میرے مُحسن … سیدمودودیؒ

میرے مُحسن … سیدمودودیؒ

شکیل احمد ترابی

ہٹلر نے اپنے جُھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے جوزف گوئبلز کی خدمات حاصل کِیں۔ گوئبلز ایسی مہارت سے جھوٹ بولتا تھا کہ لوگ سچ کو حق جاننے پر مُتزدّد ہوجاتے ۔ پاکستان بنتے ہی خودغرضوں، مکاروں اور اپنے ذات سے بلند ہو کرنہ سوچنے والوں کی آماجگاہ بن گیا۔ یہ ’’ خودغرض‘‘ اَول روز سے اِس کے اصل نظریے کو مِٹا دینا چاہتے تھے۔ پاکستان کے چند بیدار مغز قائدین، علماء کرام اِس طبقے کو ناکام بنانے کیلئے سدِراہ بن گئے۔ ممتاز عالم دین سید مودودیؒ اُس قافلے کے اہم سالار تھے جن کی شبانہ روز کی محنت سے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور ہوئی۔ یہ قرارداد اِسلامی دستور کی اساس تھی۔ اِس کی روشنی میں پاکستان کو1973ء میں ایک اسلامی دستور حاصل ہوا جو ہمارے ہاں اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔

وہ مادرپِدر آزاد طبقہ، غیروں کا غلام، جنہیں اِسلام کے نام سے چِڑ ہے، یہ بزدل اسلام کے خلاف بولنے سے تو رہے مگر بیرونی سرمائے کی فراوانی کے بل بوتے پر اِنہوں نے ایک جوزف گوئبلز نہیں بلکہ گوئبلز کی کئی فیکٹریاں لگادیں۔ گوئبلز کے یہ فرزند علمائے کرام پر ہر موقع پر الزام تراشی کے تابڑتوڑ حملے کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ’’ کار خیر‘‘ سیدمودودیؒ کیخلاف ہرزہ سرائی کرکے کمایا گیا۔ جناب مودودیؒ پر سب سے بڑا الزام یہ کہ اُنہوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی۔ اِن نادانوں کو کیا معلوم ہے کہ مودودیؒ پاکستان مخالف ہوتے تو حضرت علامہ اقبالؒ سے باالخصوص اور قائداعظمؒ محمد جناح سے بالعموم اس قدر گہرے مراسم کبھی نہ ہوتے۔

خداغریق رحمت کرے مولاناوصی مظہر ندروی کو وہ فرماتے ہیں میں زمانہ طالب علمی میں اپنے ساتھیوں کو سید مودودیؒ کی تحریروں کے اقتباسات پڑھ کر سنایا کرتا تھا ۔ مثلاً مسلمانوں کو صرف اس چیز سے بحث ہے کہ یہاں انسان کا سر حکم اﷲکے آگے جھکتا ہے یا حکم الناس کے آگے؟ اگر حکم اﷲکے آگے جھکتا ہے تب تو’’ ہندوستان‘‘ کو اور زیادہ وسیع کیجئے، ہمالیہ کی دیوار کو بیچ سے ہٹائیے اور سمندر کوبھی نظرانداز کردیجئے تاکہ ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکا، سب ہندوستان میں شامل ہوسکیں، اور اگر یہ حکم الناس کے آگے جھکتا ہے تو جہنم میں جائے ہندوستان اور اس کی خاک کا پرستار اور یہ کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرے لئے اس مسئلے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ہندوستان میں جہاں مسلمان کثیر التعداد میں ہیں وہاں اِن کی حکومت قائم ہوجائے۔ میرے نزدیک جو سوال سب سے اہم ہے وہ یہ کہ آپ کے اِس پاکستان میں نظامِ حکومت کی اساس خُدا کی حاکمیت پر رکھی جائے گی یا مغربی جمہوریت کے مطابق عوام کی حاکمیت پر؟ اگر پہلی صورت ہے تو یہ یقینا پاکستان ہوگا، ورنہ بصورت دیگر یہ ویسا ہی’’ ناپاکستان‘‘ ہوگا جیسا ملک کا وہ حصہ ہوگا آپ کی سکیم کے مطابق غیرمسلم حکومتکریں گے۔

پندرہ سال کی عمر میں سید مودودیؒ نے ایک صحافی کے طورپر عملی زندگی کا آغاز کیا، آپ مدینہ، بجنور،تاج ، جبل پور اور مسلم دہلی سے وابستہ رہے۔1923 میں بھوپال تشریف لے گئے۔ آپ اپنے بارے تحریر فرماتے ہیں کہ بھوپال قیام کے ڈیڑھ سال کو میں نے بالکلیہ پڑھنے اور سوچنے کیلئے وقف کردیاتھا۔ علوم قدیمہ و جدیدہ کے جتنے ذخائر تک میری رسائی ممکن تھی میں نے ان سے استفسادہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ غوروفکر اور مطالعے کو میں نے شدت اور تسلسل سے جاری رکھا کہ آخر کار میں میرے اعصاب پرتکان کے آثار ہویدا ہونے شروع ہوگئے۔1924ء میں سید صاحب دہلی واپس آئے تو انہیں مولانا محمدعلی جوہرؒ کی طرف سے ان کے اخبار ہمدرد اور جمعیت علماء کی طرف سے جمعیت کے ترجمان الجمعیۃ کی ادارت کی پیش کش کی گئی۔ سیدؒ نے الجمعیۃ کو ترجیح دی اور چار سال تک اس کے ایڈیٹر رہے۔1926ء میں شُدھی تحریک کے بانی شردھانند قتل ہوگئے اس قتل پر کانگریسی و غیرکانگریسی ہندوئوں نے ایک طوفان برپا کردیا کہ اسلام خون خواری سیکھاتا ہے گاندھی جی نے کہاتھا’’ اسلام کی فیصلہ کن چیز پہلے بھی تلوار تھی اور اب بھی تلوار ہے‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے اس دور سے متعلق خود بیان کیا کہ یہ ’’ غوغا آرائی‘‘ ایک مدت تک بڑے زوروشور سے جاری رہی۔ مولانا جوہرؒ ان بہتان تراشیوں سے تنگ آکر جامع مسجد دہلی میں دوران تقریر آب دیدہ ہوگئے اور کہاکاش ، اے کاش ! کوئی اللہ کا بندہ ان الزامات کے جواب میں اسلام کا صحیح نقطہ نظر پیش کرتا، تقریر سننے والوں میں سے ایک میں بھی تھا جب وہاںسے اٹھا تویہ سوچتا ہوا اٹھا کہ کیوں نہ میں ہی اللہ کا نام لے کر اپنی سی کوشش کروں۔ اخبار نویسی کی مصروفیات اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھیں کہ کوئی اور عملی و تحقیقی کام بھی کیا جائے۔ مگر ہندوئوںکی غوغا آرائی اور جناب محمدعلی جوہرؒ کی درد بھری اپیل نے سیدمودودیؒ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کیلئے قلم سنبھالیں۔24 سال کی عمر میں6سو صفحات پر مشتمل ’’ الجہاد فی السلام‘‘ شائع ہو کر منظرعام پر آئی تو مصور پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا ’’ اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونصلح وجنگ پر یہ کتاب ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر زیِ علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے‘‘۔

آج کچھ لوگ جماعت اسلامی پر طالبان نواز اور بعض دہشتگردوں کے تانے بانے جماعت اسلامی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی صفائی اور جہاد کے نام پر فساد پھیلانے والوں سے دوری اور وضاحت ہمارا نہیں جماعت کی قیادت کا کام ہے،البتہ جماعت اسلامی پاکستان کو بالعموم اور آزاد کشمیر کوبالخصوص پالیسیاں بناتے وقت مولانا موددی کی تصنیف ’’ الجہاد فی السلام‘‘ کا بغور مطالعہ کرکے’’جہادی نشے سے پرہیز کرنا چاہیے اور ملک کے 70 فیصد بجٹ کے ’’حق داروں‘‘کوصاف صاف کہہ دینا چاہیے کہ جناب والا یہ کوئی کھیل نہیں کہ جب چاہا ٹھکرا دیا اور جب چاہا ہمیں اپنا بنا لیا ۔لوگوں کی بچے ہمارے ہاتھوں مروا کر ہمیں قاتلوں کی فہرست میں کب تک رکھو گے؟

جماعت اسلامی سے الگ ہو کر ڈیڑھ اینٹکی مسجدکے وہ مفکرین اور مفکرات جو کِسی کے ’’ خفیہ ایجنڈے‘‘ پر جہاد کے نام پر معاشرے میں ’’زہر‘‘ پھیلا کر معصوم نوجوانون کے ذہنوں کو پراگندہ و اغواء کرکے دہشت گردانہ کارروائیوں کا حصہ بنا کرپاکستان کو تباہ وبرباد کررہے ہیں کو ’’ الجہاد فی السلام‘‘ کا ایک ایک صفحہ غوروفکر سے پڑھ کر اپنی فکر وسوچ کو تبدیل کرکے خدا سے معافی مانگنی چاہیے۔

ملک کے خفیہ ادارے اگر قول کے ساتھ عملاً بھی دہشتگردی کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ کتاب بڑے پیمانے پر ملک میں پھیلا دینی چاہیے۔ سیدمودودیؒ پر کچھ تحریر کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ عدم برداشت کی بڑھتے معاشرے اور بالخصوص قیادت کو تحمل وبرداشت کے پہاڑ سیدؒ کا ایک واقعہ تزکیرکے طورپر ضرور بیان کرونگا۔ سیدؒ کے گھر عصرکے بعد مجالس منعقد ہوتی تھیں جس میں پیر وجوان شاگرد واستاد، محقق و سائنسدان، سیاستدان، صحافی غرضیکہ زندگی کے ہرطبقہ فکر کے لوگ مسائل سمجھنے کیلئے حاضر ہوتے تھے۔ اکثریت مخلصین اور علم کے پیاسوں کی ہوتی تھی مگر ’’کچھ لوگ ایجنڈا خاص‘‘ کے تحت آتے یا بھیجے جاتے تھے تاکہ وہ محفل کو ’’پھیکا‘‘ کرسکیں۔ایک دن ایک نوجوان مجلس میں کھڑا ہوتا اور مولانا کو انتہائی بدتمیزی کے انداز میں کہتا ہے ’’ مودودیؒ میں نے تمہاری لڑکی کیساتھ شادی کرنی ہے‘‘ صبرو برداشت کے ہمالیہ ابوالاعلیٰ نے اپنی جبین پر شکن بھی نہ لائی اور نوجوان کو قریب بلا کر کہتے ہیں بیٹا مجھے تمہاری بات پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر عزیز تمہیں ہمارے مشرقی معاشرے کی روایت معلوم ہیں۔ ہمارے ہاں لڑکے والے لڑکی والے کے ہاں آتے ہیں لڑکی پسند آئے تو بات کرتے ہیں فریقین متفِقہوجائیں تو رشتہ طے پا جاتا ہے آپ بھی اپنی بات میں سنجیدہ ہیں تو گھر جا کے اپنے والدین سے بات کرو۔ سید مودودیؒ کو ’’ بے عزت‘‘ کرنے آنے والا عظیم رہبر کی بات سن کر وہیں ڈھیر ہوگیا۔ سیدؒ کے تربیت یافتہ معاونین میں سے کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ اس نوجوان کو اف تک کہہ سکیں اور آج کی دینی شخصیات ، جہادی تنظیموں کی امراء کے اردگرد موجود درجنوں ’’ ڈشکرے‘‘ تو امراء کی گاڑی کے نزدیک کوئی آجائے تو اس کے پائوں پر فورویلرز گاڑیاں چڑھا دیتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات کے سابق سربراہ ،معروف صحافی حامدمیر کے والد پروفیسر وارث میر خدا ان کو جنت میں اعلیٰ مقام دے رقمطراز ’’ بڑا آدمی بننے کی خواہش کس کے دل میں پیدا نہیں ہوتی لیکن بڑا آدمی بننے کیلئے مطلوبہ اوصاف قدرت ہر شخص کو ودیعت نہیں کرتی۔ ایسے حالات و مواقع بھی ہر شخص کے مقدر میں نہیں ہوتے۔جواس کے اعلیٰ اوصاف و خصائص کے لیے مہمیز ثابت ہوں ‘‘۔سید مودودی ؒ بلاشبہ بڑی شخصیت تھے ، دشمنوں اور دوستوں سے اپنی عظمت کا اعتراف کراتے اور فکری و تنظیمی صلاحیتوں کو نکھارنے اور استعمال کرنے کے لیے انہیں زندگی بھر جتنی محنت اور جدوجہد کرنا پڑی وہ ہر شخص کے بس کی بات نہیں ۔ اُنہوں نے تمام انسانوں کی خواہشات اور لذائز حیات کوتج کر اپنی فکری و عملی توانائیوں کو منظم کیا ، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنے مشن کے لیے وقف کر دیا اور وفات کے وقت وہ عالمی سطح کی شخصیت تھے ، انسان اپنی زندگی کو ضابطے ، نظریے اور محنت کی لگام ڈال لے تو وہ کیا کیا کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے ؟ مولانا کی زندگی اس کا ایک روشن ثبوت تھی ۔ پروفیسر وارث نے لکھا ’’ مودودی ؒ صاحب کے معترضین اور ناقدین ممکن ہے اس رائے سے اختلاف کریں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر نوجوانوں کی تنظیموں پر جو گرفت جماعت اسلامی کو حاصل ہو سکی وہ ہر دوسری جماعت یا شخصیت کے لئے باعث رشک و باعث حسد ثابت ہو سکتی ہے ‘‘۔

22 ستمبر 1979ء کو آپ کا بیرون پاکستان علاج کے موقع پر انتقال ہوا ، 25 ستمبر کو ان کی رہائش گاہ پر اس مقام پر جہاں وہ سالہا سال عصری مجالس منعقد کرتے تھے انہیں منوں مٹی کے نیچے دفن کر دیا گیا ۔ مولانا جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو پوری زندگی پھیلایا وہ مودودی ؒ عرب و عجم کے کروڑوں انسان کے دلوں میں موجود ہیں اور سید کی فکر ہر جگہ پھیل رہی ہے میرے محسن خدا آپ کی قبر کو نور سے بھر دے ۔ آمین

Archives