قبلہ اول کی پُکار

قبلہ اول کی پُکار

شکیل احمد ترابی

’’ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد ( مسجد اقصیٰ) تک جس کے ماحول کو اُس نے برکت دی ہے ، تاکہ اِسے اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے ۔ ( سورئہ بنی اسرائیل آیت نمبر 1 ) مقدس گھر ، مسلمانوں کا قبلہ اول ، عظیم عبادت گاہ جس کی بنیاد پیغمبر حضرت داؤد علیہ السلام نے رکھی اور جس کی تکمیل حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ہوئی ، یروشلم عام طور پر جسے بیت المقدس کہا جاتا ہے ۔ اِس شہر کو نوع انسانی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ جس کا زرہ زرہ مقدس ، اکثر انبیاء علیھم السلام جہاں معبوث ہوئے ۔ یہ شہر مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے یکساں متبرک ہے ۔ نبی آخر الزماں ﷺ اپنے صحابہ ؓ سمیت ہجرت کے سترہ ماہ بعد تک جس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے رہے ۔ آپ ﷺ کو معراج پر لے جایا گیا تو مسجد اقصیٰ آپ ﷺ کی پہلی منزل بنی۔ اِس مقام پر آپ ﷺ کو سابق انبیاء کی امامت کا اعزاز حاصل ہوا ۔ داؤد علیہ السلام نے اِس شہر پر 33 سال حکومت کی ۔ حضرت داؤد و سلیمان اور دیگر کئی انبیاء اس مقدس شہر میں مُدفن ہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے جب بیت المقدس فتح کیا تو اُس وقت یہودیوں کے معبُد کی بجائے یہاں کھنڈرات موجود تھے ۔ حضرت فاروق اعظم ؓ کے حکم پر یہاں مسجد کی تعمیر ہوئی ، صلیبیوں نے مسجد پر قبضہ کیا تو مسجد اقصیٰ میں بہت رد و بدل کیا گیا ،رہائشی کمرے تعمیر کئے گئے اور اِس کا نام معبد سلیمان رکھا ۔ صلاح الدین ایوبی نے جب بیت المقدس کو فتح کیا تو مسجد اقصیٰ کی از سر تعمیرکی ۔ جنگ عظیم اول دسمبر1917 ء میں انگریزوں نے بیت المقدس و فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد کیا ۔نومبر 1947 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا ۔ 14 مئی 1948 ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا تو عرب اسرائیل جنگ کے بعد یہودیوں نے 78 فیصد رقبے پر قبضہ کر لیا ۔ جون 1967 ء میں دوران جنگ اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا ۔آزادی فلسطین کے لئے الفتح و حزب اﷲ بھی کوششیں کر رہی ہیں مگر آزادی فلسطین اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت کی تحریک حماس ہے ۔ جو وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود سرزمین انبیاء کی آزادی کے لئے برسرپیکار ہے ۔ حماس سیاسی پلیٹ فارم سے بھی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے مگر اُس کے سیاسی شعبے کے سربراہ جناب خالد مشعل کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر آٹھ روزہ جنگ میں فلسطینیوں نے ماضی کے برعکس لڑائی اور بات چیت کا منفرد تجربہ کیا ہے ۔ ماضی کی نسبت فلسطینیوں کا کم جانی نقصان ہوا ، ہم نے صہیونی دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اپنی صلاحیت آشکار کی ہے ۔ خالد مشعل نے کہا کہ مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے تو لا محالہ جنگ میں بھی آپ کی حیثیت مضبوط ہونی چاہیے ۔ حماس کے جانثاروں نے دشمن کو محاذ جنگ پر شکست دے کر سیاسی میدان میں اپنی شرائط پر جنگ بندی کراکے دشمن کو سیاسی میدان میں شکست سے ہمکنار کیا ہے ۔ مشعل نے کہا کہ سیاسی میدان میں اپنی شرائط ہم محض میدان جنگ میں کامیاب حکمت عملی کے ذریعے منوا سکتے ہیں اِس لئے مسلم اُمہ فلسطینیوں کو فوجی امداد فراہم کرے ۔ حماس جہاں میدان جنگ و سیاست میں اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے وہیں اُس کے بہی خواہ دیگر محاذوں پر بھی اُسے فتح سے ہمکنار کرنے کے لئے مصروف عمل رہتے ہیں ۔ گزشتہ ماہ کے آخری عشرے استنبول میں پہلی’’ انٹرنیشنل کانفرنس برائے میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ‘‘منعقد ہوئی ، جس میں دنیا بھر سے چار صد سے زائد صحافی و کالم نگار شریک ہوئے ۔دو روزہ کانفرنس کا انتظام فلسطینی میڈیا کلب ، مڈل ایسٹ مانیٹر اور سیٹا (SETA) نے کیا تھا ۔ اپنے ایک مہربان دوست کے توسط سے اس کالم نگار کو نہ صرف کانفرنس میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی بلکہ ساؤتھ ایشیاء کے صحافیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے راقم نے کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب بھی کیا ۔ دنیا بھر میں موجود زرائع ابلاغ کے نمائندگان کو کانفرنس نے موقع بخشا کہ آزاد ی فلسطین کو زرائع ابلاغ کے محاز پر نمایاں کرنے کے لئے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں ، صیہونی پروپیگنڈے کے توڑ کے لئے درست اطلاعات کو بڑے پیمانے پر کیسے پھیلائیں اور ’’ تواصل ‘‘ ( بات چیت ، مکالمہ ) کے عمل کو دنیا بھر میں کیسے رواج دیا جائے پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں دیگر چیزوں کے علاوہ اِس بات کا بھی اعلان کیا گیا کہ اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کرنے والے صحافیوں اور پروڈیوسرز کو ’’ انٹرنیشنل فلسطین میڈیا ایوارڈ ‘‘ ہرسال دیا جائے گا ۔اعلامئیے میں زرائع ابلاغ کے اداروں سے درخواست کی گئی کہ وہ قبلہ اول کی آزادی کے مقدس فریضے کو نمایاں کرنے کے لئے صحافیوں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات اور سال میں کم از کم ایک بار فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن مقرر کریں ۔ اِس دن دنیا بھر کے اخبارات خصوصی ضمیمے شائع کر کے فلسطین کی تحریک آزادی کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بربریت کو بے نقاب کریں ۔ استنبول کے خوبصورت شہر میں ساحل سمندر پر واقع ہوٹل میں بیٹھا میں گہری سوچ میں ڈوبا تادیر یہ سوچتا رہا کہ دنیا کا ہر چوتھا شخص مسلمان ، بے پناہ دولت ، تیل کے سمندر مسلمانوں کے اور ہمارے قبلہ اول پر مٹھی بھر یہودیوں نے تقریباً ایک صدی سے قبضہ جمایا ہوا ہے۔ تب اﷲ کے مہربان پیغمبر ﷺ کی بات یاد آئی کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ دشمن میری اُمت پر ایسے حملہ آور ہوں گے جیسے بھوکا دسترخوان پر اور میری امت کا وزن جھاگ برابر ہو گا ۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اﷲ ﷺ کیا اُس وقت مسلمان تعداد میں کم ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تعداد میں کم نہیں ہوں گے پوچھا گیا کہ پھر اُن کی ایسی کیفیت کیوں ہو گی ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ دنیا کی محبت ان کو گھیر لے گی اور موت سے وہ نفرت کریں گے جس بنا پر وہ ایسی کیفیت کا شکار ہو جائیں گے ۔ ہم ہر جگہ محصور و محکوم اور ہمارے حکمران عیاشیوں کا شکار ، خواب غفلت میں مبتلا ، جو قبلہ اول کی پکار کو بھی سُن نہیں پا رہے ۔ کیا ہم نے اﷲ کا وہ فرمان بھُلا دیا ہے جس میں کہا گیا کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی اور حق کے لئے نہ اٹھے تو وہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔

Archives