رمضان اور پاکستان

رمضان اور پاکستان

شکیل احمد ترابی

وہ جو ہر سال آتا ہے ، ہمارے دلوں پر دستک دیتا ہے ، رحمت ، مغفرت اور آتش دوزخ سے نجات کی خوش خبری سُناتا ہے ۔ گزشتہ برس بھی جس کی ہم نے پکار نہ سُنی ، وہ دُکھی ہو کر چلا گیا تھا ۔ رحمتوں کے جام لنڈھانے وہ ایک بار پھر آ گیا ہے ، کوئی ہے جو اُس کی پکار سن کر اس کی آواز پر لبیک کہہ کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا لے ۔
اِنسان کا بھی عجب معاملہ ہے ۔ رفاہی سکیم ہو ، کسی نئی جگہ میں مکان و زمین کی الاٹ منٹ معمولی پیشکش کے ساتھ مشتہر ہو حتیٰ کہ موبائل فون کمپنی کسی’’ دلکش پیکج ‘‘ کا اعلان کرے تو انسانوں کی بھیڑ دیکھتے ہی دیکھتے جمع ہو جاتی ہے ۔ رہائشی پلاٹس کی بعض سوسائٹیاں اشتہار بازی سے لوگوں کا دل ایسا لبھاتی ہیں کہ پلاٹ کے حصول کے لیے فارم بلیک میں فروخت ہوتے ہیں ، بعض جگہوں پرلوگ ایسی دیوانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ سوسائٹیوں کو نظم و نسق قائم رکھنے کے لیے پولیس کے دستے منگوانے پڑتے ہیں ۔ دوسری طرف ہمارے مہربان رب کی جانب بڑھنے کی پکار بلند ہوتی ہے ۔ آؤ نماز کی طرف آؤ فلاح کی طرف مگر دنیا کے لئے وارفتگی ظاہر کرنے والے انسان کے پاؤں کو نجانے کون سی زنجیر جکڑ لیتی ہے اور اس کے قدم فلاح کی جانب بڑھنے سے رک جاتے ہیں ۔
حضرت سلمان فارسی ؓ نے روایت کی کہ ہمارے پاک پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ ’’ لوگو ! بڑی عظمت والا ، بڑی برکت والا مہینہ قریب آ گیا ہے ۔ جس کی ایک رات ، ہزار راتوں سے بہتر ہے ۔ اﷲ نے اس مہینے میں روزے رکھنا فرض کر دیا ہے اور اس کی راتوں میں تراویح پڑھنا نفل کر دیا ( یعنی فرض نہیں سنت ہے ، جس کو اﷲ پسند فرماتا ہے ) جو شخص اس مہینے میں ایک نیک کام اپنے دل کی خوشی سے بطور خود کرے گا تو وہ ایسا ہوتا ہے جیسے کہ رمضان کے سوا اور مہینوں میں فرض ادا کیا ہو ۔ جو اس مہینے میں فرض ادا کرے گا تو ایسا ہو گا جیسے کہ رمضان کے سوا دوسرے مہینے میں کسی نے 70 فرض ادا کئے اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ( مشکوٰۃ )
ایک اور مقام پر ہادی برحق ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ ابنِ آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور روزہ ڈھال ہے ۔ تو جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو بے حیائی اور لغویات سے بچے ۔ اگر اس سے کوئی گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا کرے تو اِسے کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو اﷲ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے بہتر ہے ۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کی اور دوسری جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہوگا ( بخاری )
ہم سب غفلت کے مارے مسلمان کیا اس بار بھی اس پکار پر لبیک نہیں کہیں گے ۔ ’’ رمضان خصوصی پیکج ‘‘کو کیا اب کی بار بھی ہم اگلے برس کے لیے چھوڑ دیں گے ؟ اگلا برس ! واہ رے انسان معمولی پیشکش کو تو کل پر نہیں ٹالتا اور ہمیشہ کی زندگی کو بہتر بنانے والے انعامات بھرے پیکج کو اگلے برس پر چھوڑ رہا ہے ۔ ضمانت تو اگلے لمحے کی نہیں اور منصوبے اگلے برس کے ۔ غافل اپنے گھر ، اِرد گرد اور محلے میں جو پچھلے سال موجود تھے ، اب کی بار اُُن میں سے کئی تمہیں آج نظر نہیں آ رہے ہیں بہت سے چلے گئے ، تجھے غفلت نے اپنا اسیر کیوں بنا لیا ؟ کیا معلوم اگلے برس جب یہ رمضان آئے تو ہمیں نہ پائے ۔ اِن مبارک ساعتوں کو ضائع نہ ہونے دو ۔
دوسروں کو معاف کر دو اور اپنی معافی کا سامان کرلو ، آقا ﷺ اِس ماہ اﷲ کی توصیف و تعریف کے بعد سب سے زیادہ دعائیں بخشش کی کرتے تھے ۔ اپنے رب سے کہتے تھے ’’ خدایا تو بہت ہی زیادہ معاف کرنے والا ہے کیوں کہ معاف کرنا تجھے پسند ہے ، پس تو مجھے معاف کر دے ‘‘۔کہتے تھے ’’ اے رب مجھے معاف کر دے ، مجھ پر رحم فرما ، بے شک تو بہت رحم فرمانے والا ہے ، کبھی کہتے تھے ’’ اے اﷲ مجھے آتش نار سے بچا ‘‘۔
ایک رات کا ذکر سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ’’ کہ آپ ﷺ جائے نماز پر سجدہ ریز ہو کے رو رو کے ،گڑ گڑا کر یہ کہہ رہے تھے کہ ’’ اے اﷲ میرا آسان حساب کیجیو ، میرا آسان حساب کیجیو ۔ آپ ﷺ اِس قدر رو رہے تھے اور آواز ایسے آ رہی تھی جیسے ہنڈیا میں اُبلتے پانی کی ۔ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا اے پیغمبر ﷺ آپ آسان حساب کی دعائیں مانگ رہے تھے یہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا اے میرے صدیق ؓ کی بیٹی ، اُس دن ( قیامت ) جس کا حساب ہوا وہ مارا گیا ، اِس لیے ہمیں آسان حساب کی دعا مانگنی چاہیے ۔
اﷲ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے جناب مظفر بیگ کی کہ جنہوں نے ایک رمضان میں کہا تھا کہ ’’ باعث افسوس ہے جس کے لئے رمضان کا چاند کچھ بھی نہ لایا ، جس کے لئے سورج کا طلوع و غروب روزانہ کا عام معمول رہا ، جو اپنے آپ کو چرتے پھرتے جانوروں سے الگ نہ کر پایا ، جو اپنے اور ان کے درمیان کوئی فرق ، کوئی امتیاز نہ کر سکا ، نہ جس کے دن بدلے نہ دِل بدلا اور ایسی رحمتوں کی موسلا دھار بارش میں بھی جو اپنے دامن کو نہ بھر سکا ‘‘۔
رمضان مواخات یعنی بھائی چارے کا بھی مہینہ ہے ۔ پانی کے ایک گلاس اور فقط ایک کھجور سے کسی کا روزہ افطار کرا کے ہم ان گنت نیکیاں سمیٹ سکتے ہیں ، اپنے اِرد گرد حاجت مندوں کی ضروریات پوری کر کے اپنے دفتر و کاروبار میں ملازمین کے لئے آسانیاں پیدا کر کے ہم اپنا دامن رحمتوں سے بھر سکتے ہیں ۔ آپ ﷺ کی فیاضی میں اِس ماہ کئی گنا اضافہ ہو جاتا تھا ۔ ہم حضور نبی کریم ﷺ کا اُسوہ اختیار کر لیں تو ہمارے معاشرے میں کیا کوئی بھوکا پیاسا رہے گا ؟ اِس بھوک اور پیاس کو مٹانے میں ہم کامیاب ہو جائیں تو ہماری آخرت تو ضرور سنورے گی ، کبھی ہم نے سوچا کہ سخاوت کے ذریعے ہم جب لوگوں کی بھوک پیاس ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اِس معاشرے سے بھوک کے خاتمے کے ذریعے بڑی حد تک ہم جرائم کی بھی بیخ کنی کرسکتے ہیں ۔ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا پاکستان رمضان کے مہینے میں معرض وجود میں آیا تھا ۔ اِس کو حاصل کئے 67 برس مکمل ہونے کو ہیں ۔ ہم نے اِس نعمت کی قدر نہ کی ۔ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ بھائی بھائی کا گلہ کاٹ رہا ہے ۔ ملک آتش فشاں بن چکا ہے ۔ مال و جان کچھ بھی تو محفوظ نہیں ۔ کوئی ٹربیونل بنانے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ روز روشن کی طرح بہت واضح بات ہے کہ جو جتنا طاقتور تھا اُس نے اُسی قدر اپنی قوت کے ذریعے نہ صرف ملک کو لوٹا بلکہ اس کی چولیں تک ہلا دیں ۔ سویلین صرف فوجیوں کو دوش نہ دیں کہ اکیلے فوجی ہی اس ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ ہماری سپاہ کے کار پرداز اپنے اس رویے میں نمایاں تبدیلی لائیں کہ صرف انہوں نے اس ملک کو بچایا اور یہ کہ’’عاقلین‘‘ صرف انہی کے ہاں ہوتے ہیں ۔
جج ، وکیل ، زرائع ابلاغ کے نمائندے اور نوکر شاہی کون ہے جس نے اِس بہتی گنگا میں اشنان نہیں کیا ۔ آئیں سچے دل سے ایک دوسرے کو معاف کر کے ، الزام تراشی کا سلسلہ ترک کر کے ، خود کو پرہیز گار اور دوسرے کو گناہ گار قرار دینے کی روش بدل کے ہم ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں ۔ دلوں کی صفائی کے بعد پیشانی اور زمین کا فاصلہ کم کر کے آئیں ہم اپنے پیغمبر ﷺ کا اسوہ اختیار کر کے اپنے رب سے نہ صرف اپنی مغفرت بلکہ دوسروں کی مغفرت کے ساتھ گڑ گڑا کے کہیں کہ ’’اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم کیا اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو بڑے خسارے پانے والوں میں ہو جائیں گے ۔‘‘ ’’ اے ہمارے رب تو ہماری اس پاک سرزمین سے نفسا نفسی ختم کرنے میں ہماری معاونت فرما ۔ ‘‘ اور’’اے معاف کرنے والے رب ہم تیری اس نعمت جو ہمیں ایک ملک کی صورت میں حاصل ہوئی تھی کی قدر نہ کر سکے، اﷲ تو پچھلے ہمارے گناہ معاف کر کے ہمیں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔‘‘
ہم نے اس پیغام کو صحیح صحیح سن لیا تو ایک نیا ، طاقتور ، با وسائل اور پرامن پاکستان پالیں گے بصورت دیگر خاکم بدہن ہم رہیں گے اور نہ پاکستان۔

Archives