صبر، بخوبی صبر

صبر، بخوبی صبر

شکیل احمد ترابی

باپ (یعقوب علیہ اسلام )نے یہ داستان سُن کر کہا’’دراصل تُمہارے نفس نے تُمہارے لئے ایک بڑی بات کو سہل بنادیا۔ اچھا اس پر بھی صبر کرونگا اور بخوبی کرونگا۔ کیا بعید کہ اﷲ اِن سب کو مجھ سے لا ملائے، وہ سب کچھ جانتا اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں‘‘ پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کا بیٹھ گیا اور کہنے لگا’’ہائے یوسف!‘‘ وہ دل ہی دل میں غم سے گٹھا جارہا اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئیں تھیں۔( سورۃ یوسف آیت 83)
حسن شرجیل آج تجھ کو ہم سے جدا ہوئے126,144,000 سیکنڈز،2,102,400 منٹس، 35,040 گھنٹے، 1,460 دن،48 مہینے یعنی چار سال بیت گئے۔
ایک ایک سکینڈ (لمحے) کی داستان ناقابل بیان۔ سیدنایعقوب علیہ اسلام خدا کے پیغمبر اور رورو کے آنکھیں سفید پڑ گئیں( یعنی آپ نابینا ہوگئے) ۔ ہم پیغمبر خُدا کی خاک پا بھی نہیں ، رو رو کر ہماری بینائی بھی کمزور پڑ گئی۔ خیالات ، اندیشے اور وسوسے کسی پل چین نہیں لینے دیتے۔ مگر عزیز از جان خدا کی عظیم کتاب سامنے کھلی ہے۔ سورۃ یوسف کی آیت83 میں اﷲ رب العزت یعقوب علیہ اسلام کا کہا بیان کرتے ہیں کہ صبرکرونگا بخوبی صبر۔ ہم بھی اپنے رب سے دعا اور صبر ہی مانگیں گے۔ انشاء اﷲ!
اس سورۃکی آیت 18 میں بھی یعقوب علیہ اسلام نے کہا’’ تمہارے نفس نے تمہارے لئے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا ، اچھا صبرکرونگا اور بخوبی صبر کرونگا، جو بات تم بتارہے ہو اس پر اﷲ ہی کی مدد مانگی جاسکتی ہے۔‘‘
عزیزی حسن تمہارے معاملے میں بھی جو بات بنائی گئی ، ’’ جہاد‘‘ سرکاری وغیرسرکاری گروہوں نے جو راستے تخلیق کئے اس کا فیصلہ بھی میرا رب کرہی دیگا۔ جلد یا بدیر ، پس ہم صبر ہی کریںگے۔
حقیقتِ حال اس دنیا میں نہ بھی کُھلی تو کیا آخرت میں لوگوں کا سب کِیا دھرا سامنے نہیں لایا جائیگا؟ ۔ یہ گروہ طاقت ور بھی ہیں اور ہماری پہنچ سے باہر بھی ، راحت جاں مگر نہ میرے رب سے زیادہ طاقت ور نہ اس کی پہنچ سے باہر وہ خود کہتا ہے ’’کون ہے جو بے قرار کی دعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور کون ہے جو تمہیں زمین پر خلیفہ بنا تا ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔(سورۃ النمل آیت62)
پس تمہاری جدائی میں روئیںگے بھی ، تڑپیں گے بھی ، مگر کسی سرکاری غیرسرکاری لشکر کے آگے جھکنے کی بجائے اپنی تمام نیازمندیاں صرف اسی سے اور جبیں سجدہ ریز ہوگی اسی ہی کی بارگاہ میں، وہ بے قرار کی سنتا ہے، وہی ہمارا قرار ہمیں لوٹائے گا۔
حفیظ کی پناہ میں سلامتی سے رہو ۔

اﷲ توُ ظالموں کے دِلوں میں نرمی ڈال اور اے ہمارے رب ہماری خطائیں معاف کر ، ہماری دعائیں قبول کر ، اﷲ ہمیںثابت قدم رکھ ، صبرکرنے والا بنا، مالکِ دوجہاں تو اِن جدائی کے لمحات کا اَجر آخرت میں ہماری خطائیں معاف کرکے ہمیں بخش دے۔ ارحم یارب العالمین ارحم۔
اﷲ کِسی متنفِس پر اُس کی مَقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ۔ ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے ، اس کا وبال اُسی پر ہے ۔اے ہمارے رَب ، ہم سے بھُول چوک میں جو قصور ہو جائیں ، اُن پر گرفت نہ کر ۔ مالک ، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ، جس بار کو اُٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر ۔(سورۃالبقرہ آیت 286 )

فرزندِ ارجمند تو ،

تراش     کر  مرے     بازو اڑان  چھوڑ   گیا
ہوا  کے   پاس    برہنہ     کمان    چھوڑ   گیا
رفاقتوں   کا   مری     اس کو دھیان کتنا تھا
زمین  لے   لی     مگر  آسمان      چھوڑ   گیا
عجیب شخص تھابارش کا رنگ دیکھ کے بھی
کھلے   دریچے    پہ اک   پھول دان چھوڑ گیا
جوبادلوں   سے بھی  مجھے چھپائے رکھتا تھا
بڑھی  ہے  دھوپ  تو  بے سائباں   چھوڑ   گیا

Archives