آگ کا دریا ۔ ۔ ۔ !

آگ کا دریا ۔ ۔ ۔ !

شکیل احمد ترابی

عبد الرحمان میرا پُرانا دوست ہے ، لاگ لپیٹ کے بغیر بات کرنا اس کی عادت ثانیہ ہے ، صاف گوئی کو نا پسند کرنے والے بعض اوقات اسے ’’ منہ پھٹ ‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ کئی مواقع پر میں نے بھی اُسے سمجھایا کہ آج کے معاشرے میں سچ کا چلن متروک ہوتا جا رہا ہے ۔ تمہاری سچ گوئی تمہیں ’’تنہا کر دے گی ‘‘ اِس لئے ’’ باز آ جاؤ ‘‘ ۔ وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں ۔ ہر لمحے ایک ہی بات کہتا ہے کہ یہ دُنیا والے میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں کہ میں سچ بولنا چھوڑ دوں ۔ جو دِیا ہے سب اﷲ کا ہے ۔ اپنی محنت سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں ۔ اﷲ نے ایک رات بھی بھُوکا نہیں سُلایا ۔ اُس نے قناعت کی دولت سے مالا مال کیا ہے ۔ لمبی اُمیدیں میں کِسی سے نہیں باندھتا اِس لئے خُدا اور رسول ﷺ کے فرمان کو بھُلا کر صاف گوئی ترک کر کے خوشامد کی راہ اپنانا میرے لیے مشکل ہے ۔ اُس کے ’’ دلائل ‘‘ کے آگے میں جب جھُک ( SURRENDER )کر خاموش ہو جاتا تو وہ قہقہ لگا کے کہتا منگواؤ چائے کیونکہ میں نے کہیں جانا ہے ۔

وہ نِکھرے چہرے کامالک ہے ۔ مسکراہٹ اس کے چہرے سے ہمیشہ ہی ہویدا رہتی مگر کچھ عرصہ سے اُس کے قہقوں میں بھی کمی آ گئی ہے اور مُسکراہٹ بھی مدھم ہونے لگی ہے ۔ عبد الرحمان کا ایک چھوٹا سا ادارہ ہے ۔ جس کا صدر دفتر اسلام آباد ، چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور بعض بڑے شہروں میں بھی اُس کے چھوٹے چھوٹے دفاتر ہیں ۔ ستر کے قریب افراد اُس کے دفاتر میں کام کرتے ہیں ۔ کل وہ میرے دفتر آیا تو پھُوٹ پھُوٹ کے رو دِیا ۔ رونے کا سبب پوچھا تو کہنے لگا چھوڑو یار کیا بتاؤں تمہارے پاس کون سا حل ہے ۔ تم کون سے افلاطون ہو کہ تمہیں بتاؤں گا تو تم جادو کی چھڑی گھماؤ گے اور مسئلہ حل ہو جائے گا ؟ میں نے کہا بات بتاتی نہیں تو بزدلوں کی طرح میرے سامنے رونے کا فائدہ ؟ فوراً بولا میں بُزدل ہوں ۔ بولو میں بُزدل ہوں ؟ جس نے صاف گوئی کی خاطر فوجی حکمران سے عملاً مار کھائی ، بچے تک میرے محفوظ نہ رہے ۔ واہ رے واہ تُو بڑا بہادر ہے ، سنبھال کے رکھ اپنی بہادری کو ۔ میں نرم پڑ گیا اورملتجیانہ لہجے میں کہاکہ بھائی کچھ تو بتاؤ ۔عبد الرحمان پھٹ پڑا کہنے لگا تم بڑے صحافی بنے پھِرتے ہو زرداری کے بارے میں بڑی سٹوریاں دیتے تھے کہ یہ کر گیا ، وہ کر گیا ملک کا خزانہ تباہ کر گیا ۔اب جو ہو رہا اُس پر ذرائع ابلاع اندھے ،بہرے کیوں ہو گئے ہیں ؟ مرکز اور پنجاب میں جو ہو رہا ہے ، صحافت کے ’’ مجاہدوں ‘‘ کو نظر نہیں آ رہا ؟ خیبر پختونخوا میں ’’ انصاف اور میرٹ ‘‘ جس طرح نافذ کیا جا رہا ہے تم کو دِکھائی نہیں دیتا ؟ ۔ چار مہینوں میں پٹرول کی قیمتیں کہاں پہنچ گئی ، بجلی آتی ہی نہیں مگر بل باقاعدگی سے آتے اور ان کی ’’قیمتیں ‘‘ اِن کے دور میں کہاں پہنچ گئیں ۔
نئی حکومت کے دور میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً پندرہ روپے کا اضافہ ہو گیا ، پٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہر چیز کو آگ لگ جاتی ہے ۔ میرے دفتر کے ایک ملازم کی تنخواہ گیارہ ہزارتھی ، وہ دفتر موٹر سائیکل پر آتا ہے ۔ موجودہ اضافے سے اس کے پٹرول خرچ میں کم از کم پانچ صد روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ جو ملازم گیارہ ہزار میں سے تقریباً نصف تنخواہ پٹرول پر خرچ کر دیتا ہے ۔ وہ اپنا اور بچوں کے پیٹ کیسے بھرے گا ؟ وہ کہنے لگا تمہیں معلوم ہے میں حساس آدمی ہوں مجھ سے یہ نا انصافی برداشت نہیں ہوتی ۔ میں نے پھل اور دیگر قیمتی چیزیں خود خریدنا چھوڑ دی ہیں کیونکہ جب میں پھل کا ہفتے کا پندرہ صد خرچ کرنے لگتا ہوں تو میری آنکھوں کے سامنے دفتر کے کم تنخواہ والے ملازم کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ میری آنکھوں میں جھڑی لگ جاتی ہے ۔ رات کو نیند نہیں آتی کہ ہم پھلوں اور دیگر عیاشیوں پر کتنا خرچ کر دیتے ہیں لہذا یہ ذمہ داری بیگم صاحبہ نے خود اپنے ذمہ لے لی ہے ۔ عبد الرحمان کی قمیض آنسوؤں سے تر ہو گئی آج وہ چپ ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ اُس نے اسلام آباد کے ہسپتالوں ، شاہراؤں اور بعض کاروباری مقامات کے نام لے کر کہا کہ وہاں جو خواتین کھڑی ہوتی ہیں جن میں سے اکثر نے چہرے نقابوں سے چھپائے ہوتے ہیں ۔ تمہیں نہیں معلوم وہ وہاں کیوں کھڑی ہوتی ہیں ؟ ہر گزرنے والے کو مسکراہٹ اور خاص نظر سے دیکھتی ہیں ۔ بڑی گاڑیوں کی جانب لپکتی ہیں ۔ ایک منٹ میں ’’ معاملہ ‘‘ طِے پا جاتا ہے اور وہ کِسی بڑے کی ہوس پوری کرنے چلی جاتی ہیں ۔ تم مولوی لوگ اسے فاحشہ اور نہ جانے کیا کیا نام دیتے ہو ۔ اِن کی اکثریت بھی شریف گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ پیغمبر ﷺ نے تو کہا غربت ، افلاس کفر کی طرف لے جاتی ہے اور تم بڑے دانشور انہیں ’’ فاحشہ ‘‘ کہتے ہو ۔ جو بڑے سرکاری اداروں میں بیٹھ کر جائز کام بھی نہیں کرتے ، دفتروں میں سرعام ’’ سودے بازیاں ‘‘ کرتے ہیں ۔ جن کے بنگلوں میں شراب و شباب کی محفلیں سجتی ہیں ۔ جو ڈاکٹر بھاری تنخواہ لے کر سرکاری ہسپتال میں علاج مُہیا کر نے کی بجائے مریض کو اپنے نجی شفا خانے میں علاج پر مجبور کرتا ہے ۔ وکیل فیس لے کر اکثر تاریخوں پر حاضر نہیں ہوتا ، صحافی سچ لکھ کر قوم کو اصل حقائق نہیں بتاتا تم سب شرفاء ہو ؟ اور وہ جو اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ’’ آگ کا دریا ‘‘ پار کرتی ہے وہ فاحشہ ہے ۔ جو یہ کام نہیں کرتی اُس کی تم خبر چھاپتے ہو کہ فلاں نے چار بچوں کا گلہ دبا کر بالآخر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر جسم و جاں کا رشتہ ختم کر دِیا ۔ جھوٹ لِکھتے ہو تم ، سچ یہ ہے کہ یہ پھندا اُس نے اپنے گلے میں نہیں ڈالا ، یہ پھندا تمہارے ’’ اشرافیہ ‘‘ نے اُسے لگایا تمہارے معاشرے میں ظالم اشرافیہ کے لئے کوئی سزا نہیں ؟ میں نے کہا بس کرو یار تمہاری باتوں سے سر پھٹ رہا ہے ۔ وہ تو اُس لمحے اٹھ کے میرے دفتر سے چلا گیا مگر اُس کی باتیں میرے سر پر ہتھوڑے چلا رہی ہیں کہ ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ ہر آنے والا دن بد سے بدترین ، ہمارے حکمران بیت اﷲ اور روضہ رسول ﷺ پر کھڑے ہو کر تصاویر اور گِڑگِڑا کر رونے اور دعائیں مانگنے کی خبریں تو شائع کرواتے ہیں مگر اِنہیں خُدا اور رسول ﷺ کے احکامات کا زرا برابر بھی پاس نہیں ؟ ۔ روضہ رسول ﷺ کے اندر ہی پاک پیغمبر ﷺ کے ساتھ جن دو شخصیات کی قبریں ہیں اُن میں سے ایک سکون کی نیند سونے والے حضرت عمر ؓ ہیں جن کے دور میں جب قحط پڑا تو اُنہوں نے چھوٹی چھوٹی چوری کے جرائم پر سزائیں معطل کر دیں اور کہا کہ جو حکمران روٹی نہیں دے سکتا اُس کو ہاتھ کاٹنے کا بھی حق نہیں ۔
برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے دورِ وزارت عظمیٰ میں اُس کے ہاں مہمان آ گیا تو دفتر کے اوپر تیسری منزل پر جا کر خود چائے بنا کے لا رہی تھیں کہ سیڑھیوں پر پاؤں مُڑ گیا اور گرنے سے ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ ہمارے صدر و وزیراعظم تو درکنار اُن کے سیکریٹریز کے بھی کتنے ملازم دفتروں اور گھروں میں موجود ہیں ؟ ۔ ہمارا معاشرہ اچھی صِفات اور اعلیٰ روایات سے خالی ہو کر بنجر کیوں بن گیا ، کیا ہمارے ہاں بھی کبھی ہریالی آئے گی ؟ ۔ جس دِن ہم نے غور و فِکر کیا اپنے ضمیر کو زندہ کیا تو معاشرہ بھی تبدیل ہو جائے گا ۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ ۔ ۔ !

Archives