جنرل مشرف اور فتح مکہ

جنرل مشرف اور فتح مکہ

شکیل احمد ترابی

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے ایف آئی اے کی تحقیقات کی تکمیل ، خصوصی عدالت کے قیام اور غداری کے مقدمے کا اعلان کیا تو بدظن طبقے نے پریس کانفرنس کے موقع پرہی الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی کہ حکومت پاکستان نے سانحہ راولپنڈی سے توجہ ہٹانے کے لئے ” شوشہ ” چھوڑا ہے۔ اِس سے قبل تواتر سے یہ الزام لگ رہے تھے کہ میاں نواز شریف نے اقتدار میں آنے سے قبل امریکا ، ایک اِسلامی مُلک اور پاکستان کی فوج کے ذِمہ داران کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ جنرل مشرف کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کریں گے ۔ پارلیمان کے ایوان زِیریں میں آ کر وزیر اعظم نے مشرف پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا اعلان کیا مگر عدالتوں سے جب دیگر مقدمات میں سابق آرمی چیف کی ضمانتیں ہو گئیں تو یار لوگ پھر دُور کی کوڑی لائے کہ دیکھا نا ہم نہ کہتے تھے کہ ” اندرونِ خانہ ” سب طے پا چکا ہے ۔ خصوصی عدالت کے قیام کے بعد بھی حکومت پر بہتان تراشی کا یہ سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ چھاجھ بولے تو بولے چھلنی بھی خاموش نہیں ہو رہی ۔ پیپلز پارٹی نے جو پانچ سال اقتدار میں رہی ۔ جن کے دور حکومت میں جابر آمر کو گارڈ آف آنر پیش کر کے مُلک سے ” با عزت ” رُخصت کیا گیا وہ بھی بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں کہ کارروائی 12 اکتوبر 1999 ء سے ہونی چاہیے ۔ نمبر سکورنگ اور
الزام تراشی ہماری سیاسی ثقافت کا حِصہ بن چکی ہے ۔ بہت سے مُفکر ( جنہیں منہ پھکڑ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا ) لاف زنی میں مصروف ہیں ایک دور میں تو قانون کی حکمرانی کے نفاذ کی باتیں کرتے اِن کے حلق خشک ہو گئے تھے مگر بڑی غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ساتھ ہمارے اِن مُفکرین کی بھی یہ کوشش ہے کہ اُن کا ” ممدوح آمر ” کِسی طریقے سے بچ نکلے ۔ اپنی محبتوں اور عصبتوں کو مختلف نام دے کر کبھی پاک فوج پر الزام لگایا جاتا ہے کہ فوج اپنے سابق سربراہ پر مقدمہ اور کڑی سزا برداشت نہیں کرے گی ۔ بعض ” سیانوں ” کو نہ صِرف بوٹوں کی چاپ سُنائی دے رہی ہے بلکہ وہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ ایسا خونی فوجی انقلاب اب کی بار آئے گا کہ لوگ مِصر کے خونی اِنقلاب کو بھی بُھلا بیٹھیں گے ۔ ہم یہ سمجھتے کہ حکومت کا آمر جرنیل کے خلاف اِقدام درست ہے اور ہماری اِطلاعات کے مطابق کوئی جرنیل اِس وقت حکومت گرانے کے لیے نہ طنابیں کَس رہا ہے اور نہ ہی فوج کے بااثر اور اکثریتی حلقوں میں سِول حکومت کے اِس اقدام کے خلاف کوئی نفرت پائی جاتی ہے ۔ اِستثنیات تو ہر جگہ اور ہر دور میں موجود ہوتی ہیں اُن کی سوچ اور آراء کو کُل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ مُثبت آراء اور مباحث زندہ معاشروں کے عکاس ہوتے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کی یہ بنیادی ذِمہ داری ہے کہ سچی ، صحیح اور بروقت اِطلاعات سے عوام کو آگاہ رکھیں ۔ بد قِسمتی سے ہمارے ہاں تحقیق وہ مقام حاصل نہیں کر سکی یا ہم جان بوجھ کر ٹیلی ویژن کے مباحث میں شریک ہو کر دھڑلے سے جھوٹ بول کر کم تعلیم یافتہ اور یا مسئلے سے نابلد لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔ جنرل مشرف کی موافقت اور مخالفت میں دلائل اِس وقت عروج پر ہیں ۔ کیپیٹل ٹاک کے ایک پروگرام میں ماہرینِ قانون نے مقدمے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ۔ فوجی آمر کے وکیل جناب احمد رضا قصوری ہمیں سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی اور جناب حامد خان کے مقابلے میں دلائل میں بہت کمزور دکھائی دئیے اور موصوف سے جب ” بات نہ بن سکی ” تو فرمایا کہ نبی پاک ۖ فاتح کی حیثیت سے جب مکہ داخل ہو رہے تھے تو لوگوں کو توڑنے کی بجائے جوڑنے کی غرض سے ابو سفیان اور اپنے چچا کا کلیجہ چبانے والی خاتون ہِند کو معاف کر دِیا ۔ جنرل مشرف کو فائدہ پہنچانے کے لئے جناب قصوری نے نیلسن منڈیلا کے ”تروتھ کمیشن ” اور عام معافی کی بھی بات کی ۔ پروگرام کے میزبان جناب حامد میر نے درست کہا کہ اگر معافی کی کی بات کرنی ہے تو یہ صِرف فوجی آمر کے لئے کیوں ؟ ہمیں اُن لوگوں کو بھی معاف کر دینا چاہیے جو پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے اور جن پر غداری کے مقدمات زیر سماعت ہیں ۔ جناب قصوری نے نیلسن منڈیلا کی مثال بھی غلط طور پر پیش کی جنوبی افریقہ نہیں ہماری مماثلت تو تُرکی سے ہے جہاں کے فوجی جرنیلوں نے نہ صِرف فوجی بغاوتوں سے کام لیا بلکہ شعائر اِسلام کو مذاق بنا دیا ، عربی زبان میں اذان تک پر پابندی عائد کر دِی ۔ طیب اردگان کی حکومت نے ملکی معیشت کو استحکام بخشنے کے بعد با اثر جرنیلوں کو گرفتار کیا ، عدالتوں سے بعض سزا پا چُکے اور بعض اپنی باری کے منتظر ۔ جناب قصوری نے فتح مکہ کی بات مکمل طور پر سیاق و سباق سے ہٹ کر کی جس کی توقع اُن جیسے دانشور سے ہرگز نہیں کی جا سکتی تھی ۔ اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ نبی آخر الزمان ۖ مُحسن اِنسانیت بھی ہیں اور رحمت العالمین بھی ۔ رحمت کی بے پایاں صِفت کے باوجود آپ ۖ نے ایک مقدمے میں کہا کہ آج محمد ۖ کی اپنی بیٹی بھی چوری کرتی تو اُس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے ۔اپنے قریب ترین عزیزوں ، چچا عباس ، پھوپھی صفیہ ، اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ اور انتہائی عزیز جگر کی ٹکڑی سیدہ فاطمہ کو کہا کہ قیامت کے دِن میں تمہارے کوئی کام نہیں آؤں گا اور نہ ہی سفارش کروں گا اِس لئے اعمال صالحہ سے کبھی اغماض نہ برتنا ۔ رہی فتح مکہ کی بات تو اِس طالب علم نے یہ واقعہ ماضی میں بہت دفعہ پڑھا تھا مگر جناب قصوری کی ابو سفیان سے جناب مشرف کے مقدمے کی مماثلت کی بات پر سیرت نبی ۖ کی کئی کتابیں بالخصوص فتح مکہ کا ازسر نو مطالعہ کیا ۔ جس کے بعد عرض خِدمت ہے کہ مکہ ایسا معرکہ ہے جو بغیر جنگ کئے سر کر لیا گیا مگر نبی کریم ۖ دس ہزار سے زائد کے لشکر کو لے کر جب مکہ داخل ہو رہے تھے تو ذی طویٰ کے مقام پر پہنچے تو ” اﷲ رب العالمین کے بخشے ہوئے اعزاز فتح پر فرطِ تواضع سے آپ ۖ نے اپنا سر مُبارک جُھکا رکھا تھا ، یہاں تک کہ داڑھی مُبارک کے بال کجاوے کی لکڑی سے لگ رہے تھے ” ۔ آپ ۖ تکبر نہیں شکر و حمد کی سراپا تصاویر نظر آ رہے تھے ذی طویٰ میں آپ ۖ نے لشکر کی ترتیب و تقسیم فرمائی ۔ خالد بن ولید کو داہنے پہلو رکھا اور جناب خالد بن ولید کو حکم دِیا کہ وہ مکہ میں زیریں حِصے سے داخل ہوں اور قریش میں سے کوئی آڑے آئے تو اُسے کاٹ کے رکھ دیں اور صفاء کے مقام پر نبی ۖ سے آ ملیں ۔ حضرت زبیر بن عوام کو لشکر کے بائیں رکھا ۔ اُن کے ساتھ نبی ۖ کا پھریرا تھا ۔ اُنہیں آپ ۖ نے حکم دیا کہ وہ بالائی حِصے سے داخل ہو کر حجون کے مقام پر آپ ۖ کا جھنڈا گاڑ کر آپ ۖ کی آمد کا انتظار کریں ۔حضرت ابو عبیدہ پیادے پر مقرر تھے آپ ۖ نے اُنہیں حکم دیا کہ بطنِ وادی کا راستہ پکڑیں یہاں تک کہ مکے میں رسول اﷲ ۖ کے آگے اُتریں ۔ خالد اور ان کے رفقاء کی راہ جس مشرک نے روکی وہ مِٹا دیا گیا ۔ بارہ مشرک مارے گئے اور تین صحابہ مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے ۔ صُلح حدیبیہ کے معاہدے سے بد عہدی کے بعد فتح مکہ سے کچھ عرصہ قبل ابو سفیان مدینہ گئے تھے نبی ۖ نے ابو سفیان کی گفتگو کا جواب تک نہ دِیا تھا ۔ مکہ داخلے سے قبل جحفہ کے مقام پر نبی ۖ نے پڑاؤ ڈالا رات کو لشکر کے تمام شرکاء کو چولہے جلانے کا حکم دیا ۔ ابو سفیان نے آگ دیکھی تو کہا کہ عجیب منظر ہے نہ ایسی آگ دیکھی نہ ایسا لشکر ۔ ابو سفیان نے تھوک نگل کر اپنے ساتھی کو کہا کہ مصیبت سر پر آ گئی ۔ رات کی سیاہی میں دوسرے کو پہچاننا مشکل تھا مگر قریب سے گزرتے حضور ۖ کے چچا عباس بن عبد المطلب نے ابو سفیان کی آواز پہچان لِی اور اُسے مخاطب کر کے کہا ” تیرا بُرا ہو ابو سفیان ! یہ محمد ۖ کا لشکر ہے ۔ اگر یہ مکہ داخل ہو گئے تو قریش کو بربادی سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔ابو سفیان کو زمین گھومتی محسوس ہوئی ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔ رات کی تاریکی میں چولہوں کی روشنیاں اُن پر عجیب رُعب طاری کر رہی تھیں ۔ وہ بڑبڑایا ، محمد ۖ پوری طاقت سے مکہ میں داخل ہو جائیں گے ؟ کیا ایسا ہو گا ؟ مکہ کے جری شخص کے اوسان خطا ہو چکے تھے تب عباس بولے ” اپنے آپ کو دھوکہ نہ دو ، تکبر کی گنجائش ہے نہ بے سود جھگڑوں کی ۔ آپ نے کہا ابو سفیان کہاں ہے تمہارا لشکر اور اسلحہ ؟ ابو سفیان حضرت عباس کے قریب گیا اُن کے کپڑوں سے اپنی آنکھیں صاف کیں اور کہا عباس میرے ماں باپ تُجھ پر قربان بتا کیا تدبیر کروں تمہارا بھتیجا ( محمد ۖ ) جو چاہتا ہے پا کے رہے گا ۔ مجھے خون خرابے کا ڈر ہے سب سے پہلے میری گردن اُس کی تلوار کے نیچے ہو گی اور دوسری میری بیوی ہند ہو گی ۔ عباس نے بات کاٹی اور کہا بیٹھ میرے خچر پر تمہیں محمد ۖ کے پاس لے چلوں ۔” حسرت ناک ” سوار ہزاروں کے لشکر کو چیر کر نبی ۖ کے پاس پہنچے ۔ عمر نے پیغمبر ۖ سے ابو سفیان کی گردن اُڑانے کی اجازت چاہی ۔ عباس بیچ میں بول پڑے ” یا رسول اﷲ اِسے میں آپ ۖ کے پاس لایا ہوں ۔ نبی کریم ۖ نے جواب دیا عباس ، اسے لے جاؤ اور صبح کو میرے پاس لے آنا ۔ ابو سفیان واپس مکہ پہنچ کر کہنے لگا مجھے مکہ کے احمق اور غبی مردوں اور عورتوں نے تباہ کر دیا جن کے دماغوں میں بھوسہ بھرا ہوا تھا ۔مجھے محسوس ہوتا ہے میں طویل سفر سے واپس آیا ہوں ۔ میرے قدموں سے خون رِس رہا ہے چہرہ غبار آلود ہے ۔ دِل چاہتا کوئی ٹھنڈی جگہ ہو جس پر لیٹوں ، گہری نیند سو جاؤں اور مر جاؤں، ہائے مصیبت ! میرے لوگ اس وقت شراب کے جام لنڈھا رہے ہوں گے ، ڈھول بج رہے ہوں گے اور وہ بدکار عورتوں کی آغوش میں بیٹھے نشے کی حالت میں جنگ کے منصوبے بنا رہے ہوں گے ۔۔۔۔”صُبح ہوئی تو ابو سفیان کو رسول اﷲ ۖ کی خدمت میں لایا گیا وہ پریشان حال ، حقارت اور شکوک میں پڑا ہوا ، خون ابھی بھی جوش مار رہا تھا ۔ غصہ دبائے رت جگے سے متورم آنکھوں سے حضور ۖ کی طرف دیکھا آپ ۖ مسکرائے اور بولے ” ابو سفیان تیرا بُرا ہو تجھے ابھی تک کلمہ لا الہٰ الا اﷲ کی سمجھ نہیں آئی ” ابو سفیان بولے میرے ماں باپ آپ ۖ پر قربان آپ حلیم ، کریم اور جوڑنے والے ہیں ۔ ابو سفیان ہچکچاہٹ سے کام لے رہے تھے ، حضرت عباس قریب آئے اور تیزی سے بولے تجھے اپنی کبریائی کے احساس نے کلمہ حق کہنے سے روک رکھا ہے ۔ عباس کے تلخ مگر حقیقیت پسندانہ جملوں نے ابو سفیان کو مزید توڑ کر رکھ دیا اُس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا اور بول اٹھا ” لا الہٰ الا اﷲ محمد الرسول اﷲ ” عباس نے خوشی سے نعرہ لگایا اور کہا چلو مکہ چلیں اور لوگوں کی آنکھیں حقیقت سے کھولیں ۔ عباس نے پیغمبر ۖ کو مخاطب کیا ابو سفیان فخر کو پسند کرتا ہے اِس کے لئے کچھ کریں ۔ نبی کریم ۖ نے خوشی سے فرمایا ” ہاں جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو ، جو اپنا دروازہ بند کرے اور جو مسجد حرام میں داخل ہو اُس کو امان ہے ۔ ( بحوالہ الرحیق المختوم ، نور اﷲ )جناب قصوری ! آپ کی اور اپنی یاد دہانی کے لئے یہ واقعہ ہم نے رقم کیا ۔ ابو سفیان نے اپنے آپ کو جُھکایا ۔ پیغمبر ۖ کے سپرد کیا تو اُس کو معافی مِلی اور اس کے گھر کو بھی دار الامان قرار دیا گیا ۔ آپ ۖ نے اِس موقع پر واضح طور پر کہا کہ جن لوگوں پر تعزیرات ہیں اُن کے لئے کوئی معافی نہیں ۔ ( بحوالہ مُحسن انسانیت ۖ ) جناب والا ! ایک بدنصیب حویرث تھا جو آخر دم تک ڈٹا رہا اور پاک پیغمبر ۖ کے قتل کا اعلان کرتا رہا ۔ جس کو کہیں پناہ نہ ملی ۔ ایک طوائف لولوہ کے گھر داخل ہو کے پناہ لینے کی کوشش کی ۔ اُس نے اِنکار کر دیا ۔ اُس کے قدموں سے لپٹ گیا ، تلوے چاٹنے لگا ۔ اُس نے کہا نِکل جا ۔حویرث بولا مُجھے ایسے رُسوا نہ کر میں نے محمد ۖ کو قتل کرنا ہے ۔ اتنے میں عقب سے کچھ لوگ آئے حویرث کو گھسیٹا اور آپ ۖ کے دربار لے گئے وہاں بھی بکواس کرتا رہا جس پر اُسے قتل کیا گیا ۔ ہمیں اگر مشرف کو معاف کرنا ہے تو جیلوں میں بند معمولی جرائم کے مجرموں کو رہا کرنے میں کیا امر مانع ہے ؟ ۔ یاد رکھئیے ابو سفیان جُھک گئے تو معافی مل گئی ، حویرث ڈٹا رہا اور قتل کر دیا گیا ۔ ہم نے اس ملک کو حقیقی پاکستان بنانا ہے تو قانون کے ذریعے آج کے ابو سفیان کو بری اور حویرث کو قتل کرنا ہو گا ۔

Archives