’’ نادر وصیت ‘‘

’’ نادر وصیت ‘‘

شکیل احمد ترابی

نبی آخر الزماں محمد عربی ﷺ کی مجلس ہے ، دیوانے اور پروانے ( صحابہ کرام ؓ ) اِرد گِرد جمع ہیں ۔ نبی مہربان ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’ ایک وقت آئے گا کہ دوسری قومیں میری اُمت پر اِس طرح چڑھ دوڑیں گی جیسے بھوکا دستر خوان پر ، پوچھا گیا یا رسُول اﷲ ﷺ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان کیا اُسوقت اُمت مسلمہ تعداد میں کم ہو گی ؟ پیغمبر حکمت نے کہا نہیں ہرگز نہیں ، تعداد میں تو بہت زیادہ ہوں گے مگر اِن کی حیثیت سمندر کی جھاگ کی مانند ہو گی ۔ صحابہ کرام ؓ پوچھتے ہیں یا رسُول اﷲ ﷺ پھر ایسا کیوں ہو گا ۔ تب خُدا کے محبوب رسول ﷺ جواب دیتے ہیں میری اُمت کی یہ حالت اِس وجہ سے ہو گی کہ وہ دُنیا کی محبت کے اسیر ہو جائیں گے اور موت سے اُن کو نفرت ہو جائے گی ‘‘ ۔

آج نیل سے تابخاک کاشغر جدھر دیکھیں ہم ایسی ہی صورت حال کا شکار ہیں ۔ ہر جگہ ہم مغلوب ہیں ۔ کوئے نے ہنس کی چال بھی چل کے دیکھ لیا مگر جیسے خالی معدہ کونین کی گولی کو قبول نہیں کرتا ۔ ایسی ہی کیفیت ہمیں ہر جگہ درپیش ہے ۔ ہم قولاً تو آخرت پر یقین رکھتے ہیں ، مگر ہمارا ہر عمل ہمارے دعوے کی نفی کرتا ہے ۔ پٹواری کے دفتر سے لے کر اقتدار کے سب سے بڑے ایوان تک ، درسگاہ سے کوچہ صحافت تک ہر جگہ ہمارا رویہ ایسا ہی ہے ، موت اور آخرت کو بھُلا کر دوسرے کا حق مار کر ، جھوٹے افسانے تحریر کر کے ، اقربا پروری کر کے دنیا کمانے کی دُھن میں مگن ہیں ۔

اپنے اِرد گِرد روزمرہ کے واقعات کو بُھول جاتے ہیں ۔ فلاں وزیر اعظم و گورنر تھا قتل کر دِیا گیا ۔ فرعون و شداد کی مثالیں رہنے دیں ۔ یہ قذافی و حُسنی مبارک کوئی قِصہ پارینہ تھے ؟ ۔ جن کو اقتدار پر کُلی اختیار تھا ۔ آج کہاں ہیں ؟ ۔ پڑوس میں دیکھئے اندرا گاندھی کتنا عرصہ اقتدار میں رہی ، اُن کا خاتمہ کِس نے کیا ۔ اُن کا جانشین راجیو گاندھی کہاں چلا گیا ۔ عظیم پاکستان کو توڑنے والوں کا انجام کیا ہوا ۔ بنگلہ دیش الگ ہو گیا ۔ اقتدار کی باگ ڈور پر جس شیخ مُجیب کو مکمل دسترس حاصل تِھی اُسے اور اُس کے سارے خاندان کو ’’ وفادار ‘‘ فوج نے قتل کر دِیا ۔ ایک بیٹی حسینہ موقع پر موجود نہ ہونے کی بناء پر بچ گئی ۔ آج اقتدار پر بِلا شرکتِ غیرے وہ قابض ہیں مگر ماضی فراموش کر کے انتقام کی آگ میں بھسم ہوئے جا رہی ہیں ۔ جن بے گناہ ’’ بابوں ‘‘ کو وہ پھانسی کی سزائیں سُنوا رہی ہیں وہ شاداں و فرحاں ، وکٹری کے نشان بناتے نظر آتے ہیں ۔

ہر طرف دنیا اور اُس کی دِلکشی ہمیں اپنا اَسیر بنا رہی ہے ۔ ہم میں سے بہت سوں کو مرنے سے قبل ’’ وصیت ‘‘ قلمبند کرنے کا موقع ہی مُیسر نہیں آتا ۔ جن کو یہ موقع نصیب بھی ہوتا ہے اُن میں سے ننانوے فی صد کی وصیتیں اٹھا کے دیکھ لیجئے فلاں فیکٹری فلاں کے لئے ، فلاں بنگلہ فلاں بیٹے کے لئے ۔ پیرس میں موجود میرا بنگلہ میری فلاں نمبر کی بیگم کے لئے ۔ الغرض موت کا فرشتہ سر پر سوار ہوتا ہے پھر بھی ہمیں آخرت اپنی جانب نہیں کھینچتی ۔

ذیل میں درج وصیت پر توجہ دیجئیے ، اِس کا سب سے بڑا مخاطب تو میں ہوں اور پھر آپ ۔ خلیفۃ الرسُول ﷺ ، باب العلم حضرت علی ؓ کیا فرماتے ہیں ۔ رمضان کے آخری ایام میں آئیں اِس وصیت کی روشنی میں ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور 27 رمضان المبارک بھی آ رہا ہے ۔ قیام پاکستان کا دِن اقتدار کے ایوانوں پر مکمل اختیار رکھنے والے بھی چند لمحوں کے لئے سوچیں کہ وہ ’’ پاکستان ‘‘ کو کہاں لے کر جائیں گے ۔ اگر حکمرانوں نے صحیح سِمت قدم بڑھائے تو پاکستان بھی جنت بن جائے گا اور رب کی ابدی جنتیں اُن کا ٹھکانہ ہوں گی ۔

دیکھےئے عظیم فلسفی اپنے بیٹے کو کیا کہتے ہیں ’’ اے مرے فرزند! زمانے کی گردش، دنیا کی بے وفائی اور آخرت کی نزدیکی نے مجھے ہر طرف سے غافل کر کے صرف آنے والی زندگی کے اندیشوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب مجھے اپنی فکر ہے۔ تمام نشیب و فراز پیشِ نظر ہیں۔ بے نقاب حقیقت آنکھوں کے سامنے ہے۔ سچا معاملہ رو برو ہے۔ اسی لیے میں نے یہ وصیت تیرے لیے لکھی ہے، خواہ تیرے لیے زندہ رہوں یا فوت ہو جاؤں کیونکہ مجھ میں تجھ میں کوئی فرق نہیں۔ تو میری جان ہے، میری روح ہے۔ تجھ پر آفت آئے گی تو مجھ پر پہلے آئے گی۔ تیری موت میری موت ہوگی۔

فرزند، دل کو موعظت سے زندہ کر، زہد سے مار، یقین سے قوت دے، حکمت سے روشن کر، موت کی یاد سے اس پر قابو پا، فانی ہونے کا اس سے اقرار لے، مصائب یاد دلا کر اسے ہوشیار بنا، زمانے کی نیرنگیوں سے اسے ڈرا، بچھڑ جانے والوں کی حکایتیں اسے سنا، گزرے ہوؤں کی تباہی سے عبرت دلا، ان کی اجڑی بستیوں میں گشت کر، ان کی عمارتوں کے کھنڈر دیکھ اور دل سے سوال کر:ان لوگوں نے کیا کیا؟ کہاں چلے گئے؟ کدھر رخصت ہوگئے؟ کہاں جا کر آباد ہوگئے؟ ایسا کرنے سے تجھے معلوم ہوجائے گا کہ وہ اپنے دوست و احباب سے جدا ہوگئے، ویرانوں میں جا بسے اور تو بھی بس دیکھتے ہی دیکھتے انہی جیسا ہو جائے گا۔

فرزند ! (میں تجھے وصیت کرتا ہوں) خدا سے خوف کر، اس کے حکم پر کاربند ہو۔ اس کے ذکر سے قلب کو آباد کر۔ اسی کی رسی کو مضبوطی سے تھام کیونکہ اس رشتے سے زیادہ مستحکم کوئی رشتہ نہیں جو تجھ میں اور تیرے خدا میں موجود ہے، بشرطیکہ تو خیال کرے۔ لہذا اپنی جگہ درست کر لے۔ آخرت کو دنیا کے بدلے نہ بیچ، بے عملی کی حالت میں بولنا چھوڑ دے، بے ضرورت گفتگو سے پرہیز کر، جس راہ میں بھٹک جانے کا اندیشہ ہو اس سے باز رہ، کیونکہ قدم کا روک لینا ہولناکیوں میں پھنسنے سے بہتر ہے۔

تو نیکی کی تبلیغ کرے گا تو نیکوں میں سے ہو جائے گا۔ برائی کو اپنی زبان سے برا ثابت کر، بروں سے الگ رہ۔ خدا کی راہ میں جہاد کر، جیسا حق ہے جہاد کرنے کا۔ خدا کے معاملے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے نہ ڈر۔ حق کے لیے مصائب کے طوفان میں کود جا۔ دین میں تفقہ حاصل کر۔ مصائب کی برداشت کا عادی بن، کیونکہ برداشت کی قوت بہترین قوت ہے۔ سب کاموں میں اپنے لیے خدا کی پناہ تلاش کر، اسی طرح تو مضبوط جائے پناہ اور غیر مسخر قلعے میں پہنچ جائے گا۔

اپنے خدا سے دعا کرنے میں کسی کو شریک نہ کر، کیونکہ بخشش وعطا، منع و حرمان، سب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔ استخارہ زیادہ کیا کر۔ میری یہ وصیت خوب سمجھ لے۔ اس سے روگردانی نہ کرنا، وہی بات ٹھیک ہوتی ہے جو مفید ہوتی ہے۔ بے فائدہ علم بے کار ہے اور اس کی طلب ناروا۔ فرزند! جب میں نے دیکھا کہ آخر عمر کو پہنچ گیا ہوں اور ضعف بڑھتا جاتا ہے تو یہ وصیت لکھنے میں مجھے جلدی کرنا پڑی۔ میں ڈرا، کہیں وصیت سے پہلے ہی مجھے موت آ جائے یا جسم کی طرح عقل بھی کمزور پڑجائے یا تجھ پر نفس کا غلبہ ہوجائے، یا دنیاوی فکریں تجھے گھیر لیں اور تو سرکش گھوڑے کی طرح قابو سے باہر ہوجائے۔ نوعمروں کا دل خالی زمین کی طرح ہوتا ہے جو ہر بیج قبول کرلیتی ہے۔

اسی خیال سے میں نے وصیت لکھنے میں جلدی کی تاکہ دل کے سخت ہونے اور ذہن کے دوسری طرف لگ جانے سے پہلے ہی تو اس معاملے کو سمجھ لے، جس کے تجربے اور تحقیق سے اگلوں نے تجھے بے نیاز کر دیا ہے۔ اس کی راہ کی تگ و دو اور تجربے کی تلخیوں سے تجھے بچا لیا ہے۔ وہ چیز تیرے پاس بلا کلفت پہنچ رہی ہے جس کی جستجو میں ہمیں خود نکلنا پڑا تھا، اب وہ سب تیرے سامنے آ رہا ہے جو شاید ہماری نگاہوں سے بھی اوجھل رہ گیا ہو۔

فرزند! میری عمر اتنی دراز نہیں جتنی اگلوں کی ہوا کرتی تھی، تاہم میں نے ان کی زندگی پر غور اور ان کے حالات میں تفکر کیا ہے، ان کے پیچھے بحث و جستجو میں نکلا ہوں۔ حتی کہ اب میں انہی کا ایک فرد ہو چکا ہوں بلکہ ان کے حالات سے حددرجہ واقف ہونے کی وجہ سے گویا ان کا اور ان کے بزرگوں کا ہم سن بن گیا ہوں۔ اسی طرح یہاں کا شیریں و تلخ، سفید و سیاہ، سودوزیاں، سب مجھ پر کھل گیا ہے۔ اس سب میں سے میں نے تیرے لیے ہر اچھی بات چن لی ہے، ہر خوشنما چیز منتخب کرلی ہے۔ ہر بری اور غیرضروری بات تجھ سے دور رکھی ہے اور چونکہ مجھے تیرا ویسا ہی خیال ہے جیسا شفیق باپ کو بیٹے کا ہوتا ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ یہ وصیت ایسی حالت میں ہو کہ تو ابھی کم عمر ہے، دنیا میں نووارد ہے۔ تیرا دل سلیم ہے، نفس پاک ہے۔

پہلے میں نے ارادہ کیا تھا کہ تجھے صرف کتاب اللہ اور اس کی تفسیر اور شریعت اور اس کے احکام حلال و حرام کی تعلیم دوں گا، پھر خوف ہوا، مبادا تجھے بھی اسی طرح شکوک و شبہات گھیر لیں گے جس طرح لوگوں کو نفس پرستی کی وجہ سے گھیر چکے ہیں لہذا میں نے یہ وصیت ضروری سمجھی۔ یہ تجھ پر شاق ہو سکتی ہے مگر میں نے اسے پسند کرلیا اور گوارا نہ کیا کہ ایسی راہ میں تجھے تنہا چھوڑ دوں جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ امید ہے خدا میری وصیت کے ذریعے تجھے ہدایت دے گا اور سیدھی راہ کی طرف تیری راہنمائی کرے گا ‘‘ ۔

Archives