ذِمہ دارانہ صحافت

ذِمہ دارانہ صحافت

شکیل احمد ترابی

قرآن عظیم الشان میں ہمارا مہربان رب فرماتا ہے ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کرآئے تو تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کِسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہو ‘‘ ( سورہ حُجرات ، آیت 6 ) ۔ ذرائع ابلاغ کا معاشرے ، اقوام اور ممالک کی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے ۔ اہل صحافت لوگوں کو با خبر کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم دینے کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں ۔ صحافی کی مثال آئینے کی سی ہوتی ہے ، آئینہ نہ کم دِکھاتا ہے نہ زیادہ ۔ گورے کوکالانہیں اور کالے کوگورا بنا کے نہیں دکھاتا ۔ جو تصویر ہوتی ہے ویسی ہی دکھاتا ہے ۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہم صحافت کو پیشہ پیغمبری بھی کہتے ہیں ۔ مغرب کے معاشروں میں اِسے WATC DOG سے بھی تشبیہہ دی جاتی ہے ۔ مگر مناسب الفاظ میں صحافی کا کِردار ایک چوکیدار سا ہوتا ہے ، جو خود باخبر رہنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی باخبر رکھتا ہے ۔ صحافی کا قلم ڈاکو کے خنجر سا نہیں بلکہ ڈاکٹر کے نشتر کی مانند ہوتا ہے ، گویا ایک صحافی کا کردار معالج ایسا ہوتا ہے جو مرض کی تشخیص کیساتھ علاج بھی تجویز کرتا ہے ۔ معالج کی تشخیص صحیح نہ ہونے کی صورت میں مریض کی جان جانے کا بھی خدشہ ہوتا ہے ۔ اِسی طرح معاشروں کے بناؤ اور بگاڑ میں اہل صحافت کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ اِس کردار کی بناء پر صحافت کو ریاست کا چوتھاستون بھی کہا جاتا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک نِصف کے قریب عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہو گیا ۔ پاکستان کے صحافیوں نے آزادی صحافت کے لئے کوڑے کھائے ، جیلیں کاٹیں ، جانوں کی قربانی دی اور بعض صحافی پیشہ وارانہ جدوجہد اور سچائی کا علم سربلند کرنے کی پاداش میں اولاد کی طویل جدائی تک برداشت کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں صحافت کو اس نہج تک پہنچانے میں ہمارے بزرگ صحافیوں کا اہم کردار ہے ۔ اس میدان میں ’’ کچھ خاموش سپاہی ‘‘ بھی ہیں جن سے متعلق بریکنگ نیوز جاری ہوتی ہے ، کوئی اخبار ضمیمہ جاری کرتا ہے اور نہ ہی وہ کِسی صدارتی یا بین الاقوامی ایوارڈ کے متمنی ہوتے ہیں ۔ وہ دنیا و مافہیا سے بے نیاز اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کئے جاتے ہیں ۔ بعض ’’ چابک دست ‘‘ اور زبان و بیان پر ملکہ رکھنے والے ’’ خاموش سپاہیوں ‘‘ کی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والا پھل ’’ ڈکار ‘‘ جاتے ہیں ۔ اس میں شُبہ نہیں کہ میدان صحافت میں محققین ، کہنہ مشق اور حلال ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کے ذریعے گزر اوقات کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ ریاست کے تین دیگر ستونوں میں خرابی جس قدر موجود ہے اس سے کہیں زیادہ خرابی ریاست کے اس چوتھے ستون میں داخل ہو چکی ہے ۔ چیک اینڈ بیلنس اور خود احتسابی کی عدم موجودگی کے سبب غیر ذمہ دارانہ صحافت میں ’’ دن دُگنی رات چوگنی ترقی ‘‘ ہو رہی ہے ۔ ’’ صحافتی کارڈ ‘‘ حاصل ہونے کے بعد گاؤں ، دیہات اور چھوٹے شہروں کا صحافی لوگوں کی پگڑیاں اُچھال رہا ہے ۔ بڑے شہروں میں بڑی ’’ صحافتی ایمپائرز ‘‘ ہیں ، جن کی وارداتیں بھی بڑی ہیں ۔ عالمی سوداگر ’’ لفافے ‘‘ نہیں ، نوٹوں کے بھرے صندوقچوں سمیت مملکت پاکستان میں داخل ہوئے تھے اب بات کہیں آگے بڑھ چکی ہے ۔ استعمار نے اپنے ’’ مہروں ‘‘ کو UNLIMITED CREDIT CARDS تک فراہم کر رکھے ہیں ۔ جس کے بدلے ’’ خادمین ‘‘ اپنے ’’ مالکان ‘‘ کے نقشے میں رنگ بھر رہے ہیں ۔ اِس لئے ہمیں یہ سننا پڑتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سیکولر تھے ، سیکولر محمد علی جناح اسلامی جمہوری پاکستان کے حصول کی جدوجہد کیوں کرتے ؟ جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے بڑے عالم دین کا بیٹا اپنے ماضی پر شرمندہ ہے اور اپنی تحریروں کے ذریعے ماضی کے کئے دھرے پر پانی پھیر رہا ہے ۔ عالم دین کا پوتا ’’ کٹورے پہ کٹورہ ، بیٹا باپ سے بھی گورا ‘‘ کے مِصداق اتنا آپے سے باہر ہو گیا کہ بانی پاکستان پر ایسی ’’ لاف زنی ‘‘ کی جیسی کبھی ہمارے دشمن نے بھی نہ کی ہو ۔ ایک صاحب کی تحریر مصور پاکستان کو انگریز کا ایجنٹ ہونے کا مفہوم ابھار رہی ہے ۔ اُنہی صاحب کو مولانا مودودی ، ضیاء الحق کے دور میں ریڈیو پر تقریریں کرتے نظر آتے ہیں ۔ موصوف ’’ گوگل ‘‘ پر ہی دیکھ لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ ’’ امیر المومنین ‘‘ کے دور میں تو لاہور کا سید زادہ ، صاحب فراش تھا ، موصوف زرا برابر بھی غیر جانبدار ہوتے تو انہیں نظر آتا کہ ’’ امیر المومنین ‘‘ نے اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں پر ایسے مظالم ڈھائے تھے کہ بعض کی کمر آج بھی سیدھی نہیں ہو رہی ۔ بعض کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخن تک کھینچ لئے گئے تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے طرز سیاست سے اتفاق و اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ہمارے ایک صحافی بھائی بھٹو صاحب کی برسی کے دن شدت محبت میں بھٹو صاحب کے ایسے اوصاف بھی گِنوا گئے جن سے متعلق شاید خود بھٹو صاحب کو بھی معلوم نہ تھا ۔ صحافت میں یہ طبقہ ’’ حکمران ‘‘ ہے اس طبقے کو کبھی یہ توفیق حاصل نہ ہو سکی کہ وہ اپنے تجزیے میں یہ بات کہہ سکے کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت میں شخصی آمریت ہے ۔ یہ پارٹی ملک میں جمہوریت کی سب سے بڑی دعویدار ہے مگر کیا اس پارٹی میں خیبر پختونخوا کا انتہائی غریب عبد اﷲ خان بے نظیر بھٹو کی جگہ لے سکتا ہے ؟ انجانوں سے کیا گِلہ ، افسوس تو اُن پر ہے جو جماعت اسلامی کے نظام کو سمجھتے بوجھتے ہوئے بھی اپنی تحریروں میں توازن برقرار نہ رکھ سکے ۔ انہوں نے جناب سراج الحق کی جیت کو فقیر منش سید منور حسن اور صاحب لیاقت و استقلال جناب لیاقت بلوچ کی ہار قرار دیا ۔ کیا اِن اہل صحافت کو معلوم نہیں کہ میاں طفیل محمد ، قاضی حسین احمد ، سید منورحسن اور سراج الحق میں سے کِسی کا بھی بانی جماعت سید ابو الاعلی مودودی ؒ سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے ۔ جماعت اسلامی کے اکابرین پیغمبر نہ صحابہ اور نہ ہی فرشتے ہیں ۔ عام انسانوں کی طرح وہ بھی گوشت پوست کے انسان ہیں ۔ انسان تو خوبیوں اور خامیوں کے مرکب ہوتے ہیں ۔ تمام تر کوتاہیوں کے باوجود جماعت اسلامی کی طرح کی کیا کوئی اور جماعت پاکستان میں موجود ہے جس کے اندر نیچے سے اوپر تک طے شدہ اوقات میں انتخابی مراحل سرانجام پاتے ہوں ؟ ساری جماعتوں کی قیادت کے تقویٰ کو جمع بھی کر لیں تو کیا سید منور حسن جیسا مرد درویش کِسی کے ہاں موجود ہے ۔ جس نے ساری زندگی کرائے کے مکان میں گزار دی ۔ کیا کِسی اور جماعت کے پاس ایسا قائد موجود ہے جو حلف امارت اُٹھانے کے بعد کہتا ہے کہ میں سید منور حسن کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوں اور یہ کہ میں سید مودودی ، میاں طفیل محمد ، قاضی حسین احمد اور منور حسن کے نقش قدم پر اگر قرآن و سنت کے مطابق چلوں تو اراکین میرا ساتھ دیں اور اگر انحراف کروں تو ا راکین مجھے سیدھا کر دیں ۔ یہ جماعت اسلامی ہی کا طرہ امتیاز ہے کہ ان کی نگاہ دیر کے انقلابی سراج الحق پر پڑی ۔ تحقیق کا رویہ اختیار کیا جاتا تو شاید وہ لکھنے کی نوبت نہ آتی جو ہمارے ’’ محققین ‘‘ نے قائد اعظم ، جناب علامہ اقبال اور سید مودودی کی جماعت سے متعلق لکھا ۔ اسی لئے ہمارے مہربان رب نے ہمیں کہا کہ فاسق کی خبر کی تحقیق کر لیا کرو ۔ذمہ دارانہ صحافت تقاضہ کرتی ہے کہ ہر خبر اور تجزیے کو ’’ بریکنگ نیوز ‘‘ کی طرح جاری نہ کیا جائے تاکہ ہم پشیمانی سے بچ سکیں ۔

Archives