” خودی میں ڈوب کر ضرب کلیم پیدا کر ”

” خودی میں ڈوب کر ضرب کلیم  پیدا کر ”

شکیل احمد ترابی

سات ارب دُنیا کی آبادی میں سے ہر پانچواں انسان مُسلمان ، دُنیا کے 192 میں سے 57 مُسلم ممالک ۔ وسائل سے مالا مال ۔ بعض جگہوں پر بلاواسطہ غلام اور اکثر جگہوں پر بالواسطہ غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ۔ وسائل مُسلمانوں کے اور اُن سے استفسادہ غیر مُسلم شیرِ مادر سمجھ کر کر رہے ہیں ۔ اپنوں کی نادانیوں اور غیروں کی سازشوں نے ہر جگہ مُسلمانوں کو مجبور محض بنا کر رکھ دیا ۔ جنگیں ہم پر مسلط کی گئیں ۔ قتل ہم کر دئیے گئے وسائل ہمارے پر قبضہ جما لیا گیا اور دہشت گردی کا لیبل بھی ہم پر چسپاں کر دِیا گیا ۔

نبی آخر الزمان ۖ کے ایک فرمان کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ مُسلمان جَسد واحد کی صورت ہیں ۔ جس طرح جسم کے ایک حِصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بخار کی سی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اِسی طرح مُسلمان دُنیا کے جس حصِے میں بھی ہو اُس کو تکلیف ہو گی یا وہ کِسی نقصان سے دوچار ہو گا تو ہزاروں میل دور بیٹھا مُسلمان اُس کے لئے بے چین ہو جائے گا وہ اُس کے درد کو اپنا درد سمجھے گا اور اُس کے مداوے کی کوشش کرے گا ۔ مگر آج کا مُسلمان کیسا مسلمان ہے ؟ مدد تو درکنار وہ تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے یا پھر دشمن کے ساتھ مِل کر اُس کے مصائب میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ۔ مسلمانوں نے آج تعلیمات اسلامی کو بُھلا دِیا ہے اور جگہ جگہ ذلیل و رُسوا ہو کے رہ گئے ہیں ۔ کوئی ایک خِطہ نہیں جہاں سے مُسلمانوں کے حوالے سے خیر کی خبر موصول ہو رہی ہو ۔ طالب عِلمی کے زمانے میں ایک کتاب ” کیا ہم مُسلمان ہیں ” پڑھی تھی ۔ آج اُمت مسلمہ کی موجودہ صورت حال میں اُس کی ایک ایک کہانی ذہن پر ہتھوڑے چلا رہی ہے ۔ ذہن میں بار بار سوال اُٹھتا ہے کہ کیا ہم مُسلمان ہیں ؟ کیا مُسلمان ایسے ہوتے ہیں ؟ افغانستان ، عراق ، فلسطین ، کشمیر ، بوسنیا میں ہمارا کیا حشر کر دیا گیا ہے ۔ وسائل سے مالا مال مسلمان حکمران اور رعایا ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے ، ہر ایک اپنے مفاد ، اپنی دُنیا اور اپنی عیاشی میں مگن ہے ۔ جمہوریت کے چمپینز کو مسلمان ملکوں میں جمہوریت ایک بڑے چیلنج اور خطرے کی صورت نظر آ رہی ہے ۔ پہلے الجزائر میں مُسلم جمہوریت کو قتل کیا گیا ۔ تُرکی میں سازشوں کے تانے بانے بُنے جا رہے ہیں مگر وہاں کی بیدار مغز قیادت نے ہر موقع پر سازش کو ناکام بنایا ، تیونس میں سازشوں کا کھیل شروع ہو چکا ہے ۔ شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے ہزاروں مُسلمان قتل کر دئیے گئے ۔ مصر میں بربریت کی اِنتہا کر دی گئی ۔ شیطنیت کا ایسا رقص رچایا گیا کہ شیطان بھی شرمندہ ہے ۔ مرسی کا تختہ الٹنے کا خیر مقدم کیا گیا ہے کہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر آ گئے تھے اور وہ انقلاب چاہتے اس لئے ” عظیم مسلمان فاتح ” جنرل فتاح السیسی کے اقدام کو مارشل لاء قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ سب سے افسوسناک کردار پڑوس کے ” شاہ جی” نے ادا کیا ۔مرسی کا تختہ الٹنے کے چند گھنٹے بعد اپنے کِسی اہلکار سے نہیں بلکہ ” شاندار فتح ” پر مبارکباد اور خیر مقدم ” شاہ جی ” نے خود کیا ۔ اربوں ڈالر امداد بھی دی ۔ اور فاتح ”السیسی ” کی ذات کے لئے انعام الگ سے ارسال کیا گیا ۔ اُن کے وزیر خارجہ فرانس کے دورے سے واپس تشریف لائے تو اعلان فرمایا کہ امریکا اور یورپی یونین ” مسجدوں میں محصور دہشت گردوں ” کے خلاف معرکے میں ” مُسلمان ” حکمران کی امداد نہ کی تو ” ہم ” اور ہمارے ساتھی ” فاتحین ” کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ کِسے معلوم نہیں کہ شاہ جی اتنے بے چین کیوں ہیں ؟؟ ۔ ” عرب سپرنگ ” شروع ہوئی تو” زیرک شاہ جی ” کو معلوم ہو گیا تھا کہ ”تازہ ہوا کا پہلا جھونکا ”اُنہیں ہی محسوس ہو گا ۔ اپنے شہریوں کے لئے بے پناہ مراعات کا اعلان کرنے کے باوجود اُمت مُسلمہ کے ” غم میں ہلکان ” ہو جانے والے ” شاہ جی ” کی رات کی نیندیں حرام تھیں ۔ ” جنرل فاتح السیسی ” کے انقلابی انجکشن سے شاہ جی کی نیند کچھ بحال ہوئی ہے ۔

شاہ جی کا کردار امریکا ، یورپی یونین اور دیگر شیطانی قوتوں سے زیادہ افسوسناک ہے ۔ بہت سے مُسلمان ملک اور اسلامی تنظیمیں ” خیرات کے بند ہو جانے کے خدشے کے پیش نظر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے ۔امریکا و یورپ کے خلاف اِکا دُکا بیان آ جاتا ہے مگر ” شاہ جی ” سے متعلق مکمل زبان بندی ہے ۔ ” شاہ جی ” کے مُلک کے بہت سے علماء جنہوں نے مصر میں بپا شیطانیت کے خلاف آواز بلند کی کو پسِ دیوار زنداں دھکیل دِیا گیا ہے ۔ پرنس طلال نے معروف کویتی مبلغ طارق السویدان جن کے ٹوئیٹر پر 19 لاکھ پیرو کار (FOLLOWERS) تھے کو اپنے ٹی وی سے محض اِس لئے فارغ کر دِیا کہ وہ مصِری اخوان کی جدوجہد کو جائز سمجھتے تھے ۔

بے پناہ پابندیوں کے باوجود ” شاہ جی ” کے 56 علمائے کرام نے ایک درجن نکات پر مشتمل قرارداد کے ذریعے مصر میں بپا شیطانیت کی مذمت کی ہے ۔ سب سے شاندار کردار جناب طیب اردگان کا ہے جنہوں نے مصر سے اپنا سفیر بھی واپس بلا لیا ہے اور اپنے ملک میں موجود غیر ملکی سفیروں کا اِجلاس بلا کر اُن کے دوہرے کِردار پر اُن کو کھَری کھَری سنائی ہے ۔ غیر مُسلم ملک بھارت کے ” اتحادِ علمائے ہند ” کو خراج پیش نہ کرنا بُخل ہو گا جنہوں نے چھ صفحات پر مشتمل قرار داد کے ذریعے مصر میں بپا شورش کی مذمت کے ساتھ ” شاہ جی ” کو بھی ” خراج ” پیش کیا ہے ۔ قرار داد میں اُن علماء اور دینی جماعتوں کی بھی مذمت کی گئی ہے جو مفت کے حج ، عمروں اور مدرسوں کی امداد کی بندش کے خوف سے زبانوں پر تالے لگا چکے ہیں ۔ پاکستان کے ”ذرائع ابلاغ ” مصر کی بجائے ” ملک سکندر ” نامی فلم کی نمائش سے فارغ نہیں ہو رہے ۔ ” دفاع پاکستان ” ٹرک بھی پنکچر ہو گیا ہے یا آبپارہ کے پٹرول پمپ سے اُس کے پٹرول کی ترسیل بند ہو گئی ۔ ” آبپارہ پٹرول پمپ ” کے مین سپلائر بھی تو شاید ” شاہ جی ” ہی تھے ۔ ٹرک کے کچھ مسافر اب سیلاب کی کشتیوں میں نظر آ رہے ہیں اُمت مسلمہ کی ایسی دِگر گُوں صورت حال میں دل پیچ و تاب کھا رہا ہے ۔ ایسی کیفیت میں مصور پاکستان اقبال بہت یاد آ رہے ہیں ۔ آئیے اُن کے کلام پر غور کرتے ہیں شاید کوئی الجھی گتُھی سُلجھ جائے ۔

نگاہِ    فقر   میں   شانِ    سکندری   کیا     ہے ؟
خراج     کی    جو گدا   ہو’ وہ  قیصری کیا ہے؟
فلک نے کی ہے عطاء ان کو خواجگی کہ جنہیں
خبر     نہیں    روش    بندہ   پروری   کیا     ہے؟
کِسے     نہیں       ہے    تمنائے   سروری  لیکن
خودی کی موت ہو جس میں’وہ سروری کیا ہے؟
بتوں سے    تجھ   کو امیدیں  خدا سے    نومیدی
مجھے   تو  بتا تو   سہی اور    کافری   کیا ہے؟

وہ کل کے غم و عیش پر کچھ حق نہیں رکھتا
جو   آج     خود    افروز   و  جگر     سوز  نہیں ہے
وہ        قوم       نہیں        لائق   ہنگامہ      فردا
جس   قوم   کی      تقدیر     میں امروز نہیں  ہے

ہو       تیرے      بیابان کی ہوا تجھ کو گوارا
اس    دشت     سے بہتر     ہے نہ دلی نہ بخارا
جس سمت      میں چاہے’صفت سیل رواں چل
وادی    یہ     ہماری     ہے’وہ   سحرا بھی ہمارا
غیرت   ہے      بڑی   چیز   جہان تگ دو میں
پہناتی    ہے       درویش     کو تاج     سردارا
افراد   کے      ہاتھوں    میں اقوام      کی تقدیر
ہر فرد    ہے      ملت    کے     مقدر    کا ستارا
دیں    ہاتھ     سے     دیکر    اگر آزاد    ہو مِلت
ہے    ایسی    تجارت      میں مُسلمان کا خسارہ

اٹھامت    خانہ       شیشہِ    فرنگ     کہ احساں
سیفال ہند         سے      مینا  وجام      پیدا   کر
ہزار   چشمے      تیری سنگ راہ  سے    پھوٹے
خودی    میں    ڈوب      کر   ضرب کلیم  پیدا کر

اغیار    کے       افکار   وتخیل   کی       گدائی
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی      تک بھی رسائی

غلامی میں نہ کام آتیں ہیں شمشریں نہ تدبیریں
جو   ہوذوقِ یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا  ہے اس کے    زور بارزو کا؟
نگاہ    مردمومن   سے بدل   جاتیں ہیں تقدیریں

اہل نظر آئیں اقبال کی بات پر دھیان دے کر خودی میں ڈوب کر ضرب کلیمی پیدا کریں میں اور آپ جس دِن خودی بیدار کرنے میں کامیاب ہو گئے اُس دِن اُمت بھی ” غلام ” نہیں رہے گی ۔

Archives