اُمت کے مستقبل کی اُمید ۔۔۔۔ارزدگان

اُمت کے مستقبل کی اُمید ۔۔۔۔ارزدگان

شکیل احمد ترابی

خُدا کے پاک پیغمبر ﷺ نے فرمایا تھا ’’ تم قسطنتنیہ فتح کرو گے ، اِس کو فتح کرنے والی سپاہ اور کمانڈر برتر ہو گا ‘‘ ۔ معاویہ ابن ابو سفیان سمیت کئی نامی گرامی کمانڈروں نے اِسے فتح کرنے کی کوششیں کیں ۔ مگر یہ سعادت سلطنت عثمانیہ کے سلطان مُراد دوئم کے 21 سالہ صاحبزادے فاتح سلطان محمد کے حصے میں آئی ۔ ’’ میرا سلطان ‘‘ نامی بے حیائی کی تصویر کے ذر یعے ترکی سے ہماری نئی نسل کو متعارف کرایا جا رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصے سے عیسائیوں کے قبضے میں قسطنتنیہ کو صرف ایک ماہ 23 دن ( 6 اپریل تا 29 مئی 1453 ء )کے جہاد کے ذریعے سلطان محمد نے اسے عیسائیوں کے قبضے سے چھڑا کر وہاں اسلام کا بول بالا کیا اسی لئے ، اس شہر کا نام ’’ اسلام بول ‘‘ رکھا گیا ، مگر بعد ازاں تبدیل کر کے استنبول رکھ دیا گیا۔آج ہر طرف مسلمان آزمائش کا شکار ہیں ۔ کہیں سے کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں مل رہی ۔ اغیار نے مسلمانوں کے اتحاد OIC کو موثر فورم نہ بننے دیا ۔ اس کے بطن سے عرب لیگ نے جنم لیا ۔ پھر خلیج تعاون کی ریاستوں کا اتحاد بنا اور اب تو اُس میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں ۔ زبوں حالی کے اس دور میں اسلام بول ( استنبول ) سے آنے والی خبریں ہوا کا تازہ جھونکا ہیں ، ترکی کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ نے نعروں نہیں عمل کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ، سیکولر ترکی میں نجم الدین اربکان مسلمانوں کی پہچان بنے ۔ طویل جدوجہد کے بعد وزارت عظمیٰ تک پہنچے اور سیکولر دستور کی نگہبان فوج نے کچھ ہی عرصہ بعد انہیں اقتدار سے باہر کر دیا ۔ نجم الدین اربکان کے دور میں طیب ارزدگان استنبول کے مےئر بنے اور انہوں نے شہر کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا ۔ استنبول دنیا کے چند بڑے شہروںمیں شامل ، مگر صفائی ستھرائی اور خوبصورتی کے اعتبار سے دنیا کا کوئی بڑا شہر اس کے مماثل نہیں ۔ استنبول کی خوبصورتی اور دنیا میں اسے ممتاز مقام دلوانے میں ’’ مےئر طیب ارزدگان ‘‘ کا کردار تھا ۔2001 ء میں طیب نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی قائم کی اور ایک مختصر عرصے کی جدوجہد کے بعد 2002 ء کے انتخابات میں دو تہائی نشستیں حاصل کیں دوسرے انتخاب میں 41 فیصد اور 2011 ء میں تیسرے انتخابات میں کامیابی کا گراف مزید بلند ہو گیا اور یہ تناسب 49 فیصد تک چلا گیا ۔ 350 کے ایوان میں اس وقت AK ( جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ) پارٹی کے 327 ممبران ہیں ۔ طیب نے اقتدار سنبھالا تو ترکی کی فی کس آمدن GDP-GROSS DOMESTIC PRODUCT ) ( تین ہزار امریکی ڈالر کے لگ بھگ تھی ۔ طیب کی بیدار مغزی ، سادہ طرز زندگی اور شفافیت کے سبب ورلڈ بنک کی 4 جون 2014 ء کی رپورٹ کے مطابق فی کس آمدن 15578 امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے ۔ طیب اپنے درخشندہ ماضی کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو ایک بار پھر بلندی پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس نے یو ٹیوب پر پابندی لگائی تو اہل مغرب نے اسے آمر اور انسانی حقوق کا قاتل قرار دیا ۔ جی ہاں آج کا ’’ مُنصف مغرب ‘‘ جن کی خواتین ہمارے معاشروں میں برہنہ رقص بھی کریں تو یہ آزادی ہے اور ہماری بیٹی اپنے اسلامی اصولوں کو مد نظر رکھ کر سر پر دوپٹہ اوڑھ لے تو ان کی مذہبی آزادیوں پر حرف آتا ہے ۔عربوں کی باہمی جنگ ، پاکستان میں دہشت گردی اور ایران میں ایک مخصوص فقہ کے نظام کی موجودگی میں مغرب کوان ممالک سے چلنے والی ہواؤں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا ۔ ترکوں کی’’ محتاط پیش قدمی ‘‘ سے بھی مغرب کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں ۔ چنانچہ گزشتہ سال تقسیم سکوائر کے معمولی واقعے کو بڑھانے کے لئے مغرب نے اربوں روپے جھونک دئیے ۔ تقسیم پلان میں ناکامی پر طیب پر ’’ منی اسکینڈل ‘‘ قائم کر دیا گیا ۔ مغربی میڈیا نے طیب کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ پھیلانے میں دن رات ایک کر دئیے ۔ چنانچہ طیب نے قبل از وقت لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کرا کے 46 فیصد ووٹ حاصل کر کے ثابت کر دیا کہ وہ ترکی کے سب سے مقبول راہنما ہیں ، ان کے مقابلے میں بڑی اپوزیشن جماعت CHS صرف 23 فیصد ووٹ حاصل کر سکی ۔ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے طیب نے کہا کہ یہ کامیابی کا دن ہے اور ہم نے نئے ترکی کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ امریکی اور مغربی قوتیں اپنے مہروں کے ذریعے خدمت اور تعلیم کے نام پر ایسے نیٹ ورکس قائم کرا دیتی ہیں جن کو وقت آنے پر ان ملکوں میں UP-SET کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں اس طرح کی بہترین منظم قوت طاہر القادری صاحب کے اردگرد جمع ہے اور ترکی میں یہ ’’ فریضہ‘‘ جناب فتح اﷲگولن کے ’’ ذمہ ‘‘ لگایا گیا ہے ۔ گولن صاحب کے بھی نہ صرف ترکی بلکہ باہر کے ممالک میں بھی تعلیم کے نام پر بڑے بڑے ادارے قائم ہیں ۔ خدمت کے محاذ پر بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں ۔ ان کی پہچان مذہبی سکالر اور مبلغ کی بھی ہے ۔ وہ طیب ارزدگان کے اتحادی بھی تھے ۔ مگر طیب کے خلاف حال ہی میں اٹھنے والے طوفان کے پیچھے جو قوت سب سے زیادہ منظم تھی وہ جناب گولن کی تحریک خدمت تھی ۔ شروع میں یہ کام خفیہ انداز میں کیا گیا مگر جب جادو سر چڑھ کر بولا تو وال اسٹریٹ جنرل ، بی بی سی اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کو گولن نے کھل کر بتایا کہ اب ان کا کردار حزب اختلاف کے راہنما کا سا ہو گا ۔ وہ اصلاح ترکی میں چاہتے ہیں اور ہمارے قادری کی طرح ڈوریاں باہر سے ہلاتے ہیں ۔ جناب گولن کی خود اختیاری جلا وطنی کو دو عشرے سے زائد گزر چکے ہیں ۔ ترک حکومت کو درپیش چیلنجز پر بیرون دنیا ان کے بہی خواہ تشویش میں مبتلا ہیں ۔ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے تشویش میں کمی ضرور آئی ہے مگر ختم نہ ہو سکی ۔ راقم کی گزشتہ ماہ کے دورہ ترکی کے دوران جن اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں ان کا اظہار یہ ہے کہ ارزدگان ’’ خدمت بحران ‘‘ پر قابو پا چکے ہیں اور اگست میں ہونے والے پہلے براہ راست صدارتی انتخابات میں طیب پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیں گے ۔ ایک انٹرویو میں ترکی کے وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے مشکلات کا نہیں بلکہ بغاوت کا سامنا تھا جس پر الحمد اﷲ میں قابو پا چکا ہوں ہم نے جو عہد کیا تھا وہ نبھا رہے ہیں اور سرکاری خزانے سے ایک پائی کی بھی بدیانتی نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا جو 230 GDP بلین ڈالر تھی وہ اب 800 بلین ڈالر ہے ۔ برآمدات کا حجم 36 بلین سے بڑھ کر 152 بلین ڈالر ہو چکاہے ۔ GDP واجبات 73 فیصد سے کم ہو کر 36 فیصد رہ گئے ہیں کیا بدیانت حکومت یہ کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے ؟۔ترکی کے سینئر صحافیوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ ہم ملکی بحرانوں سے نکل چکے ہیں اور اگست میں صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد طیب ارزدگان نہ صرف ترکی بلکہ مسلمان اُمت کے ایک مدبر راہنما کا کردار ادا کریں گے ۔ ترک صحافی پاکستان اور ترک حکومت کے معائدات اور دوستانہ تعلقات پر خوش نظر آ رہے تھے ایک صحافی نے تو اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ میاں نواز شریف اس آزادی سے لاہور میں نہیں گھومتے جیسے وہ استنبول میں گھومتے گھومتے ’’ کبابچی ‘‘ کے ہاں کباب کھانے چلے جاتے ہیں ۔ ’’ کبابچی ‘‘ سے متعلق معلوم ہوا تو میں نے سوچا کاش میاں برادران لذت دہن و میٹرو سے آگے بڑھ کر بھی کچھ سوچتے اور پاکستان کو حقیقی ترکی کی راہ پر ڈالنے کے کچھ منصوبے بناتے ، ترکی والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ترقی کی منزل کا سفر اختیار کرنے کے لئے میاں صاحب کا پہلا ’’ ہدف ‘‘ ’’ فوج ‘‘ نہیں معیشت کی بہتری ہونا چاہیے تھا مگر خواجگان ، رشید گان اور منشان تو ایسا صائب مشورہ نہیں دے سکتے تھے ۔ کاش ہمارے ہاں شیخ رشید ، پرویز رشید اور شاگرد رشید کی بجائے کوئی رجل رشید ہوتا ؟۔

Archives