تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیئے

تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیئے

شکیل احمد ترابی

2 اور 3 جنوری 2010 ء کی یخ بستہ و تاریک شب بھُلائے نہیں بھولتی ۔ آزاد کشمیر کے معروف ماہر تعلیم ، دانشور و ادیب جناب پروفیسر محمد یعقوب شائق کی دختر نیک اختر کی رُخصتی کی تقریب میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد کے گِرد لوگ جمع تھے ۔ شادی ہال کے مین گیٹ سے قاضی حسین احمد کو داخل ہوتے دیکھ کر لوگ عجب والہانہ پن سے اُن کی جانب لپک پڑتے ہیں ۔ میرا حسن شرجیل میرے ساتھ تھا ، قاضی صاحب اپنے دونوں ہاتھ اُس کے گالوں پر رکھ کر اُس کی پیشانی چومتے ہیں ۔ میرے نورِ نظر نے اِس بوسے کو اپنے لیے ایک اعزاز قرار دیا ۔ کِسے معلوم تھا ٹھیک دو دِن بعد اُسے ہم سے چھین لیا جائے گا ۔ 9 جنوری 2010 ء کو ایک ’’مایہ ناز ‘‘ کرائم رپورٹر نے خبر دی کہ ایک انٹیلی جنس آفیسر نے اُسے بتایا کہ پریڈ لین مسجد کے اہم کردار کے ساتھ حسن کو بھی تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا ہے ۔ ڈی آئی جی اسلام آباد نے 10 جنوری کو میری موجودگی میں کِسی بریگیڈےئرکو فون کیا اور مجھے کہا کل آپ کا بیٹا آپ کے حوالے کر دیا جائے گا ۔ وہ کل پھر کبھی نہ آئی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جب از خود نوٹس لیا تو ڈی آئی جی میرے دفتر تشریف لائے ، نیشنل پریس کلب کے اُس وقت کے صدر جناب افضل بٹ اور دوسرے سینئر صحافی کی موجودگی میں ڈی آئی جی نے بریگیڈےئر سے ہونے والی بات چیت کا اعادہ کیا اور اپنی بے بسی کا رونا رویا ۔ جناب چیف جسٹس کے پے در پے احکامات کے نتیجے میں یکم دسمبر 2010 ء کو حسن شرجیل کی ملاقات اُس کی ماں سے کرا دی گئی ۔ ملاقات میں کوئی تیسرا موجود نہ تھا مگر اُس کی ماں کی اسلام آباد واپسی سے قبل نجی ٹیلی ویژنز پر خبریں نشر ہو گئیں کہ حسن نے ماں کے ساتھ واپس آنے سے انکار کر دیا ۔جھوٹوں پر خدا کی لعنت ، 9 جنوری کو انٹیلی جنس آفیسر کے حوالے سے خبر دینے والا عاقب نا اندیش جھوٹ کی حدیں پھلانگتے ہوئے 5 دسمبر 2010 ء کو خبر دیتا ہے کہ حسن کا باپ خفیہ اداروں پر الزامات لگاتا رہا مگر اس کا بیٹا نیٹو فورسز کے خلاف القاعدہ کے ساتھ مل کر لڑ رہا ہے ۔ 16 جنوری 2007 ء کو حسن کے باپ کو القاعدہ نے اغواء کیا تھا ؟ 18 مئی 2007 ء کو قدیر خان ہسپتال اسلام آباد کے سامنے اُس کے باپ کی پٹائی بھی القاعدہ نے کی تھی ؟ 14 ستمبر 2007 کو 15 سالہ حسن شرجیل پر اُس کے سکول کے باہر القاعدہ حملہ آور ہوئی تھی ؟ اِن سوالات کے جوابات اور ’’ پہاڑوں پر ‘‘ اُسے کِس نے پہنچایا ، کِسے معلوم نہیں ۔ پہاڑوں کے راستے کہاں سے گزرتے ہیں ؟ وہاں سامان ، رسد اور اسلحہ کون پہنچاتا ہے ؟ مجھے اچھی طرح معلوم ہے ۔ عدالتوں کے اندر دنیا کے سامنے تو جھوٹ بولے جا سکتے ہیں مگر یاد رکھےئے ایک بہت بڑی عدالت نے ابھی لگنا ہے ۔ میرے رب کی عدالت ، وہاں تمہاری زبان جھوٹ نہیں بول سکے گی ، تمہارے ہاتھ اور پاؤں تمہارے اپنے خلاف گواہی دیں گے ۔اولاد کا دُکھ اولاد والے ہی جان سکتے ہیں ۔ چار سال بیت گئے یہ دُکھ ناقابل برداشت و بیان ہے مگر اصل طاقت ور اپنے رب سے کہتے ہیں کہ ’’ جو تو نے عطا کیا اور جو تو نے عطا نہیں کیا ، جو تو نے دے کر لے لیا ، ان سب پر تیرا شکر ! جو تو نے عطا کیا وہ تیری ’’ نعمت ‘‘ جو تو نے عطا نہیں کیا وہ تیری ’’ حکمت ‘‘ اور جو تو نے دے کر لے لیا وہ ہمارا ’’ امتحان ‘‘ ۔ یا اﷲ ہمیں ہر حال میں اپنا شکر ادا کرنے والا بنا دے ۔ اﷲ تو ہمارے نور نظر و راحتِ جان کو صحیح سلامت لوٹا کر ہمارے سینوں میں لگی آگ کو ٹھنڈا کر دے ۔ ہمارا مزید امتحان نہ لے ، اے رب العالمین ۔ 5 اور 6 جنوری 2012 ء کو ایک بار پھر یخ بستہ رات آئی اور قاضی صاحب کو ہم سے چھین کر لے گئی ۔ ایک سال بیت گیا ۔ یہ سال ہم پر قیامتیں بپا کر گیا ۔ ذات سے لے کر ملک و ملت تک ہر موقع پر آپ کی کمی بہت محسوس ہوئی ۔ آپ فی الواقع ہمیں یتیم کر گئے ۔ جماعت کی امارت سے تو آپ 2009 ء کو فارغ ہو گئے تھے مگر ’’ فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا ‘‘ سابق امیر ، ادارہ فکر و عمل اور ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ کے طور پر ایک لمحہ بھی سکون سے نہ بیٹھے ۔ قاضی صاحب کا ظاہر و باطن روشن تھا۔ جس چیز کو حق سمجھتے اُس کا برملا اظہار کرتے ۔ آزادی کشمیر کی تحریک کی پشتبانی جس طور قاضی صاحب نے کی نہ کوئی اور کر سکا اور نہ شاید کر سکے گا مگر ایک موقع پر انہوں نے گہرے مشاہدے کے بعد کہا کہ کشمیر ہو یا افغانستان ہماری جدوجہد اور کوششوں کی ناکامی کا سبب اسلام آباد ہے ۔ آپ فرماتے تھے جب تک ’’ بیمار اسلام آباد ‘‘ تندرست نہیں ہوتا ہماری دیگر محاذوں پر کوششیں اور جدوجہد کارگر نہیں ہو گی ۔ 18 فروری 2009 ء کو واجپائی کی آمد سے قبل بعض مقتدر ادارے چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی ان کی آمد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑے کرے ۔ قاضی حسین احمد اس پر آمادہ نہ تھے ۔ حزب المجاہدین کے نائب امیر عبد المجید ڈار کو قاضی صاحب کے پاس بھیجا گیا ۔ ڈار مرحوم نے ازبس کوششیں کیں ، دلائل کے انبار لگا دئیے مگر وہ قاضی صاحب کو قائل نہ کر سکے ۔ ’’ ٹانگہ بردار لیڈر ‘‘ قاضی صاحب پر الزام لگاتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 اور خفیہ اداروں سے ہدایات لیتے تھے ۔ ان بالشتےؤں کو کیا معلوم کہ مومنانہ بصیرت کے حامل قاضی کتنے بڑے راہنما تھے ۔ مشرف کے اہم معاون جنرل احتشام ضمیر جنہوں نے سیاست دانوں کو رام کرنے کے لیے ’’ کارگر نسخے ‘‘ آزمائے نجی مجالس میں قاضی صاحب کے کردار کی گواہی دیتے ہیں کہ دھونس ، دولت اور دیگر ذرائع سے قاضی صاحب کو رام کرنا انتہائی مشکل امر تھا ۔ بات واجپائی کی آمد سے کہیں اور چل نکلی ، ’’ طاقتور ‘‘ حلقوں کو جب ایک مجید کے ذریعے ناکامی ہوئی تو دوسرے مجید کے پاس جا پہنچے ۔ نظریہ پاکستان کے علمبردار پاکستان کے بزرگ صحافی قاضی حسین احمد کو پاکستان کی بقاء کا واسطہ دے کر واجپائی کے خلاف احتجاج پر آمادہ کر لیتے ہیں ۔ مومنانہ بصیرت قاضی صاحب کو قدم اٹھانے سے روک رہی تھی مگر بزرگ صحافی کے احترام پر قاضی صاحب ، جماعت کی قیادت اور کارکنوں پر جو بیتی وہ ناقابل بیان ہے مگر اس سب کچھ پر تجزیہ نگار آنکھیں بند کر محض یہ الزام لگاتے ہیں کہ جماعت فوج کی ’’ بی ٹیم ‘‘ ہے ۔ یا للّعجب ’’ بی ٹیم ‘‘ جماعت اور اقتدار ہمیشہ اے ٹیم ، پی پی پی اور مسلم لیگ ( ن ) کو ’’ اُن ‘‘ کے تعاون سے ملتا ہے ۔ قاضی صاحب کے دور میں جماعت کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے 16 سال تک قاضی صاحب کے ساتھ کام کیا وہ کہتے ہیں کہ ’’ قاضی صاحب کی خِلوت و جلوت اور ان کے فیصلوں کے بارے میں مجھ سے زیادہ شاید ہی کوئی گواہی پیش کر سکتا ہے ۔ انسان ہمیشہ انسان ہی رہتا ہے کبھی فرشتہ نہیں بن سکتا ۔ اس لیے یہ گمان کرنا کہ اس سے غلطی سرزد نہیں ہو سکتی یہ بہت سادگی کی بات ہے ۔ قاضی صاحب سے بھی زیادہ نہیں کچھ غلطیاں تو ہوئی ہوں گی ، کیونکہ ہر کام کرنے والا انسان غلطی بھی کرے گا ۔ البتہ جماعت کے نظام میں خامیوں کا علاج بھی موجود ہے ۔ قاضی صاحب کے کچھ فیصلوں پر کچھ لوگوں کو تحفظات رہے ہوں گے ۔ لیکن قاضی صاحب وہ ہیں جو اپنی خوبیوں اور خصوصیات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ‘‘ ۔ معالج ماہر نہ ہو تو مرض بڑھ جاتا ہے ۔ ہماری سیاسی قیادت نہ اس طور قابل اور نہ ماہر جو صحیح صحیح تشخیص کر کے ’’ بیمار اسلام آباد ‘‘ کا علاج کر سکتی ۔دسمبرہر سال آتا تو محب وطن پاکستانیوں کے زخم تازہ ہو جاتے مگر اب کی بار عبد القادر مُلا کی شہادت کے نتیجے میں زخموں سے خون رِسنا شروع ہو گیا ۔ جس پاکستان کے لیے مُلا نے پھانسی کے پھندے کو خوشی خوشی قبول کیا ، اس پاکستان کی محبت میں ترکی کا وزیر اعظم طیب اردگان تو پھانسی سے چند لمحے قبل تک مُلا کی جان بخشی کے لیے از بس کوششیں کرتا ہے ۔ مگر ہائے افسوس پاکستانی حکمرانو تم پر صد افسوس ، تمہاری ذات کے لیے ایک اسلامی ملک کے حکمران نے کوششیں کیں اور تمہیں جیل کی کال کوٹھڑیوں سے نجات دلا کر عالیشان محلوں میں مزے کی زندگی بہم پہنچائی تو وہ دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ تھا اور جو پاکستان کی سالمیت کے لیے کٹ مرے اُن کے خلاف غیر انسانی اقدامات پر ضعف کا شکار اسلام آباد ایک بیان بھی نہ دے سکا ۔
قاضی صاحب ہم آپ کو کہاں کہاں یاد نہیں کریں گے ۔

مقدور ہو  تو خاک سے پوچھوں کہ اے لیئم
تو  نے  وہ  گنج  ہائے  گراں مایہ  کیا  کیئے

Archives