تین سالہ توسیع ۔ مضمرات (2)….

عرفان صدیقی

حکمرانوں نے جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں خوش اسلوبی ہی نہیں شائستگی کے قرینوں کو بھی بُری طرح مجروح کیا ہے۔ کوئی بتائے کہ تین ماہ پہلے وزیر دفاع احمد مختار نے کس کے ایما پر جنرل کو توسیع نہ دینے کا بے تکا بیان جاری کیا تھا؟ کچھ عرصہ پہلے برسنے والی‘ رنگا رنگ خبروں کی برکھا کن ہواؤں کا فیضان تھی؟ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے فوراً بعد‘ 22/جولائی کی شب کی اولین ساعتوں میں یکا یک کس افتاد نے انگڑائی لی کہ محکمہ اطلاعات کو چار سطریں ٹائپ کرنے کی مہلت بھی نہ ملی اور ہنگامی طور پر ہاتھ سے لکھا ایک اطلاع نامہ ٹی وی چینلز کو فیکس کرنا پڑا؟ نصف شب کے لگ بھگ وزیراعظم کو خود ٹی وی پر آنے اور قوم سے خطاب کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ اس خالصتاً پاکستانی فیصلے کو ہیلری کلنٹن اور ایڈمرل مائیک مولن کے دوروں کے درمیان سینڈوچ کیوں کیا گیا؟ اب وزیرعظم صاحب فرماتے ہیں کہ ” یہ محض ایک ”انتظامی معاملہ “ تھا“۔ انتظامی معاملات کی سرانجام دہی کا یہ اسلوب ہوتا ہے؟ یہ تاثر کیوں ابھرا کہ 16/مارچ2009 ء کی شب اضطراب کی طرح‘ حکمران کسی شدید دباؤ کے شکنجے میں تھے اور اُن کی رگ جاں کی خلاصی اس اعلان سے مشروط تھی؟ یہی وہ گہرے خاکستری رنگ کا علاقہ (Grey Area)ہے جس میں سیاہی اور سفیدی باہم دگرپیوست ہیں۔ اس خاکستری علاقے پر نصف شب کی نیم خوابدیدہ ساعتوں میں ڈرامائی تمثیل کا رنگ چھڑک کر مزید پُراسرار بنادیا گیا۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا ایک اور بے ڈھب سابیان اخبارات کی زینت بنا ہے۔ فرماتے ہیں۔ ”جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع سے چاروں بڑے(صدر‘ وزیراعظم‘ چیف جسٹس اور خود آرمی چیف) 2013ء تک محفوظ ہوگئے ہیں“۔ خبر کا متین اردو اور انگریزی میں بار بار پڑھنے کے باوجود میں یہ نہیں سمجھ پایا کہ جنرل کیانی کی توسیع ملازمت کا باقی تینوں ریاستی عہدیداروں کی مدت ملازمت سے کیا تعلق ہے؟ وہ تین سال کے لئے کیسے محفوظ ہوگئے؟ اگر یہ توسیع نہ دی جاتی تو ان تین عہدیداروں کو کس سے اور کیا خطرہ تھا؟ وزیراعظم کے اس ناتراشیدہ بیان کا سلیس زبان میں ترجمہ یہ ہے کہ جنرل کی نوکری نہ بڑھاتے تو ہم سب کی نوکریاں خطرے میں تھیں۔جنرل کیانی کی شخصیت پر اس سے زیادہ ناروا حملے کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دوسرا دور‘ اُن کے پہلے عہد سے کہیں زیادہ گراں بار ہوگا۔ تین سال قبل ان کا تقرر پرویز مشرف نے کیا تھا۔ اب اُن کا تقرر ایک سیاسی حکومت نے کیا ہے۔ سیاستدان ایسے ”انتظامی اقدامات“ کو بھی احسانات سے تعبیر کرتے اور صلہ چاہتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی تو فطری طور پر لین دین کے معاملے میں خاصی حساس ہے۔ وہ اپنے تقرر کردہ آئینی ‘ ریاستی اور حکومتی عہدیدار وں سے بھی پارٹی وفا شعاری جیسی اطاعت مانگتی ہے۔ جنرل کیانی بھی اپنی عزت نفس اور پیشہ ورانہ تشخص کے حوالے سے نہایت حساس ہیں۔ وہ بغض نہیں پالتے اور نہ ہی کسی فریق کی ناروا پاسداری کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں اگر کوئی جھکاؤ ہے بھی تو وہ رائے عامہ کی طرف ہے۔ مشرف سے اُن کا رشتہ آشکارا تھا لیکن جب اُنہوں نے دیکھا کہ بدلے ہوئے حالات میں عوام اس علامت کو برداشت کرنے پہ تیار نہیں‘ تو انہوں نے مشرف کا محافظ بننے سے انکار کردیا۔ مشرف نے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن جنرل نے منصب صدارت سے فراغت کا واضح پیغام دے دیا البتہ عزت و احترام سے رخصتی کی ضمانت اور جان کی امان بھی دے دی۔ ایسا ہی کردار انہوں نے ججوں کی بحالی کے سلسلے میں ادا کیا۔ اب اُنہیں اپنا توازن برقرار رکھنے میں پہلے سے کہیں زیادہ ہنرکاری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ حکومت اس توسیع کوا پنے سرکی کلغی بناکر زیادہ خودسری کا مظاہرہ کرسکتی ہے او رعدلیہ کے بارے میں اسکی جارحانہ مہم جوئی میں مزید شدت آسکتی ہے۔
کم ازکم میں یہ سمجھتا ہوں کہ اشفاق پرویز کیانی جیسے سیاسی اور نیک نام جرنیل کے لئے مزید تین سال نوکری کسی اعزاز و اکرام کاسامان نہیں۔ وہ ملائمت کے ساتھ انکار کردیتے تو اُن کا تین سالہ عہد‘ اُن کے چھ سالہ عہد سے کہیں زیادہ وقیع اور معتبر ہوتا۔ ہماری تاریخ کی ایک ناقابل رشک روایت کا آغاز اُن جیسے قدوقامت کے جرنیل سے نہیں ہونا چاہئے تھا۔ بہت اچھا ہوتا اگر وہ حکمرانوں کو باور کراتے کہ میری سپاہ ‘ اہل سیاست کی طرح بانجھ نہیں۔ اس میں قیادت کا اعلیٰ جوہر موجود ہے اور میرے بعد بھی میرے عزم و کردار کی مشعل اٹھانے والے جانباز قطار اندر قطار کھڑے ہیں۔
ممکن ہے جنرل کے سامنے وہ کچھ ہو‘ جو ہماری نگاہوں میں نہیں‘ کچھ بھی ہو‘ ایک فیصلہ ہوچکا ۔ اب اسے ایک ”اشو“ کی شکل دینا اور متنازعہ بنانا قومی مفاد میں نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اب آگے کی طرف دیکھنا چاہئے۔ جنرل کیانی اب 29/نومبر 2013ء تک پاک فوج کے سربراہ ہیں۔ الله کو منظور ہوا تو اُن کے عرصہ ملازمت میں نئے انتخابات ہوں گے۔ نئی پارلیمان بنے گی۔ نیا وزیراعظم آئے گا۔ نئی صوبائی حکومتیں تشکیل پائیں گی۔ انہی کے عہد سپاہ گری میں نئے صدر کا انتخاب ہوگا۔ انہی کے دور میں امکانی طورپر افغانستان میں امریکی کروسیڈ کادفتر لپٹے گا۔ خطہ نئے امکانات اور نئے ہیجانات سے ہمکنار ہوگا۔ امریکہ ‘ بھارت گٹھ جوڑ پاکستان پر ایک فیصلہ کن وار کی کوشش کرے گا۔ داخلی انتشار کو ہواد ی جائے گی۔ بے چہرہ جنگ کو لگام نہ ڈالی گئی تو جانے پاکستان کا کیا حال ہو۔
بے کراں اندرونی اور بیرونی چیلنج ہمارے میر سپاہ کے لئے نیا عرصہ امتحان ہیں۔ الله انہیں سرخرو کرے۔
اور آخر میں ‘ کالم کی اکتادینے والی سنجیدگی کا بوجھل پن کم کرنے کے لئے قدرت الله شہاب کی کتاب ”شہاب نامہ“ سے ایک چھوٹا سا اقتباس جس کا موجودہ صورت حال سے کوئی تعلق نہیں۔
”جون1958ء کا اوائل تھا میں اپنے دفتر میں بیٹھا کام کررہا تھا۔صدر سکندر مرزا حسب دستور پورے ایک بجے اپنے کمرے سے اٹھ کر میرے دفتر کی کھڑکی کے پاس آئے اور پوچھا۔ ” کوئی ضروری کام باقی تو نہیں؟“۔ میں نے نفی میں جواب دیا تو وہ خداحافظ کہہ کر ایوان صدارت میں اپنے رہائشی حصے کی طرف روانہ ہوگئے۔ تھوڑی دور چل کر وہ اچانک رُکے اور مڑکر تیز تیز قدم میرے کمرے میں واپس آگئے۔ میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ بولے۔ ”ایک ضروری بات میں بھول ہی گیا“ یہ کہہ کر انہوں نے میری میز سے پریذیڈنٹ ہاؤس کی اسٹیشنری کاایک ورق اٹھایا اور وہیں کھڑے کھڑے وزیراعظم فیروز خان نون کے نام ایک دوسطری نوٹ لکھا کہ ”ہماری باہمی متفقہ رائے کے مطابق بری افواج کے کمانڈران چیف کے طور پر جنرل محمد ایوب خان کی ملازمت میں دو سال کی توسیع کے احکامات فوراً جاری کردیئے جائیں“۔ اس پر انہوں نے “Most Urgent” کا لیبل اپنے ہاتھ سے پن کیا او رمجھے حکم دیا کہ میں ابھی خود جاکر یہ نوٹ پرائم منسٹر کو دوں‘ ان کے عملے کے حوالے نہ کروں… یہ مختصر سا پروانہ بڑی عجلت اور کسی قدر لاپروائی کے عالم میں لکھا گیا تھا۔ صدر سکندر مرزا کے ہونٹوں میں لٹکے سگریٹ کی راکھ بھی اس پر دوبار گرچکی تھی لیکن کاغذ کے اس چھوٹے سے پرزے نے ہمارے ملک کی تاریخ کا رُخ موڑ دیا۔ 1958ء میں جنرل محمد ایوب خان کی میعاد ملازمت میں دو سال کی توسیع نہ ہوتی تو پاکستان کی تقدیر کا ستارہ جس انداز سے چمکتا‘ اس کا زائچہ تیار کرنے کے لئے کسی خاص علم نجوم کی ضرورت نہیں“۔
Courtesy Jang

Post a comment

Archives