”گولی نہیں مکالمہ”

”گولی نہیں مکالمہ”

شکیل احمد ترابی

”موت سب کو مارتی ہے لیکن شہید موت کو مار دیتا ہے۔یہ تھا وہ پیغام جو پاکستان آرمی کے میجر جنرل بلال عمر کی بیوہ یوم شہدا پاکستان کے موقع پر دے رہی تھیں۔ وہ بڑے پروقار انداز میں اعتماد سے بھر پور لہحے کے ساتھ کہہ رہی تھیں کہ دفاع وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے شہدا کی جرات و قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے ورثاء کبھی مایوسی کا شکار نہ ہوں اور اپنے دلوں میں ہمیشہ شہداء کی یادوں کا دیا جلائے رکھیں”۔حامد میر نے 30 اپریل 2011ء کو جی ایچ کیو راولپنڈی یادگار شہداء پر منعقد ہونے والی تقریب سے متعلق 2 مئی 2011ء کو اپنے کالم کا آغاز ان جملوں سے کیا تھا۔جی ایچ کیو کا یہی مقام تھا جہاں 30 اپریل 2013ء کو یوم شہداء کی اور تقریب کا انعقاد ہواتھا۔حامد میر کی دائیں ہاتھ والی نشست پر ان کے ساتھ میں بیٹھا تھا۔تقریب میں جب شہداء کے ورثاء کو اسٹیج پر بلایا جاتا ،جنرل اشفاق پرویز کیانی سول اور فوجی شہداء کے ورثاء کو میڈلز سے نوازتے شرکاء تقریب پر عجیب کیفیت طاری ہوتی۔ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آتے اور ورثاء کی چمکتی آنکھوں سے یہ احساس بھی ابھرتا کہ اس قوم میں عزم و حوصلے کی کمی نہیں 2 مئی 2013 ء کو اس تقریب سے متعلق حامد میر اپنے کالم ”شکریہ پاکستان آرمی”میں تحریر کیا تھا کہ” آج مجھے ہر صورت ایک شکریہ ادا کرنا ہے۔میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگوں کو میرا شکریہ بہت برا لگے گا او وہ اپنی اوقات کے مطابق مجھ پر طرح طرح کے الزامات لگائیں گے لیکن مجھے ہمیشہ کی طرح اپنی ذات پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی کوئی پرواہ نہیں۔میرا کام یہ ہے کہ غلطی کوئی بھی کرے میں غلطی کی نشاندہی کروں اور اچھا کام کوئی بھی کرے میں اس کا اعتراف کروں۔آج مجھے پاکستانی فوج اور اس کے سربراہ کا شکریہ ادا کرنا ہے۔پاکستانی فوج کے سربراہ نے 30 اپریل کی شام سیاست پر گفتگو تو کی لیکن سیاست پر مداخلت کے بغیر پاکستانی سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔یوم شہداء کی یہ تقریب خوبصورت اور پر وقار تقریب تھی جس میں پہلی دفعہ صرف فوجی آفیسران اور جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین نہیں پیش کیا گیا بلکہ ایف سی ،پولیس اور سیاست دانوںکے ساتھ ساتھ صحافیوں سمیت عام پاکستانی شہریوں کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا گیا”۔مذکورہ کالم میں حامد میر نے لکھا تھا کہ” جب شہید نصراﷲ آفریدی کی قوت گویائی سے محروم بیٹی یوم شہداء کے شرکاء کو ہاتھوں کے اشاروں سے بتا رہی تھی کہ اس کے ابو جنت میں بڑے خوش ہیں۔میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شکیل ترابی بھی اپنے آنسو پونچھ رہے تھے ۔یہ وہی شکیل ترابی ہے جنہیں سچ لکھنے پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں خفیہ ادارے زدوکوب کرتے اور ان کے بچوں کے سکولوں میں گھس کر انہیں دھمکیاں دیتے رہے۔آج شکیل ترابی کی جی ایچ کیو میں موجودگی فوج کو یہ پیغام دے رہی تھی کہ ہماری لڑائی ادارے کے ساتھ نہیں بلکہ فرد کے ساتھ تھی۔اس فرد کے ساتھ تھی جس نے آئین کو توڑ کر پاکستان کو بدنام کیا۔فوج بحیثیت ادارہ ہمارے لیے قابل احترام ہے۔فوج میں پہلی دفعہ صحافیوں کی قربانیوں کا اعتراف کیا گیا جس پر ہم فوج کے شکر گزار ہیں”۔درج بالا اقتباسات حامد میر کے صرف دو کالموں سے لیے گئے ہیں ،ان کے بے شمار کالموں سے یہی سوچ جھلکتی ہے کہ تمام محب وطن پاکستانیوں کی طرح ان کے سینے میں بھی اپنی سپاہ سے بے پناہ محبت ہے۔حامد کی تحریریں اور ان کے پروگرام شاہد ہیں کہ انہوں نے قوم کے ماتھے کا جھومر پاک فوج کی قربانیوں کی تحسین میں کسی طرح کی بغض سے کام نہیں لیا۔اس کا قصور صرف یہ ہے کہ جہاں فوجی سپاہیوں کی قربانیوں پر انہیں سلیوٹ پیش کرتا ہے ویہیں
طالع آزما جرنیل جن کی سیاست میں مداخلت کے سبب پاک فوج بدنام ہوئی وہ انہیں بھی معاف نہیں کرتا۔بعض جرنیلوں کی بد دیانتیوں کو بے نقاب کیا مگر اس کا سب سے ”بڑاجرم”لاپتہ افراد سے متعلق اس کی تحریریں اور پروگرامات ہیں۔آئین توڑ کر سیاست میں مداخلت کے مرتکب جرنیلوں نے ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ان کے ہوس اقتدار کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔سب سے زیادہ نقصان جنرل مشرف کے اقدامات سے پاکستان اور اس کی فوج کو پہنچا۔قافلہ حسین کے سپاہی حامد میر نے عاقبت نااندیش جنرل مشرف کے آمرانہ اقدامات پر کبھی چپ نہ سادھی۔16 مارچ 2007 ء کو جیو اسلام آباد کے دفتر پر مشرف کے غنڈوں کے حملے کا اصل ہدف حامد میر ہی تھے۔ٹیوشن گئے ان کے بچوں کی گاڑی پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنے بیٹے کو بیرون ملک بھیج دیا تھا۔ان کی گاڑی کے نیچے بم باندھ کر اسے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی۔کچھ عرصہ قبل انہوں نے مجھ سے خصوصی دعا کی درخواست کے ساتھ ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کیا تھا۔یہ دھمکیاں انہیں ”کئی اطراف ”سے موصول ہو رہی تھیں۔ہفتہ کے روز جن بزدلوں نے قاتلانہ حملے کے ذریعے انہیں اپنی راہ سے ہٹانے کی کوشش کی انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بے شک بچانے والے ”حفیظ رب”مارنے والوں سے کہیں زیادہ قوی ہے۔حامد بہادر صحافیوں کا سُرخیل ہے۔دھمکیاں اور قاتلانہ حملے اسے اس کے مشن سے نہیں ہٹا سکتے۔”گمشدگی”اتنا بڑا روگ ہے شاید عام آدمی اس کا صحیح صحیح انداز نہیں کر سکتا۔میں اس درد سے گزر رہا ہوں۔مجھے اس درد کی شدت اچھی طرح معلوم ہے۔مجھے اغواء کیا گیا،مجھے اور میرے بیٹے کو زدوکوب کیا گیا۔بالاخر ”شاطر دماغوں”کی منصوبہ بندی کے سبب میرے نورِ نظر کو مجھ سے چھین لیا گیا۔تکلیف کے ان لمحات میں بڑے بڑے قرابت داروں نے چپ سادھ لی بلکہ کئی ”راہبروں”کی ”حمایت”نے زخموں پر نمک چھڑکا۔حامد میرا صحافتی ساتھی تھا مشکل دور میں میرا سایہ بن کر میرے ساتھ رہا اور ساتھی سے دوست بن گیا۔حسن بازیاب نہ ہو سکا مگر حامد میر نے میرا ساتھ چھوڑانہ جدوجہد ترک کی۔حامد پر حملے کے بعد مجھے بے شمار ٹیلی فون کالز اور پیغامات موصول ہوئے جن میں لوگوں نے اس کی جرات کی تعریف کے ساتھ جلد صحت یابی کی دعا کی۔سب سے زیادہ پیغامات لاپتہ افراد کے ورثاء کے موصول ہوئے۔مجھ سمیت لاکھوں لوگوں کی آنکھیں نم اور ہاتھ دست بدعا ہیں کہ رب کریم انہیں جلد از جلد صحت یاب کرے۔مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے بعض اداروں کی جانب سے انہیں سنگین دھمکیوں کا سامنا تھا،یہ دھمکیاں آفیسر سطح کی بھی ہو سکتی ہیں مگر قاتلانہ حملے کے بعد اس بات کا انکشاف کہ انہوں نے تحریری اور ریکارڈ شدہ پیغام میں کہا تھا کہ ان کی جان کو کچھ ہوا تو ملک کی سب سے بڑی ایجنسی اور اس کے سربراہ اس کاروائی کے ذمہ دار ہوں گے۔فوج کے ترجمان جنرل باجوہ نے بزدلانہ واقعہ کی مذمت کے ساتھ حامد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی طرح پاک فوج کو بھی اس واقعہ کا شدید دکھ ہے۔فوج کے ترجمان نے کہا کہ بلا ثبوت اہم ادارے پر الزامات قابل افسوس ہیں۔انہوں نے صبر و تحمل کے ساتھ سب کو مل کر تحقیقات کے عمل کو آگے بڑھانے کی بات کی۔دھیمے مزاج کے جنرل باجوہ کی باتوں میں بہت وزن ہے۔ممکن ہے کہ پاکستان کا کوئی دشمن تاک لگائے بیٹھا ہو اور جب حامد کو دھمکیاں ملیں تو اس نے”اپنے منصوبے ”پر عمل کرکے پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہوں۔دشمن کی مکروہ منصوبہ بندی اپنی جگہ مگر حامد میر جیسے ذمہ دار فرد کی جانب سے اہم ذمہ داری پر تعینات فرد کی جانب اشارے میں بھی کوئی نہ کوئی راز تو یقیناً پوشیدہ ہے۔اﷲ نے حامد میر کو نئی زندگی بخشی ہے۔خداوند کریم انہیں جلد مکمل صحت یابی عطا کرے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انتہائی ذمہ دارانہ کمیشن مقرر کر کے حملے کے مرتکب افراد سے متعلق جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ اس ادارے کے سربراہ پر لگنے والے الزام کی بھی تحقیقات عمل میں لائی جائیں۔اسی میں پاکستان اس کے عوام اور تمام اداروں کی بھلائی ہے۔

حملہ آور بزدلوں سے متعلق جالب نے کہا تھا۔

محبت    گولیوں   سے  بو   رہے  ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو

گماں    تم     کو    راستہ کٹ رہا ہے
یقین   مجھ   کو منزل   کھو  رہے ہو

Archives