پھر آگیا مقام غم

پھر آگیا مقام غم

شکیل احمد ترابی

مولانا نعیم صدیقیؒ کیا انقلابی شاعر تھے۔ کسی نے کیاخوب کہا کہ جماعت اسلامی کے بانی امیر سیدمودودیؒ کے اہم رفیق کار کے طورپر جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیتے اور شاعری ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتے تو حضرت اقبالؒ کے پائے کے شاعر ہوتے۔

سلیم ناز بریلوی نے نعیم صدیقی مرحوم و مغفور کے انقلابی کلام کو اپنی سریلی آواز میں ترنم سے گایا تو کشمیر کے گلی کوچوں میں نوجوان سڑکوں پر آگئے اور تحریک آزادی کشمیر کو ایک نیا جوش وولولہ ملا۔ انہی ترانوں سے متعلق کشمیر کے اس وقت کے گورنر جگموہن نے کہاکہ یہ ایسے ترانے ہیں جنہیں قبرستانوں میں مدفون مردے بھی سن لیں تو زندہ ہو کے قبروں سے باہر آجائیں۔
آج امت مسلمہ کا خون انتہائی ارزاں ہے ہر جانب لاشے بکھرے پڑے ہیں۔ نیل کے ساحل میں بھی اور لاکھوں قربانیوں اور کروڑوں آرزئوں کے مسکن پاکستان میں جدھر بھی دیکھیں لہو ہی لہو اور لاشے بکھرے پڑے ہیں۔ نعیم صدیقی مرحوم و مغفور نے اسی طرح کے حالات میں لہو اور بکھرے لاشے دیکھ کے کہا تھا۔

میرے  حضور دیکھئے  پھر آگیا  مقام  غم
بہ سایہ صلیب بھرے ہیں ہم نے پھر جام غم
کنار  نیل  چھاگئی  پھر  ایک  بار  شام   غم
پھر ایک کارواں لٹا
خود اس کے پاسباں تھے وہ جن کے درمیاں لٹا
بدست دشمناں نہیں بدست دوستاں لٹا
پھر ایک بار کوئے یار میتوں سے پٹ گئی
جنوں کی کھیتیاں پکیں سروں کی فصل کٹ گئی
حضور کی سپاہ کی ایک اور صف الٹ گئی
ہر ایک دور وقت کا خود اپنا ایک یزید ہے
ہر ایک دور کا حسین بے گناہ شہید ہے
جدھرجدھرگرا ہے خوں یہی رہ امید ہے
ابھی تو ایسے کارواںکئی ہزار آئیں گے
اٹھیں گے چار سمت سے وہ بار بار آئیں گے
وہ بن کے ابر خوں فشاں باریگ زار آئیں گے
بچو بچو کے یک بیک دم حساب آئے گا
جو راج ظلم کیش ہے وہ راج ڈول جائے گا
گرے گا راج فرق سے ہر تخت ڈگمگا ئے گا
میرے حضور دیکھئے پھر آگیا مقام غم
بہ سایہ صلیب بھرے ہیں ہم نے پھر جام غم

دہشتگردی کے خاتمے کی نہیں امریکا کی جانب سے مسلط کی گئی دہشتگردی کی جنگ میں امریکا کے صف اول کے اتحادی بن کر جناب پرویزمشرف نے پرامن، خوشحال پاکستان کو قبرستان میں بدل دیا۔ پچھلے چند دن میں دیکھیں ہمارے مسیح بھائیوں کے عبادت خانے پر حملہ، سوات میں جنرل و کرنل، قصہ خوانی بازار، پیشن اور کراچی میں صرف چند دن کے واقعات میں جرم بے گناہی کی موت مرنے والے 230کے قریب ہیں۔ ہماری سرحدوں پر متعین سپاہ و دیگر اہم مقامات پر تعینات فوجی اور سویلین آبادی محتاط اندازے کے مطابق 50ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں کی بازی ہارگئے۔ ہزاروں ایسے جن کی سانسیں تو باقی مگر کسی کی ٹانگیں کٹ گئیں اور کوئی بازوئوں سے محروم ہوگیا ، ایک لحاظ سے چلتے پھرتے لوگ زندہ لاشے بن گئے۔

بہترین جرنیل، بریگیڈئیرز، کرنلز، میجر اور میرے ماتھے کا جھومر سپاہ کے بہترین دماغ امریکی کی جنگ کی نذر ہوگئے۔ نیکی اور تقویٰ کا پہاڑ سرجن جنرل ڈاکٹر محمدمشتاق، غیور وجرأت مند جنرل عمرنیازی، جنرل فیصل علوی اور اب جنرل ثناء اللہ نیازی اور مائوں کے نہ جانے کون کون سے چاند اجل کی وادیوں میں پہنچ گئے۔ دہشتگردی کا ساتھ دینے والا اس کیلئے کلمہ خیر کہنے والا اس کو کمک پہنچانے والا اور اس کے حق میں لکھنے والا دہشتگرد سے بھی بدترسزا کا حق دار ہے ۔ مگر جناب والا جذبات کا شکار ہونے اور یک رخے پن کے اظہار کی بجائے پالیسی ساز اداروں کے ارباب بست و کشاد ، صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو ہر ایک کو دہشت گرد ثابت کرنے سے قبل دو عملی اور خواب غفلت سے نکلنا ہو گا ۔

ڈھاکہ سے کابل اور اب وزیرستان ہم نے ’’ پرائیویٹ لشکر ‘‘ بنا دئیے ۔ ضرورت پڑی تو انہیں اپنا قرار دے دیا اور مطلب نکل گیا تو دہشت گرد قرار دے دیا ۔ امریکا نے لاکھ واویلا کیا حقانی نیٹ ورک ، قاری گل بہادر ، مولوی نذیر اور چند ایک اور کے خلاف کارروائی کرو ۔ ہم نے کسی جگہ ’’ ان ‘‘ کے اپنے ہونے کا اقرار بھی نہ کیا مگر کارروائی نہ کرنے کا مطلب تو اندھے اور دیوانے کو بھی سمجھ آتا ہے ۔
بھارتی بلیک کیٹس آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر کے گاؤں میں داخل ہو کر ہمارے 22 افراد کو ذبح کر کے لاشیں مسخ کر کے بھاگ جاتے ہیں ۔ ان کا بدلہ کون لیتا ہے ؟ الیاس کشمیری ، کسے معلوم نہیں الیاس کشمیری کون تھا اسی ضلع بھمبر کے ایک گاؤں کا باسی ہماری اُس وقت کی پالیسی کے مطابق عظیم مجاہد ، الیاس کشمیری کی حکمت اور جرات دیکھئے سیز فائر لائن عبور کرتا ہے ۔ کئی کو واصل جہنم کرتا ہے اور ایک کرنل کا سر کاٹ کر لے آتا ہے ۔ اس کی جرات و بہادری پر وقت کا آرمی چیف و صدر پاکستان مشرف جی ایچ کیو کی ایک تقریب اس کے گلے میں ’’ گولڈ میڈل ‘‘ ڈالتا ہے ۔ شاید ہماری پالیسی اس کارروائی کو اخفاء رکھنے کی نہ تھی ہمارے قومی پریس میں اشاعت کے بعد دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اپنے نکتہ نظر کے مطابق اسے شائع کیا ۔ بھارت کی سپاہ ہمارے بائیس افراد کو سوتے میں قتل کر کے بھاگ گئی تھی ان کے اپنے ایک کرنل کا کٹا سر پاکستان پہنچا تو پاکستان انہیں دہشت گرد نظر آیا ۔ دو روایتی دشمن ملکوں کو شاید ایک دوسرے کے متعلق ایسا ہی کہنا چاہیے تھا ۔

مگر وقت کی ستم ظریفی دیکھئے جس الیاس کشمیری کو بھارت نے دہشت گرد قرار دیا اور ہم نے بہادری کے اظہار پر گولڈ میڈل پہنائے کچھ ہی عرصہ بعد ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو کال کوٹھریوں میں ڈال دیا ۔ رہائی کے بعد وہ ’’ محفوظ جنت ‘‘ وزیرستان پہنچ گیا ۔ اس کو مروانے کے لئے ہم مخبریاں کرتے رہے وہ بچ نکلتا رہا ۔ آخر کار ہماری مخبری کے نتیجے میں وہ اللہ کی جنتوں کی جانب اور بصورت دیگر سخت حساب کے لئے دوسری جانب جاپہنچا ۔

عملی عسکریت سے مجھے کبھی شغف نہیں رہا اس لئے اس بارے مجھے ’’ جاہل مطلق ‘‘ کہا جا سکتا ہے ۔ مگر تقوی و ذہانت کا پہاڑ جس کے خاندان کے بڑے نیوی یا بری فوج میں اہم خدمات سرانجام دے چکے میری مراد خوش الحان قاری ، ذہین ، متقی اور بہترین مدرس قرآن جناب احسن عزیز شہید ؒ ہیں ۔ میں ان کو اور ان کے خاندان کو گزشتہ پینتیس سال سے بہت قریب سے جانتا ہوں وہ ہرگز دہشت گرد نہیں تھا ۔ جب پاکستان کے ادارے افغان جہاد کے پشتیبان تھے تو جناب کمانڈر عبد العزیز اوران کے فرزند انجینئر احسن عزیز کا گھر افغانوں کو منگلا ڈیم میں غوطہ خوری سکھانے کیلئے سہولیات بہم پہنچاتا تھا ۔ میں اس گھر جب جاتا تھا تو کمانڈر صاحب کا گھر کم اور افغانوں کا زیادہ لگتا تھا ۔

’’ آپ کا قومی مفاد ‘‘ تبدیل ہوا تو احسن بھی دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل ہو کر آپ کے تعذیب خانوں میں گرفتار رہا ۔ رہائی کے بعد وہ اپنی اہلیہ کو لے کر ’’ وزیر ‘‘ بن گیا اور وزیرستان چلا گیا ۔ استاد وحید اللہ آپ کو جہاد افغانستان میں کمک پہنچاتے رہے۔ ان کے ایک نیورو سرجن بیٹے ڈاکٹر ارشد وحید کو وزیرستان آپ نے امریکنوں کے ذریعے مروا دیا دوسرا دل کا ماہر سرجن اکمل وحید آپ کی قید میں ہے ۔ جناب والا پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے والے بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھ سکتی ہیں ۔ مذاکرات ہو سکتے ہیں تو کل کے آپ کے مجاہد ایسے دہشت گرد بھی نہیں کہ ان سے بات چیت نہ ہو سکے ۔ کھلے دل اور دوغلی پالیسی کو ختم کر کے آگے بڑھئے اصل طالبان سے مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے ہاں پاکستان کے دشمنوں نے جو ’’ طالبان ‘‘ کھڑے کر رکھے ہیں اس ملک میں امن کی خاطر انہیں کچل دیجئے امن تب ہی قائم ہو سکے گا ۔

اے ارباب بست و کشاد سب معلومات قلم و قرطاس کے حوالے نہیں کی جا سکتی جس سے میری ’’ ماں پاکستان ‘‘ کو گزند پہنچے ۔ عاقلوں کے لئے اشارے کافی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے اداروں نے بہت سے نوجوان نہیں اٹھا رکھے ۔ پچھلے عرصے میں کچھ ’’ دہشت گرد ‘‘ پکڑے گئے تو انہوں نے اسلام آباد کے نوجوان حسن شرجیل سمیت بہت سے دیگر لوگوں کو اغواء کر کے وزیرستان وغیرہ پہنچانے کا اقرار کیا ۔ ادارے قانون کا نفاذ کرنا چاہتے ہیں تو ایسے مطلوب لوگ پھر آپ کی قید سے آزاد کیسے ہو جاتے ہیں ؟ اُن کے خلاف نوجوانوں کے اغواء کے مقدمات کیوں نہیں بنتے ؟ جہاد کے نام پر ’’ عجیب نشے سے سرشار ‘‘ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ سید مودودی ؒ کی الجہاد فی الاسلام پڑھ لیں ۔ جہاد اور فساد میں فرق واضح ہو جائے گا ۔سرحدوں کی حفاظت سرکاری سپاہ کاکام ہے پرائیویٹ لشکروں کا نہیں ۔ ایسے غلط نشے سے سرشار نوجوانوں اور ’’ پالیسی سازوں ‘‘ کے لئے ذیل میں میرے اشعار کی صورت چند اشارے ہیں ، شاید کے اتر جائے تیرے دل میں میری بات ۔

سامنے منزل تھی اور پیچھے اس کی آواز
رکتا تو سفر جاتا، چلتا تو بچھڑ جاتا
منزل کی بھی حسرت تھی اورا س سے محبت بھی
اے د ل یہ بتا، میں اس وقت کدھر جاتا
مدت کا سفر بھی تھا اور برسوں کی شناسائی بھی
رکتا تو بکھر جاتا،چلتا تو میں مر جاتا
لگی شدت سے پیاس تھی اور پانی میں ذھر بھی تھا
پیتا تو میں مر جاتا، نہ پیتا تو بھی مر جاتا
میخانہ بھی اس کا تھا اور مے خوار بھی اس کے
پیتا تو ایماں جاتا، نہ پیتا تو صنم جاتا
سزا ایسی ملی مجھ کو، زخم ایسے لگے دل پہ
چھپاتا تو جگر جاتا، دکھاتا تو بکھر جاتا

Archives