فضہ افسردہ کر گئی !

فضہ افسردہ کر گئی !

شکیل احمد ترابی

وہ ابدی نیند سو گئی؟وہ ہم سے کبھی بات نہیں کرے گی ؟ اس نے میری آنکھوں کے سامنے آخری سانس لی ، مگر نہیں میں نہیں مانتی کہ وہ مرگئی ہے اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکے ’’ شعبہ حادثاتی اموات ‘‘ کے باہر کھڑی ایک نوجوان خاتون اپنی آنکھوں اور چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپائے اپنا دکھ بیان کر رہی تھی۔جرائم پیشہ افراد جن سے دکھی انسانیت عاجز آچکی تھی کو فضہ قانون کے ذریعے مات دینا چاہتی تھی موت اسے مات کیسے دے سکتی ہے ؟ مجمعے میں موجود ایک نوجوان کہتا ہے جنگ اب ہمارے گھروں تک پہنچ چکی ہے، ہمارے دلوں تک ، ہم جنگ کی دبیزتہوں میں سوتے اور جاگتے ہیں روزکوئی نہ کوئی ہماراجاننے والا یوں ہی موت کی وادیوں میںچلا جاتا ہے۔ہم یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھے جا رہے ہیں، ہم ٹکڑیوں میں بٹے ،اختلافات کا شکار ،اور وہ (دہشتگرد)سب کچھ کئے جا رہے ہیں۔ہم خفا ہو ہو کہ تھک گئے، ہم نے فرض کر لیا کہ ہم میں سے کسی کا نمبر نہیں آئے گا یا ہم اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ہم اس وقت اٹھیں گے جب ہمارا اپنا کوئی مارا جائے گا ۔اسلام آباد کچہری میں دہشتگردوں کا نشانہ بننے والی نوجوان قانون دان فضہ اسلام آباد کی فضاؤں کوافسردہ کر گئی۔فضہ کے نوجوان ساتھی عمر میں بڑا جان کر ہم سے بہت کچھ پوچھ رہے تھے، ہماری خاموشی کو دیکھ کر وہ مزید جذباتی ہوئے جا رہے تھے ۔انہیں کیا معلوم ہمارے سینے میں کیا الاؤ بھڑک رہے تھے مصلحت کوش ہم بھی نہ تھے مگر احساس ذمہ داری ہمیں بہت کچھ کہنے سے روک رہا تھا۔جی تو چاہتا تھا کہ ہم بھی دھاڑیں مار کر دہشتگردوں کا ماتم کریں ۔ان ارباب بست و کشاد کے ’’ فلسفوں ‘‘ پر بھی گریہ و زاری کریں، جن کے سبب ہم ان حالات کا شکار ہوئے۔راہزنوں سے نہیں راہبروں سے سوال کریں جنھوں نے ہماری نئی نسل کے ہاتھوں میں قلم کی جگہ ہتھیار تھما دئیے ، سینوں میں خدا کے خوف کی بجائے جہنوں نے ان کے سینوں پر خود کش واسکٹیں پہنا دی ہیں۔فضہ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ۔امریکہ سے علاج کے باوجود ایک آنکھ کی بینائی سے محروم تھی مگر اس کا قلب و ذہن روشن تھا۔ وہ جرائم پیشہ عناصر کوقانونی جنگ کے ذریعے شکست دینا چاہتی تھی ، اس نے اسلام آباد کے سکول آف لاء اور فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعے برطانیہ کی نارتھ کیمبریا یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی،دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی بھائی اسے بھی اپنے ساتھ دوبئی لے جانا چاہتے تھے مگر اس کے عزائم پختہ تھے ،وہ جفا کش بھی تھی اور بلند نظر بھی اسی وجہ سے اس نے پاکستان چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اولاد کا دکھ اولاد والے ہی جان سکتے تھے فضہ کی ماں غم سے چور چور تھیں کہ ان کی 23 سالہ نور نظر نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھے تھے۔ابھی انہوں نے اس کے ہاتھ پیلے کرنے تھے ۔والدین اپنی اولاد سے نہ جانے کیا کیا خواہشات وابستہ کئے ہوتے ہیں۔کون کون سی منزلوں پر اپنے پیاروں کو دیکھنے اور پہنچنے کے حوالے سے امیدیں وابستہ کی ہوتی ہیں،مگر ظالموں کے سینوں میں دل ہوتے ہیں اور نہ آنکھوں میں بینائی۔اگر ان کے پاس دل ہوں تو وہ دوسروں کا درد محسوس کریں آنکھیں ہوں تو بے چینی دیکھ سکیں ۔فضہ کی ماں کہہ رہی تھی کہ میری بیٹی کو وطن سے بہت محبت تھی وسائل ہونے کے باوجود اس نے ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا جس ملک کی وہ خدمت کرنا چاہتی تھی وہ ملک اس کو کھا گیا وہ روتے ہوئے کہے جا رہی تھیں کہ میری بیٹی بہت خوبصورت تھی اسے ایسے نہیں جانا چاہیے تھا ۔ انہو ںنے کہا کہ وہ میڈیا سے تنگ آ چکی ہیں ، ہر ایک کیمرہ لئے چلا آتا ہے ، خدا را ہمیں معاف کریں ، میں مزید کیمرے نہیں دیکھنا چاہتی ۔ بعض کیمرے والے زبردستی ان کے گھر گھس گئے تو ان کے رشتہ داروں کو غصہ آ گیا اور کہنے لگے اپنے کاروبار چمکانے اور خبر ’’ بریک ‘‘ کرنے کے لیے آپ دوسروں کا غم بھی بھول گئے ۔ آپ لوگوں کے پاس دل نہیں ؟ کیوں ہمارے زخم بار بار ہرے کئے جاتے ہو ۔ فضہ کا بھائی علی ماں کے کندھوں پر سر رکھے بلبلاتے ہوئے کہہ رہا تھا ’’ کاش میری پیاری نے میری بات مانی ہوتی اور یہ ملک چھوڑ دیا ہوتا ‘‘ اس کے والد ملک طارق کہہ رہے تھے ’’ وہ میرا بہت خیال رکھتی تھی ، ملک دشمنوں نے میرے گھر کی رونق چھین لی ہے ، ہم نے بہت بڑی قربانی دے دی ہے ، مگر کیا میری بیٹی کی قربانی رائیگاں چلی جائے گی ؟ اگر ریاست اور قوم دہشت گردوں کے خلاف یکجا نہ ہوئے ، تو ریاست کو میری قربانی کا احساس کب ہو گا ؟ فضہ کے والدین کا دکھ دیکھ کر رحمت العالمین پیغمبر حق ﷺ بے پناہ یاد آئے کہ جنہوں نے کہا ’’ فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ جس نے فاطمہ ؓ کو تکلیف دی اس نے مجھے دکھ پہنچایا اور جس نے مجھے دکھی کیا اس نے خدا کے غضب کو آواز دی ‘‘ اور کیا ہمیں معلوم نہیں جو خدا کے غضب کو آواز دیتے ہیں ان کا انجام کیا ہو گا ؟ کون ہیں یہ دہشت گرد جنہوں نے ہزاروں گھروں کا چین لوٹ لیا ، لاکھوں افراد پر نفسیاتی اثرات مرتب کئے ہیں ۔ طالبان ہیں تو ان کو خدا کا خوف کرنا چاہیے اور انسانیت کش اقدامات سے باز آ جانا چاہیے ، قبل اس کے قہار اور جبار رب ان ان کی رسی کھینچ لے ۔ قال اﷲ و قال رسول اﷲ کی تعلیم دینے والے ان کو نہیں بتلا سکتے کہ اصل دین کیا ہے ؟ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جس شریعت کی وہ بات چیت کرتے ہیں اس شریعت کے داعی اعظم ﷺ کی مجلس میں حاتم طائی کی بیٹی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے احترام میں اپنی چادر شانوں سے اتار کر زمین پر بچھا دیتے ہیں ۔ یہ کون ہیں جو بہنوں اور بیٹیوں کو تہہ تیغ کر رہے ہیں ؟ ایسے افراد کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی جرم عظیم ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ کارروائیاں طالبان کی نہیں تو وہ اس سے برات کا اعلان کر کے ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر دشمن کے خلاف سینہ سپر کیوں نہیں ہوتے ؟ دوسری طرف بعض عقل کے اندھے ماہ مارچ میں ’’ مارچ ‘‘ کی باتیں کر کے کس کا کھیل کھیل رہے ہیں ؟ پس خبر ! برطانوی وزیر اعظم کے اہم حکومتی معاون پیٹرک راک کو پولیس نے بچوں کی گندی فلموں کے معاملے میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا ہے ۔ 62 سالہ پیٹرک راک ، مارگریٹ تھیچر کے دور سے لے کر اب تک کنزرویٹو پارٹی کے اقتدار کے دوران اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ اس واقعہ پر وزیر اعظم کیمرون نے صرف یہ نہیں کہا کہ مجھے سخت دھچکا پہنچا ہے بلکہ انہیں فوراً عہدے سے بھی برخواست کر دیا ہے اسے کہتے ہیں قانون کی حکمرانی اور ہمارے ہاں اقتدار کے اہم ایوانوں میں بیٹھنے والے نہ نکاح کا اعلان کرتے ہیں نہ بے حیائی سے باز آتے ہیں ایسی صورت حال میں جناب والا ! پاکستان کا نام اسلامی نظریاتی پاکستان سے بڑھ کر بھی کوئی ہو سکتا ہے تو رکھ لیں ہمیں تائید ایزدی نہیں دہشت گردی کی کارروائیاں ہی ملیں گی ۔

Archives