ایرانی اسرائیل کے بجائے سعودی عرب کو اپنا دشمن اول خیال کرتے ہیں سابق امریکی سفیر

کویت سٹی(ثناء نیوز)امریکا کے ایک سابق سفیر فرڈ ہوو، جو امریکی دفترخارجہ میں شام سے متعلق امور کے نگران بھی، رہ چکے ہیں نے کہا ہے کہ ایرانی عہدیداروں کی اکثریت اسرائیل کے بجائے سعودی عرب کو اپنا دشمن اول خیال کرتی ہے۔کویت کے ایک مقر اخبار”الرائے” کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی سفیرکا کہنا ہے کہ شام کے مسئلے پران کی کئی بار ایرانی حکام سے ملاقاتیں اور مشترکہ اجلاس ہوتے رہے ہیں۔ فریڈ ہوو کے بہ قول میں نے ایرانی عہدیداروں کو قریب سے دیکھا اورسعودی عرب کے بارے میں ان کے تاثرات کا جائزہ لیا ہے۔ میں اس نتیجے پرپہنچا ہوں کہ ایرانی حکام اسرائیل کے بجائے سعودی عرب کو اپنا اصل دشمن سمجھتے ہیں۔ شام کے معاملے میں توسعودی عرب ان کا حقیقی دشمن ہے۔امریکی سفیر کا مزید کہنا ہے کہ دشمن قرار دینے کے باوجود ایرانی سعودی عرب کی روزمرہ بڑھتی اہمیت کے بھی معترف ہیں۔ ایک سعودی عہدیدار نے امریکی سفیر سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے معاملے میں سعودی عرب کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ “ہمیں خطے میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی کے نتائج پر گہری تشویش ہے۔ خطے کو خانہ جنگی اور فرقہ واریت سے بچانا امریکا اور ایران دونوں کے مفاد میں ہے، لیکن امریکیوں کے سعودی عرب کے ساتھ بھی مفادات وابستہ ہیں۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کی لگائی گئی فرقہ واریت کی آگ ختم کرائے۔ ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس امر کے اعتراف میں کوئی عار نہیں کہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ تہران پراسرائیلی حملے کی صورت میں دفاع کی فرنٹ لائن ثابت ہو گی۔nt/ah/jk

Archives