یہ گالی نہیں ؟؟

یہ گالی نہیں  ؟؟

شکیل احمد ترابی

شرمناک آپ کے نزدیک گالی نہیں تو کوئی اور گالی دے لیجئے ، اگر عدلیہ کا کِردار شرمناک ہے تو میں ایک لمحے کے لئے بھی مُنصفی کی اِس نشست پر نہیں بیٹھوں گا ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی زبان سے جب یہ الفاظ ادا ہو رہے تھے مُجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اِن الفاظ کی گواہی اُن کی زبان ہی نہیں دے رہی بلکہ اُن کا پورا وجود بول رہا ہے ۔ جسٹس خواجہ گفتار کا غازی نہیں اُن کا ماضی گواہ ہے کہ وہ اِس سے قبل استعفیٰ دے کر ” شرمناک ” کہانی کا حصہ نہیں بنے تھے ۔

عمران خان نے بے احتیاطی کی انتہا کر کے اعلیٰ عدلیہ کے کِردار کو شرمناک قرار دیا ۔ دھیمے لہجے میں اپنے پارٹی راہنما اور موکل عمران خان کے لفظ ” شرمناک ” کی توجیہات معروف قانون دان حامد خان کر رہے تھے ۔ اُنہوں نے کہا کہ عمران اعلیٰ عدلیہ سے متعلق ایسا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ تحریک انصاف کے راہنما نے ریٹرننگ آفیسران جو کہ انتخابات میں دھاندلی کی بنیادی وجہ تھے کے کردار کو شرمناک قرار دیا ہے ۔ وکیل کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ حقائق جاننے کے باوجود وہ ایسی توجیہات پیش کرتا ہے جس سے اُس کے موکل کی بے گناہی ثابت کی جا سکے ۔ وگرنہ حامد خان کوئی ایسے لاعلم شخص نہیں جنہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جناب عمران خان نے صدارتی انتخاب کی تاریخ کے تعین سے متعلق راجہ ظفر الحق کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردِ عمل میں بے احتیاطی کی انتہا کر دِی تھی ۔ حامد خان کے دلائل سے تحریک اِنصاف کی راہنما محترمہ شیریں مزاری شاید مطمئن نہیں تھی جس سے اُن کے چہرے پر مختلف اُتار چڑھاؤ واضح نظر آ رہے تھے ۔ اُن کی بے کلی اُنہیں چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی تھی ۔ کئی بار وہ اپنی نشست سے اٹھی اور جناب عمران خان کے کان میں کچھ کہتی رہیں ۔ ابھی کوئی بہت پرانی بات نہیں چند ماہ قبل ہی تو شیریں بیانی کی بجائے اُن کی زبان سے زہر میں بُجھے الفاظ ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں ادا ہوئے تھے ۔ اِس پریس کانفرنس میں محترمہ نے ہو شرُبا اِنکشاف کیا تھا کہ تحریک اِنصاف میں باقاعدہ ایک سیل قائم ہے جو پارٹی مخالف لوگوں کی کِردار کُشی سوشل میڈیا وغیرہ پر کرتا ہے ۔ محترمہ مزاری نے الزام لگایا تھا کہ وہی ” خفیہ سیل ” اُن کی اور اُن کی جواں سال بیٹی ایمان مزاری کی کِردار کُشی میں ملوث ہے ۔ اِس پریس کانفرنس میں محترمہ نے تحریک اِنصاف پر دیگر الزامات لگا کر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا ۔

بات محترمہ کی ” کانا پُھوسی ” کی ہو رہی تھی عمران محترمہ کی بات سُن کر مسکراتے رہے مگر دھن کی پکی شیریں مزاری نے آخری بار کوئی ایسا حربہ آزمایا کہ عمران خان اُٹھ کر عدالتی روسٹرم پر چلے گئے اور اپنے وکیل کے کان میں کچھ کہا ۔ حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ اُن کے موکل کو ذاتی طور پر کچھ کہنے کی اجازت دی جائے ۔ چیف جسٹس سے اجازت ملنے پر عمران خان نے کہا کہ وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے آپ کی بحالی کے لئے قید کاٹی ، چیف جسٹس نے کہا عمران آپ ایسی بات نہ کریں یہ کِسی فرد واحد کی بحالی کا مسئلہ نہیں تھا اور اِس جدوجہد میں وکلاء ، ذرائع ابلاغ اور زندگی کے ہر طبقہ فِکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے لازوال قربانیاں دیں ۔ اِس جدوجہد نے ایک نئی تاریخ کی بنیاد رکھی ۔عمران خان نے لفظ شرمناک جِس پر اُن کو طلب کیا گیا تھا پر بات کرنے کی بجائے جب موضوع بدلنے کی کوشش کی تو جناب چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تشریف رکھیں آپ کے کونسل بات کریں گے ۔ عمران خان نے بھری عدالت میں یہ کہا کہ وہ واحد لیڈر ہیں جو چیف جسٹس کی بحالی کے لئے قید ہوئے یہ وہ لمحہ تھا جب میں حیرت میں گُم ہو گیا کہ کیا خان صاحب کی یاداشت کمزور ہو گئی ہے یا وہ جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ؟ کئی لیڈر اِس جدوجہد میں پس دیوار زنداں دھکیلے گئے ، خُدا غریق رحمت کرے قاضی حُسین احمد صاحب کو عدلیہ بحالی تحریک میں وہ ایک بار طویل قید کاشکار ہوئے جبکہ جناب عمران اپنی جس گرفتاری کا زکر فرما رہے تھے اُس دِن قاضی صاحب کو بھی دوسری بار عدلیہ بحالی تحریک میں گرفتار کیا گیا تھا ۔

جناب عمران خان کی پہچان ایک جرت مند اور صاف گو راہنما کی ہے ۔ تحریک اِنصاف شعبہ خواتین کی سابق صدر محترمہ فوزیہ قصوری نے الیکشن فنڈز میں خُرد بُرد اور دیگر معاملات پر میرٹ کی پامالی کے حوالے سے زور شور سے الزامات لگائے تھے مگر اِس سب کچھ کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے بدیانت اور آزمودہ قیادت کے خلاف جاندار آواز بلند کی جس پر قوم نے مُثبت ردِ عمل کا اظہار کر کے تحریک اِنصاف کو بڑی کامیابی سے نوازا ۔ بعض ” خواب فروشوں ” نے رائے جاننے والے سرویز کے علی الرغم تحریک اِنصاف کی حمایت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ۔ شاید جناب عمران بھی اُن ” حقائق فراموشوں ” کے نرغے میں آ کر درحقیقت اپنی بڑی کامیابی کو بھی کامیابی تصور نہیں کر رہے اور یاس کی کیفیت کا شکار ہو کر اعلیٰ عدلیہ پر الزام تراشی پر اُتر آئے ۔ یقیناً انتخابات میں دھاندلی ہوئی مگر کیا یہ بات دُرست نہیں کہ اِس دھاندلی کو روکنے کے لئے تحریک اِنصاف کوئی ٹھوس لام بندی نہ کر سکی ۔

عمران خان کو چاہیے کہ ملنے والی کامیابی پر نہ صِرف خُدا کا شکر ادا کریں بلکہ جس صوبے میں اُن کو حق حکمرانی نصیب ہوا ہے اُس خطے میں دن رات ایک کر کے حکمرانی کی ایسی مثال قائم کریں کہ آئندہ پورے ملک میں اُن کی واضح کامیابی کو دُنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکے ۔ سچ کہا جناب جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریٹرننگ آفیسرز بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں سب کے سب فرض شناس اور مثالی نہیں ہو سکتے مگر مجموعی الزام کی بجائے جہاں جہاں ریٹرننگ آفیسرز کے خلاف شکایات ہیں اور دائر درخواستوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو اُن سے متعلق قواعد کے مطابق اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ جناب عمران خان سالہا سال سے آپ کے ممدوح کالم نویس جو آپ کی تعریف کے سِوا کِسی اور موضوع پر لِکھنا بھی شاید بھول گئے تھے کیا اپنے کالموں میں اُنہوں نے آپ کی توجہ آپ کی اُس قیادت کی جانب مبذول نہیں کروائی تھی جِس کو آپ نے نامزد کیا تھا اور بقول اُن کالم نویس کے وہ جوئے کے اڈے اور قبضہ مافیا کے سرغنہ تھے ۔

صوبہ سرحد میں ابھی دو ماہ مکمل نہیں ہوئے اور بدیانتی کی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں تو اِس پر کیا یہ کہا جائے کہ جناب عمران خان کا کردار شرمناک ہے ؟نہیں آپ کا کِردار شرمناک نہیں آپ عملی میدان میں پہلی بار داخل ہوئے ہیں ۔ آپ کو ابھی بہت سرد وگرم دیکھنا ہے ۔ اِس جدوجہد کو ترک نہیں کرنا ۔ ایک فہیم ، زیرک ، اولعزم اور بصیرت مند راہنما کے طور پر آگے بڑھنا ہے ۔ عدلیہ کے خلاف نہ یہ پہلی مہم نہ آخری ۔ لا پتہ افراد کے ملزم ، لوٹی گئی دولت کی واپسی ، اعلیٰ مجرمین کی گرفتاری اور پراپرٹی مافیا جن کی رات کی نیندیں دِن کا سکون اعلیٰ عدلیہ نے ” لوٹ ” لیا کیا چین سے بیٹھیں گے ؟ وہ ہر جہت سے حملہ آور ہیں ۔ جناب عمران آپ کوئی EOBI ، بحریہ اور DHA کے وکیل نہیں کہ عدلیہ کو بدنام کرنے کی مُہم میں بدرجہ اُتم شامل ہو جائیں ۔ ججز ، پیغمبر ، صحابہ یا فرشتے نہیں ہم جیسے گوشت پوست کے اِنسان ہیں ۔ کل تک آپ جس عدلیہ کے گُن گاتے تھے آپ کی خواہش کے مطابق چیف جسٹس نے ” سوموٹو ” نہ لیا تو آپ اِس مقام تک پہنچ گئے ۔ خان صاحب چیف جسٹس نے لوگوں کی خواہشات نہیں آئین کے مطابق اقدامات اٹھانا ہوتے ہیں ۔

جناب عمران ، جسٹس جواد خواجہ نے آپ کی پیشی کے موقع پر 2007 ء کے بعد کی عدلیہ کے جس تاریخ ساز کِردار کی بات آپ کو سمجھانے کی کوشش کی اگر کوئی انانیت ہے تو اُسے ترک کر کے اُس بات کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ۔ جناب والا کِسی نے آپ کو نہیں کہا کہ آ کے ہم سے معافی مانگو ، تو آپ یہ واویلا کیوں کر رہے ہیں کہ ” ہرگز معافی نہیں مانگوں گا ” بات اعتماد کی ہے اور آپ توجیہات اور الفاظ کو توڑنے مروڑنے کے چکر میں پڑ گئے تو اعتماد کھو بیٹھیں گے ۔ اعتماد تو شیشہ ہوتا ہے جو ایک بار ٹوٹ گیا تو کبھی جُڑتا نہیں ۔

Archives