شیرون کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے تھے ،فلسطینی رہنما

مقبوضہ بیت المقدس، یروشلم (ثناء نیوز)فلسطینیوں نے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایرل شیرون کیانتقال کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے جنگی مجرم ہونے کے باوجود زندگی بھر جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں پیش نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ایک سینئر فلسطینی رہنما جبریل رجب نے شیرون کی موت پر کہا وہ ایک جنگی مجرم تھا اور فلسطینی قائد یاسرعرفات کے قتل میں بھی ملوث تھا، ہمیں امید تھی کہ اسے عالمی عدالت میں پیش کیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔غزہ میں حکمران فلسطینی جماعت حماس نے شیرون کی موت کا تاریخی لمحہ قرار دیا اور کہا وہ ایک جرائم پیشہ قاتل تھا اور اس کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگین تھے مگر اسے کبھی جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں پیش نہ کیا گیا۔ادھراسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایرل شیرون کا ہفتے کے روز 85 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ وہ گزشتہ آٹھ برسوں سے کومے کی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ایرل شیرون کی تقریبا دو ہفتے قبل اس وقت زیادہ خراب ہوئی جب ان کے گردوں اور بعض دیگر اہم اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ہسپتال میں ان کے معالجین نے تین چار دن سے ان کی زندگی سے مایوسی کے اشارے دے دیے تھے تاہم کوئی مزید تفصیل نہیں جاری کی تھی۔ ایرل شیرون اسرائیلی تاریخ کی انتہائی متنازعہ شخصیت رہے، انہیں آٹھ برس پہلے برین ہیمرج ہوا تھا، جس کے بعد موت تک آج تک کومے کی حالت میں رہنا پڑا۔وہ اسرائیل کے وزیر دفاع بھی رہ چکے ہیں فلسطینی عوام کے خلاف اپنی تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے انہیں اسرائیل میں ”بلڈوزر” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ہفتے کے روز موت نے اس ”بلڈوزر” کو بلڈوز کر دیا۔ لبنان میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر حملوں اور ہزاروں کو ہلاک کرنے اور تباہی مچانے سے عالمی شہرت پائی۔ بے گھر پناہ گزینوں کو ہزاروں کی تعداد میں ہلاک کرنے سے ان کی شخصیت کھل کر سامنے آگئی۔ عالمی برادری نے ان کی اس غیر انسانی کارروائی کی شدید مذمت کی تاہم اسرائیل میں وہ پہلے سے زیادہ پسند کیے جانے لگے۔بعدازاں ایرل شیرون نے مقبوضہ فلسطینی علاقے غزہ میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی وجہ سے شہرت پائی۔ انہی ”خدمات” کی بدولت 2001 میں انہیں اسرائیل کا وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا۔ وزیر اعظم بننے کے بعد ایرل شیرون نے پھر اپنے اسرائیلی عوام کو خوش کرنے اور اپنے جذبات کی تسکین کیلیے فلسطینی مزاحمت کے خلاف ایک خوفناک کریک ڈاون شروع کیا۔ اس کریک ڈاون کے دوران کم از کم تین ہزار فلسطینی شہید کییگئے۔لیکن 2005 میں ان کی حکمت عملی میں ڈرامائی تبدیلی آئی اور انہوں غزہ کی پٹی میں پچھلے 38 سال سے موجود اسرائیلی قابض فوج کو واپس بلا لیا اور اس علاقے میں قائم غیر قانونی یہودی بستیاں ختم کر دیں۔یہ فیصلہ اسرائیل کے مجموعی مزاج اور خود شیرون کے اپنے رجحان کے بھی برعکس تھا۔ لہذا اس پر سخت ردعمل ہوا اور خود ان کی اپنی جماعت لیکوڈ پارٹی میں ناراضگی کا باعث بنا۔ اسی ماحول میں انہیں کچھ عرصہ گزرنے کے بعد برین ہیمرج کے نتیجے میں کومے میں جانا پڑا۔ اب بتایا جاتا ہے دہشت کی علامت سمجھا جانے والا شیرون آنجہانی ہوگیا ہے۔nt/ah/ks

Archives