ہفتہ دس دن میں دوبارہ خطے کے دورے پر آوں گا: کیری

مقبوضہ بیت المقدس (ثناء نیوز)امریکی کوششوں سے راوں سال کے دوسرے نصف میں فلسطینی حکام اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے امن مذاکرات ایک مرتبہ پھر مشکلات اور پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔ اس امر کا اظہار فلسطینی حکام کے مذاکراتی وفد کے رکن صائب عریکات نے جمعرات کی رات امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور محمود عباس کے درمیان چار گھنٹوں پر پھیلی ملاقات کے بعد کیا ہے۔عریکات کا کہنا ہے ”صورت حال ابھی تک مشکلات اور پیچیدگیوں سے دوچار ہے۔” انہوں نے یہ اس کے باوجود کہا ہے کہ ” جان کیری اور محمود عباس کی چار گھنٹے طویل ملاقات ہوئی ہے، اس دوران امن و امان سمیت ہر معاملے پر بات ہوئی ہے۔”فلسطینی رہنما نے کہا ” ہم امید کرتے تھے کہ اسرائیل اپنے وعدوں پر پکا رہے گا، اور اسے یہودی بستیاں بنانے سے سختی روکا جائے گا، کیونکہ یہودی بسیوں کی تعمیر ہی اصل مسئلہ ہے۔”محمود عباس سے ملاقات سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے تین گھنٹے سے زیادہ پر محیط ایک ملاقات اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی کی تھی۔ اس ملاقات میں جان کیری نے اسرائیلی سلامتی کے معاملے کو تسلیم کیا تھا۔جان کیری کا کہنا تھا” ہم اس بارے میں کھلے عام زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے ہیں۔” نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد کیری کا صرف یہ کہنا تھا ”سلامتی سے متعلق معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے۔”جان کیری نے کہا ” میرے خیال میں ہمار ے مفادات ایک جیسے ہیں، لیکن خود مختاری کے مسائل ہیں، عزت و وقار کے سوال ہیں جو بلاشبہ فلسطینیوں کیلیے بڑے اہم ہیں، جبکہ اسرائیلیوں کیلیے سلامتی کا سوال اہم ترین ہے۔”امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ انہی مسائل پر با ت چیت کیلیے دوبارہ آئیں گے، لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہم کہاں پر ہیں۔”واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے جان کیری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کی ہے نہ سامنے آنا پسند کیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی مذاکراتی ٹیم پہلے ہی مذاکرات سے الگ ہونے کیلیے اپنے استعفے پیش کر چکی ہے۔ البتہ صدر محمود عباس نے ابھی یہ استعفے منظور نہیں کیے ہیں۔nt/ah/jk

Archives