منزل ہے کہاں تیری ؟

منزل ہے کہاں تیری ؟

شکیل احمد ترابی

جدید طب میں بیماری کے علاج سے پہلے اسباب بیماری (ROOT CAUSE) تلاش کئے جاتے ہیں جو طبیب بیماری کے علاج سے قبل سبب بیماری معلوم کر لیتے ہیں اور پھر بیماری کا علاج کر تے ہیں وہ کامیاب معالج قرار پاتے ہیں ، اُن کے نسخے کارگر ہوتے ہیں ،بیمار تندرستی پاتے ہیں ، اس کے نتیجے میں طبیب کا کاروبار بھی بڑھتا ہے اور بیماروں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملتی ہے ۔بد قسمتی یہ ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے طبیب کم کم ہی ملتے ہیں ، مریض بیماری کے مکمل خاتمے کی بجائے مرض سے جلد چھٹکارا پانا چاہتا ہے، طبیب بھی مریض کے علاج سے قبل اسے سمجھانے کی بجائے مریض کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے بیماری کے مکمل خاتمے والے علاج کی بجائے جلد آرام دینے والی ’’ گولی ‘‘ پر اکتفا کرتا ہے ۔
بیمار کی مانند معاشرے کے اکثر طبقات افراط و تفریط اور انتہاء پسندی کا شکار ہیں ۔ طالبان سے بات چیت کرنے والے کو ایک طبقہ سخت سست اور طالبان کے خلاف آپریشن کی بات کرنے والے کو دوسرا ’’ کافر ‘‘ سے بھی بڑا مجرم گردان رہا ہے ۔ اسلامی روایات یا بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے والوں کو گالی بنا دیا گیا ہے ۔ ’’ آزاد خیالوں ‘‘ کی فوج ظفر موج ہے جو ٹی وی ٹاک شوز اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر چھائی نظر آتی ہے ۔ دین کی بات کرنے والوں میں بھی بعض نادان ایسے ہیں جو اپنی ذاتی سوچ کو کسی صورت اسلامی شریعت سے کم ماننے کو تیار نہیں۔
ریاستی اداروں کا معاملہ بھی عجیب ہے جب ’’ جہادیوں ‘‘ کو تیار کیا جا رہا تھا ( بلکہ آج بھی تیار کیا جاتا ہے ) کے لیے ’’ ملاں ‘‘ پر انوٹسمنٹ کی کی گئی ۔ ’’ ملاؤں ‘‘ نے اپنی منطق کے ذریعے نوجوانوں کے اندر ’’ جذبہ جہاد ‘‘ پیدا کیا ۔ یہ جہادی ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ ’’ دشمن ‘‘ کو ’’زیر‘‘ کرتے رہے ۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اس ’’ جہاد ‘‘ سے متعلق ’’انکشاف ‘‘کرتی ہیں ( ویڈیو انٹرنیٹ پر موجود ہے ) کہ سوویت یونین کے خلاف امریکی اداروں کی منصوبہ بندی اور اسباب کی فراہمی کے بعد پاکستان نے سوویت یونین کی تباہی کے لئے زمین اور نوجوانوں کے سینے پیش کئے ۔ امریکہ کے کہنے پر مسلمانوں کے ایک طبقہ فکر جس کو وہ وہابی کہہ کر پکارتی ہیں نے دنیا بھر بالخصوص ایک بڑے اسلامی ملک سے آ کر پاکستان کے راستے افغانستان کے جہاد میں شرکت کی ۔ ہیلری کہتی ہیں اس کے بعد پاکستان کو تنہاء چھوڑ دیا گیا اور بعد ازاں وہ جہادی سے ’’جن ‘‘بن گئے جو اکیلے پاکستان کے قابو نہیں آ رہے ۔ ہیلری کے ادھورے سچ کی ’’ پاکستان ‘‘ نے تردید نہ کی ۔ بد قسمتی سے ہم نے ایک کھیپ تیار کی جسے امریکہ کی اُس وقت کی ضرورت کے موقع پر جہادی اور ضرورت پوری ہونے کے بعد ’’ نیو ورلڈ آرڈر ‘‘ کے تحت دہشت گرد قرار دیا۔ جہادی جب امریکہ کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے تو ہمارے بعض دانشور ’’ سوویت یونین ‘‘ کے درد میں ’’ گھل ‘‘ کر پتلے ہوئے جا رہے تھے اور ان جہادیوں کو دہشت گرد قرار دیتے تھے ۔ جہادیوں نے محاذ تبدیل کر کے امریکہ کے خلاف لڑائی شروع کر دی تو دانشور بھی اپنا قبلہ تبدیل کر کے امریکہ کے ’’ نظریاتی سپاہی ‘‘ بن گئے اور ذرائع ابلاغ کے محاذ پر جہادیوں کے خلاف مورچہ زن ہو گئے ۔
جہادی کہیں یا طالبان ان میں اکثریت ان کی ہے جو کل تک ’’ ہمارے اداروں کے پیارے تھے ۔ سید ابو الاعلی مودودی ؒ کے خلاف مخالفین نے بہتان تراشی کی انتہا کر دی تھی جب انہوں نے کشمیر کے جہاد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ریاست کی اجازت کے بغیر یہ ناجائز ہے ۔ جو افراد اس وقت بہتان تراشی میں پیش پیش تھے اور جنہوں نے ’’ نجی لشکر ‘‘ تشکیل دئیے آج ان سے اپنی تیار کردہ ’’ پروڈکٹ ‘‘ تلف نہیں ہو رہی۔ ہمارے ادارے ’’ آپریشن ‘‘ کا فیصلہ تو پہلے ہی کر چکے تھے ۔ دکھاوے کے لئے کمیٹیوں کی ’’ آنیاں جانیاں ‘‘ بھی قوم کا دل بہلانے کے لئے دکھائی گئیں ۔
جس طرح مرض کے خاتمے کے لیے Root Cause تک ’’نیم حکیم ‘‘نہیں پہنچ سکتے ایسے ہی محسوس ہوتا ہے کہ ’’ بڑی طاقتوں ‘‘ کے دباؤ اور اپنے ہاتھوں لگائی گئی گرہیں اب ہم اپنے ہی دانتوں سے کھولنے کے درپے ہیں ۔ اﷲ ملک و قوم پر رحم کرے اور ہماری غلطیوں سے صرف نظر کرے ۔ ہم دشمنوں کی ’’ بد نظری ‘‘ اور اپنی کسی ناقص پالیسی کا ایسا شکار ہوئے کہ فوجی شہید ہویا طالب مرے ، دونوں کی ماں ایک ہی دھرتی پاکستان ہے ۔ وہ دانشور جو شام کو ’’ بوجوہ ‘‘ حواس کھو کر اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کی سکت نہیں رکھتے قوم کو قومی سلامتی کے ایسے ’’ بھاشن ‘‘ نہ دیں جس سے اس کی آزمائش میں اضافہ ہو جائے ۔
ہمارے رحمان رب نے فرمایا ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخشی ‘‘۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں ۔ جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ۔ ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کئے جائیں ، یا سولی پر چڑھائے جائیں ، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ، یا وہ جلا وطن کر دئیے جائیں ۔ یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لئے اس سے بڑی سزا ہے ۔ مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اﷲ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔(سورۃ المائدہ آیت 32 تا 34)
قربان جاؤں مجاہد اعظم نبی کریم ﷺ پر کہ جن کی ہر بات کی تقلید ہمارا جز و ایمان ہے ‘‘سے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے ، کعبے کو دیکھا اور فرمایا ’’ تو کتنی حرمت اور تقدس والا ہے اور تجھ سے بڑی حرمت اﷲ کے نزدیک مومن کی ہے ۔ اﷲ تعالیٰ نے تیری ( کعبہ ) ایک چیز مقدس قرار دی اور مومن کی تین چیزیں مقدس قرار دیں یعنی اس کی جان ، مال اور یہ کہ اس کے متعلق برا گمان بھی نہ کیا جائے ‘‘ ۔
شعب الایمان جلد 9/76 حدیث نمبر 6280
اﷲ اور رسول ﷺ کے حکم کو جاننے کے بعد بھی جو لوگ زمین پر قتل اور فساد پھیلا رہے ہیں ان کے متعلق کسی دوسرے حکم کی چنداں ضرورت نہیں مگرکیا مجرم صرف طالبان ہیں ؟ کیا وہ بھی برابر کے شریک بلکہ زیادہ بڑے مجرم نہیں جنہوں نے یہ ’’ فیکٹریاں ‘‘ لگائی تھیں ؟ اطلاعات کے مطابق باز ہم اب بھی نہیں آئے ، برے طالبان پر حملے شروع کر دئیے گئے ہیں اور اچھے طالبان کو ’’ کمک ‘‘ پہنچائی جا رہی ہے ۔ جن پر یلغار کر دی گئی ہے گزرے کل وہ بھی ’’ اچھے ‘‘ تھے دیکھتے ہی دیکھتے وہ برے بن گئے کیا ضمانت کہ جن کو ہم آج پال پوس رہے ہیں وہ کسی لمحے ’’ برے ‘‘ بن جائیں ۔ لالۂ صحرائی منزل ہے کہاں تیری ؟

Archives