’’معراج انسانیت ‘‘

’’معراج انسانیت ‘‘

شکیل احمد ترابی

ذی الحج کے آخری دِنوں برقی پیغامات کی بھرمار ہو گئی ۔ ہجری سال مبارک ، نیا اسلامی سال مبارک ، بعض پیغامات مختصر بعض طویل ، پیغامات کا انبار تھا جو کہ موبائل فون پر مِلے ۔ بہت سے پیغامات پڑھے ، نہ جانے کتنے ہوں گے جو غور سے پڑھنے سے رہ گئے ۔ جب بھی کوئی پیغام ملتا مجھے یوں محسوس ہوتا کہ میرے ذہن و قلب پر ہتھوڑے برس رہے ہیں ۔ ہمارا عمل بس اب اتنا رہ گیا کہ اسلامی تہواروں اور سال کے آغاز پر ایک دوسرے کو برقی پیغام بھیج کر ہم اپنی ذِمہ داریوں سے بری الذمہ ہو گئے ؟ نیا اسلامی سال اپنے آغاز ہی پر ہمیں کوئی پیغام نہیں دیتا ؟ یکم مُحرم کو اُس عظیم شخصیت کی شہادت ہوئی جس نے ہجری سال کا آغاز کیا ۔ جن کے دور میں اسلامی ریاست کی حدود تقریباً نِصف دنیا تک پھیل چکیں تھیں ۔ جو ایسا نظام دُنیا پر چھوڑ گیا جس پر اپنے و غیر رشک کرتے ہیں ہماری بد قسمتی ہے کہ 55 سے زائد اسلامی ریاستوں میں سے کوئی اُسے نافذ نہ کر سکا ۔ مگر بہت سے غیر اسلامی ملکوں میں اس کے قائم کئے گئے نظام کو جُزوی طور پر نافذ کیا گیا ہے ۔ تمام تر بغض کے باوجود غیر مُسلم یہ کہتے ہیں کہ اِس نظام کو ’’ عرب بدو ‘‘ عمر نے نافذ کیا تھا ۔ جی ہاں سال کا آغاز اُس عظیم المرتبت شخصیت کی شہادت سے ہوتا ہے ۔ جن کو پیغمبر اسلام ﷺ نے شہادت کی خوش خبری سنائی تھی ۔ جس شخصیت پر نماز کے دوران خنجر کا وار ہوتا ہے اور نماز پڑھانے کے قابل نہیں رہتے تو صحابی رسول ﷺ جناب عبد الرحمن بن عوف کو اپنی جگہ امامت کیلئے کھڑا کرتے ہیں ۔ شدید زخمی حالت میں بھی آہ و بکا نہیں فرض کو عزیز جانتے ہوئے نماز کی تکمیل کراتے ہیں ۔ نماز کا اختتام ہوتا ہے تو فوراً کہتے ہیں کہ ’’ اے ابن عباس دیکھو مجھ پر حملہ کس نے کیا ؟۔ بتایا جاتا ہے کہ مجوسی ابو لولو فیروز نے حملہ کیا ہے تو اﷲ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ مجھ پر حملہ آور کوئی ایسا شخص نہیں جو اسلام کا مدعی ہو ۔
اسلامی سال کے پہلے مہینے 10 محرم الحرام کو نواسہ رسول ﷺ اپنے پورے خاندان کی قربانی پیش کر دیتے ہیں مگر یزید کے ہاتھ پر بعیت نہیں کرتے ۔ نواسہ رسول ﷺ کی جدوجہد اور جانوں کا نذرانہ پیش کر دینا مگر باطل کے سامنے نہ جھکنا کیا ہم سے کسی بات کا تقاضا نہیں کرتا ؟ ۔ ہم محض ماتم کرکے ، سبیلیں لگا کے ، بین کر کے ، تقاریر میں خود رو کر اور دوسروں کو رُلا کر اُس ذمہ داری سے بری ہو گئے جن کی ادائیگی کی بنا پر جناب عمر ؓ اور امام حسین ؓ نے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کر دیا ۔ کبھی ہم نے زحمت کی اس فلفسہ شہادت پر غور کرنے کی ؟ ۔ یہ عظیم ہستیاں تو ایک قدم بھی اﷲ اور اُس کے رسول ﷺ کے فرامین کے خلاف نہیں اٹھاتی تھیں اور ہم اپنے طرزِ عمل کا زرا جائزہ لیں ۔ کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ آج جن بدتر حالات کا ہم شکار ہیں کیا یہ صرف باطل کی سازشوں کا شاخسانہ ہیں یا اس میں ہماری اپنی بد اعمالیوں کا بھی کوئی کردار ہے ؟ ۔ برقی پیغامات قلب و ذہن میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے ۔ اِس دوران میری نظر سے ایک تحریر گزرتی ہے جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔
ایک بدو پیغمبر رحمت ﷺ کے دربار میں حاضر ہوتا اور عرض کرتا ہے ۔
یا رسول اﷲ ﷺ میں امیر بننا چاہتا ہوں ۔
آپ ﷺ نے فرمایا ’’ قناعت کیا کرو امیر ہو جاؤ گے ‘‘
بدو نے کہا میں عالم بننا چاہتا ہوں ۔
حضور ﷺ نے جواب دیا ۔ ’’ تقویٰ اختیار کرو عالم بن جاؤ گے ‘‘
بدو نے کہا معززین میں شامل ہونا چاہتا ہوں ۔
ہادی برحق ﷺ فرماتے ہیں ’’ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو ، با عزت بن جاؤ گے ‘‘
بدو کہتا ہے ، اچھا انسان بننا چاہتا ہوں ۔
مہربان پیغمبر ﷺ کہتے ہیں ’’ لوگوں کو فائدہ پہنچاؤ ، اچھے انسان بن جاؤ گے ‘‘
بدو پوچھتا ہے ، عادل بننا چاہتا ہوں ۔
منصف اعظم ﷺ فرماتے ہیں ’’ جو اپنے لئے پسند کرتے ہوئے لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو ، عادل بن جاؤ گے ‘‘
بدو نے کہا ، طاقت ور بننا چاہتا ہوں ۔
نبی ﷺ جواب دیتے ہیں ’’ اﷲ پر توکل کرو ‘‘
بدو عرض کرتا ہے ، اﷲ کا قُرب حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔
آپ ﷺ فرماتے ہیں ، ’’ اﷲ کا ذکر کثرت سے کیا کرو ‘‘
بدو کہتا ہے ، رزق کی کشادگی چاہتا ہوں ۔
اﷲ کے رسول ﷺ کہتے ہیں ، ’’ ہمیشہ وضو سے رہا کرو ‘‘
کہا ، دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں ۔
خُدا کے پیغمبر جواب دیتے ہیں ، ’’ حرام نہ کھاؤ ‘‘
بدو پوچھتا ہے ، ایمان کی تکمیل چاہتا ہوں ۔
مُحمد رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں ’’ اِخلاق اچھے کر لو ‘‘
بدو عرض کرتا ہے ، قیامت کے روز گناہوں سے پاک اٹھنا چاہتا ہوں ۔
اﷲ کے نبی ﷺ جواب دیتے ہیں ’’ غسل کیا کرو ‘‘
بدو گزارش کرتا ہے ، برائیوں میں کمی چاہتا ہوں ۔
آپ ﷺ نے فرمایا ’’ کثرت سے توبہ کیا کرو ‘‘
بدو عرض گزار ہوتا ہے ، قیامت کے دِن نُور میں اٹھنا چاہتا ہوں ۔
شفیق پیغمبر ﷺ جواب دیتے ہیں ’’ ظلم کرنا چھوڑ دو ‘‘
بدو کہتا ہے ، میں چاہتا ہوں اﷲ مُجھ پر رحم کرے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا ’’ اﷲ کے بندوں پر رحم کیا کرو ‘‘
بدو عرض کرتا ہے ، اﷲ میری پردہ پوشی کرے ۔
فرمایا ’’ بندوں کی پردہ پوشی کیا کرو ‘‘
بدو پوچھتا ہے ، رسوائی سے بچنا چاہتا ہوں ۔
رحمت العالمین ﷺ کہتے ہیں ’’ بد کاری سے بچو ‘‘
بدو گزارش کرتا ہے ، اﷲ اور رسول ﷺ کا محبوب بننا چاہتا ہوں ۔
اﷲ کے محبوب پیغمبر جواب دیتے ہیں ’’ جو اﷲ اور اُس کے رسول ﷺ کو محبوب ہے اُسے اپنا محبوب بنا لو ‘‘
بدو کہتا ہے ، اﷲ کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں ۔
نبی ﷺ فرماتے ہیں ’’ فرائض ادا کیا کرو ‘‘
بدو پوچھتا ہے ، احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں ۔
محسن انسانیت جواب دیتے ہیں ’’ اﷲ کی بندگی ایسے کرو کے جیسے تُم ایسے دیکھ رہے ہو یا کم از کم ایسے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ‘‘
بدو عرض کرتا ہے ، گناہوں سے کون سی چیز معافی دلوائے گی ؟
آپ ﷺ فرماتے ہیں ’’ آنسو ، عاجزی اور بیماری ‘‘
بدو کہتا ہے ، کیا چیز دوزخ کی آگ ٹھنڈا کرے گی ؟
مہربان پیغمبر ﷺ جواب دیتے ہیں ’’ دُنیا کی مصیبتوں پر صبر ‘‘
بدو پوچھتا ہے ، اﷲ کے غصے کو کیا چیز سرد کرتی ہے ؟
رسول اﷲ ﷺ جواب دیتے ہیں ’’ چپکے چپکے صدقہ اور صلہ رحمی ‘‘
بدو عرض گزار ہوتا ہے ، سب سے بڑی بُرائی کیا ہے ؟
رحمت العالمین ﷺ جواب دیتے ہیں ’’ بد اِخلاقی اور کنجوسی ‘‘
میرے محترم قارئین ! آپ نے دیکھا کتنے اہم سوال اور کتنے سادہ جواب ۔ کون سی ایسی بات ہے جو پوچھی گئی اور جواب ملنے پر انسان سوچ میں پڑ جائے کہ یہ تو امراء کے کرنے کے کام ہیں ، اِس پر تو کروڑوں روپے کا بجٹ درکار ہو گا ۔ اتنی تلواریں ، اتنے نیزے ، اتنی کلاشنکوفیں اور اتنے ارب ڈالر جس سے ہم تھِنک ٹینک بھی بنائیں اور دفاعی ساز و سامان بھی اکٹھا کر لیں ۔نئے سال کی آپ سب کو مبارک مگر گزارش یہ ہے کہ مہلت عمل بہت مختصر ہے ۔ بدو کے سادہ سوالات اور خاتم النبین ﷺ کے بتائے گئے سادہ نسخوں پر ہم آج ہی سے عمل کرنا شروع کر دیں تو ہماری آخرت کے ساتھ یہ زندگی بھی جنت نہیں بن جائے گی ؟کِسی عالم کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ، اپنے دِل پر ہم سب ہاتھ رکھ سوال کریں تو کیا ہمیں جواب نہیں ملے گا ؟اُس جواب پر جب ہم نے عمل کیا تو ہم ہی نہیں ساری دُنیا جنت بن جائے گی ۔ہادی برحق ﷺ کے بتائے اصول ہمیں ’’ معراج اِنسانیت ‘‘ کے عظیم المرتبت مقام پر فائز کر سکتے ہیں ، کیا ہم اِس مقام کو حاصل نہیں کرنا چاہیں گے ؟

Archives