دئیے بہر سُو جلا چلے ہم !

دئیے بہر سُو جلا چلے ہم !

شکیل احمد ترابی

عدل اور انصاف سے ہی معاشروں کا حُسن قائم رہتا ہے ، جِن معاشروں میں عدل کی جگہ ظلم لے لے وہ تادیر قائم نہیں رہا کرتے ۔ ہمارے رحمان رَب نے بھی اپنے کلام میں فرمایا جس کا مفہوم کچھ اِس طرح سے ہے کہ ہم لوگوں کو ایک دوسرے سے دفع نہ کرتے رہیں تو یہ زمین فساد سے بھر جاتی ۔ پاکستان کا قیام اﷲ کا بہت بڑا انعام ہے ، مگر عاقبت نا اندیش حُکمرانوں اور با اثر طبقات نے اِس کے اندر عدل اور اِنصاف کا راج قائم نہ ہونے دِیا ، جس کے نتیجے میں امیر ، امیر سے امیر تر اور غریب ، غریب سے غریب تر بنتا گیا ۔ ہماری عدالتیں بحیثیت مجموعی اِنصاف کی فراہمی کی بجائے ظلم کی گھٹا ٹوپ راتوں میں اِضافے ہی کا باعث بنتی رہیں ۔ 12 اکتوبر 1999 ء کو جنرل پرویز مشرف نے جمہوری نظام کی بساط ایک بار پھر لپیٹ دِی ۔ آزاد میڈیا کی عدم موجودگی کی بناء پر جسٹس سعید الزماں صدیقی اور دیگر ججوں کی ’’ نہ ‘‘ کو پذیرائی حاصل نہ ہو سکی ۔ بہت سے جج گھروں کو چلے گئے ، ارشاد جاری کرنے کی بجائے ’’ ارشاد سُننے والی ‘‘ عدالت عظمیٰ نے آئین پامال کرنے والے آمر کا ہاتھ روکنے کی بجائے اُسے عندِ الطلب سے زائد عنائت کر دِیا ۔ بِن مانگے اُسے قانون سازی کا بھی اِختیار دے دِیا ، آمر کی مُنتخب کردہ پارلیمان نے سترہویں ترمیم کے ذریعے غیر قانونی اقدامات کو بھی ’’ قانونی ‘‘ قرار دے دِیا ۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی ججوں کے اُس قبیل سے تعلق رکھتے تھے ، جو قانون کی حکمرانی کی بجائے حکمران کے قوانین کی ترویج کے لیے اقدامات کرتے تھے ۔ کالم نویس اُس دور میں بھی اہم مقدمات کی کارروائی سُننے عدالت عظمیٰ جایا کرتا تھا ۔ مُجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نامی گرامی وکلاء جسٹس افتخار کے ہاں پیشی کے بعد غصے میں کِس طرح کے ’’ کلمات ‘‘ سے اُنہیں ’’ خراج ‘‘ پیش کیا کرتے تھے ۔ مگر 9 مارچ 2007 ء کو آمر کے سامنے جناب افتخار محمد چوہدری کی ’’ نہ ‘‘ نے پاکستان کو ایک نئے دور اور نئے افتخار محمد سے متعارف کرایا ۔ یہ دور اور افتخار محمد بلا شُبہ قابل افتخار ہیں ۔ کچھ طبقات اِس ’’ نہ ‘‘ کو جنرل اشفاق پرویز کیانی کا سازشی نظریہ
(CONSPIRACY THEORY) قرار دیتے ہیں ۔ مگر اُس ’’ نہ ‘‘ کے بعد جناب افتخار محمد چوہدری کے از خود نوٹسسز ، اقدامات اور جرات مندانہ فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے عقل کِسی ’’ سازش ‘‘ کو تسلیم نہیں کرتی۔ ’’ نہ ‘‘ کے غلط استعمال نے ’’ فرشتوں کے امام ‘‘ کو ’’ شیطان رجیم ‘‘ بنا دِیا ۔ آج بھی اُس یا اُس کے کِسی شاگرد سے بچنے کے لیے ’’ اعوذ با ﷲ من الشیطان الرجیم اور بعض اوقات چار قُل پڑھ کے اﷲ کی پناہ طلب کی جاتی ہے ۔ تاریخ میں پڑھا تھا کہ شیطانی حربوں کے آگے ’’ نہ ‘‘ اِنسانوں کو کو اُوجِ ثریا پر کیسے پہنچاتی ہے مگر افتخار محمد چوہدری کی ’’ نہ ‘‘ کا مشاہدہ ہم نے بچشم سر کیا ۔افتخار محمد کے کِردار کی بدولت بعض بہروپیوں کو ایک نئی زندگی اور نیا کِردار پھر حاصل ہو گیا ۔ مگر یہ ’’تاریکی ‘‘ زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی ۔ ہماری عدلیہ میں جسٹس منیر ایسے منصفوں کی بھرمار تھی ۔ افتخار محمد چوہدری ایک اچھوتی اور نادر نظیر ہیں ۔ اُنہوں نے جس جرات سے ظلم کی آماج گاہوں پر ہاتھ ڈالا اُس نے جہاں پژ مُردہ قوم کو نئی زندگی بخشی وہیں چوہدری کی موجودگی میں ’’ ظالموں ‘‘ کو اپنی موت نظر آتی رہی ۔ یہ ’’ ظالم ‘‘ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی رُخصتی کے دِن گنتے رہے ۔ کئی 12 دسمبر سے بہت سی اُمیدیں لگائے بیٹھے تھے ۔ افتخار محمد چوہدری نے بارہا کہا کہ میں رُخصت ہو جاؤں گا میری قائم کردہ روایات کا خاتمہ مشکل ہو گا ۔ افتخار محمد چوہدری کی جگہ سنبھالنے والے جسٹس تصدق جیلانی نے افتخار محمد چوہدری کو اپنا آئیڈیل قرار دے کر اپنے بارے غلط رائے قائم کرنے والوں کو صحیح صحیح پیغام دے دِیا ہے ۔ اُنہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ عوامی مفاد میں مقدمات میرا پسندیدہ ترین موضوع ہوں گے ۔ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے سے متعلق کبھی کِسی نے سوچا تھا ؟ کبھی نہیں ۔ مگر پاکستان کی قوم نے یہ معجزے جناب چوہدری کے دور میں ہوتے دیکھے ۔ ایک توقیر صادق اَسی ارب کھا گیا ۔ حکمران اُس کی پشت پر تھے مگر چوہدری کے پے درپے احکامات کی بدولت صادق کی جعلی ’’ توقیر ‘‘ سب کے سامنے آ گئی ۔ حکمران طبقے کی عدالت میں پیشی تاریخ کے اوراق ہی میں محفوظ تھی مگر پاکستان کی نئی تاریخ میں ایک بااثر و بااختیار وزیر اعظم کو ’’ گھر ‘‘ جانا پڑا ، جبکہ دوسرے کو پیشیاں بھگتنا پڑیں ۔ لوگوں کو غائب کر دینے والے اداروں اور شخصیات کے خلاف کارروائی کا کِسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا ، مگر یہ مشکل ترین کام بھی جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے شبانہ روز کی محنت اور اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر کِیا ۔سنجیدہ ترین طبقے جناب چوہدری کے اِن احکامات کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے ۔ دانشوری بھگارنے اور اِسے ملک کی سلامتی کی خاطر اقدام قرار دینے والو تمہیں کیا معلوم ’’ غائب ‘‘ کر دئیے جانے والوں کے ورثاء کے دِلوں کے چراغ کیسے بُجھ جایا کرتے ہیں ۔حراستی مراکز سے لاشے اور معذور کر دئیے گئے افراد کا ذِمہ دار کون ہے ؟ لوگو افتخار محمد کے سب فیصلوں پر آنکھیں بند بھی کر لی جائیں تو صرف غائب کئے گئے افراد سے متعلق جو کچھ بھی اُن سے بَن پایا اُس سے چشم پوشی کیسے ممکن ہے ؟ ۔ ہر سُو ظلم کے مضبوط قلعے اور اکیلا افتخار محمد چوہدری اِن کو کیسے ڈھا سکتا تھا ۔ یہ بات دُرست کہ وہ اِن کو ڈھا نہ پائے مگر ذرائع ابلاغ کی حمایت سے وہ اِن قلعوں کی مضبوط دیواروں میں شگاف ڈالنے میں خاصی حد تک کامیاب رہے ۔ بعض لوگ جناب چوہدری کے از خود نوٹسسز کے بے نتیجہ رہنے کی بھی بات کرتے رہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ از خود نوٹسسز بے نتیجہ نہیں ، مگر بہت سوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا یا بعض کے فیصلے نہ ہو پائے ۔ ایسا معاشرہ جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہو اُس کو دُرست نہج پر لانا کیا اکیلے کِسی چیف جسٹس کے لیے ممکن ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ چھ ماہ قبل تک تو میاں محمد نواز شریف بھی چیف جسٹس کے احکامات کی حمایت کرنے والی ایک مضبوط و توانا آواز تھے ۔ اُن کی جماعت کے راہنما جناب چوہدری نثار علی خان ، خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق اور دیگر راہنما جب حزب اختلاف میں تھے تو مختلف اقدامات جن میں لوٹ مار اور غائب کر دئیے جانے والے افراد کا معاملہ تھا پر چیخ چیخ کر کہتے تھے کہ ذِمہ دار عناصر کو ’’ زرداری ‘‘ ٹولے کی حمایت حاصل ہے ۔ مگر جناب نواز شریف کے تیسرے دورِ اقتدار کے گزشتہ دو ہفتوں میں مختلف پینترے بدلنے پر اگر غور کیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں ہو گا کہ چیف جسٹس کے از خود نوٹسسز ناکام رہے ۔ چیف کے احکامات پر جس مشینری نے عمل درآمد کرنا ہوتا ہے وہ آئیں بائیں شائیں کرتی رہے تو الزام عدلیہ پر کیوں ؟ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چوہدری افتخار تمام تر اِنسانی کمزوریوں کے باوجود اپنی اننگز خوبصورتی سے کھیل کر رُخصت ہو گئے ۔ عزت و توقیر اُنہوں نے دنیا میں بہت کمائی ہماری دُعا ہے کہ مالک دو جہاں اُن کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور اگلے جہاں میں اِس کا بہترین اجر اُنہیں عطا فرمائے ۔ ان کی جگہ سنبھالنے والوں نے اگرچہ اپنے مطمع نظر کا واضح اظہار کر دیا ہے مگر قوم اُن سے توقع رکھتی ہے کہ وہ’’ 2007 ء سے پہلی عدلیہ کے دِن پھر کبھی نہیں لوٹائیں گے ‘‘ عدلیہ اور دیگر ادارے ملک کی بہتری کے لیے ایک اکائی بن کر اقدامات کریں تاکہ ہم دُنیا میں ایک با عزت اور ممتاز مقام حاصل کر سکیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے شاید افتخار محمد چوہدری ہی سے متعلق کہا تھا ۔

دئیے  بہر  سُو  جلا  چلے  ہم  ، تم اِن   کو  آگے جلائے رکھنا
روایتیں    کچھ     چلا چلے ہم ، تم اِن  کو  آگے چلائے   رکھنا
بڑا   مُبارک    جہاد  ہے       یہ  ،  سحر    کی  اُمید زندہ رکھنا
نہ چین ظلمت کو    لینے دینا ، شبوں کی نیندیں اُڑائے رکھنا

Archives