شام : نئی ویڈیو منظر عام عسکریت پسندوں کا ایک شخص کا سر قلم

دمشق(ثناء نیوز)شام میں منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کو ایک شخص کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اِس واقعے میں اسلامی ریاست برائے عراق و شام کے باغی ملوث ہیں۔ویڈیو میں سیاہ لباس میں ملبوس مسلح افراد نے گھاس پر لیٹے ہوئے ایک نامعلوم شخص کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ بعد ازاں ایک باغی کو ایک چھوٹے چاقو کی مدد سے اس شخص کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے۔ جائے وقوعہ پر بچوں سمیت کئی دیگر افراد بھی موجود تھے، جِنہیں اِن مناظر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور تصاویر بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ ویڈیو وسطی صوبے حمص میں بنائی گئی ہے۔ تنظیم نے اِس ویڈیو کو ہفتے کے روز جاری کیا تاہم تاحال کسی آزاد ذرائع سے اِس ویڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔شام میں گزشتہ قریب تین برس سے جاری حکومت مخالف تحریک نے کافی پیچیدہ شکل اختیار کر لی ہے۔ وہاں اعتدال پسند باغیوں کے ساتھ ساتھ متعدد سخت گیر اسلامی شدت پسند گروہوں نے صدر بشار الاسد کے خلاف مسلح تحریک جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسلامی ریاست برائے عراق و شام دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ سے منسلک ایسی ہی ایک تنظیم ہے۔سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے یہ دعوی کیا کہ شام میں قریب تین برس سے جاری مسلح حکومت مخالف تحریک میں گزشتہ ماہ، اب تک کے سب سے خونریز مہینوں میں شامل ہے۔ دسمبر 2013کے اختتام پر وہاں ہلاک شدگان کی تعداد 130,433 تھی جب کہ اس وقت سے لے کر اب تک مزید چھ ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ آبزرویٹری کے مطابق مارچ سن سے شروع ہونے والی اِس تحریک میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد جنوری کے اختتام پر 136,227 تھی۔سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ خون خرابہ یکم فروری کے روز بھی جاری رہا اور مجموعی طور پر چھیالیس شہری ہلاک ہوئے۔ سرکاری افواج نے شمالی شہر حلب پر ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم برسائے، جِن سے طارق الباب نامی ایک علاقے میں کل تینتیس سویلین مارے گئے۔ حلب ہی کے ایک اور علاقے میں سات افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب جہادی تنظیم اسلامی ریاست برائے عراق و شام نے دو کار بم دھماکوں کے ذریعے باغیوں کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ وسطی صوبے ہاما میں مورک نامی شہر کے قریب بارہ سرکاری فوجی بھی مارے گئے۔abd/ah/ks

Archives