لقاعدہ کا شدت پسند تنظیم اسلامی ریاست برائے عراق وشام سے لاتعلقی کا اظہار

قاہرہ(ثناء نیوز) القاعدہ نے شام میں فعال ایک شدت پسند تنظیم اسلامی ریاست برائے عراق و شام کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ISIL نامی یہ تنظیم مشرقی و شمالی شام میں اعتدال پسند باغیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ قاہرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق القاعدہ کی مرکزی کمان کی جانب سے ایک آن لائن پیغام میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ شام میں فعال تنظیم اسلامی ریاست برائے عراق اور شام کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس بیان میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ پر اِس تنظیم کی کارروائیوں کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ بیان میں مزید کہا گیا، ہمیں نہ تو اِس گروہ کے قیام کے بارے میں مطلع کیا گیا اور نہ ہی ہم سے کسی قسم کی کوئی مشاورت کی گئی تھی۔اسلامی ریاست برائے عراق کے سربراہ ابو بکر البغدادی نے اپریل 2013 میں اس گروہ یعنی اسلامی ریاست برائے عراق و شام کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کے بعد سے القاعدہ کا یہ دوسرا اِسی طرز کا پیغام ہے۔ اِس سے قبل گزشتہ برس جون میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے البغدادی ہی کی جانب سے بنائی جانے والی ایک اور تنظیم النصرا فرنٹ کے ساتھ تعلق کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ گروہ شام میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے۔ الظواہری نے اسلامی ریاست برائے عراق و شام کے نام تلے اِن دونوں گروہوں کے اشتراک کو مسترد کر دیا تھا۔واضح رہے کہ النصرا فرنٹ نے بھی اسلامی ریاست برائے عراق و شام اور اس کے مخالفین کے مابین تصادم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کیا تھا اور اطلاعات ہیں کہ ماضی میں اِس گروہ کی جانب سے فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں بھی کی جا چکی ہیں۔ تاہم اتوار کے روز شمالی صوبے حلب میں اس حملے کے بعد، جِس میں اسلامک فرنٹ نامی ایک اور اتحاد کے سولہ جنگجو ہلاک ہو گئے تھے، النصرا فرنٹ نے اعلان کیا کہ اسلامی ریاست برائے عراق و شام کے ساتھ اختلافات دور کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔اِس حوالے سے بات کرتے ہوئے النصرا فرنٹ کے ایک کمانڈر معا الہمساوی نے نیوز ایجنسی کو بتایا، آج اسلامی ریاست برائے عراق و شام نے صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے تمام مسلح گروپوں کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ مکالمت یا مسلم امہ کے وسیع تر مفادات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔واضح رہے کہ اتوار کے روز حلب میں کیے جانے والے حملے میں جِس مقام کو نشانہ بنایا گیا تھا، باغی ذرائع کے مطابق وہاں شام میں فعال متعدد مخالف دھڑوں کے مابین اختلافات دور کرنے کے سلسلے میں مذاکرات کا عمل جاری تھا۔شام میں جاری خانہ جنگی انتہائی پیچدہ ہو چکی ہے اور وہاں فعال اعتدال پسند شامی باغیوں کو کئی اسلامی شدت پسند گروہوں کا سامنا ہے۔ یہ گروہ صدر اسد کا تختہ الٹ کر وہاں اسلامی ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں۔دریں اثنا لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک میں اب تک ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ قریب تین برس سے جاری اِس خانہ جنگی میں اب تک کا سب سے خونریز مہینہ جنوری 2014 تھا، جِس میں کل 5,794 ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں۔ آبزرویٹری کے مطابق گزشتہ ماہ ہلاک ہونے والوں میں 358 بچے اور 1,732 ایسے عام شہری بھی شامل ہیں، جِن کا لڑائی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے مطابق شام کے 2.4 ملین شہری ملک سے نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ ملک میں موجود قریب ساڑھے چھ ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔nt/ab/jk

Archives