مجموعہ تضادات!

مجموعہ تضادات!

شکیل احمد ترابی

میں سید ہوں آلِ رسول ﷺ ، چھ مرتبہ مجھے خانہ کعبہ کے اندر جانے کا موقع ملا ۔ بیت اللہ کی چھت پر چڑھ کر تکبیر بلند کی ۔ جو سعادت مجھے حاصل ہوئی وہ دنیا کے کِسی مُسلم سربراہ مملکت کو حاصل نہ ہو سکی ۔

’’ سید مشرف ‘‘ کی اصطلاح ماضی کے عوامی لیڈر شیخ رشید نے اُس وقت متعارف کرائی تھی جب پرویز مشرف کے عین عروج کے دورمیں لاکھوں کے مجمعے سڑکوں پر ’’ گو مشرف گو ‘‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے ۔ شیخ صاحب جِس کے ساتھ ہوتے ہیں زمین و آسمان کے قلابے ملا کر اُسے ’’ آسمان ستائش ‘‘ پر چڑھا دیتے ہیں ۔ مشرف کے گندے پوتڑے دھونے کی ذِمہ داری کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ شیخ صاحب نے یہ ذِمہ داری نہ صِرف خوب نبھائی بلکہ پرویز کی وہ خوبیاں تک ’’ ڈھونڈ نکالی‘‘ جو مشرف ’’ بے چارے ‘‘ پر خود بھی شیخ صاحب کے بیانات کے بعد ’’ منکشف ‘‘ ہوئی تھیں ۔ مطلوبہ ’’نتائج ‘‘ نہ ملنے پر دس بار وردی کے اندر ’’ صدر مملکت منتخب ‘‘ کرنے والے مفاد پرست چوہدری تو سب سے پہلے ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔ پھر شیخ رشید نظر آئے اور نہ خوش گفتار علی درانی ،لدھڑ منارہ کی ’’ آخری آرام گاہ ‘‘ میں مدفن چوہدری الطاف حسین کا بھتیجا فواد چوہدری بھی ’’ آہنی جنرل ‘‘ کو چھوڑ کر مشرف بہ زرداری ہو گیا ۔بیرسٹر محمد علی سیف جو کبھی دبئی کی بلند و بالا عمارت میں جنرل کو لاکھوں ممبرز اور تنظیمی رہنماؤں کی تفصیلات بتایا کرتا تھا ’’ نظریاتی اختلافات ‘‘ کا شکار ہو کر الطاف حسین کی ’’ حق پرست ‘‘ جماعت میں شامل ہونا چاہتا ہے ۔پاک فوج کے کم اور مشرف کے لئے زیادہ ’’ نفس ناطقہ ‘‘ کے طور پر کام کرنے والے ’’ قریشی ‘‘ بھی کہیں غائب ہیں ۔ کراچی میں آسیہ اسحاق سیکرٹری اطلاعات کے طور پر اور مرغیوں کے کاروبار سے وابستہ ڈاکٹر امجد ’’ سعادت مند جنرل ‘‘ کے ساتھ رہ گئے ۔ خِدمات کے اعتراف یا قحط الرجالی کے باعث ڈاکٹر امجد ’’ مقبول پارٹی ‘‘ کے سیکرٹری جنرل بنا دئیے گئے ۔ جنرل نے ایسی بے وفاقی و تنہائی کا تصور کبھی خواب میں بھی نہ کیا ہو گا ۔ مگر یہ دنیا ایسی ہی ہے ۔

مفادات کے حصول کے لئے کچھ نامی گرامی خواتین و حضرات خود سیڑھی بن گئے تھے ۔ کچھ نے ’’ کریم جنرل ‘‘ ( KIND GENRAL)
کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حیدر آباد کی بی بی شاہ ، کئی عزیزائوں ، کئی طارقائوں کو ’’ بطور سیڑھی ‘‘ استعمال کیا اور جنرل کی بلند و بالا عمارت میں داخل ہو گئے ۔ آج جنرل ان سعادت مندوں کو بے وفا ،جھوٹے لوگ ، مفاد پرست اور نہ جانے کِن کِن ناموں سے یاد کرتا ہے ۔

آسیہ و امجد کی آواز پست ہے اس لئے ’’ بے چارے ‘‘ جنرل کو خود اپنی سعادت مندی ثابت کرنے کے لئے بیت اللہ کی چھت کی کہانیاں بیان کرنے اور آلِ رسول ﷺ ثابت کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ پرویز کی زندگی میں ٹھہراؤ نہیں ۔ آگرہ میں واجپائی ، ایڈوانی اور جسونت سنگھ کو ایسی سناتا ہے کہ لوگ واہ واہ کر اٹھتے ہیں ۔ پھر امریکہ کے دباؤ پر ’’ کشمیریوں ‘‘ سے دغا بازی و بے وفائی کا ایسا وار کرتا ہے کہ جیسا اُن کے کھلے دشمن بھارت نے بھی نہ کیا ہو گا ۔غیر مستقل مزاجی اور شخصی تضاد کے لئے صِرف کشمیر ہی نہیں بے شمار مثالیں موجودہیں ۔اُسے’’مجموعہ تضادات‘‘ کہنے میں کوئی برُائی نہیں۔

چک شہزاد کی ’’ محفوظ و پرسکون ‘‘ رہائش گاہ میں علماء سے ملاقات میں ایک جانب موصوف نے آلِ رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا اور دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے اپنے صفحے پر اپنے ’’ کتے چی ‘‘ کی تصویر آویزاں کی ۔ غم تنہائی دور کرنے کے لئے موصوف ’’ چی ‘‘ سے شغل فرما رہے ہیں ۔ تصویر کے نیچے موصوف نے تحریر کیا ہے کہ میری ماں ’’ بیگم زریں مشرف ‘‘ اِسے دنیا کا خوبصورت ترین کتا کہتی ہیں ۔ جس کے جواب میں ان کے فیس بک دوست سلمان فاروق ملک کی ایک اہم شخصیت کا نام لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ جناب آپ ’’ اُس شخصیت ‘‘ کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ جس کے جواب میں ان کے دوسرے فیس بک دوست عادل کھوکھر نے لکھا ہے کہ مشرف صاحب کتوں سے نمٹنا اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ارسلان بٹ نے تبصرہ کیا ہے کہ کتے کے ساتھ کتے کا کوئی جوڑ نہیں ۔ ایک اور دوست لکھتا ہے کہ کاش قوم بھی کتے کی طرح آپ کی وفادار ہوتی ۔ فوزیہ ملک نے تبصرہ کیا ہے کہ مشرف کو گالی دینے والا بے غیرت ہے ۔ علی حشام شاہ نے ملک کی اُسی اہم شخصیت کا نام لکھتے ہوئے کہا کہ جنرل ( ر ) مشرف نے انہیں قابو کیا ہوا ہے ۔ ندا رشید بھی اُسی اہم ملکی شخصیت کا نام لکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ اُس کو کتے سے ملاتے ہیں وہ تو خنزیر ہے ۔ فرحان علی نے لکھا ہے کہ مشرف صاحب آپ ملک واپس آ گئے ہیں آپ کو کتوں سے واسطہ پڑے گا ۔ کتے آپ کے خلاف ہیں ۔ رائو محسن نے اُس اہم شخصیت کا نام لیتے ہوئے لکھا ہے کہ جب آپ اسلام آباد کے لئے نکلے تھے تو ہمیں معلوم تھا کہ آپ اُس سے ضرور ملیں گے جبکہ ان کے ایک اور دوست نے تبصرہ کیاکہ جناب آپ کی والدہ کتے کو خوبصورت کہتی ہیں یا آپ کو۔ ملک اسحاق احمد جن کے کمنٹس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ پرویز مشرف کے اس فیس بک پیج کے ایڈمنسٹریٹر ہیں ،فیس بک پر کتے کی تصویر لگانے کی جوازیت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ کون اِس کتے کا موازنہ کس سے کرتا ہے اور بھونکنے والے کتے کبھی کاٹا نہیں کرتے یہ جو بھونکتے ہیں اُن کے منہ میں وہ ’’مشرف‘‘ ہڈی نہیں دے پائے ۔جن کے وفادار بن رہے ہیں آپ ان کے منہ میں ہڈی کے ساتھ کباب رکھ دو اور ساتھ میں تھوڑی سی چٹنی تاکہ یہ ان کے حلق سے نیچے اتر جائے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ موصوف کی رہائش گاہ پر دفاع و سراغ رسانی کے لئے اکثر ایک طیارہ محو پرواز بھی رہتا ہے ۔ ایک قابل اعتماد ومعروف خبررساں ادارے نے خبر کے ساتھ ساتھ طیارے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں ۔ بظاہر حکومت اور اُس کے ماتحت سلامتی کے ادارے مشرف کی سیکیورٹی سے انکاری ہیں مگر اِس جھوٹ سے پردہ اٹھنے کے لئے ہمیں وِکی لیکس کی ’’ نئی لیکس ‘‘ کا انتظار کرنا ہو گا ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جس’’ذات شریف و بااختیار‘‘ کی حتمی منظوری کے بعد موصوف’’نئے خاموش این آر او‘‘کی بدولت واپس تشریف لائے ان سے متعلق جنرل کے صفحے پر لوگوں کی آراء آپ نے ملاحظہ فرما لیں۔محسوس یوں ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف سمیت اندر سے سب ملے ہوئے ہیں اور بظاہر شور شرابہ کرکے لوگوں کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔

بلاول نوڈیرو میں ’’ مزار شہداء ‘‘ پر منعقد ہونے والی تقاریب میں اپنی ماں اور نانا کے قاتلوں کو کٹہرے میں لانے اور انصاف کے حصول کی بات کرتا رہاہے ۔ مگر کسے معلوم نہیں غاصب جنرل کے خلاف آئین توڑنے اور بے نظیر کے قتل کی کارروائی نہ کرنے کا ذِمہ دار کون ہے ؟؟

جنرل پرویز مشرف کے ’’ آئینی و آہنی ‘‘ اقدامات کے خلاف انصاف فراہم کرنے والی سب سے بڑی عدالت میں مقدمہ شروع ہو چکا ہے ۔ عدالتی فیصلے اپنی جگہ مگر ’’ بہادر جنرل ‘‘ کِسی عالمی ضمانت کے بغیر کِسی صورت پاکستان نہ آتے ۔ اُس ضمانت نامے کا کیا ہو گا جو خادم اعلیٰ کے مشورے نہیں بلکہ ’’ بڑے خادمین ‘‘ کے حکم پر تیار کیا گیا ؟؟ ضمانت نامہ جس کے باعث جنرل کے دفاع کے لئے اُس کے گھر پر طیارے پرواز کرتے ہیں اور میاں نواز شریف تک کی ’’ زبان بندی ‘‘ ہو گئی ۔

پرویز مشرف صاحب قرآن میں میرا رب کہتا ہے کہ ’’ بے شک میری پکڑ بڑی سخت ہے ‘‘ قوم کے بیٹے ہی نہیں بیٹی بھی آپ نے غاصب امریکا کو بیچ دئیے ۔ حق گوئی کے باعث مجھ ناچیز جیسے سینکڑوں لوگ آپ کے انتقام کی بھینٹ چڑھ کر نہ صرف تشدد کا نشانہ بنے بلکہ جن کے پیارے ’’ گم ‘‘ کر دئیے گئے اور میرے چاند سمیت سینکڑوں کو گم کر کے آپ کے مصاحبین نے انہیں ’’طالبان‘‘ کی فہرست میں ڈال دیا ۔ جنرل صاحب ’’ چی کتا ‘‘ آپ کو سکون نہیں دے گا ۔ سکون استغفار اور میرے رب کی یاد میں ہے ۔ روکے گڑگڑا کے معاف کرنے والے کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ شاید تمہاری بخشش ہو جائے ۔ آل رسول ﷺ کے گھمنڈ سے نکل جاؤ ۔ آپ جیسے سید سے متعلق ہی شاید صوفی بزرگ و شاعر میاں محمد بخش نے کہا تھا کہ

تیئی سیددی چوڑا منگے،تے فیر دینداں شرماوے

Archives