مصری اپیل کورٹ سے اکیس خواتین کی عدم ثبوت پر رہائی

قائرہ(ثناء نیوز) مصر کے شہر سکندریہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حق میں مظاہرہ کرنے والی 21 خواتین اور نو عمر بچیوں کو ملنے والی قید کی سنگین سزاوں کِخلاف دائر اپیل کی سماعت ہفتے کے روز مقامی عدالت میں ہوئی۔ اس موقع پر مصری سکیورٹی حکام نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔شہر کے حصوں سے اخوان کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔پچھلے ماہ سکندریہ کی ایک عدالت نے 14 خواتین اور سات نوعمر بچیوں کو مظاہرے کے دوران خلل ڈالنے کے جرم میں گیارہ گیارہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ نیز بچیوں کو ان کی ماوں سے الگ جیلوں میں بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔مصری تاریخ میں خواتین مظاہرین کو اس قدر سخت سزائیں دینے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کیا گیا اور ان سزاوں کو ظالمانہ قرار دیا تھا۔ہفتے کے روز مقامی عدالت میں ان قیدی خواتین کی طرف سے دائر کردہ اس اپیل کی سماعت تھی جس میں سزاوں کو غیر منصفانہ قرار دیکر چیلنج کیا گیا تھا۔ واضح رہے ان دنوں مصر میں احتجاج روکنے کیلیے بنائے گئے نئے قوانین کیخلاف بھی سخت احتجاج جاری ہے اور انسانی حقوق سے متعلق ادارے بھی سخت تنقید کر رہے ہیں۔آخری اطلاعات کے مطابق عدالے نے خواتین کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی حکم سے رہائی پانے والوں میں 14 خواتین کے علاوہ سات نو عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔خواتین کی رہائی کے فیصلے پر عدالت اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ان خواتین اور بچیوں کو سزا دیَے جانے کیخلاف فوج کے حامی بھی تنقید کر رہے تھے۔قیدی خواتین نے اپنے ہاتھوں پر جلی حروف میں فریڈم اور آزادی کے الفاظ لکھ رکھے تھے۔ عدالت میں وکیل صفائی احمد الہمراوی کا موقف تھا کہ حکومت ان خواتین کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکی ہے۔ عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر خواتین کو رہا کر دیا۔nt/ah/ks

Archives