’’ بہتان تراشی کی سیاست ‘‘

’’ بہتان تراشی کی سیاست ‘‘

شکیل احمد ترابی

اﷲ تعالیٰ سورۃ الحجرات میں فرماتے ہیں
’’اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ا ن کے درمیان صلح کراؤ پھر اِن میں ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ، پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو ۔ اور انصاف کرو کہ اﷲ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات درست کرو اور اﷲ سے ڈرو اُمید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ، آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں‘‘

سیاسی جماعتیں اور مخالف سیاسی شخصیات تنقید کے ذریعے ایک دوسرے کے پروگرام کو رَد کرتی ہیں ۔ اپنی یا اپنی جماعت کی خوبیاں اور پالیسیاں بیان کی جاتی ہیں ، یہ روایت دُنیا کے ہر معاشرے میں موجود ہے ۔ انتخابات کے موسم میں یہ کام معمول کے حالات سے زرا بڑھ کے ہوتا ہے ۔ مہذب معاشروں میں سیاسی ، معاشی اور اگر مقابل حُکمران جماعت ہو تو اُس کی بد انتظامی ، بد دیانتی اور پروگرام و منشور پر عدم عملدرآمد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔

اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے پاکستانی معاشرے میں اﷲ کے احکامات کا نفاذ تو دُور مہذب معاشروں کے اندر رائج سیاسی روایات اپنے ہاں نافذ کرنے کا بھی ہمیں کبھی خیال نہیں آیا۔ جس طرح ہر با اختیار شخص آئین پاکستان کو پامال کرتا ہے اُسی طرح سے سیاسی شخصیات اور انتخابی امیدوار بھی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اُڑاتے ہیں ۔ الیکشن کمیشن تو ماشائاﷲصُمً و بُکمً بنا بیٹھا رہتا ہے اُس کے ہاں متمکن اِنتظامی آفیسران جن پر قومی خزانے سے سالانہ کروڑوں خرچ ہوتے ہیں وہ اپنے تئیں اول تو نوٹس ہی نہیں لیتے اور لے بھی لیں تو نمائش کی حد تک ۔ کم از کم ہمارے علم میں تو یہ بات ہرگز نہیں کہ کِسی امیدوار نے دوسرے پر دشنام طرازی کی اور ثابت نہ کر سکا تو الیکشن کمیشن نے اُسے نااہل قرار دِیا ہو ۔ ہمیں یہ کہنے میں ہرگز کوئی عار نہیں کہ ہمارا الیکشن کمیشن ایک ایسا چوکیدار ہے جِس کے سامنے ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں اور وہ ڈاکو کا ہاتھ روکنے کے لیے ٹَس سے مَس نہیں ہوتا ۔

دشنام طرازی کی سیاست کا آغاز 70 ء کی دہائی سے ہُوا تھا ، اِسے عروج 90 ء کی دہائی میں حاصل ہوا جب پیپلز پارٹی اور اسلامی جمہوری اتحاد انتخابات میں مدمقابل تھے ۔ اِس موقع پر ایک دوسرے پر الزام تراشی اپنی انتہاؤں کو چُھو رہی تھی ۔ زبانی الزامات اپنی جگہ مگر اسلامی جمہوری اتحاد نے پوسٹرز کی صورت میں پیپلز پارٹی کو ذچ کر کے رکھ دیا ۔ بے نظیر کی لندن کی زمانہ طالب عِلمی کی تصاویر کو بے ہودہ الزامات کے عنوانات کے تحت پوسٹرز اور اخباری اشتہارات کی صورت میں اُجاگر کیا گیا ۔

پیپلز پارٹی نے ابتداً یہ تصور کیا کہ اسلامی جمہوری اتحاد میں انتہائی منظم پارٹی جماعتِ اسلامی شاید اِس ’’ کار خیر ‘‘ میں شریک ہے ۔ ذہین بے نظیر بھٹو جلد اس حقیقت تک پہنچ گئی کہ جماعت اسلامی نہیں ضیاء الحق کا چہیتا چالاک حُسین حقانی نواز شریف کے حکم پر اِس ساری کِردار کُشی میں ملوث ہے ۔ بے نظیر نے دُعا بھی کی اور دوا بھی کہ ’’ آج کا حُسین ‘‘ اُسے مل جائے اگلے انتخابات سے قبل محترمہ بھٹو کی دُعائیں قبول ہوئیں اور خُدا نے ’’ حُسین ‘‘ اُنہیں بخش کے اُن کی خواہش پوری کر دی ۔

انتخابی تماشوں کے بعد دشنام طرازی ، اسمبلی میں صدر پاکستان کے خطاب کے موقع پر چادر پھینک اور قومی اسمبلی کے باہر مخالفین کے منہ پر سیاہی اُنڈیلنے کے واقعات رونما ہوئے ۔ حُسین بے نظیر کے قابلے میں شریک تھا ۔ حُسین کا متبادل میاں صاحب نے شیخ رشید کو چُنا ۔ شیخ صاحب کے اُس دور کے ’’مُتبرکات ‘‘ جو اُن کی زبان سے ادا ہوئے اخباری تراشے اکٹھے کئے جائیں تو ایک ’’ ضخیم ‘‘ کتاب مرتب ہو سکتی ہے ۔ قومی اسمبلی کی ایک تقریر میں جب اُنہوں نے بے نظیر صاحبہ کو مخاطب کر کے ’’ دودھ و سریا ‘‘ کی بات کی ( مکمل گفتگو یقیناً اسمبلی کی کارروائی کا حِصہ ہو گی مگر ہماری اخلاقیات اُسے ضبط تحریر میں لانے سے قاصر ہیں ) بعد کے انتخابات میں دشنام طرازی میں قدرے کمی آئی سیتا وائٹ اور شمشاد بیگم کے متاثرین نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے ۔

آج پاکستان جن اندرونی و بیرونی خطرات کا شکار ہے اُن کا تقاضا یہ تھا کہ سیاست دان ایک دوسرے کے لئے اپنے دل اور دماغ صاف کر کے ، کدورتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سینے سے سینہ ملاتے اور ہاتھوں میں ہاتھ دے کر پوری قوم کو یکجا کرتے ۔ یہ یکجہتی امریکہ کے لئے بھی ایک پیغام ہوتی جس کی جنگ میں سر دے کر ہم نے اپنے ملک کا ستیاناس کر دیا اور اُس کی ہوس ہے کہ پوری ہونے کا نام نہیں لے رہی ۔ اُن کا جو آقا آتا ہے ’’ کچھ مزید ‘‘ کے احکامات دے کر روانہ ہو جاتا ہے ۔ یہ اتحاد بھارت کے لیے بھی ایک پیغام ہوتا کہ جو چھ دہائیوں سے کشمیری مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح تہہ تیغ کر رہا ہے اور اب ہماری سرحدوں پر چڑھائی کر کے آئے روز ہمارے نہتے شہریوں کو قتل کر رہا ہے ۔ ہمیں یہ یکجہتی حاصل ہوتی تو ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان کی طرح میاں نواز شریف بھی مِصر میں برپا قیامت صغریٰ کے خلاف کِسی ایک مظاہرے کی قیادت اور غائبانہ نماز جنازہ میں شرکت کرتے ۔ ( میاں صاحب پر تو یہ ذِمہ داری اس لئے بھی بنتی تھی کہ وہ ’’ اِسلامی جرنیلوں ‘‘کے ٹھڈوں کا ذاتی طور پر شکار ہو چکے تھے ) اور عالم کفر کو پیغام دیتے کہ نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر ہم ایک ہیں ۔ افسوس یکجہتی کا ماحول بنانے کی بجائے چند پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں ۔ تحریک انصاف کی راہنما کے کراچی میں قتل کے بعد عمران خان نے نہ صرف الطاف حُسین بلکہ براہ راست برطانوی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اِس قتل میں ملوث ہے۔ جواباً ایم کیو ایم کے راہنما جو کہ معمول کے حالات میں آگ بگولہ رہتے ہیں ۔ اِن غیر معمولی الزامات کے بعد ’’ سیتا وائٹ کے بطن سے پیدا ہونے والی ٹیرن ‘‘ کے حقوق دلوانے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم لے کر ذرائع ابلاغ اور احتجاجی مظاہروں کی صورت میں سڑکوں پر آ گئے ۔عمران جنہوں نے ماضی میں الطاف حسین کے خلاف لندن کی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کے اعلانات کئے تھے ایک بار پھر ایم کیو ایم کے بارے چپ ہو گئے مگر مولانا فضل الرحمان کے خلاف بیان بازی شروع کر دی ۔

عمران خان کے ماضی کے حریف اور آج کے حلیف شیخ رشید احمد تو مولانا کی ذہانت ، متانت اور طرز سیاست سے بے حد متاثر ہو کر اُنہیں سیاست کا ساتواں بحری بیڑہ قرار دیتے ہیں ۔ عمران خان اپنے حلیف سے مشورہ کرتے تو شاید آگ اِس قدر نہ بڑھتی ۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دِیا ۔ اُن کی پارٹی کے راہنما نے بھی سیتا وائٹ اور ماضی کے پلے بوائے عمران خان کابیان داغا ۔ عمران نے جس طرح جنرل الیکشن میں ’’ اوئے نواز شریف ‘‘ کہا تھا بعد میں لکی مروت میں مولانا ڈیزل اور یہ کہ جس ملک میں مولوی فضل الرحمان موجود ہے وہاں یہودیوں کو ایجنٹ بھیجنے کی کیا ضرورت ہے کی بات کر کے جواباً اُنہیں بھی یہودی یا اُن کا ایجنٹ قرار دے دیا ۔

عمران نے مولانا کو قانونی نوٹس اور ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی بات کی تھی ۔ اس پر وہ سنجیدگی سے قائم رہتے اور مولانا کچھ ثابت نہ کر سکتے اور عدالت سے سزا نہ سہی مولانا کو تنبہہ ہی مل جاتی تو سیاست میں الزام تراشی کے طرز عمل میں کچھ کمی آ سکتی تھی ۔ جناب عمران کے قانونی مشیران نے شاید اُن کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ ’’ جواب آں غزل ‘‘ کہہ کے عمران نے اپنے کیس کو خود ہی کمزور کر دیا ہے ۔ ڈیزل اور یہودیوں کی عدم ضرورت پر اُن کو بھی کوئی قانونی نوٹس مل سکتا ہے ۔ جمعیت علمائے اسلام عمران خان اور اُن کے وزیر اعلیٰ کے ماضی کے ذاتی کِردار پر ’’ کیچڑ اُچھالنے ‘‘ کے لئے پر تول رہے ہیں ۔ جمعیت کے ایک راہنما نے راقم کو بتایا کہ تحریک انصاف کے راہنما اسد عمر جب شوکت عزیز کے دست راست تھے اور انہوں نے ’’ ایگرو یوریا پلانٹ ‘‘ میں ملکی خزانے کے اربوں ڈبو دئیے تھے سے متعلق اور اُن کے والد جنرل عمر جن کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں سقوط مشرق پاکستان کے چھ بڑے مجرموں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے سے متعلق بھی زور و شور سے مہم چلانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ جمعیت کے راہنما یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ ایک سیاسی راہنما جو ملک میں حضرت عمر ؓ کا منصفانہ نظام نافذ کرنے کی بات کرتا ہے کیسے طلاق کے بعد جمائما کے ہاں رہتا ہے اور جب جمائما پاکستان آتی ہے تو وہ بنی گالہ کے سینکڑوں کنال ’’ غریب خانے ‘‘ پر کیسے قیام کرتی ہے ۔

ہم نے آغاز تحریر میں فرمان ربی تعالیٰ بیان کیا ۔ مولانا عالم دین اور عمران بھی قرآنی آیات سے تقریر کا آغاز کرتے ہیں کیا وہ اِن آیات پر غور فرمائیں گے کہ الزام تراشی کے حامل افراد کو رب تعالیٰ نے ظالم قرار دیا ہے ۔ ظالم کی سزا سے کون واقف نہیں ۔ سورۃ الحجرات کی آیت 9 میں اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کے دو گروہوں میں صلح کرانے کی بات کی ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ جنرل مشرف کی ڈمی اسمبلی میں جب ظفر اﷲ جمالی وزیر اعظم کا انتخاب لڑ رہے تھے تو میں اُس مجلس میں شریک تھا جب مد مقابل امیدوار مولانا فضل الرحمان کے لئے مرحوم قاضی حُسین احمد خُدا اُن کی قبر کو نور سے بھر دے نے کتنی مشکل سے عمران خان کو مولانا کو ووٹ دینے پر آمادہ کیا تھا ۔ قاضی صاحب تو نہ رہے کیا ہمارے ہاں آج کوئی رجل رشید موجود نہیں جو اِن دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا کے بہتان تراشی کے باب کو بند کر دے ؟؟

Archives