شکیل احمد ترابی

شکیل احمد ترابی

’’ نیرؤ کی بانسری ‘‘

خُدا کے محبوب پیغمبر ﷺ نے فرمایا تھا عمال کے اعمال ہی حکمران ہوتے ہیں ۔ آپ ﷺ کے فرامین ہر جگہ ہر موقع پر اپنی حقانیت کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں ۔ پس ہم غور نہیں کرتے اور تباہی و بربادی ہمارا مقدر بن گئی ہے ۔ کلمے کی بنیاد پر حاصل کی گئی مملکت پاکستان اِس وقت اندرونی و بیرونی خطرات کا شکار ہے ۔ ماضی و حال کے حکمرانوں کی عیاشیوں اور بد اعمالیوں کے باعث معیشت تباہ ہو چکی ہے ۔ عیاشیوں سے کنارہ کشی کی بجائے کشکول گدائی جگہ جگہ لئے پھرتے ہیں ۔ بیرونی امداد نے ہمیں بڑی طاقتوں کا غلام بنا کے رکھ دیا ہے ۔ غلاموں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے ۔ پاکستان کے آمر حکمران نے تن تنہا فیصلے کر کے ملک کو امریکا کا غلام بنا دیا ۔ اِس غلامی نے ملک کی چُولیں ہلا کر رکھ دیں ۔ آمر کے فیصلوں کی بدولت پاکستان بمبستان میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ ہماری فوج اور ا س کے ’’سٹریٹجک پارٹنرز ‘‘ ( جہادی لشکر ) جناب مشرف کے ’’ عاقلانہ ‘‘ فیصلوں کی بنا پر ایک دوسرے کو مار کر اپنی اپنی شریعت کے مطابق ’’ مرتبہ شہادت ‘‘ پر فائز ہو رہے ہیں ۔ پیغمبر ﷺ کا قول پھر یاد آتا ہے کہ میری اُمت پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ مارنے اور مرنے والے دونوں کو معلوم نہیں ہو گا کہ ایسا کیوں ہوا ۔ عاقبت نا اندیش مشرف کے فیصلے کے نتیجے میں دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل ہو رہی ہے ۔ فوجی شہید ہوتا ہے یا عسکریت پسند ، ماں دونوں کی پاکستانی ہے ۔ جس کے جگر گوشوں کے لاشے جا بجا گر رہے ہیں ۔ ۔معیشت کی تباہی سے بڑا چیلنج امن و امان کا ہے ۔ امن کی فضائیں روٹھ کر ہم سے کہیں دور جا بسی ہیں ۔
ملک عجیب کش مکش کا شکار ہے ۔ پہلے لوگ کہتے تھے بُرا طرزِ حکمرانی ( BAD GOVERNANCE ) مسلط ہے ، چھ ماہ ہی میں لوگوں کو سابقہ حکمران فرشتے لگنے لگے ہیں اور لوگ کہتے ہیں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں (NONE GOVERNANCE) ہے ۔ نہ جانے لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟ وزراء کی فوج ظفر موج اوپر سے مشیران ، اتنا بڑا کاروان کے بحری جہاز میں مشکل سے آئے ۔ ہر حکومت میں شامل جماعت ، جمعیت العلمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری بھی تو وزیر بن گئے ۔ مولانا پورٹ فولیو نہ ہونے کا رونا روتے ہیں حالانکہ جُبہ و دستار والوں کی تو اپنی شان ، ایک پورٹ فولیو اُن سے کون چھین پائے گا ۔ کابینہ کے کِسی اجلاس میں اگر آ گیا وقت نماز تو امامت تو انہی کا مقدر ٹھہرے گی ؟ ۔ تو ماشاء اﷲ حکومت موجود ہے ۔ جن لوگوں کو یقین نہیں وہ کبھی کبھار وزارتوں کے چکر لگا لیا کریں پھر اُن کو معلوم ہو گا کہ ’’ حکمران ‘‘ نہ صرف موجود ہیں بلکہ قومی خزانے پر اِس طرح ٹوٹے پڑے ہیں جیسے بھوکا دستر خوان پر ، ہم تو قریب کی عینک سے دور کے مناظر بھی ایسے دیکھتے ہیں کہ صاف محسوس ہوتا ہے ’’ بابر باعیش کوش کے عالم دوبارہ نیست ‘‘۔ ہمارا قلم اکثر آگے پیچھے پھِسل جاتا ہے، بات معیشت اور امن و امان کی ہو رہی تھی ۔ پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج امن و امان کا ہے ۔ دہشت گردی کی بات ہوتی ہے تو لوگوں کے ذہن و زبان پر طالبان کا نام ہوتا ہے ۔ طالبان کا نام آتے ہی ذہن دہشت گردی کی جانب مڑ جاتا ہے ۔ عزیزی بلاول زرداری ، معاف کیجئے گا ہمارا مطلب ہے عزیزی بلاول بھٹو زرداری کو جو جدید لغت پڑھائی گئی ہے وہاں جتنے بُرے نام ہو سکتے ہیں ان کا مطلب طالبان ہوتا ہے ۔ ابھی کل ہی تو عزیزی نے کہا کہ چوہدری نثار پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں یا طالبان کے ؟ بلاول ولائت رہنے کی وجہ سے ماضی قریب کی تاریخ سے بھی نا بلد ہیں ۔ ان کے ابا جان تو صدارت کی ذِمہ داریوں سے فراغت کے باوجود بھی متحدہ عرب امارات کی ریاست عجمان کے محل میں اب بھی ’’ اہم ذمہ داریاں ‘‘ ادا کرنے میں مصروف ہیں ۔ شرمیلا صاحبہ آج کل ’’ فارغ ‘‘ ہیں ۔ وہ عزیزی بلاول کو بتا دیں کہ اُن کی مرحومہ اماں جان کے وزیر داخلہ نصیر اﷲ بابر نے ’’ بااثر ‘‘ اداروں کے تعاون سے طالبان کا لشکر جب تشکیل دیا تھا تو اُن کو ہرگز معلوم نہ تھا کہ یہ گروہ اپنے ہی گلے کی ہڈی بن جائے گا ۔ دشمن ،پاکستان میں حالات کو پُر امن نہیں دیکھنا چاہتا اِس لئے ماضی میں قیام امن کی کوششوں کی بیل کو منڈھے نہیں چڑھنے دیا گیا ۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی کوششوں کے باعث طالبان سے مذاکرات کی میز سج چکی ہے ۔ ہمارے بعض دانشوروں کو اِس میز کے سجنے کی سخت تکلیف ہے ، بے چارے فِکر سے ہلکان ہوئے جا رہے ہیں کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے تو اُن کی دُوکانیں کیسے چل سکیں گی ؟ ہمارے دانشور نہ جانے کیوں بھول رہے ہیں کہ برطانیہ نے ’’ آئرش دہشت گردوں ‘‘ کو نیست و نابود کر کے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی قابو کیا تھا ۔ شرط صرف یہ ہے کہ کوئی فریق بھی دوسرے کو کمزور سمجھے نہ بے وقوف ، صدق دل سے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے ۔ روم کی مانند پاکستان بھی جل رہا ہے اور ہمارے نیرؤ بانسریاں ’’ بجانے ‘‘ میں مصروف ہیں ۔ جنگ کے کالم نگار عبد الرؤف نے بڑی خوبصورتی سے بعض حکومتی کل پرزوں کی ’’ اہم مصروفیات ‘‘ کو قلمبند کیا ہے ۔ اُن کی تحریر میں کہیں سابق مشیر کی شادی کا تذکرہ ہے تو کہیں وفاقی وزیر کی ’’نجی مصروفیات ‘‘ کے سبب توانائی کے بحران کے بڑھنے کے خدشے کا بھی ذکر ہے ۔ اسلام آباد میں تو ایک اور اہم وزیر کے ایک وزیرنی سے ’’ مراسم ‘‘ ہی کا شور نہیں بلکہ وزیر موصوف
سے ’’ ملاقاتوں ‘‘ کے لئے سرکاری ٹیلی ویژن کی اینکر پرسن کے ہوائی سفر کے اخراجات سرکاری ٹیلی ویژن کے خزانے سے دئیے جانے کے ثبوت سرکاری ریکارڈ سے نجی ہاتھوں پہنچ چکے ہیں ۔ جب اہم حکومتی عمّال کے ’’ معاملات ‘‘ اس طور ’’ کھُل ‘‘ جائیں گے تو چھپ کر بے حیائی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی ۔ سرکاری ٹیلی ویژن میں ایک اہم ڈائریکٹر نے ’’ کچھ بڑوں ‘‘ کو خوش کرنے کے لئے ایسی حیا باختہ اینکرز بھرتی کر رکھی ہیں بلکہ اُن چند خواتین اینکرز کی تنخواہوں میں پچاس سے ایک لاکھ کا اضافہ بھی کر دیا گیا ۔ سرکاری ٹیلی ویژن کا کوئی مرد اینکر ’’ صلاحیت ‘‘ کا مظاہرہ نہ کر سکنے کے باعث تنخواہ میں اضافے سے محروم رہا ۔ جیسا کہ ہم نے کہا اہم عمّال کو دیکھ کر اِن اینکرز کی حوصلہ افزائی ہوئی ان کے سگریٹ کے سُوٹوں اور دھوئیں سے ’’ کئی دقیانوس ‘‘ آفیسرز تنگ تھے ۔ بات سوٹوں سے آگے بڑھ گئی ہے اور ’’ انگور کی بیٹی ‘‘ کوک کی بوتل میں ایک اینکر کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور نوکری کے اوقات میں موصوفہ دفتر میں ’’ کوک ‘‘ پیتی رہتی ہیں ۔ دوسری طرف سندھی ثقافت کے نام پر دھمال اور بوس و کنار کے مناظر نجی چینلز پر دکھائے گئے خدشہ ہے کہ کہیں ہم اﷲ کے غضب کا شکار نہ ہو جائیں ۔ مذاکرات کے اس اہم موقع پر استغفار کی اشد ضرورت ہے ۔ آقا ﷺ میدان جنگ میں بھی گِڑگِڑا کر اپنے رب سے مغفرت طلب کرتے تھے ۔ ہمارے وزیر اعظم اکثر و بیشتر روضہ رسول ﷺ پر وقت گزارتے ہیں سے گزارش ہے کہ وہ وزراء کو کہیں کہ کِسی نے شادی کی ہے تو اُس کو ظاہر کرے ، بصورت دیگر اُنہیں اقتدار سے الگ کر دیں ۔ یاد رکھئے نبی مہربان ﷺ نے کہا تھا عمال کے اعمال ہی حکمران ہوتے ہیں ۔ بے حیائی حکمران ہو گی تو ہمیں تائید ایزدی کِسی صورت حاصل نہ ہو گی طالبان سے بڑی کوئی بلا ہی ہمارے مقدر ہو گی ۔

Archives