بیت المقدس کی آزادی کے بغیر امن نہیں ہوگا، محمود عباس

مقبوضہ بیت المقدس (ثناء نیوز)فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے دوٹوک اور کھلے لفظوں میں خبردار کیا ہے کہ فلسطینی اسرائیل کے آگے جھکیں گے نہ ہی اسے رعائیتیں دیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار شادمانی اور جوش سے لبریز حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ہفتے کی رات کیا ہے۔محمود عباس کا لہجہ بھی اس موقع پر آتشیں تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے اس امر کا امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ان کوششوں کے باوجود اظہار کیا ہے جو وہ حالیہ مہینوں سے امن معاہدے کیلیے کررہے ہیں۔ اس مقصد کیلے جان کیری اب تک بیت القدس کے دس دورے کر چکے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر سے ان کی گھنٹوں پر محیط کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ اور وہ اسرائیل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی غرض سے فلسطینیوں سے بعض رعائیتیں دلوانا چاہتے ہیں۔اس مقصد کیلے ان کی کوشش ہے کہ امن معاہدے کے خاکے میں ایک دوطرفہ ڈیل طے پاجائے۔ اس ڈیل میں غرب اردن میں اسرائیلی فورسز کی تعیناتی کی تجویز بھی شامل ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے شیرون کی موت کے موقع پر دوٹوک یہ بھی کہا ہے کہ فلسطینی عوام مشرقی بیت المقدس میں اپنے دارالحکومت کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ واضح رہے یہ علاقہ اسرائیل نے 1967 میں قبضہ میں لیا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ دوسری جانب محمود عباس اور ان کے ساتھی سمجھتے ہیں کہ جان کیری کی تجاویز ان کے حق میں ہیں۔ محمود عباس نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس کا قبضہ نہ چھوڑا گیا تو کوئی امن نہیں ہوگا۔nt/ah/ks

Archives