بھارت یا کشمیر ؟؟

بھارت یا کشمیر ؟؟

شکیل احمد ترابی

کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے پوری پاکستانی قوم نے 5 فروری کو جلسے ، جلوس ، قرآن خوانی ، دعائیں اور بعض نے لنگر تقسیم کر کے اپنی محبت کا اظہار کیا ۔ مارگلہ کے دامن میں واقع اسلام آباد کی شاہراہ قائد اعظم پر منعقدہ جلسے میں موجود ہر کوئی اپنی سوچ ، فکر اور صلاحیت کے مطابق اپنے جذبات کا اظہار کر کے کشمیریوں کو اپنی حمایت کا یقین دلا رہا تھا ۔ ایک منجھے ہوئے کشمیری راہنما جب یہ کہتے ہیں کہ ’’ پاکستانی قیادت فیصلہ کرے کہ وہ بھارت کے ساتھ ہے یا کشمیر کے ‘‘۔؟ تو مجھے اپنی سماعت کے درست نہ ہونے کا شُبہ ہوتا ہے ۔ کشمیری راہنما اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہتے ہیں ایک موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے جنرل مشرف سے پوچھا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ؟میں بھی اپنی پاکستانی قیادت سے پوچھتا ہوں کہ وہ ٹھنڈے دل سے فیصلہ کر کے ہمیں بتا دے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے یا بھارت کے ؟ میں جلسے میں موجود نہ ہوتا اور کوئی مقرر کا نام لئے بغیر مجھے بتاتا تو میں کہتا کہ کوئی عاقل بالغ شخص ایسا نہیں کہہ سکتا ۔ تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں ’’ بابا ئے کشمیر ‘‘ سید علی گیلانی کے پاکستان میں ترجمان غلام محمد صفی کی زبان سے اِس بات کے اظہار کے پیچھے ایک درد پنہاں تھا ۔ گزشتہ پچیس سالوں میں ایک لاکھ سے زائد شہادتیں ، عفت مآب ماؤں بہنوں کی عصمت دری ، کاروبار تباہ ، لاکھوں گھروں سے بے گھر ، ہزاروں لا پتہ ، کون سی قربانی ہے جو کشمیریوں نے نہ دی ہو ۔ کون سا ایوان ہے جہاں انہوں نے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے آواز بلند نہ کی ہو ، مگر ان کی قربانیوں اور آواز کو ’’ دنیا کے خداؤں ‘‘ نے کوئی اہمیت نہ دی ۔ تنازع کشمیر کا مقدمہ بھارتی نیتا پنڈت جواہر لال نہرو اقوام متحدہ لے کر گئے تھے جس پر 1948 ء اور 1949 ء میں اقوام متحدہ نے قرار دادوں کے ذریعے کشمیریوں کو یقین دھانی کرائی تھی کہ وہ انہیں حق خود ارادیت کا موقع فراہم کرے گی ۔ پاکستان تنازع کشمیر کا اہم فریق ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا اہم وکیل بھی ہے ۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح رحمتہ ا ﷲ علیہ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔ پاکستان کا ہمیشہ ایک ہی موقف رہا کہ خود ارادیت سے کم تر کِسی فارمولے پروہ بات نہیں کرے گا ۔ شومئی قسمت کے تحریک آزادی کشمیر کے عین عروج کے موقع پر نو گیارہ کے واقع نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کا سب سے بڑا ملبہ پاکستان پر گرا ۔ امریکا اور بڑی طاقتوں نے افغانستان میں ’’ آپریشن ‘‘ کے لئے پاکستان سے مدد طلب کی ۔ جنرل مشرف کے بقول امریکا نے ان کو یقین دھانی کرائی تھی کہ وہ اگر ان کے ’’فرنٹ لائن اتحادی ‘‘ بن جائیں تو کشمیر کے مسئلے کے حل ، نیو کلیئر پروگرام اور معیشت کو مضبوط بنانے میں پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا ،امریکہ کا وعدہ بس وعدہ ہی رہا ،ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہم ہوئے مگر ہماری نالائقیوں کے سبب فوائد بھارت سمیٹ کر لے گیا ۔پاکستانی قوم ہمیشہ کشمیریوں کی پشت پر رہی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم جو پاکستان کی ا یک بڑی اکثریت کے راہنما ہی نہیں ان کے دلوں میں بستے تھے جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے ببانگ دہل کہا تھا کشمیر کے لئے ایک ہزار سال تک بھی لڑنا پڑا تو اس سے باز نہیں آئیں گے ۔ پاکستان کی سول قیادت کے موقف میں کشمیر کے حوالے سے بعض موقعوں پر اونچ نیچ بھی آئی ہے مگر ہمارے عسکری ادارے جن کے ذمہ ملک کے دفاع کی اہم ذمہ داری ہے نے کشمیر کے حوالے سے موقف میں کبھی لچک پیدا نہ ہونے دی ۔جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیاتو کشمیرپر ان کا موقف انتہائی جرات مندانہ تھا ۔ اس کالم نگار نے آگرہ میں اپنی آنکھوں سے جرات مندی کے یہ مناظر دیکھے ، آگرہ میں بات چیت تو ناکام ہو گئی مگر پاکستان نے اصولی موقف سے سرِموا انحراف نہ کیا ۔ نو ، گیارہ میں پاکستان نے دوسروں کی اوکھلی میں سر دے کر نہ جانے کس کس محاذ پر پسپائی اختیار کر کے اپنے آپ کو ’’ ننگ زمانہ ‘‘ بنا لیا ۔ دہشت گردی نے ہماری چُولیں ہلا دیں ۔ بھارت جو کہ تحریک آزادی کشمیر کی بناء پر تلملایا ہوا تھا کو کسی اعلان پر مجبور کرنے کی بجائے کنفیوژن کا شکار مشرف نے چار نکاتی فارمولے کا اعلان کر دیا ۔ بھارتی چالباز قیادت نے اس کے نتیجے میں تحریک آزادی کے عسکری محاذ کو خاموش کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ کشمیریوں نے گولی نہ ملنے پر غلیل اور پتھر کو اپنا ہتھیار بنا کر بھرپور احتجاجی مظاہروں سے اس تحریک کو دبنے نہ دیا ۔ اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھارتی قیادت کے لئے گلے میں ہڈی بنی پڑی ہیں ان کے وزیر اعظم من موہن نے ایک بار کہا کہ مشرف کے دور میں تنازعہ کشمیر کے حل کے نزدیک پہنچ چکے تھے مگر مشرف ہوں یا سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری وہ بار بار فرماتے ہیں کہ تھوڑا موقع ملتا تو مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا ۔ ہمارا دفتر خارجہ اس بات سے انکاری ہے کہ مشرف دور میں حل کے قریب پہنچ چکے تھے ۔ دفتر خارجہ میں خفیہ سفارت کاری کے حوالے سے کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں ۔ من موہن سنگھ یا خورشید قصوری کے پاس کوئی ریکارڈ ہے تو وہ دنیا کے سامنے لائیں۔ خورشید قصوری صاحب سے گزارش ہے کہ وہ بڑے باپ کے بیٹے ہیں پاکستان نے انہیں بڑے اعزاز سے نوازا اور وہ وزارت خارجہ کے انتہائی اہم اور قابل عزت عہدے پر فائز رہے ۔ مقبول راہنما عمران خان کی پارٹی کے اہم راہنما ہیں وہ پاکستانی قوم پر کرم فرمائیں ’’ حل کی بلی ‘‘ کو تھیلے سے باہر لائیں یا خاموشی اختیار کریں ، ان کے بیانات کشمیریوں کے رستے زخموں پر نمک پاشی کا باعث ہیں ۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے یک جہتی کشمیر کے موقع پر آزادکشمیر اسمبلی اور کونسل کے مظفر آباد میں منعقدہ مشترکہ اجلاس سے خطاب میں واضح طور پر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں کش مکش کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کشمیریوں کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تجارت اور ثقافت کے نام پر ہم بھارت کے سامنے بچھے جا رہے ہیں جو کہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں ۔ یہی رویے ہیں جن کے باعث غلام محمد صفی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ پاکستان فیصلہ کرے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ ہے یا بھارت کے ؟ یقیناً پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے ،وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے سرسبز کھیتوں کی شادابی کسی صورت برقرار نہیں رہے گی ۔کیا ہم اپنے ہاتھوں اپنی شہ رگ کو کاٹنے کا باعث بن سکتے ہیں ؟؟

Archives