کشمیر کی پکار

کشمیر کی پکار

شکیل احمد ترابی

جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے انفارمیشن گروپ آف پاکستان میں ملازمت اختیار کی ۔ برسہا برس کی ملازمت کے دوران سید انور محمود اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر حکومتی ملازمت سے انہوں نے ریٹائرمنٹ حاصل کی ۔ اقتدارکے ایوانوں کے ” مسافر ” جن میں منتخب و غیر منتخب شامل تھے میں سے کئی کے ساتھ انہوں نے اہم ذمہ داریاں نبھائیں ۔ سید انور محمود کئی اہم ” کہانیوں ” اور ” سربستہ رازوں ” کے عینی شاہد ہیں میری طرح ان کے کئی چاہنے والے اس بات کے منتظر ہیں کہ ” جو میں نے دیکھا” یا ” عینی شاہد کے قلم سے ” جن تجربات سے وہ گزرے اس کی روداد کتاب کی صورت میں جلد پڑھنے کو ملے گی ۔ انسان ذمہ داریوں پر فائز ہوتے ہیں تو ”نیک و بد ” ان سے سرزد ہوتا ہے ۔ انور صاحب سے بھی بہت سے اچھے کاموں کیساتھ ساتھ کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہوں گی ۔ ان سے اختلاف کرنے والے بھی یقینا کچھ ہوں گے مگر ان کے چاہنے والے ان گنت ہیں ۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یکم نہیں تو دو رمضان کو وہ لازماً اپنے درجنوں احباب کو افطار پر جمع کریں ۔ تقریباً ایک عشرے سے زائد بیت گیا مجھے ان کے اس ” افطار مِلن ” میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔ ان کے اس پروگرام میں وزراء اعظم ، وزراء ، سابق وفاقی سیکرٹریز ، وزارت اطلاعات کے اہم آفیسران اور اسلام آباد پنڈی کے نمایاں قلم کار بھی شامل ہوتے ہیں ۔ 2 رمضان کے افطار میں بھی تین سابق وزراء اطلاعات جناب شیخ رشید احمد ، جناب نثار میمن ، جناب محمد علی درانی ، درجنوں سابق اور موجودہ حکومتی افیسران اور اہل صحافت موجود تھے ۔ جس میز پر مجھے بیٹھنے کا موقع ملا اس پر سابق تینوں وفاقی وزراء اور اہم لوگ حالات حاضرہ اور خوش گپیوں میں مگن تھے ۔ افطار سے قبل مانگی گئی دعا کی بہت فضلیت بیان کی گئی ہے ۔ میں نے دل ہی دل میں جناب سید انور محمود کی صحت ، جان اورمال کے لئے دعا کی ، مگر میری زبان سے ایک دعا ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی کہ یا اﷲ تو مملکت پاکستان کو بھی کوئی ارن دتی رائے ( ہندوستان کی انسانی حقوق کی بہادر راہنما ) عطا کر دے ۔ وہ اسلام کی نعمت سے فیض یاب نہیں ہو سکی مگر وہ زندہ دل کی مالک ہے ۔ بھارت کے اندر مظلوم چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو تو محترمہ ارن دتی رائے ہر ایک کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ۔ کشمیریوں کے لئے جو کردار اس نے ادا کیا ہے ، پاکستان کے انسانی حقوق کے چیمپئنز کے منہ پر وہ طمانچہ ہے ۔ جو زبانی بڑے بڑے دعوے کر کے مال تو بٹورتے ہیں مگر عملی کردار کی ان کو توفیق حاصل نہیں ہوئی ۔افطار میں تحریک آزادی کشمیر کے گوریلا کمانڈر و چیئرمین متحدہ جہاد کونسل جناب پیر سید صلاح الدین کی اہلیہ محترمہ کی وفات پر ان سے تعزیت کر کے لوٹا تھا ۔ گزشتہ دو مہینوں میں کشمیرکے پیر زادے کے قریبی رفقاء میں سے یہ تیسری فوتگی تھی ۔ سسر ، بھائی اور اب رفیقہ حیات ان دو عشروں کی جدائی میں داغ مفارقت دے گئے ۔ کشمیر سے آئے ہوئے ہر فرد کی یہ کہانی ہے کہ ” جہاد کے مقدس محاذ ” پر مصروفیت نے انہیں اپنے پیاروں کے جنازے کو آخری کندھا دینے سے بھی محروم رکھا ۔ پیرصاحب ( سید صلاح الدین ) سے میں نے پوچھا بیس سال سے زائد عرصہ بیت گیا کتنے قریبی عزیز آپ کی غیر موجودگی میں اﷲ کو پیارے ہو گئے ۔ برف کے پہاڑ انسان اور مضبوط اعصاب کے مالک پیر صاحب بولے درجنوں خونی رشتے دار ، مگر عزیز تو ہزاروں ، میں متحدہ جہاد کونسل کا سربراہ ہوں اس لئے اس کارواں میں شامل ہر کارکن کا عزیز میرا عزیز ہے ۔ جناب صلاح الدین سے متعلق بے خبر احباب کی اطلاع کے لیے گزارش ہے کہ آپ پیدائشی ” گوریلا جنگجو ” نہیں ہیں ۔ کشمیر کے ضلع بڈگام کے قصبے سوئی باغ میں پوسٹل سروس کے ملازم سید زادے کے ہاں پیدا ہونے والے سید محمد یوسف ( سید صلاح الدین ) ابتداء میں ڈاکٹر بننا چاہتے تھے ۔ مگر اپنے اہل وطن کو غلامی کی سیاہ رات سے چھٹکارا دلانے کے لیے آپ نے میدان سیاست میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا چنانچہ کشمیر یونیورسٹی سے سیاسیات کی ڈگری حاصل کی ۔ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے ۔ ابتداً جماعت اسلامی یہ خیال کرتی تھی کہ شیخ عبد اﷲ قبیل کے سیاستدانوں کو شکست دے کر وہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے کشمیر آزاد کرائے گی ۔ جماعت اسلامی کے نمائندوں بالخصوص سید کشمیر جناب سید علی گیلانی نے پارلیمانی ایوان میں سالہا سال کشمیر کی آزادی کی بات کی اور قرار دادیں پاس کروائیں ، پیر سید صلاح الدین نے بھی 1987 ء میں سری نگر سے انتخابات میں سیاسی اتحاد ”مسلم متحدہ محاذ ”کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں ہزاروں ووٹ حاصل کئے ۔ ” ام الجمہوریت ہندوستان ” کی حکومت کی بدترین مداخلت اور دھاندلی نے کشمیر کے حقیقی راہنماوں کو شکست سے دوچار کر دیا ۔ اس انتخابی دھاندلی نے کشمیر کے پر امن نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا ۔ جن کشمیریوں سے متعلق ” تپسی تے ٹھُس کرسی ” ایسا مذاق اڑایا جاتا تھا اس کشمیر کے نوجوانوں نے اپنا گرم خون پیش کر کے بھارتی سرکار کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ کشمیر میں انسانی وسائل کی چنداں کمی نہیں تھی ۔ طویل جدوجہد انسانوں کو تھکا دیتی ہے مگر کشمیریوں کے جذبوں کو بھارتی مظالم نہ تھکا سکے ۔ مگر پاکستان کے ”اصل حکمرانوں ” نے جو اپنے آپ کو ” عقلِ کُل ” سمجھتے ہیں جو ہر چیز اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھنا چاہتے ہیں نے پاکستانی لشکر مقبوضہ کشمیر داخل کئے ۔ جو بظاہر مردانہ وار لڑے اور ان کی یلغار نے تہلکہ مچا دیا مگر در حقیقت کشمیر کی تحریک کو نقصان پہنچانے والا یہ پہلا قدم تھا ۔ خدا غریق رحمت کرے لاہور کے سید زادے سید ابو الا علی مودودی کو جنہو ںنے کہا تھا ”غلطی بانجھ نہیں ہوتی ” ۔ پھر غلطیاں بچے جنم دیتی گئیں ۔ بھارتی پارلیمنٹ سے لیکر ممبئی حملے تک کے اقدامات نے تحریک آزادی کشمیر کو بین الاقوامی محاذ پر شدید نقصان پہنچایا ۔ناقابل تلافی نقصان پاکستان کے آمر مشرف کے یوٹرن اور چار نکاتی فارمولے نے پہنچایا ۔ پاکستان کے عوام ہمیشہ کشمیریوں کی پشت پر رہے مگر حکمرانوں کی پالیسیاں ” تحریک کش ” رہیں ۔ پاکستان جو کشمیریوں کا وکیل تھا نے فوجی آمر کے دور میں کشمیریوں کی اخلاقی امداد بند کر دی ۔ ہزار سال تک کشمیر کی آزادی کے لئے جنگ لڑنے والے بھٹو کے داماد بھی فوجی آمر کی بنائی گئی پالیسی ہی پر کاربند رہے ۔ میاں نواز شریف کشمیری ہونے کا دعویٰ تو ضرور کرتے ہیں مگر ان کے پاس تو اتنا بھی وقت نہیں کہ مظفر آباد کے دورے کے موقع پر حریت کانفرنس کے نمائندوں سے کوئی ملاقات ہی کر سکتے ۔ مودی اور نواز شریف ساڑھیوں کے تحفوں کا تبادلہ کر رہے ہیں مودی کے دورہ کشمیر سے قبل کشمیر کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ پاکستانی قیادت کنفیوژن کاشکار ہے ۔ درحقیقت ہماری مت ( عقل ) ماری گئی ہے ۔ بھارت کی چالیں ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہے ۔ امن کی آشاؤں اور ناریوں کے وفود کے تبادلوں سے اصل ایشوز پر پردہ ڈالا جا رہا ہے ۔ ہم پہلے ہی بجلی کے بدترین بحران کا شکار ہیں بھارت ڈیم پر ڈیم بنا رہا ہے ہمیں سمجھ اس وقت آئے گی جب پاکستان کے سرسبز کھیت و کھلیان ویران ہو جائیں گے ۔ پاکستانی حکمرانوں کی بے وفائی کا کیا رونا روئیں اصل ماتم تو ہمیں آزادی کے بیس کیمپ آزاد کشمیر کے حکمرانوں کی بے حسی کا کرنا چاہیے جو کشمیر کے نام پر اپنی سیاست تو چمکاتے ہیں مگر کسی کو کشمیر سے کوئی غرض نہیں ۔ کشمیر اسمبلی اور کونسل کے ممبران کو مراعات اور عیاشیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ زلزلے کے بعد امید بندھی تھی کہ ہماری قیادت سچی توبہ کر کے آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کا حقیقی بیس کیمپ بنائے گی ۔ مگر قیامت خیز زلزلے کے بعد بھی اخلاقی پستی اور بدکاری کے ایسے قصے زبان زد عام ہیں کہ الامان الحفیظ ۔ حکمرانوں کے لچھن پر بین کرنے کو جی چاہتا ہے تو حزب اختلاف کے کردار پر ماتم ۔ سردار عتیق صاحب پہلے ہی پیپلز پارٹی سے ملے ہوئے تھے ، مسلم لیگ ( ن ) کو میاں نواز شریف آزاد کشمیر حکومت کے خلاف ہلنے نہیں دے رہے کہ کہیں جواب میں پاکستان میں جناب زرداری کی ” شاطرانہ چالیں ” وفاقی حکومت کو نہ لے ڈوبیں ۔ بقیہ سیاسی و دینی جماعتیں بھی نام و نمود اور اخباری بیانات سے زندہ ہیں ، زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں ان کے کشمیر کے حق میں بیانات بھی محض ” دال روٹی بلکہ بوٹی ” کے لئے ہی ہیں ۔ سید صلاح الدین اور دیگر کشمیریوں کا درد کون سمجھے ۔ جب وہ سیز فائر لائن عبور کر کے آئے تھے اس وقت ان کا سب سے چھوٹا بیٹا معید یوسف ڈیڑھ سال کا تھا ۔ پیر صاحب بتا رہے تھے کہ اب وہ 22 سال کا ہو گیا ہے اور نوجوان سید زادے نے اپنی ماں کی نماز جنازہ پڑھائی ۔پیر صاحب کا عزم اس ساری صورت حال میں بھی متزلزل نہیں ہوا وہ کہتے ہیں کہ لازوال قربانیوں کے باوجود کشمیری عوام کی اکثریت تحریک آزادی کی پشت پر ہے اورہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ کشمیر مکمل طور پر آزاد نہیں ہو جاتا ۔ اہل پاکستان و آزاد کشمیر اس رمضان میں کشمیریوں کو دعاؤں میںاور نہ مالی امداد کرنے میں بخل برتیں ۔ یاد رکھئیے کسی ایسے بہروپیے کو کشمیر کے نام پر مال مت دیجئیے جس کے اقدامات سے کشمیر کی تحریک نقصان کا شکار ہو اور جو کاروان دفاع پاکستان اور کبھی جیو کے خلاف مظاہرے کرکے کشمیریوں کا فنڈ ضائع کرتا ہے ۔ ان ” پاسبانان وطن ” سے بھی اجتناب برتئیے جو کشمیر کے نام پر اکٹھے کئے گئے کروڑوں کے فنڈز اپنی ذاتی تشہیر ، انتخابی مہم اور دیگر مصارف پر خرچ کر کے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لئے جہنم کا سامان جمع کر رہے ہیں ۔ کشمیر آپ کو پکار رہا ہے دعا کے ساتھ ” مالی دوا ” دل کھول کر کیجئے حزب المجاہدین اور مقبوضہ کشمیر کی اندرکی جماعتوں کی براہ راست مدد کیجئیے ۔

Archives