’’جہاد یا فساد ‘‘

’’جہاد یا فساد ‘‘

شکیل احمد ترابی

سعودی عرب کے مفتی اعظم ، ممتاز عالم دین الشیخ عبد العزیز آل شیخ نے کہا ہے کہ جہاد کے نام نہاد علمبردار جہاد کے نام پر نوجوانوں کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں ، ریاست کی اجازت کے بغیر جہاد پر جانے والوں کا احتساب کیا جائے ، مفتی اعظم نے کہاکہ دوسروں کے بچوں کو ورغلا کر جہاد پر لے جانے والے اپنے بیٹوں کو میدان جہاد میں جانے سے منع کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک جہاد لوگوں کے بچوں کے لئے فرض ہے ۔ علمبرداران جہاد ، ان کے بیٹے اور عزیز جہاد سے مستثنیٰ ہیں ۔ سعودی عرب کے ایک جہادی لیڈر نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں سے شام میں جہاد کے لئے جانے کی اپیل کی تھی ۔ جہاد کے یہ علمبردارحال ہی میں یورپ میں سالانہ تعطیلات گزار کر آئے تھے ۔ اس سے قبل ایک اور سعودی راہنما نے عراق کے جہاد کے لئے اپیل کی تھی ، اس اپیل پر عمل درآمد کرتے ہوئے اُن کا بیٹا عراق چلا گیا تھا ۔ جس پر مذکورہ راہنما پشیمانی کا شکار ہو کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور حکومت سعودی عرب سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی واپسی کے لئے اقدامات کرے ۔ جس سعودی نے شام میں جہاد کی اپیل کی جب اُن سے پوچھا گیا کہ اُن کے اپنے فرزند شام میں جہاد کے لئے کیوں نہیں جاتے تو اُنہوں نے کہا کہ وہ جہاد کے لئے فنڈ اکٹھا کر رہے ہیں ۔ سعودی عرب کے ایک اور عالم دین ڈاکٹر احمد الغامدی نے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مفتی اعظم نے جہادی مُلاؤں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ بالکل درست ہے ۔ خُدا کے فرمان کے مطابق یہ لوگ جس بات کے لئے دوسروں کو مخاطب کرتے ہیں اُس پر عمل کے معاملے میں خود کو بھول جاتے ہیں ۔ اِن کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الغامدی نے کہا کہ ’’ جہاد اولیٰ الامر ، حکمران اور ریاست کی اجازت ہی سے جائز ہے ، جو لوگ اپنی مرضی سے جہاد پر جاتے ہیں ، حکومت کو اُن کا کڑا احتساب کرنا چاہیے کیونکہ وہ جہاد نہیں بلکہ معاشرے میں فساد اور انتشار پھیلا رہے ہیں ‘‘۔جہاد وہ رُکن دین ہے جس کے لئے پیغمبر ﷺ نے خود کوششیں کیں اور قتال فی سبیل اﷲکے کئی معرکوں میں خود نہ صرف شریک ہوئے بلکہ ہمیشہ شہادت کی موت کی تمنا کی ، جہاد کو اپنی اُمت کی رہبانیت قرار دیا ۔ کون بدنصیب مسلمان ہو گا جو جہاد و قتال کی مخالفت کا سوچ بھی سکتا ہو ؟ ۔ البتہ قتال کے لئے نفیر عام کا اعلان کون کر سکتا ہے۔ اس میں شرکت کب فرض ہو جاتی ہے اس پر علماء اور فقہاء کی آراء میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اِن جہادیوں کو ایک دور میں مال و اسباب فراہم کرنے والوں میں سب سے زیادہ ’’ فراخ دِل ‘‘ سعودی ہوتے تھے ۔ سعودی حکومت اور بااثر حلقے ہمیشہ یہ چاہتے رہے کہ اُن کے اپنے جہادی جن کو وہ نجی مجالس میں ’’ فسادی ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ سعودی عرب واپس آ کر ’’ شہنشائیت ‘‘ کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں اِس لئے بے پناہ وسائل فراہم کر کے اِن کو ’’ پاکستان میں جہاد ‘‘ میں مصروف رکھو ۔ آج بعض ’’ جہادیوں ‘‘ نے سعودی عرب میں اپنی سرزمین پر جہاد کی بات کی تو سعودی علماء کے فتاویٰ بھی سامنے آ گئے ۔سعودی علماء نے تو آج بیان دیا مگر میرے نزدیک عظیم سید زادے سید مودودی ؒنے تمام پہلوؤں کا بہترین احاطہ اپنی تحریوں میں کیا ہے ۔ نو عُمری میں مولانا نے ’’ الجہاد فی الاسلام ‘‘ لکھی ۔ جہاد و قتال کے لئے کوششیں کرنے والے ان تحریروں سے استفادہ کرتے تو اُمت کے لئے بہتری کا سامان موجود تھا مگر افسوس کے ہم ٹکڑیوں میں بٹ گئے اور ہر فرد مفتی اعظم بن کے فتاویٰ جاری کر رہا ہے ۔ اور جو ا ُن سے، بالخصوص اصحاب بندوق کی رائے سے اختلاف کرے وہ قابل گردن زدنی ٹھہرتا ہے ۔یہ موقع ان تمام پہلوؤں پر ہرگز بحث کا نہیں ، لمحہ موجود میں اُمت بالخصوص پاکستان جن حالات کا شکار ہو چکا ہے ، اُس بدترین صورت حال سے ہم کیسے نکل سکتے ہیں اس پر ہر درد دل رکھنے والے بالخصوص حکمران طبقے کو سوچ و بچار کے بعد اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اُمت مسلمہ کے یہ فقہاء اچانک کہاں سے آ ٹپکے کے جن کے افعال کے نتیجے میں ہزاروں افراد شدید قسم کے دُکھ میں مبتلا ہیں ۔ بعض تو محبت اولاد میں پاگل ہو گئے ہیں اور یہ ’’ جہادی ‘‘ ہیں کہ بچوں کوورغلا پھسلا کر غائب کرنے کا یہ ’’ فریضہ ‘‘ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ پیغمبر ﷺ تو اویس قرنی ؓ کو والدہ کے بلند مقام کے پیش نظر ’’ایک اہم غزوہ ‘‘ سے روک دیتے ہیں اور یہ گروہ کون ہوتا ہے جو جھوٹ اور اخفا کا حلف لے کر بچوں کو والدین سے بلا اجازت جدا کر کے ان سے ایسی وارداتیں کرا رہے ہیں جس سے مملکت پاکستان تباہی کا شکار ہو رہی ہے اور یہ ’’ جہادی ‘‘ نہ صرف معصوموں کی گردنیں کاٹ رہے ہیں بلکہ جہاد کے لئے وسائل اکٹھے کرنے کے لئے بھتہ اور ڈاکے تک ڈال رہے ہیں ۔ کیا خوب جہاد ہے ؟۔
’’ خوب سجدے کئے ، خوب دھوکے دئیے ‘‘

سعودی عرب کے نام نہاد جہادی علمبردار کی طرح پاکستان کے اکثر و بیشتر جہادی ( سرکاری و غیر سرکاری ) بھی جہاد کے نام پر ’’ خیر ‘‘ جمع کر رہے ہیں ۔ کچھ کروڑ پتی اور بعض ارب پتی بن گئے ۔ جہاد و قتال کی اسلام میں جہاں اہمیت ہے وہیں سچ بولنے کا اہم درجہ ہے اور پیغمبر ﷺ نے کہا کہ مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔قتال چھپ کر نہیں کھلے عام ہوتا ہے اور 12 سے 20 سال کے نوخیز ذہنوں کے اندر چھپ چھپ کر ایک خاص سوچ اُبھارنا اور ماں باپ سے باغی کرنا کون سا اسلام و جہاد ہے ؟۔پیغمبر ﷺ تو پرندے کے بچے اٹھا لینے پر اس کی ماں کی بے چینی برداشت نہیں کرتے تھے ۔ تو محمد عربی ﷺ کے دین میں یہ ’’ جہادی گروہ ‘‘ کہاں سے داخل ہو گیا ؟ جنہوں نے ہزاروں ماں باپ کے نور نظر اغواء کر کے اُن کی زندگیوں کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے ۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آج کہا جا رہا ہے کہ ’’ جن ‘‘ قابو میں نہیں آ رہا ، ہماری دہری پالیسیوں اور جھوٹ نے ہمیں ان حالات کا شکار کیا ۔ جن کو ہم ’’ جن ‘‘ قرار دے رہے ہیں یہ تو مخلصین کا وہ گروہ ہے جو اس سارے عمل کو جہاد فی سبیلاﷲ سمجھتے ہیں اور انہوں نے اپنے آرام اور دُنیاوی مستقل کو لات مار کر ، نرم و گرم بستروں کی بجائے ندی نالوں اور بنجر زمینوں کو اپنا مسکن بنا لیا ہے ۔ اِن معصوموں کو ہرگز معلوم نہیں کہ اُن کو ہدایات دینے والے ، جہاد پر اُبھارنے والے ، گرم گرم خون پیش کرکے جنتوں میں اُنہیں پہنچانے والے ’’ جہنمی ‘‘کون ہیں ۔ جن سے اُن کو رسد و ہتھیار ملتے ہیں ۔ پردے کے پیچھے کون بیٹھا ہے ۔ اُس کے مفادات کیا ہیں ؟ ۔ یہ نوجوان ہمارا سرمایہ ، بہترین دماغ اور پاکستان کا روشن مستقبل تھے ، کِسی عاقبت نااندیش نے اِن نوجوانوں کو پہاڑوں پر چڑھا کر اِس ملک سے خیر خواہی نہیں کی ۔ ایسے بدبخت صِرف سامنے نظر آنے والے جہادی رہنما نہیں بلکہ بلند و بالا سرکاری عمارتوں میں مزے کی زندگی گزارنے والے بھی ہیں ۔ جن کی اولادیں بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔ بلا شُبہ ان عمارتوں میں ہمارا سرمایہ افتخار بھی موجود ہے مگر ایک گروہ ایسا بھی ہے جو درپردہ اس ’’ جہاد ‘‘ کامنصوبہ ساز ہے جسے معلوم نہیں کہ جہاد ، فساد کے خاتمے کے لئے کیا جاتا ہے وہ کارروائی جو فساد پھیلائے جہاد ہرگز نہیں ہوتی ۔ جس دن ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ہم غیروں کے سامنے کشکول نہیں پھیلائیں گے اور ملک کی بہتری کے لئے ’’ ایک پالیسی ‘‘ مرتب کریں گے ۔ اُس دن اس ملک میں امن ہی امن ہو گا ۔ امن کی منزل تک پہنچنے کے لئے ہمیں دشوار گزار سفر طے کرنا ہو گا ۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں ۔

Archives