” بد دیانتی کا عفریت ”

” بد دیانتی کا عفریت ”

شکیل احمد ترابی

وہ لمحہ مُجھے بھُلائے نہیں بھولتا کہ جب میں وزارتِ اِطلاعات کے اُس وقت کے جوائنٹ سیکرٹری کے دفتر میں داخل ہوا ، پاکستان ٹورازم کارپوریشن میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز خاتون آنسو بھری آنکھوں اور رندھی ہوئی آواز میں اپنے ادارے کے چیئرمین کے مظالم اور” فرمائشیں” بیان کر رہی تھی ۔ میرے بِلا اِجازت داخلے کے بعد خاتون نے ” راز اَفشائی ” بند کر دی ، جوائنٹ سیکرٹری ” حاجی صاحب ” کھلے ڈُلے آدمی تھے انہوں نے خاتون کوکہا کہ ترابی صاحب اپنے دوست ہیں ، آپ بات مکمل کر لو ۔ مگر بے بسی کی تصویر بنی خاتون کی ہمت نہ بندھی ، خاتون کی رُخصتی کے بعد ” حاجی صاحب ” نے بتایا کہ کِس طرح ٹورازم کا ”بہادر بلوچ چیئرمین” لوٹ مار اور دیگر کِس طرح کی ”فرمائشیں ” کر رہا ہے ۔ کیتھران قبیلے کے اِس چشم و چراغ نے ” سرکاری مال و حُسن ” پر ہی مُنہ ماری نہ کی بلکہ اِسلام آباد کے پوش علاقوں میں بنگلے کرائے پر لینے کے بعد اُن پر قبضے جمانے کی کوشش کی ، بعد ازاں بیلف کے ذریعے لوگوں نے قبضے وا گُزار کرائے ۔ مگر کرایہ و بلات کے لاکھوں کے بقایا جات جُوں کے تُوں پڑے ہیں ۔

ایک طرف ” کمال ” کا ضبط رکھنے والی خاتون کی بے بسی کی کہانی میرے ذہن میں تھی اور دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے روزنامے کی خبر کے مطابق ایک با اثر خاتون کی ” جرأت مندی ” کے قِصے آج کل وفاق میں زبانِ ذد عام ہیں جن کی ٹیلیفونک گفتگو کا کیسٹ مارکیٹ میں آ چکا ہے ۔ خبر کے مطابق ” جرأت مند ” خاتون نے ایک سرکاری آفیسر جو 25 کروڑ کا نذرانہ اُن کو پیش کر چکا تھا کو اُس وقت کھری کھری سُنا دیں جب وہ مزید 20 کروڑ کا ” ہدیہ ” پیش نہ کر سکا ۔ مذکورہ آفیسر ” عزت اَفزائی ” کی کہانی مُلتان والی سرکار جو اُن کو اِس عُہدے پر فائز کر گئی تھی کے سامنے بیان کرتا ہے تو ” مُرشد سرکار ” فرماتے ہیں کہ پریشانی کی چنداں ضرورت نہیں ، مشکل وقت آتے ہیں اور گُزر جاتے ہیں ۔

1996 ء میں آزاد کشمیر کے انتخابات کے لئے ” شاہ جی ” کے ہیلی کاپٹرز ایک ایک دن میں آزاد کشمیر کے کئی شہروں میں اُترتے تھے ۔ شاہ جی کی نگرانی میں پیپلز پارٹی جیت گئی مگر بقول سردار عبد القیوم خان صاحب کے وزارت عظمیٰ ” بہادر مرد ” نے 11 کروڑ وصول کرنے کے بعد بیرسٹر صاحب کو دِی تھی ۔ یہ سستے زمانے کی بات تھی ۔2011 ء میں مذکورہ بالا ” جرأت مند ” خاتون آزاد کشمیر کے انتخابات کے لئے ” نگران ” مقرر ہوئیں تھیں ، اب تو 11 کروڑ سے زائد محترمہ کا متولی ( سیکرٹری ) قریشی لے گیا ۔ وزارت عظمیٰ کی دوڑ کے لئے میدان میں میرپور اور کوٹلی کے تین چوہدری برسرِ پیکار تھے ، امید وار جتنے زیادہ ” سرکار ” کا کام اُتنا ہی زیادہ بنتا ہے ۔ برطانیہ میں موجود میرپور اور کوٹلی کے مالدار لوگوں نے اپنے اپنے چوہدری کے لئے ” بڑی دربار ” میں بڑے بڑے چڑھاوے چڑھائے بالآخر ” اقتدار کا ہُما ” اُس کے سر بٹھایا گیا جس نے سب سے زیادہ ” قربانی ” دی تھی ۔رازدان کے مطابق موصوف کا جس صُبح حلف تھا اُس سے پہلی رات وزیر اعظم کے بیڈروم میں وہ نہیں محترمہ کا ” سیکرٹری قریشی ” سویا تھا ۔ چوہدری صاحب نے ” اُن کا ” خیال آخر دم تک رکھا ۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 2011-12 ء کے ایک سال کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق اربوں روپے کی بدیانتی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اِسلام آباد کے ایک خبر رساں ادارے کے مدیر اعلیٰ نے آڈٹ رپورٹ میں ظاہر کی گئی بدیانتی کے خلاف کارروائی کے لئے باقاعدہ درخواست 21 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں داخل کر دی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو ” وسیلہ ہیلتھ انشورنس پروگرام ” کے لئے مجموعی طور پر دو ارب 74 کروڑ 72 لاکھ 56 ہزار 185 روپے کی ادائیگی بغیر کُھلی بولی کے کی گئی ہے ۔ مذکورہ کمپنی نے تو بولی کے لئے درخواست بھی نہیں دی تھی ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آڈٹ رپورٹ میں اِس بات کا اِظہار بھی کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کو ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے نہ کوئی تجربہ تھا اور نہ ہی وہ ہیلتھ انشورنس کا کام کر تے تھے ۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بہادر اور محنتی چیئرپرسن نے اِس طرح ایک سال کی اشتہاری مہم کے لئے ایک ارب 46 کروڑ روپے ایک اشتہاری ایجنسی کو اصول و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے دے دئیے ، ذرائع کے مطابق مُہم پر کل رقم کا 20 فیصد بھی خرچ نہ ہوا ۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ” پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 ء کے مطابق 10 لاکھ روپے سے زائد کی خریداری کے لئے اشتہار ادارے کی سرکاری ویب سائٹ اور کم از کم قومی سطح کے ایک اردو اور ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونا چاہیے ۔ آڈٹ رپورٹ میں مذکورہ ادائیگی کو مکمل بے ضابطگی قرار دیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے درخواست پر کارروائی شروع کر دِی تو کِسی اور فرزانے کو ” دیوانہ ” بننا پڑے گا ۔

چند ماہ قبل ایک جونیئر وفاقی سیکرٹری کو چیئرمین پی ٹی اے بنایا گیا تھا ۔ با خبر حلقوں کے مطابق اِس تقرری کے لئے دس ارب روپے کی خطیر رقم بطور نذرانہ ” اُن ٹھیکیداروں ” نے ایک اہم شخصیت کو پیش کر کے یہ تقرری کرائی تھی ۔ با خبر حلقے بتاتے ہیں کہ یہ دس ارب روپے تو G3 اور G4 کے ٹھیکوں کے ابتدائی چھ مہینوں میں ہی پورے ہو جانے تھے اور بقیہ ساڑھے تین سال اُس ” عاشق زار اعوان ” نے خود اور ٹھیکیداروں کو استفادہ کرانا تھا مگر موصوف کی تقرری لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دی ۔

اہم شخصیت نے نگران وزیر اعظم کے ذریعے موصوف کو اہم وفاقی سیکرٹری لگایا تھا مگر اُس وزارت میں فائز سینئر سیکرٹری امتیاز عنایت الٰہی نے اِس تقرری کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ اعوانوں کے اس ” جمیل ” کی اس وزارت کی سیکرٹری شِپ سے بھی چُھٹی ہونے کو ہے ۔

چار موسم اور ہر طرح کے پھل و فصلیں خُدا کی کون سی نعمت ہے جو مملکت پاکستان کو رب ذوالجلال نے نہ بخشی ہو ۔ مگر بدیانتی کا عفریت پورے پاکستان کو اِس وقت اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ فرزانوں دیوانوں کی لوٹ مار کے سبب اِس وقت پاکستان 66.243 ملین ڈالرز کا مقروض ہے اور ہر پاکستانی کے ذمہ یہ رقم 57 ہزار فی کس بنتی ہے ۔ بدیانت ملکوں کی فہرست میں پاکستان 33 ویں نمبر پر ہے ، 173 ممالک کی فہرست میں جن ملکوں میں بدیانتی نہ ہونے کے برابر ہے اُن میں ڈنمارک ، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ شامل ہیں ۔صدر پاکستان نے دورہ لاہور میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بدترین شکست پر ایک دن کہا تھا کہ طالبان کے خود کش دھماکوں کے نتیجے میں ہم مُہم نہ چلا سکے اور انتخاب ہار گئے بعد ازاں کِسی نے صدر مملکت کو توجہ دلائی کہ پنجاب میں تو طالبان نے پیپلز پارٹی پر ایک حملہ بھی نہیں کیا تو صدر ذِی وقار نے اگلے دن ہی بیان بدلتے ہوئے فرمایا کہ قومی اور بین الاقوامی اداروں کی سازش کے نتیجے میں پنجاب میں ہم 40 سے 50 نشستیں ہار بیٹھے ۔ بصد احترام صدر صاحب سے گزارش ہے کہ بی بی کا یہ قول تو آپ ہی سناتے تھے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ، آپ انتخابات طالبان ، قومی و بین الاقوامی سازش کے نتیجے میں ہارے یا لوگوں نے بی بی کے فرمان پر عملدرآمد کر کے آپ سے انتقام لے لیا ؟

Archives