئے ہیں، مگر وہ جس غُبارے میں پھُونک بھرتے ہیں، پھُونک اس میں اتنی دیر ہی رہتی ہے جتنی دیر اسے سچ کی سوئی نہیں چھُو سکتی۔
بات شروع ہوئی تھی کوّے سے جو ہنس کی چال چلنا چاہتا ہے۔ فرض کریں کہ کوّے جیسا شاطر نقّال اگر یہ چال چل بھی جائے تو کیا ہوگا…؟؟ کیا کوّا میک اَپ سے اپنا حلیہ ہنس جیسا بنائے گا؟ کیا کوّے کا قد کاٹھ بڑھ کر ہنس جیسا ہو جائے گا؟اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر” ویدر پروف” میک اَپ ہو بھی جائے تو کیا کوّا کبھی راج ہنس بن سکے گا؟ جی ہاں آپ نے درست سوچا اور درست کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ ساری نقّالی تمام تر کردار نگاری کے باوجود بھی کوّا کوّا ہی رہے گا ۔خواہ وہ قسمت کا کتنا بڑا دھنی کیوں نہ ہو اور ہنس جہاں بھی ہو گا ہنس ہی کہلائے گا۔ کوّا اپنے اوپر ہنس کا بورڈ لگاتا ہے، ہنس والا مُوڈ بناتا ہے، تھوڑی دیر اتراتا ہے اور پھر بپھر جاتا ہے۔ اپنے ہاتھ کا لکھا پڑھ کر مگر وہ پیرزادہ قاسم کا یہ مشورہ کیوں یاد نہیں رکھتا۔
اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نے
ہاتھ بھی مل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
Courtesy Jang
Post a comment