ہدف ذرائع ابلاغ یا کوئی اور ؟

ہدف ذرائع ابلاغ یا کوئی اور ؟

شکیل احمد ترابی

اُن کا دسترخوان بہت وسیع ہے ، متواضع شخصیت ہونے کے سبب میجر عامر آئے روز کِسی نہ کِسی دعوت کا ’’ جواز ‘‘ تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ مہمانوں کی فہرست میں سب سے زیادہ صحافی شامل ہوتے ہیں جن کو لذتِ دہن کے ساتھ ساتھ فِکری غذا(FOOD FOR THOUGHT) اور ’’ اندر‘‘ کی خبریں بھی مل جاتی ہیں ۔ قاری حمید اﷲ جان ، میجر عامر کے بچوں کی دینی تعلیم پر مامور ہیں مگر اُن کو درجہ میجر صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی سا دے رکھا ہے ۔ قاری صاحب کی دعوت ولیمہ پر سیاسی ، سفارتی ، صحافتی اور دیگر طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں جمع تھے ۔ حامد میر کی عیادت کر کے کراچی سے واپس اسلام آباد پہنچا تو اس بربریت پر طبعیت مضحمل تھی ۔ رُبع صدی سے زائد صحافتی تجربے میں اِس سے قبل ذرائع ابلاغ کی ایسی تقسیم کانوں نے سُنی نہ آنکھوں نے دیکھی تھی ۔ ولیمے کی مجلس میں بھی جناب سلیم صافی اور جناب کاشف عباسی کے ایک دوسرے پر ’’ پیار بھرے وار ‘‘ دیکھ رہا تھا ۔ دونوں کی گفتگو رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی تب کاشف نے کہا کہ ترابی صاحب کی رائے معلوم کرتے ہیں ۔ جواب میں عرض کی کہ ماضی میں ایسے مواقع ضرور آئے کہ یہ پیشہ اختیار کرنے پر شرمندگی محسوس ہوئی مگر حامد میر پر حملے کے بعد اینکر پرسنز کے ناروا تبصروں نے بہت شرمندہ کیا اور کئی بار ایسا سوچا کہ کاش یہ پیشہ اختیار نہ کیا ہوتا ۔ حامد میر سے زیادہ کِسی نے یہ بات نہیں کہی کہ اُن کا طرز عمل یا کوئی اقدام غداری کے زمرے میں آتا ہو تو قانون کے مطابق اُن پر مقدمہ قائم کیا جائے ۔ ذرائع ابلاغ کو حامد پر حملے کے بعد اُن کی پشت پر موجود ہونا چاہیے تھا اور اُنہی کی بات کو آگے بڑھانا چاہیے تھا کہ وہ ’’ باغی ‘‘ اور ’’ غدار ‘‘ ہے تو اُس پر مقدمہ قائم کرو ۔ دوائیوں کے ایک تاجر نے اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لئے ایک اخبار شروع کیا تھا تو جناب مجید نظامی نے کہا تھا کہ جن لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا وہ آج میدان صحافت کے ’’ سُرخیل ‘‘ ہیں ۔ دوائیوں کے تاجر اﷲ کے ہاں پہنچ چکے وہ جانیں اور اُن کا رب ۔ آج کی صحافت میں بڑی تعداد میں تاجر داخل ہو چکے جو اپنے جائز و ناجائز کاروبار کے تحفظ کے لئے صحافت کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں ۔ سیاستدانوں کی اکثریت کی طرح شاید تاجروں کے سینے میں بھی دل دھڑکنے کی بجائے ہر وقت ’’ مفاد ہی دھڑکتا ‘‘ ہے ۔ تاجر کو شاید ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ انسانیت کش اسلحہ کے تاجر کے ہاں بھی دل ہوتا تو اُس کا کاروبار ماند پڑ جاتا ۔ دل کے مقام پر وہ مفاد کا پتھر رکھ کر ایسی تجارت کرتا ہے جس کے نتیجے میں انسان تہہ تیغ ہو جاتے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ میں بھی کیا ایسے ہی تاجر داخل ہو چکے ہیں ؟ اینکر پرسن اور کالم نویس بھی کیا اُجرتی قاتلوں کی مانند دیہاڑی دار بن چکے ہیں ؟ دل یہ بات مانتا نہیں مگر کچھ اور تو سُجھائی بھی نہیں دے رہا ۔ولیمے سے اسلام آباد کے پنج ستارہ ہوٹل میں محترم بھائی سینیٹر مشاہد اﷲ کی چاہ ( چائے ) پر ملکی سیاسی و صحافتی صورت حال زیر بحث تھی کہ ’’ حکیم صاحب ‘‘ (مبشر لقمان ) آ گئے ۔ ’’ اُن ‘‘ کے آنے سے محفل کا رنگ بدل گیا بلکہ یوں کہےئے کہ مجلس بدمزہ ہو گئی ۔’’ حکیم ‘‘ کے نزدیک ملک کا سب سے’’ بڑا مجرم ‘‘بڑے ابلاغی ادارے کا مالک ہے ۔ کافی دیر تک میں چپ رہا ، مجھ سے بہتر بولنے والے اُس مجلس میں موجود تھے ۔ مگر ’’ مفادات اور مصلحتیں ‘‘ لوگوں کی زبانوں پر قُفل چڑھا دیتی ہیں ۔ ’’ حکیم ‘‘ سے میری یہ پہلی ملاقات تھی اس لئے حد ادب ملحوظ خاطر رکھ کر عرض کی کہ فوج اور آئی ایس آئی بھی ہمارا ادارہ ہے ۔ آئی ایس آئی میں ہمارا سرمایہ افتخار موجود ہے ۔ آئی ایس آئی کے چند غیر ذمہ دار عناصر کے ہاتھوں کیا میری کم ’’ درگت ‘‘ بنی ؟ مگر ذاتی تکلیف کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ جتنی آزادی پاکستان کے صحافی کو حاصل ہے ؟کیا ایسی آزادی امریکی صحافی کو سی آئی اے اورایف بی آئی ، برطانوی صحافی کو ایم آئی فائیو اور ’’ اُم جمہوریت ‘‘ ہندوستان کے صحافی کو’’ را‘‘ کے مقابلے میں حاصل ہے ؟ ہرگز حاصل نہیں ۔ الحمد اﷲ یہ آزادی ہماری قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں حاصل ہوئی ہے اور اِس آزادی کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں ہر طرح کی قربانیوں کے لئے تیار رہنا ہو گا ۔پاک فوج پوری پاکستانی قوم کی فوج ہے۔خفیہ اداروں کی داغ بیل سے پروان چڑھنے والے ’’حافظ صاحب‘‘ کے عسکری و دینی گروہ اور گوالا و ویگن یونین کی سطح کے اداروں سے اپنے حق میں جلوس نکلوا کر فوج کو سواد اعظم سے الگ نہیں ہونا چاہیے ۔ ذرائع ابلاغ کو بھی آزادی کی اِس نعمت کی نا شکری کا رویہ اختیار کر کے حدود پھلانگنی نہیں چاہیے ۔ میرے استدلال کے جواب پر ’’ حکیم‘‘ نے روایتی الزامات امریکہ اور بھارت سے بڑی پیمانے پر لین دین کی بات کی ۔ عرض کی کہ جناب والا ہم نے میر شکیل الرحمان کی نوکری کبھی کی ہے اور نہ کسی پائی کے روا دار ہیں،میر صاحب نے باہر سے پیسے لیے ہیں تو ان پر مقدمہ قائم کریں ۔ بولے کہ نوکری تو میں نے بھی میر صاحب کی نہیں کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’ حکیم صاحب ‘‘ کا چیف جسٹس کے خلاف تیار ہونے والے ’’ پلاٹ ‘‘ میں اہم کردار تھا ۔ راز فاش ہونے پر انہیں ’’ حاجیوں ‘‘ کی نوکری کرنی پڑی ۔ کیا حاجی سونے کا جائز کاروبار کرتے تھے ؟ ۔ سرشام جو محفل ’’ حکیم ‘‘ سجاتے ہیں کِسے معلوم نہیں کہ اُس کا اسکرپٹ کہاں تیار ہوتا ہے ؟’’حکیم ‘‘کے پاس کروڑوں روپے مالیت کے دو سیسنا طیارے اور کروڑوں کا بینک بیلنس معمولی اینکر پرسن ہونے کے باوجود کہاں سے آیا؟دوسروں پر پتھر پھینکنے سے قبل کیا ہمیں اپنے گریبان میں نہیں جھانکنا چاہیے؟ کشمیریوں کو تہہ تیغ کرنے والے ہندوستان سے ’’ امن کی آشا ‘‘ کے ہم بھی ناقد ہیں ۔ جیو کی دیگر بہت سی نشریات ہمیں بھی ناگوار ہیں ۔ ایجنسی کی مشق ستم بننے کے باوجود راقم یہ سمجھتا ہے کہ بعض آفیسرز کی غیر قانونی حرکات اور بے حیائی پر تو بات ہو سکتی ہے مگر اُس کے چیف کی تصویر اورنام نہ آتا تو ملک کا مفاد اِسی میں تھا ۔ میں پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ حامد میر حملے کے بعد ہوش میں ہوتے تو آفیسرز سے متعلق بات ضرور کرتے مگر اُس کے چیف کا نام نہ لیتے ۔ اِس اقدام کو غداری نہیں بے احتیاطی کا نام تو دیا جا سکتا ہے اور ٹوکن کے طور پر کوئی سزا یا معافی طلب کرنے پر معاملہ رفع دفع ہو سکتا ہے ۔ ملکی قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔جیو کے لیے معافی نہیں تو قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔قانون کا اطلاق جیو کے علاوہ ان نجی چینلز پر بھی ہونا چاہیے جو ہندوستان کی جارحّ فوج کے چیف بکِرم سنگھ کی پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں پر مشتمل پریس کانفرنس براہ راست دکھاتے رہے۔ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف پرزبردستی سے قانون ’’ٹھونسا‘‘جا سکتا ہے تو پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچنے والے سیاہ کردار کے مالک پرویز مشرف پر نافذ کیوں نہیں ہو سکتا۔ قانون اگر صرف نہتے پر نافذ ہو گا اور گن بردار بچتے رہیں گے تو پھر قانون کی کتاب کو کسی مقدس جگہ پر سجا کر رکھ دیں اور لاٹھی گولی کو قانون کا نام دے دیں ۔ یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ جہاں قانون کو میٹھی نیند سلا دیاجاتا ہے وہاں پھردہشت گردوں کا راج ہوا کرتا ہے،ایسے دہشت گرد جنہوں نے ہمارے ’’جنرل ہیڈ کوارٹرز‘‘ تک کوکئی گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔اے پی این ایس ، سی پی این ای ، براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ، نیوز ایجنسیز کونسل اور پی ایف یو جیز کو خاموش تماشائی بننے کی بجائے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ خدا نخواستہ ایک گروپ پر پابندی لگتی ہے تو دوسرے یہ خیال مت کریں کہ آئندہ ’’ چوہدری ‘‘ وہ ہوں گے ۔ خدشہ اِس بات کا ہے کہ بڑے ہدف کے حاصل ہونے کے بعد ’’ شکاری ‘‘ کے لئے چھوٹے شکار آسان ہوں گے ۔یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ معاملہ صرف صحافت کا نہیں اصل ہدف کوئی اور ہے ۔ عمران و قادری کی ریلیاں اُس خدشے کو یقین میں بدل رہی ہیں ۔ اصل ہدف کے شکار سے قبل منصوبہ ساز ذرائع ابلاغ کو نتھ ڈالنا چاہتے ہیں ۔ منصوبہ سازوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مشرف کا جسٹس افتخار کے خلاف نشانہ خطا کرنے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار تھا ۔ منصوبہ سازوں کے منصوبے کا ارسلان افتخار شکار ہوا ، دولت کی ہوس نے اُسے بینائی سے محروم کیا اور بھُول گیا کہ باپ کی شہرت پر بٹہ لگے گا ۔ منصوبہ بندی کو ناکام بناتے ہوئے جسٹس افتخار چوہدری کے سوموٹو اور ذرائع ابلاغ کے جاندار کردار نے شاطر دماغوں کو ناکامی سے ہمکنار کیا ۔ سمجھ دار لوگ کہتے ہیں کہ منصوبہ ساز ذرائع ابلاغ سے بہت سبق سیکھ چکے ہیں اس لئے مستقبل میں کِسی ’’ میاں ‘‘ کو زیر کرنے سے قبل جیو پر وار کیا گیا ہے جس کے بعد میڈیا تقسیم ہو چکا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کی تقسیم منصوبہ سازوں کو کامیاب کر دے گی ۔ کیا سیاست دانوں اور صحافیوں کو دیوار پر لکھی بات سمجھ نہیں آرہی کہ ’’ اصل ہدف کون ہے ‘‘ ؟

Archives