مثبت جمہوری پیش رفت یا ملک کی تباہی ؟؟

مثبت جمہوری پیش رفت یا ملک کی تباہی ؟؟

شکیل احمد ترابی

عہدہ صدارت سے سبکدوشی سے تین دِن قبل صدر زرداری نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جانب سے دئیے گئے ظہرانے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی دھرتی اور آنے والی نسلوں کو بچانے کے لئے ہمیں ایک ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا ، پاکستان کو مفاہمت کی شدید ترین ضرورت ہے ، اس مفاہمت کے قیام کے لئے اگلے پانچ سال ہم میاں صاحب کی حکومت کو مضبوط کریں گے ، پانچ سال بعد جب میاں صاحب نئے انتخابات کا اعلان کریں گے تو ہم دوبارہ سیاست شروع کریں گے ۔ قبل ازیں مذکورہ تقریب میں صدر پاکستان کو سپاس عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ میں آصف علی زرداری پہلے منتخب صدر ہیں جو اپنا آئینی عہدہ مکمل کر کے ایک باوقار انداز سے رُخصت ہو رہے ہیں ۔ پہلے صدر ہیں جنہیں وزیر اعظم ہاؤس میں الوداعی دعوت دی جا رہی ہے ۔ یہ اعزاز تاریخ کا حصہ بن رہا ہے اور جمہوری صدر کو الوداع کہنا میرے لئے باعث فخر و سعادت ہے ۔استقبالیہ تقریب میں ہر دو راہنماؤں کی تقاریر ایک دوسرے کے لئے تعریف و توصیف کی طویل کہانی تھی ۔ ماضی کی تلخ یادوں اور مستقبل کے مضبوط ، توانا اور ترقی یافتہ پاکستان کو چند لمحوں کے لئے بھُلا دیا جائے تو دونوں راہنماؤں کی تقاریر سُن کر چند لمحوں کے لئے تو آدمی تصور ہی تصور میں محسوس کرتا ہے کہ وہ مسائل زدہ پاکستان میں نہیں کِسی مُہذب و ترقی یافتہ ، مضبوط جمہوری ملک میں آ گیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کِسی انسان کی یاداشت واپس لے لیں اور اُسے مستقبل کی فِکر سے آزادی بخش دیں تو کم از کم 5 ستمبر کے دن ہم خوش قسمتی کے ہمالیہ پر پہنچ گئے تھے ۔ جہاں ایک ترقی یافتہ ، دفاعی و معاشی طور پر مضبوط و مستحکم پاکستان ہماری نظروں کے سامنے تھا ۔ جہاں نہ کوئی بھوکا تھا نہ ننگا ، تعلیم اور صحت کی سہولتیں ہر شہری کی دہلیز پر موجود تھیں ، مظلوم کی داد رسی کے لئے دارالامن ( تھانے ) کا انسپکٹر اُس کے گھر پہنچ کر خود رپورٹ درج کر رہا تھا ۔ عدالتیں ایک نسل کے خاتمے کے بعد نہیں بلکہ مختصر عرصے میں سستا اور عدل کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والا انصاف فراہم کرتی نظر آ رہی تھیں ، کِسی بڑے کے گزرنے کے لئے سڑکوں پر نہ کوئی ناکہ اور نہ ٹریفک کی طویل قطار نظر آ رہی تھی ۔ شفاء خانوں پر مناسب داموں اصلی ادویات ہر ایک کو حاصل تھیں ۔ ملک میں نہ کوئی ڈرون حملہ ہو رہا تھا نہ کِسی کے پیارے کو کِسی خفیہ والے کو اٹھانے کی ہمت ہو رہی تھی ۔ وڈیرہ شاہی کا خاتمہ ہو چکا تھا ، غریب کِسان اور ہاری کی بیٹی کو بھی وہی قدر و منزلت حاصل ہو رہی تھی جو ’’ با اثر اور شرفاء ‘‘ کی بیٹیوں کو سالہا سال سے حاصل تھی۔صدر ، وزیر اعظم اور دیگر ہر سطح کے وزراء کا پروٹوکول ختم ہو چکا تھا ۔ صدر وزیر اعظم سمیت ہر بڑا بنک ہو کالج یا کوئی اور ادارہ اُس کے سامنے لگنے والی قطار میں عام شہری کی طرح کھڑا نظر آ رہا تھا ۔ مختصر یہ کہ ہر جانب خوشحالی و ہریالی نظر آ رہی تھی خوردبین لگا کے بھی دیکھنے سے کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا تھا ۔

چند لمحوں کے لئے ہم بھی تصوراتی دُنیا میں پہنچ گئے تھے مگر جسم کو خوب جھنجھوڑ کے تصورات کی دُنیا سے اپنے آپ کو واپس لائے تو 2008 ء کی یادیں تازہ ہو گئیں جب صدر زرداری نے ایسی ہی مفاہمانہ سیاست کا اعلان کیا تھا ۔ پھولوں کے گلدستے لے کر کبھی ایک دروازے اور کبھی دوسرے پر پہنچ رہے تھے ۔ نا معلوم قبروں پر تختیاں لگ گئیں تھی اور صدر مخالفین کے عزیزوں کی قبروں پر پہنچ کر فاتح خانی کے ذریعے دلوں میں موجود کدورتوں کو ختم کرتے نظر آ رہے تھے ۔ میاں صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی تمام مخالفتیں ختم کر کے تیار کئے گئے میثاق جمہوریت کا پاس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) کی اتحادی حکومتوں کا قیام اور پھر چند ماہ میں اِس مفاہمت میں واضح دراڑیں ساری قوم نے دیکھیں اِدھر اتحادی حکومت کے خاتمے کا اعلان ہوا اور اُدھر ہر دو پارٹیوں کے راہنماؤں میں الفاظ کی جنگ نے شِدت اختیار کر لی ۔ ہم نے دیکھا کہ بند کمروں میں قرآن پر حلف اور پھر اُس کا پاس نہ کرنے کے قِصے بھی سامنے آئے ۔

صدر صاحب نے اپنی حیثیت اور منصب جلیلہ پر متمکن ہونا بھلا کر میاں صاحب پر طالبان نواز اور نہ جانے کیا کیا الزامات لگائے ۔ میاں نواز شریف اوران کے برادرِ خُورد نے ہزاروں کے مجمعوں میں ملک کے سب سے باوقار مقام پر بیٹھے سربراہ ریاست کو علی بابا چالیس چوروں کا ٹولہ اور نہ جانے کیا کیا قرار دیا ۔ ابھی چار ماہ قبل انتخابات میں تقاریر اور اشتہار بازی کے ذریعے ’’ کپڑے ‘‘ سر بازار دھونے کے قِصے کِسی عاقل و بالغ کے ذہن سے محو ہو سکتے ہیں ؟ ۔ ماضی اور مستقبل کو بھلا کر کوئی انسان ، قوم اور ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ جمہوری ملکوں میں پوائنٹ سکورنگ اور خواہ مخواہ کی تنقید کی بجائے پالیسیز اور کارکردگی کی تعریف یا تنقید حزب اختلاف حکومتوں پر کرتی ہے ۔ گزشتہ پانچ سالوں میں مسلم لیگ ( ن ) پر مخالفین یہ الزام دھرتے رہے کہ وہ فرینڈلی اپوزیشن کا کِردار ادا کر رہے ہیں اور یہ کہ ہر دو پارٹیوں نے اندرون خانہ گٹھ جوڑ کر کے ’’ باریاں ‘‘ طے کر رکھی ہیں ۔

مخالفین کے الزام کے حق ا ور مخالفت میں رائے دی جا سکتی ہے مگر یہ بات سچ ہے کہ ماضی کی نسبت گزشتہ پانچ سالوں میں کِسی نہ کِسی سطح پر جمہوری ادارے مضبوط ہوئے ہیں اُس میں سیاسی قیادت کی بالغ نظری کے ساتھ ساتھ اُن ’’ اداروں کا زیادہ کمال ‘‘ ہے جنہوں نے ’’ برداشت ‘‘ کے ذریعے جمہوری نظام کو چلنے دیا ۔ دوسری طرف گزشتہ ایک عشرے بالخصوص گزشتہ پانچ سالوں میں جس بڑے پیمانے پر بدیانتی کے ہو شربا حقائق سامنے آئے اور کھربوں روپے کی لوٹ مار ہوئی اُس کوکیسے بُھلایا جا سکتا ہے ؟ کھربوں روپے کے سوئس کیس بند کر دئیے گئے ۔ قانون کی عمل داری ختم کر کے رکھ دی گئی ۔ کراچی جیسے شہر میں شرفاء کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہر جانب قبضہ اور بھتہ مافیا کا راج تھا ۔ ماضی کے روشنیوں کے اِس شہر سے ایک ایک دِن میں 70 کروڑ کے بھتہ کی کہانیاں ، جی ایچ کیو ، مہران نیول بیس ، کامرہ ائیر بیس پر حملہ ، ایبٹ آباد میں امریکی مداخلت اور آئے روز کے ڈرون حملے اِس سارے ماحول میں صدر زرداری کی مفاہمت کی بات تو سمجھ آتی ہے کہ وہ مفاہمت کی گولی دے کر حکومت کو خاموش کرنا چاہتے ہیں تاکہ پانچ سال میں جو کرپشن ہوئی اُس پر کوئی مقدمہ بازی اور سنجیدہ قانونی کارروائی نہ ہو سکے ۔

پیپلز پارٹی اگر حقیقی جمہوری پارٹی ہوتی تو اُس کے ’’اصل مالک ‘‘ جناب زرداری کبھی یہ نہ کہتے کہ ہم پانچ سال بعد جب میاں صاحب انتخابات کا اعلان کریں گے تو دوبارہ سیاست شروع کریں گے ۔ جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی پر رکھنے میں حکومت سے زیادہ حزب اختلاف کا کِردار ہوتا ہے ، حزب اختلاف چوکنا چوکیدار کے طور پر حکومت کی ہر کارروائی پر نظر رکھتی ہے اور اُسے ہر وقت توجہ اور تنقید کا نشانہ بنا کر غلط سِمت جانے سے روکتی ہے ۔ ملک کو توانائی ، معیشت اور دفاع و سلامتی کے حوالے سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے ۔ میاں صاحب آپ نے عوام کے سامنے گرج برس اور آنکھوں میں آنسو لا کے جو عدے کئے تھے کہ لوٹ مار کے حامل افراد کے پیٹوں سے ملکی خزانے کی پائی پائی واپس لائیں گے ۔ جن کو آپ نے علی بابا قرار دِیا وزیر اعظم ہاؤس پہنچتے ہی جناب میاں نواز شریف آپ آج اُن کو مفاہمت کا بادشاہ اور اُن کی رخصتی کو تاریخی طور پر باوقار قرار دے رہے ہیں ۔ ہمارا مذہب ہمیں صبر برداشت اور عفو و درگزر کا درس دیتا ہے ۔ انفرادی طور پر ایک مومن کا کِردار وہی ہونا چاہیے جو جناب صدر اور وزیر اعظم آپ نے اپنے خیالات میں کیا مسئلہ ذات کا ہو تو معافی و درگزر ہی کا رویہ اپنانا چاہیے مگر کِسی صدر اور وزیر اعظم کو مذہب اور ہمارا آئین ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ قومی اداروں کی تباہی اور لوٹ مار پر مفاہمت کے نام پر وہ ایک دوسرے کو معاف کرتے پھریں۔ پاکستان کِسی حلوائی کی دُکان نہیں کہ ہم نانا جی جی کی فاتحہ پڑھتے پھریں اور قومی مجرم دندناتے رہیں ۔ ہم ملک کے وزیر اعظم صاحب سے نہایت ادب سے گزارش کریں گے کہ وہ انتقام یا اجتماعی عفو و درگزر کی بجائے قومی مجرموں کو قانون کے شکنجے میں کس کے قوم سے کئے گئے وعدے پورے کریں ۔ پیپلز پارٹی کے راہنما جناب آصف علی زرداری سے بھی گزارش ہے کہ وہ ’’ مفاہمت کے نئے نظریے ‘‘ کو متعارف کرانے اور فرینڈلی اپوزیشن کی بجائے اپنی پارٹی کے راہنماؤں کو فعال اپوزیشن کا کِردار ادا کرنے کی ہدایات جاری کریں کیونکہ جناب زرداری کی یہ پالیسی مثبت جمہوری پیش رفت نہیں ملک کی تباہی کا باعث بنے گی ۔

Archives