ظالم کو عاجلہ مار گئی!!

ظالم کو عاجلہ مار گئی!!

شکیل احمد ترابی

بغداد کے بازار سے چچازاد و دامادِ رسول ﷺ حضرت علی ؓ کا گزر ہو رہا ہے ۔ نمازِ عصر کا وقت تیزی سے گُزر رہا ہے ۔ گھوڑے سے اترتے ہی خیال آتاہے کہ کوئی کاٹھی اُتار کر نہ لے جائے ۔ قریب گزرتے مزور کو کہا کہ گھوڑے کا خیال رکھنا میں نماز کے بعد تمہاری کچھ خِدمت کر دوں گا ۔ نماز سے فراغت کے بعد مسجد سے نکلنے سے قبل ارادہ کیا کہ گھوڑے کی رکھوالی پر مامور کو دس درہم دوں گا ۔ باہر نکلے تو دیکھا گھوڑا موجود مگر نہ کاٹھی اور نہ رکھوالی پر مامور مزدور ۔ بازار میں نئی کاٹھی خریدنے کے لئے نکل پڑے ۔ ایک دوکان پر کاٹھی نظر آئی ، پوچھا کتنے میں دو گے ؟ دوکاندار نے کہا میں تو کاٹھیوں کا کاروبار نہیں کرتا ابھی چند لمحے قبل ایک شخص دس درہم میں فروخت کر گیا تھا آپ دس درہم ہی میں لے لیں ۔ یہ وہ موقع تھا جب خلیفۃ الرسول ﷺ عظیم فلسفی جناب علی ؓ نے کہا تھا کہ ظالم کو عاجلہ مار گئی ، صبر کرتا تو حلال اُس کا مقدر تھا مگر بے صبری میں حرام کی کمائی سے ظالم نے اپنے آپ کو آگ کا ایندھن بنا لیا ۔

حرام خوری کوئی آج کا قِصہ نہیں ازل سے شروع ہوئی تھی اور شاید ابد تک جاری رہے ۔ پاکستان جو عزتوں ، عصمتوں ، جان و مال کی قربانیوں اور طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا تھا ، محسوس یہ ہوتا ہے کہ آج کے پاکستان میں صِرف بدیانتی کا ہی چلن ہے ۔ توانائی کے بحران کی کھوج لگاؤ گے تو کھُرا بدیانتی کے گھر کی طرف ہی جائے گا ۔ اربوں روپے کے خرچ کے بعد تعمیر ہونے والا پُل گِر جاتا ہے ، سڑک ٹوٹ جاتی ہے ، عمارات کی چھتوں میں شگاف پڑ جاتے ہیں ، وجہ معلوم کرنے کے لئے کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں دو اور دو چار کی طرح بہت واضح بات ہے ۔ ٹھیکہ دیتے وقت میرٹ پامال ہوا تھا ۔ تھوڑا پیچھے جا کر کھوج لگائیں گے تو جو اتھارٹی ہے ، جو ذات شریف اس پراجیکٹ کی ذِمہ دار ہے ، وہ بھرتی سے لے کر موجودہ ذِمہ داری تک کے مراحل طے کرنے میں لاکھوں خرچ کر کے پہنچی تھی ۔ اب اُس نے اپنا حساب نہ صرف برابر کرنا ہے بلکہ کئی گنا اُس پر ’’منافع ‘‘ بھی کمانا ہے اور اپنے اوپر بیٹھے ’’ صاحبین ‘‘ کو بھی کروڑوں دینے ہیں ۔۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ہر دو جماعتوں نے ماضی میں ایک دوسرے پر نہ صِرف الزامات دھرے بلکہ پیپلز پارٹی کے ’’ مرد حُر ‘‘ تو اِس پاداش میں کئی سال جیلوں میں بند رہے ۔ 2008 ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت سے اُمید کی جا رہی تھی کہ اب کی بار وہ سنبھل کر چلیں گے ۔ مگر ایک توقیر صادق 82 ارب ہڑپ کر گیا ۔ اولڈ ایج بینیفٹ کے محکمے سے صِرف ریٹائر فوجی بھائیوں کا ادارہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی 22 ارب ہڑپ کر گیا باقی کہانیاں تو الگ ہیں ۔ راجہ پرویز اشرف کئی ارب کھا گئے ابھی کل ہی ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ موصوف اپنے صوابدیدی فنڈ سے 35 ارب اپنے اعزاء و اقارب میں تقسیم کر گئے ۔
وزارتِ عُظمیٰ سے فراغت سے چند دِن قبل اُنہوں نے اپنے حلقے میں سڑکوں وغیرہ کی تعمیر کے لئے 9 ارب کے ٹھیکے دئیے ۔ ملک کی اہم شخصیت کے قریب سے گزر جانے والے کروڑوں میں کھیل رہے ہیں ۔ کراچی جیل کے ایک معمولی ڈاکٹر جو اہم شخصیات کے ’’ معاون خصوصی ‘‘ ہیں سے متعلق کل ایک افطاری پر اُن کا ایک ’’ دوست ‘‘ بتا رہا تھا کہ فلاں ملک صاحب ( ملک ریاض نہیں ) کی زمین کے سودے میں موصوف نے سات کروڑ حاصل کئے ۔ اُن کا دوست بڑے ناز سے بیان کر رہا تھا کہ ’’ ڈاکٹر ‘‘ کے جوتے لندن پیرس اور اِٹلی سے آتے ہیں اور ایک جوتوں کا جوڑا کئی لاکھ کا ہے ۔ گھڑیاں اور قیمتی اسٹڈ ( بٹن ) سونے کے موصوف استعمال کرتے ہیں ۔ خفیہ ایجنسی آئی بی سے صحافیوں کے نام پر حاصل کئے گئے کئی کروڑ موصوف کھا گئے ۔ معمولی ڈاکٹر ’’ ارب پتی ‘‘ بن گیا تو ’’ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں ‘‘ نے تو کھربوں کمانے ہی تھے ۔ پشاور جانا ہوا تو اِنتہائی با خبر اور قابل اعتماد صحافی نے ایک وزیر سے متعلق بتایا کہ اُنہوں نے وزارت کے حلف سے قبل ہی 7 لاکھ پکڑ لئے ۔ فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اِجلاس میں شرکت کے لئے ایبٹ آباد گئے تو ایک صوبائی وزیر سے متعلق ہر طرف خبر مشہور تھی کہ موصوف نے جنگلوں کی کٹائی شروع کر کے ’’ مال ‘‘ بنانا شروع کر دیا ہے ۔ اسلام آباد میں کِسی ’’ بڑے ‘‘ کی منشاء سے ایک بڑے منشاء اور کئی چھوٹے منشاؤں نے ڈیرے ڈال دئیے ہیں اور سو دِن پورے ہونے سے قبل ہی راوی نے ’’ بے چینی ‘‘ بیان کرنا شروع کر دِی ہے۔ HYBRID 1200cc گاڑیوں پر ٹیکس کی چُھوٹ کی خبریں شائع ہوئیں تو ’’ با خبر ‘‘ صحافیوں نے کہا 1200cc تو گاڑی ہی نہیں ہوتی اُس وقت اُن صحافیوں کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ اُن کی خبر غلط تھی ۔ جِن لوگوں نے شلوار سِلوائی تھی اُنہوں نے نالہ ڈالنے کی جگہ کا پہلے سے ہی بندوبست کر لیا تھا کچھ اور با خبر لوگ بیان کرتے ہیں کہ دوست ہمسایہ ملک میں HYBRID 1200cc ہزاروں گاڑیاں تیاری کے مراحل میں ہیں ۔ اِسی لئے قبل از وقت ٹیکس میں چھوٹ رکھی گئی تھی ۔کیا یہ کام بھی کِسی بڑے کی ’’ منشاء ‘‘ کے بغیر ممکن ہے ، ہرگز نہیں ؟ ۔

دوش ایچی سن ، کینئرڈ ، آکسفورڈ ، کیمبرج اور ہاورڈ سے فارغ التحصیل ’’ زعماء ‘‘ ہی کو کیوں دِیا جائے ۔ نیب نے ایک چوتھائی صفحے کے اشتہارات دے کر صبح و شام اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کا کلمہ بلند کرنے والے مفتیان عظام کی مضاربت کے نام پر اربوں روپے کی دھوکہ دہی کی نشاندہی کی ہے ۔ اپنے قلم قبیلے کی کیا بات کروں سکوٹر والے سے متعلق کہا جا رھا تھا کہ وہ BMW پر آ گیا ہے ۔ اب بیان کیا جا رہا ہے کہ موصوف نے چھوٹے دو جہاز بھی خرید لئے ہیں ۔ موصوف کے پیچھے جو ’’ قوت ‘‘ ہے اس کے نتیجے میں شاید وہ برونائی کے شہنشاہ کے زیر استعمال کروڑوں ڈالر کا جہاز بھی خرید لے ۔ جس جہاز کے اندر پیشاب گاہ بھی سونے کی ہے ۔ مالی کرپشن کینسر سے کم نہیں مگر INTLECTUAL CORRUPTION اور صحافتی بدیانتی ، جھوٹی خبریں اور مضامین تو بہت بڑا ناسُور ہیں ۔

97 ء میں ابا جی ، 98 ء میں شجر سایہ دار ، محبت کا پیکر ، میری مُربّی امی جان اور پھر 2006 ء میں بڑے بھائی جان کو اپنے ہاتھوں لحد میں اتارا ۔ اِس سے قبل و بعد بھی کئی عزیز و اقارب دوست احباب کے جنازوں کو کندھا دیا ۔ قبر میں اتارا ۔ میری یاداشت اتنی کمزور ، میں اتنا غافل کہ ان پیاروں کی رخصتی کے مناظر بھول جاتا ہوں ۔ معاملہ کرتا ہوں ۔ تو بدیانتی ، کچھ تحریر کرتا ہوں تو جھوٹ سفید جھوٹ ، خُدا کے عطا کئے گئے فن تحریر سے دنیا کو سچائی کی روشنی کے ذریعے اپنی قبر کو روشنی کا گھر بنانے کی بجائے تاریکیوں کا گھر اور اپنے ہاتھوں کو جہنم کا ایندھن بنا رہا ہوں ۔ جس طرح میں نے اپنے پیاروں کو قبر میں اُتارا ہم میں سے کوئی ہے جو اِس تجربے سے نہ گزرا ہو یا جو نہیں گزرے گا ؟؟ ۔ جب موت ٹل نہیں سکتی تو پھر کون ہے جس نے ہمیں اپنے رب کریم کی جانب لوٹنے سے غفلت میں ڈال رکھا ہے ۔ کیا ہم نے مرنا نہیں ؟٘

خلیفہ دوم حضرت عمر خطاب ؓ کے بیٹے مِصر سے واپس مدینہ جا رہے تھے تو گورنر مِصر نے مرکزی بیت المال کے لئے کچھ رقم اُن کے حوالے کی اور ساتھ ہی کہا کہ مِصر میں اشیاء سستی ہیں ۔ بیت المال کی اِس رقم سے خریداری کر لو مدینہ جا کر اشیاء بیچ دینا منافع تم رکھ لینا اور اصل رقم بیت المال میں جمع کرا دینا ۔ حضرت عمر ؓ کے بیٹے متردّد ہوئے کہ ابا جان ناراض ہوں گے ۔ گورنر نے کہا خلیفہ وقت کی تم فکر نہ کرو میں اُن کو خط کے ذریعے قائل کر لوں گا ۔ چنانچہ بیٹوں نے گورنر کی بات پر عمل کیا ۔ مدینہ پہنچ کر اشیاء فروخت کیں اور ابا جان حضرت عمر ؓ کو سارا احوال سنایا ۔ عمر ؓ نے دُرہ اٹھایا اور کہا منافع کی رقم بھی بیت المال میں جمع کراؤ ۔ تب عمر ؓ نے کہا بیٹو تمہارے ساتھ یہ امتیازی سلوک اور یہ اعزاز خلیفہ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بخشا گیا ۔ اِس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی حرام ہے ۔

ایچی سن اور کینئرڈ والوں سے زیادہ اُم القریٰ اور دیگر جامعات سے فارغ ہونے والے مفتیان اور دینی جماعتوں کے راہنماؤں سے سوال ہے جو اپنی ذِمہ دارانہ حیثیتوں کا استعمال کر کے مضاربے اور غیر سرکاری تنظیمیں اپنے اور اپنے عزیزوں کے لئے قائم کر کے خود موٹے ہو رہے ہیں اور ان کی جماعتیں سکڑ رہی ہیں ، جناب والا کیا آپ کو بھی عاجلہ نے مار دیا ۔؟؟

Archives