بیس یا بھیس کیمپ ؟؟

بیس یا بھیس کیمپ ؟؟

شکیل احمد ترابی

یومِ عاشور ہے دِل کی دُنیا پر اُداسی راج کر رہی ہے اتنی بڑی قربانیوں کے بعد بھی ہمارے پلے کچھ کیوں نہیں پڑ رہا ہے ؟ سوچوں میں غلطاں و پیچاں، اخبارات کے آزاد کشمیر کے ایڈیشنز کے کچھ پرچے میرے سامنے پڑے ہیں ۔ ملبہ سکینڈل کی رپورٹ اسمبلی کے آئندہ اِجلاس میں پیش کی جائے گی ، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ایک اخبار کو انٹرویو ، 2005 میں زلزلہ آیا تھا ، اﷲ تعالی نے ہماری حرکات پر ہمیں جھنجھوڑا تھا ۔ ایک تہائی آزاد کشمیر تہہ و بالا ہو گیا تھا ۔ شہروں کو ازسرنوآباد کرنے کے لیے ملبہ اُٹھانے پر بھی ہم نے کروڑوں کی لوٹ مار کر لِی ۔ آٹھ سال گزر گئے رپورٹ اسمبلی میں پیش نہ ہو سکی ۔ دوسرا اخبار سُرخی جماتا ہے سیاسی مداخلت نے ادارہ ترقیات میرپور کو دیوالیہ کر دِیا ، ذیلی سُرخیوں میں 7 کروڑ کے خواتین اسٹیڈیم اسلام گڑھ میرپور میں بدیانتی ، کمیشن لے کر بدیانتی کو پروان چڑھانے والوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) دونوں کے چہیتے شامل ہیں ۔ جناح ٹاؤن کی تعمیر میں اربوں روپے لوٹ لئے گئے ۔ آزاد کشمیر کا ” قاسم ” لوٹ مار میں ہر جگہ مصروفِ عمل ۔ قاسم کو نکیل کوئی نہیں ڈالے گا کیونکہ وہ آزاد کشمیر کی اہم شخصیت کا ” نورِ نظر ” ہے ۔ ایک اخبار چنگھاڑتا ہے حکومتی اشیر باد سے جعلی طور پر رجسٹر و قائم ہونے والی مالیاتی کمپنی نے میرپور کے لوگوں کے اربوں لوٹ لئے ۔ پردہ اٹھنے پر سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے فوری طور پر پریس کانفرنس کر کے بدیانت کرداروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا مگر حکومتی مشینری نے باحفاظت ” ڈاکوؤں ” کو منگلا کا پُل پار کرا دیا ۔ بیرسٹر صاحب کہتے ہیں حکومت نے یہ اقدام اپنی ” قلعی ” کُھلنے سے بچنے کے لئے کیا ۔ ایک اخبار کہتا ہے من پسند انشورنس کمپنی رجسٹر نہ ہونے کے باعث ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والے 275 سے زائد افراد کے ورثاء کو معاوضہ نہ مِل سکا ۔ دو اعلیٰ افسران کے مالی مفادات کی وجہ سے انشورنس کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔میرپور آزاد کشمیر سے تعلق کی بناء پر سینکڑوں جاننے والوں کی ای میلز ، ٹیلی فون کالیں اور ملاقاتوں میں اِس بات پر اِصرار کہ تارکین وطن کی اربوں کھربوں روپے کی جمع پونجی لٹ گئی سالہا سال سے ادارہ ترقیات میرپور لوگوں کو الاٹ کئے گئے پلاٹوں کا قبضہ نہ دے سکا ۔ زید کا پلاٹ مالیت کے اعتبار سے کروڑوں کا ہے ، زید کے بیرون ملک ہونے کے سبب اُس کا پلاٹ بکر کو الاٹ کر دیا گیا زید پاکستان آیا تو اُس کے پلاٹ پر عالیشان کوٹھی یا پلازہ تعمیر ہو چکا تھا اور اس کا پلاٹ بہترین جگہ سے کئی میل کا سفر طے کر کے کِسی پہاڑ یا نالے میں پہنچ چکا تھا ۔ میرپور کے ہر تیسرے شہری کی یہ کہانی ہے ۔ اداروں میں تعینات افراد کی ہوس نے لوگوں کا سُکھ چین لوٹ لیا ہے ۔ بعض لوگ ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان ، آپس میں اُلجھ رہے ہیں کہ تُو نے میرے پلاٹ پر قبضہ جما کر محل کیوں تعمیر کر لیا ہے ؟ معمولی کلرک عالیشان کوٹھیوں اور شاندار گاڑیوں کے مالک ہیں ، بعض اہلکاران دفتروں میں سگریٹ کی بجائے سگار کے کَش لگا کر لوگوں کی بے بسی کا دُھواں اُڑاتے نظر آتے ہیں ۔ جب میں میرپور میں رپورٹنگ کرتا تھا تو نئے نئے اسسٹنٹ کمشنر بھرتی ہو کر آنے والے آج کمشنرز اور ممبر بورڈ آف ریونیو بن چکے ہیں ۔ میرپور ڈویژن کے بعض کمشنرز جِن کے کِردار کی قسم کھائی جا سکتی تھی کِسی دور میں راقم اُن کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہتا تھا ادارہ ترقیات کا چارج مِلنے پر آج اُن کی کہانیاں سُنتا ہوں تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا ۔

مال کی کَثرت اور ہوس نے تمہیں قبر تک پہنچا دیا مگر تم باز نہ آئے ۔ پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ۔ خُدایا ہم نے موت کا مزہ نہیں چکھنا ۔ ادارہ ترقیات میرپور میں تعینات رہنے والے میرپور کے بعض افراد نے ” محنت شاقہ سے کمائی گئی دولت ” کو محفوظ بنانے کے لئے کراچی میں لوٹ مار کرنے والی جماعت میں محض اس لیے شرکت کی تاکہ اُن پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے ۔ حکومت کے اہم افراد لوٹ مار میں شامل ہیں ۔ باڑ فصل کو کھانا شروع کر دے تو کھیتوں کھلیانوں کی ہریالی کی جگہ بنجر بن جایا کرتی ہے ۔ایک طرف لوٹ مار کے قِصے ہیں دوسری جانب اُس پار وادی کشمیر میں خون جما دینے والی سردی میں بھی لوگوں کے جذبات کو بھارتی سرکار کا جبر اور تازیانے ٹھنڈا کرنے میں ناکام ہیں ۔ جبر و تازیانوں کے ساتھ بھارتی سرکار کے طمع ولالچ کی پیشکشوں کو بھی 84 سالہ کشمیری ” جوان رہنما ” سید علی گیلانی جُوتے کی نوک پر رکھ کے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ۔ کشمیری قوم اپنے نیلسن منڈیلا کی پشت پر ہے مگر کشمیر کے اِس پار سے جانے والی ہوائیں اُس پار مصروفِ جہاد لوگوں کو کیا پیغام دیتی ہیں ؟ 24 اکتوبر 1947 ء کو کشمیر کا یہ حصہ آزاد کرا کے اِسے ” آزاد کشمیر ” کے نام سے منسوب کیا گیا تھا اور ” انقلابی حکومت ” قائم کی گئی تھی ۔ مظفر آباد میں آزادی کی جنگ لڑنے والے سید مظفر ندوی ، خُدا اُس درویش کی قبر کو نور کا آنگن بنا دے آج بہت یاد آ رہے ہیں جنہوں نے آزادی کی جنگ کے قصِے سنائے تو آبدیدہ ہو گئے تھے ۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کیسے ” انقلابی حکومت ” قائم ہوئی تھی اور اُس وقت کچی دیواروں پر ٹین کی چھتیں ڈال کر نظام حکومت چلانے کے لیے معمولی سی عمارات قائم کی گئیں تھیں ۔ طے کیا گیا تھا کہ عمارات پکی نہیں کی جائیں گی تاکہ ہم جنگ آزادی سے غافل نہ ہو جائیں ۔ انقلابی حکومت کا قیام آزاد کشمیر کے انتظام و انصرام کے لیے نہیں تھا ۔ انقلابی حکومت نے کشمیر کے بقیہ حصے کو آزاد کرانا تھا ۔ آزاد کشمیر کی قیادت نے اِس خطے کو ” بیس کیمپ ” قرار دیا تھا ۔ مولانا ندوی کی آبدیدگی کی وجہ صاف معلوم ہوتی تھی ” بیس کیمپ جب بھیس کیمپ ” بن جائے تو آزادی کے سپاہی کی آنکھ و زبان ماتم ہی کرتی ہے ۔ ٹین کی چھتوں کی جگہ پر سیمنٹ کی بلند و بالا ہزاروں سرکاری عمارات بن گئیں ۔ عمارتوں کی طرح دِل بھی پتھر کے ہو گئے اور ہم ” مقصدِ حکومت ” بھلا بیٹھے ۔
آزاد کشمیر کا چھوٹا سا خطہ جس کا انتظام و انصرام ایک ڈپٹی کمشنر یا زیادہ سے زیادہ ایک کمشنر چلا سکتا ہے وہاں وزیروں کی فوج ظفر موج ، لوٹ مار اور بداخلاقی کے بعض ایسے قِصے کے جو ناقابل بیان ۔ اربوں کا بجٹ صرف انتظامی مشینری پر خرچ ہوتا ہے ۔ دو بار وزارت عظمیٰ اور ایک بار صدارت کے منصب پر فائز رہنے والے سردار سکندر حیات بھی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں اِن اربوں روپے کے انتظامی اخراجات پر پھٹ پڑے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ سارے سچ ہمیں اقتدار کے دنوں میں یاد کیوں نہیں آتے ؟ آزاد کشمیر میں کیا کیا مایہ ناز شخصیات تھیں جو رزق خاک ہو گئیں ۔ قائد اعظم کے ذاتی معاون خورشید حسن خورشید ، منصب صدارت پر فائز رہے مگر پاکیزگی کی زندگی اور دیانت و امانت سے سر مو انحراف نہ کیا ۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے ٹریفک حادثے میں جان جانِ آفرین کے سُپرد کی ۔ جیب سے فقط 55 روپے نکلے ۔ آپ واقعتاً خورشید تھے ۔ خُدا آپ کی قبر کو بھی نور سے بھر دے ۔وقت کے وزیر اعظم جناب ممتاز حسین راٹھور جرات و شرافت کا پیکر وزیروں کی بلیک میلنگ کا شکار ہونے کی بجائے آپ نے اسمبلی توڑ دی کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ، محترمہ بے نظیر بھٹو اِس اقدام پر اِس قدر ناراض ہوئیں کہ پارٹی سے نِکال دِیا مگر کشمیر کے راجہ نے کہا میرا ضمیر مطمئن ہے ۔ کیا باغ و بہار شخصیت تھے ایک اور اہم رہنما کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اُن کے فرزند کی مداخلت اور لوٹ مار پر چپ نہ رہ سکے بھری کانفرنس میں کہہ دیا حضور ، آپ تو اتنی زبردست شخصیت تھے کہ فرزند کی محبت کے اسیر نہ ہوتے تو لوگ آپ کا مزار بنا کر چڑھاوے چڑھاتے ۔ سیاسی قیادت کے ساتھ بڑی غیر سرکاری تنظیموں اور بعض دینی شخصیات ” جہاد فنڈ ” جیسی مقدس امانت میں خیانت کی مرتکب ہو رہی ہیں ۔ خوفِ خُدا ہمارے دِلوں سے نکل چکا ہے ۔ 1992 ء کا شدید ترین سیلاب اور 2005 ء کا قیامت خیز زلزلہ بھی ہمیں کچھ پیغام نہیں دے رہا ؟ کشمیریوں کو بھیس نہیں بیس کیمپ کی ضرورت ہے یاد رکھیئے ہم باز نہ آئے تو

داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں

Archives