’’ نئے دور کا آغاز ‘‘

’’ نئے دور کا آغاز ‘‘

شکیل احمد ترابی

11 مئی کے انتخابات میں بُلٹ کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام نے بیلٹ کے ذریعے پاکستان کے چودہویں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ تقریباً تین عشروں سے کراچی و حیدر آباد میں عوام کی رائے پر ڈاکہ ڈالنے والے اِس بار بھی دن دیہاڑے ’’ کُھلی واردات ‘‘ میں کامیاب رہے ۔ ڈاکہ زنی کی اِس واردات نے جہاں فخرو بھائی کو ’’ ناقابل فخر ‘‘ بنا دیا وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص ’’ طاقت کے اصل سرچشموں کی چشم پوشی ‘‘ پر بھی کئی سوال اٹھا دئیے ۔وہ طاقت ور قوتیں جن کی آئین و قانون پر عملدرآمد کی اپنی تشریحات ہیں ، اُن کی مرضی کے خلاف ہو تو صوفی محمد کے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ غیر آئینی قرار پاتا ہے اور قانون پر عملدرآمد کے لئے زمینی و فضائی فورسز متحرک ہو جاتی ہیں ۔ پاکستان کے معیشت کے دِل اور روشنیوں کے شہر کو اندھیروں کی نظر کر دیا گیا مگر ’’ کسی طاقت ور کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگی ‘‘ اِس بے بسی پر جماعت اسلامی ، جمعیت علماء پاکستان ، سُنی تحریک اور دیگر جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا ۔سیاسی پنڈتوں کے تجزیات اور قیاس آرائیوں کے برعکس اﷲ کا شکر ہے کہ ہم ’’ معلق پارلیمان ‘‘ کے عذاب سے بچ گئے ۔ اﷲنے میاں نواز شریف کو مرکز و پنجاب میں ایک بار پھر حُکمرانی کا موقع عنایت کیا ہے ۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے فوری بعد جناب نواز شریف نے جس منکسرانہ انداز میں مستقبل میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی ہے خُدا کرے کہ یہ اعلان عملی روپ دھار سکے ۔بڑے میاں صاحب کی گفتگو میں جہاں بڑے پن کا اظہار تھا چھوٹے میاں صاحب نے نتائج کے بعد بھی زرداری کی ڈاکہ زنی اور عمران خان کی سسرالی امداد کی جس انداز میں بات کی اُس سے چھوٹے پن کی جھلک واضح طور پر نظر آ رہی تھی ۔ جو جتنے بڑے مقام اور بڑی ذمہ داری پر سرفراز ہوتا ہے اُسے اُتنے ہی بڑے ظرف کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ بستر علالت سے دو وڈیو پیغامات میں جناب عمران خان نے بھی دو بہت غلط باتوں کا اظہار کیا ہے ۔ نہ چاہنے کے باوجود شادی میں ناکامی بڑی بد نصیبی کی بات ہے ۔ خان صاحب کو بھی اِس بد نصیبی کا سامنا کرنا پڑا اُس کے عوامل بہت واضح ہیں مگر جناب عمران نے اپنی مہم کے آخری جلسے میں شادی کی ناکامی کی ذِمہ داری کِسی اور پر ڈال کر کوئی نیک نامی نہیں کمائی ۔ عمران خان کی کرشماتی شخصیت اور محنت کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اُس طبقے نے بھی پہلی بار ووٹ کا استعمال کیا جو اِسے کارِ لاحاصل سمجھتا تھا ۔ ان لوگوں کی رائے دہی کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں ٹرن آؤٹ اِس سطح تک پہنچا۔ تقریباً تین دہائیوں میں دو جماعتوں میں منقسم رائے کی جگہ بڑی تعداد میں لوگوں نے ’’ تھرڈ آپشن ‘‘ کو بھی استعمال کیا ۔

طلاق کے الزام دوسروں پر دھرنے کی طرح جناب عمران خان نے انتخابی نتائج کے بعد وائٹ پیپر شائع کرنے کی بات کر کے ہمارے نزدیک دوسری بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے ۔ جناب عمران اُس ظرف کا مظاہرہ بھی نہ کر سکے جس کا اظہار حاجی غلام احمد بلور نے کیا ۔ بشیر بلور کی شہادت کے باوجود لوگوں نے اُنہیں مُسترد کر دیا مگر حاجی غلام احمد بلور نے کِسی پر الزام تراشی کی بجائے کُھلے دِل سے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کی غلط پالیسیوں کے سبب اُنہیں یہ دِن دیکھنا پڑا ۔ جناب عمران کی سعی خُدا نے قبول کی ایک صوبے میں اُن کو واضح مینڈیٹ دیا ، دیگر مقامات پر کامیابیوں کے ساتھ ساتھ بہت بڑا ووٹ بنک کوئی ناکامی نہیں ۔ تحریک انصاف کو اتنی بڑی کامیابی پر تشکر کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے بعد بہتر کارکردگی دکھانی چاہیے ۔

وقت آ گیا ہے کہ جو تنقید وہ صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ( ن ) کی حکومت پر کرتے رہے ہیں اُس کو سامنے رکھ کر وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ’’ بہتر طرز حکمرانی ‘‘ دِکھا سکیں ۔اگر وہ ایسا کر پائے اور ماضی کی غلطیوں پر قابو پا سکے تو مستقبل اُن کا منتظرہے ۔ اس لئے ہماری بڑے ادب سے اُن سے گزارش ہے کہ زندگی کی ساٹھ بہاروں سے لطف اندوز ہو چکنے کے بعد وہ ’’ ضِدی بچے ‘‘ کے کردار کو ترک کر دیں ۔

پیپلز پارٹی کی ’’ شاندار کارکردگی ‘‘ پر ملک بھر کے عوام نے اُنہیں جس ’’ جزاء ‘‘ سے نوازا ہے وہ اِس کے مستحق تھے مگر جزاء کا بدلہ جزاء سندھی عوام اِس حکم ربی پر عمل نہ کر سکے ۔ مستقبل میں سندھ کے وزیر اعلیٰ کے لئے جناب زرداری کے مُنہ بولے بھائی مظفر ٹپی کا نام خبروں کی زینت بن چکا ہے ۔ موصوف جس شہرت کے حامل ہیں اُن کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا تو شاید سندھی لوگ پانچ سال کا بھی انتظار نہ کریں اور گیارہ گنا ادا کر کے ’’ اپنی لغزشوں‘‘ کا کفارہ ادا کر دیں ۔

کالم کی اشاعت تک ’’ آزاد پنچھیوں ‘‘ کی بڑی تعداد مسلم لیگ ( ن ) میں شامل ہو چکی ہو گی جس کے نتیجے میں میاں صاحب کو واضح سادہ اکثریت حاصل ہو جائے گی ۔ اِس بار اقتدار کا سنگھاسن پھولوں کی مالا نہیں میاں صاحب کے لئے بڑے چیلنج کا موجب ہو گا ۔ اﷲکرے کہ میاں صاحب نے پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار اور اپنی انتخابی مُہم میں جو اعلانات کئے وہ ان پر عمل درآمد کر سکیں ۔ تباہ شدہ معیشت ، دہشت گردی اور بد انتظامی پر قابو پانا اُن کے لئے سب سے بڑے چیلنج ہوں گے ۔ میاں صاحب کے انتخاب پر امریکہ ، برطانیہ ، ترکی ، سعودی عرب ، ایران اور بھارت کے حکمرانوں نے نہ صرف مبارکباد دیں بلکہ اُنہیں ہر طرح کے تعاون کی بھی پیش کش کی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم نے نہ صرف مبارکباد بلکہ میاں صاحب کو بھارت کے دورے کی بھی دعوت دے دی ہے ۔

بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بھی میاں صاحب کی جیت کو دو ملکوں میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے ۔ پاکستان کے اندرونی حالات تباہ شدہ معیشت ہمیں کسی بڑے دشمن کوتادیر پالنے کی اجازت نہیں دیتی مگر بغل میں چُھری منہ میں رام رام کے مصداق بھارتی نیتاؤں نے جس طرح ایک دہشت گرد سربجیت سنگھ کو ’’ قومی ہیرو ‘‘ قرار دیا اور معصوم پاکستانی ثناء اﷲکا جس بہیمانہ انداز میں قتل کیا اِن حقائق کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ سب سے بڑے تنازعہ کشمیر پر جب تک کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہوتی میاں صاحب قومی اُمنگوں کے علیٰ الرغم دوستی کی پینگیں کیسے بڑھا سکیں گے ؟ ڈرون حملوں اور غائب کر دئیے گئے افراد کے بارے میں بھی میاں صاحب کا واضح موقف رہا ہے وقت آ گیا ہے کہ میاں صاحب ان اہم معاملات پر بھی اپنی عملی دانش دکھا سکیں ۔

میاں صاحب پر مخالفین ، فوج ، عدلیہ اور ذرائع ابلاغ سے محاذ آرائی کے بھی الزامات شد و مد سے عائد کرتے رہے ہیں ۔ آزاد عدلیہ اور طاقتور ذرائع ابلاغ کے بے لاگ کردار کے نتیجے میں بھی مرکز میں میاں صاحب کا داخلہ ایک بار پھر ممکن ہو سکا ۔ اُمید کی جاتی ہے کہ اس بار میاں صاحب تیسری بار کے نہیں بلکہ ’’ ایک نئے وزیر اعظم “کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے ۔ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے اعلان پر عمل درآمد کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کا بالخصوص خیال رکھیں گے ۔ جناب محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کی ذِمہ داری سونپی جائے تو بلوچستان کو بہت اچھا پیغام جا سکتا ہے ۔ لوٹ مار ، الزام تراشی اور بد ا نتظامی کا خاتمہ کر کے میاں صاحب ’’ نئے دور کا آغاز‘‘ کر سکتے ہیں ۔

Archives