مصر کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتح السیسی صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے

کویت سٹی(ثناء نیوز)کویت کے ایک اخبار السیاست کے مطابق مصر کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتح السیسی نے یہ کہہ دیا ہے کہ وہ صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے۔ مصر کے صدارتی انخابات امکانا رواں برس اپریل میں ہوں گے۔خلیجی ریاست کویت کے السیاست نامی اخبار نے السیسی کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے پاس عوام کی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ عبدالفتح السیسی نے کہا، میں عوامی مطالبات کو مسترد نہیں کروں گا۔ ان کے بقول وہ مصری عوام کو یہ موقع دیں گے کہ وہ ووٹنگ کے ذریعے اعتماد بحال کریں۔واضح رہے کہ دیگر ذرائع سے اِس کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے کہ مصر میں ممکنہ طور پر صدارتی انتخابات کس تاریخ پر ہوں گے لیکن یہ طے ہے کہ پارلیمانی الیکشن سے قبل صدارتی انتخابات کروانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ بات یقینی ہوتی جا رہی ہے کہ اگلے صدارتی انتخابات میں السیسی بطور امیدوار یقینی طور پر حصہ لیں گے۔۔ کویتی اخبار کے اِس تازہ انکشاف سے مصر میں پیدا شدہ سیاسی بحران میں شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے خدشات بھی سامنے آ رہے کہ جمہوریت کے قیام کے لیے سن 2011 کے کامیاب انقلاب کے بعد ملک ایک مرتبہ پھر فوجی شخصیات کے شکنجوں میں پپھنستا دکھائی دے رہا ہے۔مصر میں 2011 میں سابق صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون برسر اقتدار آئی تھی۔ بعد ازاں السیسی نے گزشتہ برس جولائی میں ان کی حکومت کو برطرف کر دیا تھا۔ فوجی ایکشن اور عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے اخوان المسلمون کے حامیوں اور حکومت کے درمیان تصادم جاری ہے۔ جماعت کے کئی اہم لیڈر زیر حراست ہیں اور انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے جبکہ کریک ڈان میں پارٹی کے ایک ہزار سے زائد کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔مرسی کی معزولی کے بعد سے سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے قاہرہ حکومت کے لیے کئی بلین ڈالر کی امداد جاری کی جا چکی ہے۔ اِسی امداد کی بدولت ملکی معیشت جیسے تیسے گزارا کر رہی ہے تاہم اقتصادیات میں طویل المدتی ترقی کے لیے ملک میں جمہوریت کا قیام اور استحکام لازمی خیال کیا جا رہا ہے۔ قاہرہ تاحال اِس سلسلے میں کوئی واضح حکمت عملی وضح کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے مصر کے لیے اپنی امداد موخر کر رکھی ہے اور پچھلے ماہ نئے آئین پر ریفرنڈم کے نتائج کے باوجود واشنگٹن کی جانب سے یہ کہہ دیا گیا ہے کہ امداد کی بحالی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ السیسی اِس بات سے واقف ہیں کہ مصری عوام فوج کی مدد سے گزشتہ تین برسوں کے دوران دو صدور کو اقتدار سے علیحدہ کر چکے ہیں اور اگر وہ مطلوبہ نتائج برآمد کرنے میں ناکام رہے، تو عوام دوبارہ سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مہم چلا سکتے ہیں۔nt/ah/jk

Archives