دمشق اور حماہ کے تباہ شدہ علاقوں کی خلائی تصاویر منظرعام پر آگئیں

دمشق(ثناء نیوز)انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو)نے خلائی تصاویر،عینی شاہدین کے بیانات ،ویڈیو اور گرافک شواہد پر مبنی ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے اپنے مخالف شہریوں کو سزا دینے کے لیے ان کے ہزاروں مکانوں کو مسمار کردیا ہے۔ایچ آر ڈبلیو کی اس نئی رپورٹ کا عنوان ”زمین پر انہدام:شام کی 2012 اور2013 کے دوران غیر قانونی مسماری” ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت دمشق اور حماہ میں قریبا ایک سو چالیس ہیکٹر یا فٹ بال کے دوسو میدانوں کے برابر رقبے پر آباد رہائشی علاقوں کو مسمار کیا گیا ہے۔اڑتیس صفحات کو محیط اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شامی فورسز کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہونے والی بہت سی عمارتیں کثیر منزلہ تھیں۔انھیں صدر بشارالاسد کے تحت سکیورٹی فورسز نے دھماکا خیز مواد یا بلڈزوروں کے ذریعے تباہ کیا ہے اور یہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے”۔ہیومن رائٹس واچ کے ایک محقق اولے سولوینگ کا کہنا ہے کہ ”پورے پورے علاقوں کو نقشے سے مٹا دینا کوئی جائز جنگی حربہ نہیں ہے۔مکانوں کی اس غیر قانونی مسماری سے شامی حکومت سے سرزد ہونے والے جرائم کی فہرست میں مزید اضافہ ہوگیا ہے”۔نیویارک میں قائم تنظیم کا کہنا ہے کہ ”مکانوں کی مسماری سے بظاہر کسی فوجی مقصد کی تکمیل نہیں ہوئی اور یہ اقدام صرف شہری آبادی کو سزا دینے کے لیے کیا گیا ہے”۔ایک شامی خاتون نے ایچ آر ڈبلیو کو بتایا کہ ”مکانوں کو مسمار کرنے کے بعد فوجی ہمارے پاس آئے تھے اور انھوں نے لاڈ اسپیکروں کے ذریعے یہ اعلانات کیے کہ اگر یہاں سے ایک بھی گولی چلی تو وہ ہمارے علاقے کو بھی وادی الجوز اور ماشا الاربعین کی طرح تباہ کردیں گے۔تنظیم کے مطابق تباہ کیے گئے علاقے حزب اختلاف کے مضبوط گڑھ خیال کیے جاتے ہیں۔رپورٹ میں شامی علاقوں کی تباہی اور اس سے قبل کی دونوں تصاویر دی گئی ہیں۔حماہ کے علاقے وادی الجوز کی تباہی سے قبل کی تصویر میں اپریل 2013 میں دو مرکزی شاہراہوں کے درمیان لاتعداد عمارتیں نظرآرہی ہیں لیکن بعد کی تصویر میں وہاں صرف سفید جگہ ہی دیکھی جاسکتی ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں شہریوں کے مکانوں پر حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ شہری املاک کو تباہی سے دوچار کرنے اور شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کے ذمے داروں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ان کے خلاف تحقیقات کی جانی چاہیے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔تنظیم نے رپورٹ میں شامی فورسز کے ہاتھوں سات مکانوں کے کیسوں کا حوالہ دیا ہے۔یہ مکانات جولائی 2012 سے جولائی 2013 کے دوران ایک سال کے عرصے میں تباہ کیے گئے تھے۔جن علاقوں میں شامی فورسز نے مکانوں کی مسماری کا فریضہ انجام دیا،ان کے نام یہ ہیں:وسطی صوبے حماہ کے علاقے ماشا الاربعین اور وادی الجوز،دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے قابون ،تدامون ،بارزہ ،المزہ فوجی ہوائی اڈا اور حران العوامید۔ان علاقوں کے بعض مکینوں نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ انھیں مکانوں کو مسمار کرنے سے قبل بالکل بھی مطلع نہیں کیا گیا تھا اور بعد میں انھیں کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔واضح رہے کہ شام میں مارچ 2011 سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مسلح عوامی تحریک کے نتیجے میں ایک لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔پرامن احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی تحریک مکمل خانہ جنگی کی شکار اختیار کرچکی ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں شامی بے گھر ہو کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔nt/ah/jk

Archives