خفیہ فنڈ؟

خفیہ فنڈ؟

شکیل احمد ترابی

عدالت عظمیٰ کا کورٹ روم نمبر چار وکلاء اور صحافیوں سے کھچا کھچ بھرا پڑا تھا ۔ ٹی وی کی پردہ سکرین پر بلند آہنگ میں بولنے والی ’’ خاتون اینکر ‘‘ کورٹ روم کے ایک کونے میں تنہا بیٹھی تھی ۔ چہرے سے پریشانی عیاں تھی ۔ نیند سے اُس کی آنکھیں اُبل رہی تھیں ۔ خفیہ فنڈ سے متعلق تین روز قبل عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر وزارت اطلاعات کی جانب سے ایسی بوگس فہرست آویزاں کی گئی تھی جس نے لا تعداد معصومین کو بے چین اور مضطرب کر دیا تھا ۔

فہرست ہاتھ لگتے ہی کورٹ رپورٹرز میں سے متعدد نے گویا یہ جانا کہ کوئی ’’ سکوپ ‘‘ اُن کے ہاتھ لگ گیا اور آناً فاناً نجی چینلز پر ’’ نیوز الرٹس ‘‘ کے ساتھ ساتھ کورٹ رپورٹرز نے وزارت اطلاعات کے ماہر بابوؤں کی ’’ باریک مہارت ‘‘ بیان کرنا شروع کر دی ء ٹی وی نیوز رومز میں بیٹھے ’’ بڑے ماہرین ‘‘ کو بھی ایک لمحے کے لئے خیال نہ آیا کہ وہ کسی کی ذمہ داری لگا دیں اور ’’ مجرمین ‘‘ کا موقف بھی بیان کر دیں ۔ کمال تو انٹرنیٹ پر ’’ پریس پاکستان ‘‘ کے نام سے چلائے جانے والے بلاگ پر ’’ صحافتی مفتیان ‘‘ نے دکھایا ۔ جو نہ صرف خوف آخرت سے ماورا ہیں بلکہ جن کی اکثریت کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں مگر ان کو ایسا بلاگ ہاتھ لگ گیا ہے جس پر وہ طبع آزمائی کر کے جس کی چاہے کردارکشی کر دیں ۔ کروڑ ہا تنخواہ لینے والے ہمارے ارباب بست و کشاد جو پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن اتھارٹی میں اہم ذمہ داریوں پر فائز ہیں آج تک ’’ مفتیان کرام ‘‘کی جعلی ای میلز کا پتہ چلا کہ ان کو قانون کے دائرے میں نہیں لا سکے جس کی بنا پر بے شمار شرفاء کی نیندیں حرام ہیں ۔ عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر وزارت اطلاعات کی ’’ بوگس فہرست ‘‘ کو سب سے پہلے نجی خبر رساں ادارے کے مدیر اعلیٰ اور بعد ازاں ایک بڑے اخباری گروپ کی مدیر منتظم اور دو نجی ٹی وی چینلز کی ’’ خواتین اینکرز ‘‘ نے بھی چیلنج کیا۔جمعرات کے روز خفیہ فنڈز کے مقدمے کی جونہی سماعت شروع ہوئی چند دیگر صحافیوں نے بھی بات کرنا چاہی جن کو عدالت عظمیٰ کے بینچ کے معزز جج صاحبان نے ہدایت کی کہ وہ طریق کار کے مطابق اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کریں ۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور معروف قانون دان محترمہ عاصمہ جہانگیر نے عدالتی روسٹرم پر کھڑے ہوتے ہی اپنی موکل کی طرف اشارہ کیا کہ بوگس فہرست کی وجہ سے اُن کی موکل کئی روز سے سو نہیں سکی اور بے ہودہ الزام کی بے پناہ پر اُس نے رو رو کر اپنے آپ کو بے حال کر دیا ہے ۔ محترمہ عاصمہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بوگس فہرست اپنی ویب سائٹ پر آویزاں کرنے اور لوگوں کی پگڑیاں اُچھالنے کا حق کسی صورت معزز عدالت کو حاصل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو خواہ مخواہ بدنام نہ کریں ۔ صحافیوں کی تنظیم کے ایک گروپ کے پاکستان کے صدر نے کہا کہ وہ مقتول صحافی کی سلیم شہزاد کے لئے عدالتی کمیشن میں پیش ہونے کے لئے دوسرے شہر جاتے رہے مگر وزارت اطلاعات نے سفر و قیام کے وہ اخراجات بھی ان کے کھاتے میں خفیہ فنڈز میں ڈال کر ان کی توہین کی ہے ۔ نجی خبر رساں ادارے کے سربراہ نے اپنی صفائی میں کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ روک کر وزارت اطلاعات کے حکام نے غیر قانونی اقدام کیا ۔ خبر رساں ادارے کے قانونی نوٹس پر وزارت نے 18 لاکھ میں سے 6 لاکھ کا چیک ادارے کو جاری کیا ۔ مگر چیک کی رقم وزارت کے بابوؤں نے ان کے نام ڈال کر صریحاً بدیانتی کی ہے ۔
خبر رساں ادارے کے سربراہ نے اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی معزز عدالت میں پیش کئے ان کا موقف تھا کہ وزارت کے بابو بہت سمارٹ ہیں اور ’’ باریک بینی ‘‘ سے کام کرتے ہیں ۔ معصوم لوگوں کے نام فہرست میں شامل کر لیتے ہیں ۔ جب کہ وہ ’’ کالی بھیڑیں ‘‘ جو اُن کے لیے ’’ خصوصی اسائنمنٹس ‘‘ کرتی ہیں ان کے ادھورے نام فہرست میں شامل کر کے اُن کی پردہ داری سرکاری بابوؤں نے کی ہے ۔ اس پر معزز جج جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ AGPR کے ذمہ دار آفیسر ڈاکٹر آصف کو مذکورہ فہرست کے آڈٹ کے لیے عدالت نے مقرر کر دیا ہے اور آڈٹ کے نتیجے میں اصل کردار سامنے آ جائیں گے ۔صحافیوں کی شکایت پر عدالت نے وزارت اطلاعات کے حکام کو نام غلط جاری کرنے پر نوٹس جاری کر دیئے۔دوران سماعت یہ بات بھی کی گئی کہ جن لوگوں کی ہتک عزت وزارت اطلاعات نے کی ہے وہ’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘کا مقدمہ وزارت کے خلاف کر سکتے ہیں مگر انصاف کے حصول میں پیچیدگیاں ایسی ہیں کہ جیسے کسی کی مرغی ماری گئی تھی مرغی مارے جانے پر اپنا حق حاصل کرنے کیلئے اس نے بھینس فروخت کر دی مگر اس کو انصاف حاصل نہ ہو سکا۔فلاحی ریاستوں میں پھونک پھونک کر الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں کہ کہیں معمولی سی بے احتیاطی کسی بڑے خمیازے کا شکار نہ کردے ۔’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘ کے مقدمات میں برطانیہ کے دو معروف اخبارات بند ہو چکے ہیں اور دو مختلف مقدمات میں ہمارے مہربان دوست لارڈ نذیر احمد نے ہزاروں پونڈز دو اخبارات سے حاصل کر کے خیراتی اداروں کو دے دیئے۔ مگر اُسی فلاحی مملکت میں جب لارڈ نذیر احمد جیسے ذمہ دار سے کسی مذہب سے متعلق بے احتیاطی میں الفاظ ادا ہو گئے تو ان کی ہاؤس آف لارڈ کی رکنیت معطل کر دی گئی بعد ازاں انکی غیر مشروط معذرت پر رکنیت بحال ہوئی۔

پاکستان اسلامی نظریہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا مگر ہماری بد قسمتی کہ جس کے پاس جتنی طاقت تھی اس نے اسی حساب سے قانون توڑا اور حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ پڑھی ۔دنیا کے مہذب ملکوں میں یا تو اطلاعات کی وزارت سرے ہے ہی نہیں اور جن ممالک میں یہ وزارت موجود ہے اس کے پاس مالی اختیارات یا اشتہارات کا شعبہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ الزام لگانے والے یار لوگ تو دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں کہ خفیہ فنڈ کو چیلنج کرنے کے پیچھے ایک امریکی تنظیم پوشیدہ ہے ،کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کا ایک ادارہ دوسرے ادارے کو ملنے والے خفیہ فنڈز رکوانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔راقم ذاتی طور پر یہ رائے رکھتا ہے کہ حامد میر بہادر صحافی ہیں غائب کر دیئے جانے والے لاپتہ افراد کا مسئلہ ہو یا کوئی اوراہم ایشوانہوں نے بلند ہمتی سے اپنے فرائض ادا کئے ہیں۔بحریہ ٹاؤن کے مالک ٹھیکیدار ریاض نے چیف جسٹس پاکستان کے بیٹے کے معاملے میں جب عدالت عظمیٰ کو گھسیٹنے کی کوشش کی تو بعض’’صحافتی کالی بھیڑوں‘‘ کے نام بھی ابھر کر سامنے آئے۔ یہ وہ موقعہ تھا جب حامد میر نے ہمت کر کے یہ معاملہ عدالت میں اٹھایا اور انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان سمیت ہر اس صحافی کا احتساب ہونا چاہیے جس نے غیر قانونی طور پر ’’مال‘‘کمایا۔

صحافی صبح شام ہر ایک کا احتساب کرتے،بعض اوقات غلط رپورٹس کے ذریعے لوگوں کو بدنام کرتے ہیں،جب ان کو یہ حق حاصل ہے تو وہ مقدس گائے نہیں کہ کوئی ان کا احتساب نہ کرے۔ہم نے پاکستان کو حقیقی پاکستان بنانا ہے تو ہر ایک کو کھلے دل کے ساتھ اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرنا ہوگا۔ معاملہ صرف وزارت اطلاعات کے فنڈز کا نہیں۔وزارت ہاؤسنگ کے سالہاسال سے اسلام آباد کے پوش علاقوں میں سرکاری بنگلوں پر قابض صحافیوں کا بھی ہے۔ بعض اخباری مالکان جن کو متروکہ املاک بورڈ کے سابق چیئرمین آصف ہاشمی اونے پونے داموں پر سرکاری دفاتر لیز پر دیکر نوازتے رہے احتساب انکا بھی ہونا چاہیے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سرکاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق اربوں روپے غیر قانونی طور پر ایڈورٹائزنگ و پبلک ریلیشن ایجنسیز کو دیئے گئے ایوان صدر کے چہیتے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل (مبینہ طور پر جنہوں نے ایسے مال ہی سے نجی ٹی وی قائم کرلیا)، ان کی بیگم اور ایک معمولی ڈاکٹر نے آئی بی کے خفیہ فنڈ سے27کروڑ حاصل کر کے صحافیوں میں نئی کاریں تقسیم کیں بھانڈا اس وقت پھوٹا جب ملک کے دو نامور کالم نویسوں نے کاریں لینے سے انکار کرتے ہوئے اس بات کا تذکرہ اپنے کالموں میں کر دیا،قانون کا شکنجہ تو ’’بڑے گھر‘‘کے ان بااثر لوگوں کے خلاف بھی کسا جانا چاہیے۔
بوگس فہرستیں پہلی بار شائع نہیں ہوئیں،محترمہ بے نظیر بھٹو جب وزیراعظم تھیں تو وزارت اطلاعات کے سیکرٹری حسین حقانی نے برطانوی خبر رساں ادارے کے اسلام آباد کے ذمہ دار ترین صحافی کا نام خفیہ فنڈحاصل کرنے والوںکے حوالے سے کسی مجلس میں لے لیا۔تب وہ نجیب صحافی محترمہ کے پاس پہنچا اور معاملہ بیان کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ چونکہ ان پر سرکاری طور پر الزام عائد کر دیا دیا گیا ہے لہذا وہ نشریاتی ادارے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے مذکورہ صحافی کو استعفیٰ دینے سے روک دیا اور کہا کہ الزام تراشی کے مرتکب حسین حقانی کی وہ جواب طلبی کریں گی محترمہ نے کابینہ کے بھرے اجلاس میں حقانی کی سرزنش کی اور بعد میں ان کو سیکرٹری اطلاعات کی ذمہ داری سے بھی ہٹا دیا ۔

محترمہ اللہ کے ہاں جاچکی ہیں،اقتدار کے اصل مرکز میں ان کے شوہر نامدار موجود ہیں،کیا وہ اپنے ’’کھوسو صاحب ‘‘ کو بددیانتی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کے احکامات سے متعلق کہیں گے یا پھر الزام کا شکار صحافیوں کو ’’ازالہ حیثیت عرفی‘‘کیلئے اپنی اپنی بھینسیں فروخت کرنا پڑیں گی۔؟؟۔

Archives