عراق میں فوجی جنرل سمیت 24 فوجی اہلکار حملے میں ہلاک

بغداد (ثناء نیوز)عراق میں ایک فوجی جنرل سمیت 24 فوجی اہلکار ایک حملے کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق فوجیوں کی یہ ہلاکتیں ایک کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں ہوئیں۔ عراقی فوجیوں پر یکے بعد دیگرے بم حملے اس وقت ہوئے جب انہوں نے شامی سرحد کے قریب واقع صوبے انبار میں مشتبہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک کیمپ پر چھاپہ مارا۔ یہ کارروائی بغداد سے قریب 380 کلومیٹر مغرب میں رتبہ کے قریب کی گئی۔اس حملے کے دوران ہلاک ہونے والے سینیئر فوجی افسر کی شناخت میجر جنرل محمد الکروی کے نام سے ہوئی ہے جو عراقی فوج کے سیونتھ ڈویڑن کے کمانڈر تھے۔ عراقی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں انٹیلیجنس افسران بھی شامل ہیں۔ جنرل کروی کے ساتھ فوج کے چار دیگر سینیئر افسران بھی ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کے لیے جانے والے فوجیوں پر خودکش بمباروں نے حملے کیے اور جب فوجی اہلکاروں نے مشتبہ عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو وہاں بھی بم دھماکے ہوئے۔عراقی وزارت دفاع کے مطابق یہ فوجی آپریشن ان اطلاعات کے بعد کیا گیا جن کے مطابق القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے اس علاے میں کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں جن میں شدت پسندوں کو تربیت دینے کے علاوہ بم بنانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 35 دیگر فوجی زخمی بھی ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد سنی مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والے اس صوبے میں سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ عراقی فوجی اس حملے کے بعد عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ’آہنی ہاتھ‘ استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نوری المالکی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’میں اپنی بہادر فوج کے اہلکاروں کو کہتا ہوں کہ وہ اس شیطانی اقلیت کے سربراہوں کے خلاف آہنی ہاتھ سے نمٹیں اور ان کا ہر جگہ پیچھا کریں جب تک عراق ان کی بزدلی سے پاک نہیں ہو جاتا۔‘‘عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران شدت پسندانہ حملوں نے اس بات کا خطرہ پیدا کر دیا ہے کہ عراق 2006ئ[L:4 R:4] اور 2007ء کے دوران کی خانہ جنگی کی طرف واپس لوٹ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق عراق میں گزشتہ ماہ یعنی نومبر کے دوران مختلف حملوں کے نتیجے میں 659 افراد ہلاک ہوئے۔nt/ah/ks

Archives