دیدہ عبرت

دیدہ عبرت

شکیل احمد ترابی

ہمارا رحیم رب جو جبار و قہار بھی ہے اپنی پاک کتاب میں کہتا ہے کہ ’’ بصیرت والو عبرت پکڑو ‘‘ تاریخ اِنسانی عبرت کا نشانہ بننے والوں سے بھری پڑی ہے ۔ فرعون ، شداد ، میسولینی ، احمد رضا شاہ پہلوی ، انور سادات ، حُسنی مبارک ، کرنل قذافی کے بدترین انجام ہی سے نہیں بلکہ بے پناہ قربانیوں سے حاصل ہونے والی مملکت پاکستان کو دو ٹکڑوں میں بانٹنے والے بھارتی اور مشرقی و مغربی پاکستان کے کرداروں کے ’’ نشان عبرت ‘‘ بننے والوں سے کون واقف نہیں ، ہر تین مقامات کے ’’ کرداروں ‘‘ کے خاندانوں کے خاندان مٹ گئے ۔ عبرت پکڑنے کے لئے ماضی سے زیادہ سبق ہم گزشتہ عشرے کے ’’زمینی خُدا ‘‘ سے حاصل کر سکتے ہیں ۔

18 اپریل 2013 ء جس کو جسٹس شوکت صدیقی کے جرأت مندانہ فیصلے کے تناظر میں بعض لوگ پاکستان کا روشن ترین اور بعض بزدلی کا مظاہرہ کرنے والے ، انسپکٹر جنرل پولیس بنیامین اور اُن کے ’’ اعلیٰ حکام ‘‘ کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عدم عمل درآمد کی بناء پر سیاہ ترین قرار دے رہے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ تو علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر اور قائد اعظم کی جدوجہد سے حاصل ہونے والا پاکستان نہیں ، جہاں غریب پر تو چند لمحوں میں قانون کا نفاذ ہو جاتا ہے اور طاقت ور کے سامنے وقت کے کئی ’’ بنیامین ‘‘ بکری بن جاتے ہیں ۔

ہائی کورٹ میں ضمانت کی منسوخی کے بعد پرویز مشرف کی عدم گرفتاری ایک بڑا لمحہ فکریہ ضرور ہے مگر اِس حقیقت سے انکار کون کر سکتا ہے کہ ملک واپس آ کر صیاد خود اپنے دام میں آ گیا ہے ۔ 18 اپریل کو ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ۔یار لوگ دور کی کوڑی لا رہے تھے کہ فوج اپنے سابق سپہ سالار کو کسی صورت گرفتار نہیں ہونے دے گی ۔یہ امر واقع ہو چکا ہے اور اس اقدام سے جنرل کیانی نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مخل نہیں ہو رہے ۔ ججوں کو گرفتار کر کے جہاں مشرف نے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا تھا وہیں جنرل کیانی نے سابق سپہ سالار کی گرفتاری پر لا تعلقی ظاہر کر کے پوری قوم سمیت دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ آج کا پاکستان ماضی سے بہت مختلف ہے ۔ حکومتیں اور ’’ دنیاوی قوتیں ‘‘ تو مصلحتوں اور پروٹوکولز کا شکار ہو سکتی ہیں ۔مگر جبار و قہار جس کو ہر پست و بلند ، ضعیف و طاقتور پر کنٹرول حاصل ہے ۔ اُس کا قانون کِسی پروٹوکول اور جرنیل سے مرعوب نہیں ہوتا درحقیقت اُس کا قانون متحرک ہو چکا ہے ۔ ذہن کے پردہ سکرین پر ماضی قریب کی فلم چل رہی ہے ۔ 12 مئی 2007 ء پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دِن جب منصف اعظم اور فخر پاکستان جناب افتخار محمد چودھری کو کراچی اےئرپورٹ سے باہر نہ جانے دِیا گیا ۔ چیف جسٹس کے استقبال کے لئے آنے والے پچاس سے زائد افراد کو گولیوں سے بُھون دیا گیا ۔ اگلے دِن اِس موقع پر احتجاج کرنے والے چند وکلاء کو زندہ جلا کر فِسطائیت کی انتہا کر دِی گئی ۔

حکومت اور اِنتظامیہ عوام کی حفاظت کے لئے باڑ کا کِردار ادا کرتے ہیں ، یہ کیسی باڑ تھی جو اپنی ہی فصل کو کھا رہی تھی ؟ 12 مئی کی شام اسلام آباد کی شاہراہ قائد پر ایوان صدر کے عین سامنے ، وقت کے آمر کی رعونت اور فرعونیت عروج پر تھی ۔ جہاں اپنے خطاب میں بے گناہ لوگوں کے قتل پر افسوس اور معذرت کی بجائے طاقت کے نشے میں بدمست ’’ جرنیل ‘‘ نے آستینیں اوپر چڑھا کر کہا ’’ جو میرے قانون ‘‘ کو توڑے گا ، اُس کا حشر آج صبح جو میں نے کراچی میں کیا اپنی رِٹ قائم کرنے کے لیے ملک بھر میں ایسا ہی کروں گا ، میرے خُدا تیری پناہ ، تیرا بے بس بندہ غرور و تکبر کی ایسی انتہاؤں کو بھی چھو سکتا ہے ۔؟

’’ مرد آہن ‘‘ تیرے دور پُر فتن کی کِس کِس تصویر پر پردہ ڈالوں ؟ 16 مارچ 2007 آپ کے غنڈوں نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں نجی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہو کر جو تباہی کی ، جو اودھم مچایا اُسے کیسے بھلایا جائے ؟ اُسی 16 مارچ کی شام اسلام آباد ہی میں معتبر خبر رساں ادارے کے مدیر اعلیٰ کو اُس کی گاڑی سے نکال کر ’’ آپ کے بہادر ‘‘ نہ جانے کہاں لے گئے ۔ وہ مدیر جس کی پیشانی حُدا کے سوا کبھی کِسی فرعون کے سامنے سجدہ ریز نہ ہوتی تھی کو آپ کے ’’ کمانڈوز ‘‘ نے گاڑی میں ڈال کر اُس کا سر گاڑی کے فرش پر رکھا ۔ تمہارے ’’ جوانوں ‘‘ کے بُوٹ اُس صحافی کے سر پر تھے ۔18 مئی کو اُسی مدیر کو برسرعام آپ کے ’’ جوانوں ‘‘ نے تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ ’’ لاچار ‘‘ کئی دن تک ہسپتال میں زیر علاج رہا ۔ بعد میں اُسی مدیر کے پندرہ سالہ بیٹے کو سکول گیٹ پر آپ کے ’’ شیروں ‘‘ نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اُس مدیر کو یہ انعام تو ملنا ہی تھا کہ اُس نے چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کے اصل کرداروں کو بے نقاب کیا تھا اور غائب کر دئیے جانے والے لوگوں کی کئی سٹوریز دی تھیں ۔

ملک کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے کو دیوار سے لگانے کے لئے کون سا ہتھکنڈہ تھا جو آپ نے استعمال نہ کیا ہو ۔ اِس ادارے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ۔ادارے کے سربراہ کو دیگر انتقامی ہتھکنڈوں کے علاوہ ’’ بہادر جرنیل ‘‘ کی ’’ انتظامی مشینری ‘‘ نے درجن سے زائد افراد کی فہرست تھمائی کہ اِنہیں فوری طور پر نکالا جائے ۔ سب سے بڑے اشاعتی ادارے کے سربراہ نے سُنی ان سُنی کردی ۔ درجن سے زائد افراد کی فہرست سکڑتے سکڑتے جناب حامد میر اور جناب انصار عباسی تک جا پہنچی کہ اگر اِن کو نہ نکالا گیا تو ایسی کی تیسی پھیر دِی جائے گی ۔ مگر ادارے کے سربراہ کے ظرف اور استقامت کو خراج پیش نہ کرنا بہت بڑی بُخل ہو گی جنہوں نے جرأت کی عظیم مثال قائم کی ۔

ڈھنڈورہ تو یہ پیٹا جاتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کو آزادی ’’ جنرل ‘‘ نے بخشی مگر ذرائع ابلاغ کے اداروں پر کیا کیا گزری وہ شکاری سے زیادہ جال کے جاننے کے مترادف ذرائع ابلاغ کے ذِمہ دار ہی جانتے ہیں ۔ بے شرمی کو بھی افتخار بنا کر اپنی کتاب ’’ اِن دی لائن آف فائر ‘‘ میں کِس نے بیان کیا ؟ یہ اعتراف کِس نے کیا کہ کِس کِس کو کتنے کے عوض امریکہ بہادر کے ہاں فروخت کیا گیا ؟ آمنہ مسعود پر کیا بیتی ؟ آمنہ کا دُکھ تو وہی جان سکتے ہیں جن کے سہاگ اُجڑ گئے یا وہ مائیں بہنیں بتا سکتی ہیں کہ جن کے لعل ’’ غائب ‘‘ کر دئیے گئے ۔

اِس نظریاتی مملکت کے دارالحکومت کی مسجد کے اندر گولی چلنے کا تصور کیا جا سکتا تھا ؟ ہرگز نہیں ، مگر آپ نے جو ’’ کارنامہ ‘‘ مسجد میں سرانجام دِیا ہے اُس کا رد عمل آج ہم پاکستان بھر میں دھماکوں کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔ عالم دین کی تضحیک الامان الحفیظ ، کِس طرح آپ کے ’’ خوشامدیوں ‘‘ نے مولانا عبد العزیز کو برقع پہنا کر ٹی وی پر پیش کر کے قوم کے سامنے رُسوا کیا ۔ آپ کے ’’ کارہائے نمایاں ‘‘ کِسی کالم میں کون سمو سکے اِس کے لئے تو ایک کتاب بھی نہیں کئی کتابیں تحریر کر کے آپ کو ’’ خراج ‘‘ پیش کیا جا سکتا ہے ۔لوگ حیران و پریشان ہیں کہ تبدیلی کے دعوے کرنے والے جناب میاں نواز شریف و عمران خان کو کیا ہو گیا ہے وہ جنرل کو کیفر کردار تک پہنچانے کی تو بات کرتے ہیں مگر جو کل تک ’’ جنرل مشرف ‘‘ کے دائیں بائیں چلتے تھے اُن کی بڑی اکثریت تو آج میاں صاحب اور جناب عمران کے اِرد گِرد موجود ہے ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نفرت کا نشان صِرف جنرل مشرف کیوں ؟ جزا و سزا ملنی ہے تو حصہ بقدر جُسہ اُن کو بھی ملنی چاہیے جو کل تک جنرل کا دست و بازو تھے ۔

پاکستان نازک ترین دور سے گزر رہا ہے ، سیاست دانوں ، فوج اور سِول بیورو کریسی کو مل بیٹھ کر اپنے گناہوں سے توبہ کے بعد مستقبل میں ایسی غلطیاں نہ دہرانے کا عہد کرنا ہو گا ۔ اِس میں ہماری اور آنے والی نسلوں کی بہتری ہے اور خاکم بدہن ہم ایسا نہ کر سکے تو داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں ۔ لاہور کے عظیم سید زادے نے کہا تھا کہ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتی اگر ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف و ادراک نہ کر پائے تو جبار و قہار تو موجود ہے عبرت کا نشان کوئی بھی بن سکتا ہے ۔دیکھو جو دیدہ عبرت نگاہ ہو ۔

Archives