سید یوسف رضا گیلانی کا درد !!

سید یوسف رضا گیلانی کا درد !!

شکیل احمد ترابی

دولت کے انبار ، عالیشان محلات ، نوکروں کی فوج ظفر موج ، نعمتوں اور آسائشوں سے لدی آمنہ تاثیر ، مگر آنسو ہیں کہ رُکنے کا نام نہیں لیتے ۔ بے چینی ہے کہ تھمتی نہیں ۔ 4 جنوری 2011 ء کو اُس کا سہاگ اُس سے چھین لیا گیا ۔ خاوند کے زخم مندمِل نہ ہوئے تھے کہ ٹھیک سات مہینے 22 دن بعد آمنہ کا جگر گوشہ شہباز اغواء کر لیا گیا ۔ 22 ماہ گزر گئے ، شہباز کا اتا نہ پتہ ۔ آنکھوں کا نور سامنے نہیں تو بھاڑ میں جائیں ساری نعمتیں ، اولاد سا سکون ہمالیہ سے بلند سونے کا پہاڑ بھی دے سکتا ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں ، دُنیا والو یہ غم کوئی نہیں جان سکتا سوائے اُن کے جن کے پیارے اُن سے چھین لئے گئے ۔ جو مفقود ا لخبر اور جن کے چاہنے والے بظاہر چلتے پھرتے زندہ انسان مگر درحقیقت پتھر کی مُورتیاں ۔

9 مئی 2013 ء کو حیدر گیلانی اپنی انتخابی مہم میں مصروف ، فرخ کالونی ملتان کے ایک گھر سے جونہی باہر نکلتے ہیں نا معلوم افراد اُنہیں دبوچ کر کار میں ڈال کر فرار ہو جاتے ہیں فائرنگ کے نتیجے میں حیدر گیلانی کے ذاتی محافظ و سیکرٹری امین اور مُحی الدین موقع پر ہی جاں بحق ہو جاتے ہیں ۔ امین اور مُحی الدین کے ورثاء کفن دفن کے بعد روئے دھوئے مگر کچھ دِن بعد اُن کو صبر آ ہی گیا ۔ مگر کون بے چین ہے ؟ کِس کی نیند اڑ گئی ؟ کون مارا مارا پھر رہا ہے ؟ کِس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو میرے بیٹے کے اغواء کا بھی از خود نوٹس لیناچاہیے تھا ؟ یہ مطالبہ کِسی جھونپڑی میں رہنے والے بے اختیار فرد نے نہیں کیا ۔ یہ التجا تو جناب یوسف رضا گیلانی کر رہے ہیں ۔ بہت دور کی بات نہیں ، ماضی بعید کا قِصہ نہیں 19 جون 2012 ء تک جن کے اشارہ ابرو پر ہر حکم بجا لایا جاتا تھا ، وہ وزیر اعظم تھے تو نہ جانے کیا کیا قِصے اُن سے منسوب کئے گئے ۔صِرف منسوب ہی نہیں بے شمار الزامات ثابت بھی ہوئے ۔ کہا جاتا ہے کہ سارے خاندان نے ’’ محنت شاقہ ‘‘ سے ، دن رات ایک کرکے ’’ اربوں روپے ‘‘ کمائے ۔ مسکین تو پہلے بھی نہیں تھے ۔مگر وزارت عظمیٰ کے بعد ’’ بے شمار خیر ‘‘ اکٹھا ہو گیا ۔ کہلواتے مخدوم ہیں ، مگر نسلوں سے حکمران چلے آ رہے ہیں ۔ کل تک لا محدود اختیارات کے مالک ، آج بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں ۔
حیدر گیلانی کے والد یوسف گیلانی کی آنکھیں آنسوؤں سے ترہیں ۔ آمنہ مسعود تو خاوند کے دُکھ کو لے کر بیٹھ نہیں گئی بلکہ ’’ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس ‘‘ کا پلیٹ فارم بناکے سینکڑوں ’’ غائب کر دئیے گئے افراد ‘‘ کا مقدمہ ہر فورم پر لے کر پہنچ رہی ہے ، فوزیہ گیلانی کو تو آمنہ مسعود جتنی ہمت بھی نہیں ۔ حیدر ماں اور باپ کی کمر توڑ گیا ، حیدر کے چاہنے والوںکا سُکھ چین لوٹ لیا گیا ۔ یوسف رضا گیلانی صاحب آپ کا درد کِسے معلوم نہیں ۔ دُکھ اور بے چینی کِسے محسوس نہیں ہو رہی ؟ خُدا کی زمین پر ایک بھی دردِ دِل رکھنے والا نہ ہو گا جو آپ کے کرب کو محسوس نہ کرتا ہو ۔ حیدر آپ ہی کا نہیں ہمارا بھی بیٹا ہے ۔ مگر قانونِ فطرت کے مطابق جو کیفیت آپ کی ہے وہ کِسی اور کی ہو بھی نہیں سکتی کہ سچ کہا تھا کِسی سیانے نے ’’ جس تَن لاگے ، سو تو جانے ‘‘ مگر سوال یہ کہ کیا حیدر کِسی ماں کا پہلا لعل ہے جو چھین لیا گیا ۔ حیدر کے اغواء کنندگان کا تو معلوم بھی نہیں کہ کون ہیں مگر اڈیالہ جیل سے اٹھائے جانے والے گیارہ افراد کے اغواء کنندگان کا کِسے معلوم نہیں تھا ۔ وڈیوز میں محفوظ ثبوتوں کے باوجود آپ کی سرکار کے کارندے ، آپ کے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق اور عرفان قادر چیف جسٹس کے سامنے کھڑے ہو کر نہ صِرف کہتے تھے کہ یہ افراد ’’ ایجنسیز ‘‘ کی تحویل میں نہیں ۔ صد رحمت ، چیف جسٹس افتخار چودھری اور اُن کے دیگر ساتھی جج صاحبان پر جو ایک پیشی پر نہیں بلکہ درجنوں پیشیوں پر یہ کہتے تھے کہ اڈیالہ جیل سے اٹھائے افراد پیش کرو ، وگرنہ کِسی انتہائی با اختیار وردی والے کو بھی ہم طلب کر لیں گے ۔ عدالت میں آپ کے کارندے اور عدالت کے باہر آپ کے وزراء جناب رحمان ملک اور زبان و کلام پر ملکہ رکھنے والے ہمارے دوست بابر اعوان کہتے تھے کہ یہ گیارہ افراد جونہی اڈیالہ جیل سے رہا ہوئے ’’ وزیرستان سے آئے طالبان اُنہیں اٹھا کر لے گئے ‘‘ ۔ آپ کی سرکار نے لِکھ کے دے دیا تھا کہ یہ افراد اُن کی تحویل میں نہیں ، چیف جسٹس کی استقامت کے نتیجے میں 9 دسمبر 2010 ء کو یہ گناہ گار آنکھیں سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر 1 میں خود دیکھتی ہیں کہ اچانک سنت رسول ﷺ سے مزین ’’ نورانی ‘‘ چہرے والے ایک صاحب اپنا تعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں جناب والا ! میں راجہ محمد ارشاد ایڈووکیٹ ہوں ۔ میں آئی ایس آئی کا وکیل ہوں ۔ راجہ صاحب تحریری جواب داخل کرتے ہیں جس میں اِس بات کا اقرار کیا جاتا ہے کہ گیارہ افراد ایجنسی کی تحویل میں ہیں اور وہ مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں ۔ عدالت فوری طور پر گیارہ افراد کی ملاقاتیں اُن کے ورثاء سے کرانے کا حکم جاری کرتی ہے ۔ ایک پیشی پر گیارہ افراد میں سے کچھ افراد کو عدالت عظمیٰ لایا جاتا ہے تو تین سگے بھائیوں میں سے عبد البعث اور عبد الماجد تو موجود تھے مگر بتایا جاتا ہے کہ تیسرا بھائی عبدا لصبور تشدد کے نتیجے میں چند دن قبل اپنی جان کی بازی ہار گیا ۔ دوسرے بیٹے عبد الماجد کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اُس کے جسم پر سانس اور پیشاب کی نالیاں لگی ہوئی تھیں ۔ ماں روحیفہ بی بی نے بیٹے کی حالت دیکھی تو اُس کی سانسیں رُک گئیں ، بیٹے کا کرب ماں ہی جان سکتی تھی چنانچہ ملاقات کے بعد 24 گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ 14 فروری 2012 ء کو کوہاٹ کی روحیفہ بی بی اپنے سب دُکھ درد سمیٹ کر اپنے خالق کے پاس جا پہنچی ۔

جناب گیلانی صِرف اڈیالہ کے افراد کا قِصہ نہیں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں واقعات آپ کے دور میں ہوئے ۔ اسلام آباد کے ایک نوجوان سے متعلق آپ کے آئی جی کلیم امام اور ڈی آئی جی بنیامین نے سپریم کورٹ میں آئے روز کیا کیا کہانیاں بیان نہ کیں ۔ کبھی کہا گیا کہ نوجوان خود کش حملے میں پار ہو گیا ، کبھی کہا گیا پریڈ لین میں شریک تھا ، پکڑے جانے کے خوف سے والد خود افغانستان چھوڑ آیا ۔ آئی اور ڈی آئی جی کو کیا دوش دیا جائے ، کہانی تو کہیں اور سے آتی تھی پیش کار کلیم و بنیامین تھے ۔مگر چیف جسٹس دو ٹوک کہتے رہے کلیم امام میں تمہاری کہانیوں سے گمراہ نہیں ہو سکتا ، مجھے بچہ چاہیے ۔ کہانی نویسوں نے تو آرمی چیف جناب اشفاق پرویز کیانی کو بھی گمراہ کُن رپورٹس دے دی تھیں ۔ مگر مغوی کے والد نے ایک جانب دُکھ درد برداشت کیا اور دوسری جانب دِن رات ایک کر کے ثبوت اکٹھے کئے اور جناب آرمی چیف کو پیش کئے جناب اشفاق کیانی نے ذاتی دلچسپی لی جس کے بعد ذرائع کے مطابق ’’ کذب بیانی ‘‘ کے حامل ذِمہ داران کے خلاف کارروائی ہوئی ۔ جناب رحمان ملک نے خواتین پولیس کی ایک تقریب میں اُس نوجوان سے متعلق کہا کہ وہ میر علی میں خود کُش بمبار بننے کی تربیت حاصل کر رہا ہے ۔ پوچھا گیا کیا میر علی پاکستان میں نہیں ؟ آپ وہاں کے وزیر داخلہ نہیں ؟ کارروائی کیوں نہیں کرتے ؟ مگر جناب ملک اِس کا جواب نہ دے پائے کاش گیلانی صاحب آپ اُس وقت لوگوں کا دُکھ محسوس کرتے اور تخلیق کئے گئے قِصوں پر یقین کی بجائے لوگوں کو انصاف فراہم کرتے ۔

آمنہ مسعود جنجوعہ کی کوششوں کو خُدا کامیابی سے ہمکنار کرے ، اُنہیں اِس جدوجہد کا ثمر دُنیا و آخرت میں عطا فرمائے ۔ غائب کئے گئے افراد کی بازیابی کے لئے تقریباً ایک عشرے سے وہ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اِس حوالے سے اُنہوں نے درجنوں مارچ ، دھرنے اور کیمپوں کا انعقاد کیا جس میں ملک کی سیاسی و دیگر اہم شخصیات شرکت کرتی رہی ہیں ۔ شاید ہی ایسا کوئی اجتماع ہو جس میں موجودہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان شریک نہ ہوئے ہوں ۔ گزشتہ سال سخت سردی کے موسم میں ایک ماہ سے زائد عرصہ تک محترمہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے پارلیمنٹ کے سامنے کیمپ کا انعقاد کیا جس میں ملک بھر کی سیاسی قیادت شریک ہوتی رہی ۔ خواجہ سعد رفیق سخت سردیوں کی راتوں میں نہ صِرف خود بلکہ اُن کی اہلیہ محترمہ بھی غائب کئے گئے افراد کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے شریک ہوتے رہے ۔ ساری سیاسی قیادت میں سے چوہدری نثار علی خان کا موقف بہت زور دار رہا ہے ۔ گزشتہ سال کے کیمپ میں مسلم لیگ ( ن ) کے سربراہ میاں نواز شریف ، مرحوم قاضی حسین احمد ، سید منور حسن ، حافظ حسین احمد ، جنرل ( ر ) حمید گل سمیت درجنوں راہنما شریک ہوئے ۔ 17 فروری 2012 ء کو میاں نواز شریف صاحب نہ صِرف کیمپ میں شریک ہوئے بلکہ اپنی ذاتی جیب سے غائب کئے گئے افراد کے لئے 50 لاکھ کی خطیر رقم بھی فراہم کی ۔میاں صاحب نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ مُہذب معاشروں میں اس طرح سے افراد کو غائب کر دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ تقریباً دس ہزار افراد غائب کر دئیے گئے اور سب سے بڑی تعداد بلوچستان میں ہے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو مطعون کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ زرداری ٹولے نے مشرف کی پالیسیاں جاری رکھیں ، متاثرہ خاندانوں کو اُن کے پیاروں کی بازیابی کے لئے میاں نواز شریف نے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ اُنہوں نے چوہدری نثار علی خان کی ذمہ داری لگائی تھی کہ وہ اِس معاملے میں فوری طور پر پارلیمان میں قرار داد لائیں اور جو سیاسی جماعت بھی ساتھ نہیں دیتی اُسے بے نقاب کریں ۔ میاں صاحب نے برسراقتدار آتے ہی جس طرح اپنی جماعت کی بجائے ڈاکٹر عبد المالک کو بلوچستان کا وزیر اعلیٰ بنوایا ، دفعہ 6 کے تحت جنرل مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہر دو اقدامات غیر معمولی جرات اور قربانی دے کر کئے گئے ۔ میاں صاحب سے اس وقت توقع کی جا رہی ہے کہ توانائی اور تباہ شدہ معیشت سے بڑے چیلنج ’’ غائب کر دئیے گئے افراد ‘‘ کے معاملے کو بھی پوری یکسوئی اور ہمدردی سے حل کریں گے ۔ انتہائی پیچیدہ اور حساس معاملے پر پاک فوج کو اعتماد میں لے کر ٹھوس اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں ۔ یہ مسئلہ جادو کی چھڑی سے فوری حل نہیں ہو سکتا ۔ فوج کِسی دشمن ملک کی فوج نہیں اِس معاملے پر سول حکومت اور فوج کو پوری ذمہ داری اور دیانت داری سے حل کرنا ہو گا ۔

ایجنسیوں پر طعن و تشنیع کی بجائے انہیں ٹھوس تجاویز کے ذریعے قائل کیا جائے ۔ جو لوگ محض خوف اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر عقوبت خانوں میں رکھے گئے ہیں اُنہیں فوری رہا اور ٹھوس شواہد کے ساتھ جن پر مقدمات قائم کئے جا سکتے ہیں اُنہیں قانون
کے شکنجے میں لانے کی ضرورت ہے ۔ حکومت خلوص نیت سے اِس سلسلے میں اقدامات کرے ، جس دن ہزاروں خاندانوں کے پیارے گھروں کو لوٹ آئے ہمیں یقین ہے کہ خودکش حملوں اور دیگر متشددانہ کارروائیوں میں بھی واضح کمی نظر آئے گی اور پاکستانی قوم ایک بار پھر چین کی بانسری بجائے گی ۔ انشاء اﷲ ۔

Archives