اپنے مجرموں کو پہچانئے!

اپنے مجرموں کو پہچانئے!

شکیل احمد ترابی

قومیں اپنی بقاء اور سلامتی کے لئے آزمائش و ابتلاء کے کئی آبلہ پا سفر طے کرتی ہیں ۔ جہد مسلسل اور قربانیاں قوموں کو عروج بخشتی ہیں ۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جس کے بہادر اور غیور عوام اس کی تخلیق سے آج تک مخالفتوں ، مخاصمتوں اور بیرونی و اندرونی سازشوں کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ایک دور تھا جب ہمیں صرف بیرونی خطرات درپیش تھے ۔ تب اللہ تعالیٰ کے عظیم عطیے کے لئے میری سپاہ کے عظیم بیٹے اپنے سینے پیش کر کے اور خون دے کر اس کی حفاظت کرتے تھے ۔ تب صرف میڈم نور جہاں ہی نہیں ، قوم کی ہر ماں اور بیٹی یہ کہتی تھی کہ ’’ اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے ‘‘

غیروں کی مکاری اور اپنوں کی عیاری نے سازشوں کے ایسے بیج بوئے کہ جو سپاہ قابل فخر تھی ۔ جس پر لوگ جان و مال دیوانوں و فرزانوں کی طرح لوٹاتے تھے ۔ آج قوم کے قیمتی سرمائے کا بیشتر حصہ اس سپاہ اور خاص کر اس کے سالاران کی حفاظت پر خرچ کیا جا رہا ہے عاقبت نا اندیش بعض جرنیلوں کے سبب میری ساری سپاہ پر طعنہ زنی کی جاتی ہے ۔ بلا شبہ جمہوریت بہترین طرز حکمرانی ہے ، مگر یہ کیسی جمہوریت کہ اکثریت حاصل کرنے والوں کو ہم نے جیلوں میں ڈال کر ، ملک کو دو لخت کر کے قوم کو بے وقوف بنانے کے لئے ہم نے جمہوریت کے راگ الاپے ۔ کسے معلوم نہیں کہ ملک کا پہلا سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کون تھا ۔ جی ہاں اس ملک کی سب سے بڑی ’’ جمہوری ‘‘ پارٹی کا بانی سربراہ ۔ پانچ بار اس ملک کے ناخواندہ اور سادہ لوح عوام نے اس پارٹی کو اقتدار بخشا ۔ ایک بار مارشل لاء اور دو بار اس کا اقتدار آٹھویں ترمیم کی نذر ہو جاتا رہا ۔ دل کو تسلی دینے کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پانچویں بار بھی یہ پارٹی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچی تھی مگر اس حقیقت سے انکار کون کر سکتا ہے کہ جنرل مشرف نے جن کی غلامی اختیار کر کے طویل ترین حکومت کے مزے لوٹے تھے ، جب ان غیر ملکی آقاؤں نے محسوس کیا کہ ان کا ’’ محبوب ‘‘ اپنے دیس میں غیر مقبول ہو چکا ہے تو انہوں نے اس محبوب کے ذریعے این آر او جمہوریت کا اہتمام کیا ۔ کسے معلوم نہیں کہ این آر او کے لئے پس پردہ دو طاقتور ممالک کے وزراء خارجہ کونڈو لیزا رائس ، ڈیوڈ ملی بینڈ اور نہ جانے کِس کِس کے بینڈ ’’ بجتے ‘‘ رہے ۔

بیدار مغز قیادتیں قوموں کو بحرانوں سے نکال کر زوال نہیں عروج کی منزلوں سے ہمکنار کرتی ہیں ۔ ماضی کی نہیں حال کی مثال ہمارے سامنے تُرکی کی ہے ۔ جن کو ہم سے زیادہ فوجی سازشوں و بغاوتوں کا سامنا درپیش رہا ۔ ترکوں نے بیدار مغز اور امین قیادت کا انتخاب کیا جس نے نہ صِرف فوجی بغاوتوں کی راہیں مسدود کر دیں بلکہ زوال پذیر معیشت کو عروج بخش دیا ۔ طیب ارزدگان نے 2002 ء میں جب اقتدار سنبھالا تو ترکی کی فی کس آمدن 3311 امریکی ڈالر تھی ۔ 2011 ء میں جب وہ تیسرے انتخابی معرکے میں اترے تو فی کس آمدن 10 ہزار ڈالر تھی ۔ اِس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ 2023 ء میں ترک جمہوریہ کے 100 سال مکمل ہونے تک ہم یہ آمدن 25 ہزار فی کس تک لے جائیں گے ۔ عالمی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق 2011-12 ء میں فی کس آمدن 15 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور توقع یہ ہے کہ 2013 ء کے اختتام تک فی کس آمدن 19 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی ۔ طیب کا خواب 2023 ء میں 25 ہزار ڈالر کا تھا مگر خلوص ، دیانت داری اور سب سے بڑھ کر بیدار مغزی کی بدولت محسوس یوں ہوتا ہے کہ خواب کو حقیقت بننے کے لئے 2023 ء کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا ۔

پاکستان میں خدا کی کون سی نعمت ہے جو اُس نے ہمیں نہ بخشی ہو ۔ بہترین فصلیں ، پھل ، معدنیات ، چاروں موسم اور زہین ترین قوم ۔ مگر ہمارا المیہ تو یہ کہ حکمران فوجی ہوں یا سول سب نے بیورو کریسی کے ساتھ مل کر مادر وطن کو لوٹا ۔ ایک توقیر صادق 80 ارب روپے کی بدیانتی کا مرتکب ہوا ۔ اُسے پاکستان کے اداروں کے حوالے کرنے میں کون سا امر مانع ، کچھ پوشیدہ ہے ؟؟ ہرگز نہیں ۔

حفیظ شیخ ہر معاملے پر جی حضوری کر کے ’’ صاحب ‘‘ کو خوش اور ملک کو تباہ کرتے رہے ۔ ’’ کسی معاملہ پر ‘‘ اُن کی ناں سے محسوس ہوا کہ جمہوریت خطرے میں ہے ، جمہوریت کو خطرے سے بچانے کیلئے ’’ مرد حُر ‘‘ نے حفیظ شیخ سے نہ صرف وزارت بلکہ سینیٹر شپ بھی لے لی ۔ اُن کی جگہ اپنے دست راست سلیم مانڈھی والا کو وزیر خزانہ بنایا ۔ جنہوں نے کئی مہینوں کی مسافت دِنوں میں طے کی اور قومی خزانے کو ’’ منڈ ‘‘ کے رکھا ۔ موصوف نے ایک اخباری انٹرویو میں خود اقرار کیا کہ حکومت پاکستان نے ’’ ضرورت مندوں ‘‘ کی حاجات پوری کرنے کے لئے 600 ارب کی رعایت ( REBATE ) دِی ۔ کیا کوئی پوچھنے والا ہے کہ جناب والا یہ کس کے والد محترم کی دولت تھی جو اندھا بانٹے ریوڑیاں کی مِثل تقسیم ہوتی رہی ۔ گیلانی کے پاس تو بہت مہلت تھی اس کے باوجود موصوف نے ’’ خیر ‘‘ جمع کرنے کے لئے پورے خاندان کو ہمہ تن ’’ مصروف عمل ‘‘ رکھا ۔

راجہ کے پاس تو دن ہی کم تھے ، اس لئے موصوف نے راتوں کو بھی جاگ جاگ کر ’’ عبادت گزاری ‘‘ کی ۔ فی دن آمدن کا حساب لگایا جائے تو موصوف کسی صورت گیلانی سے پیچھے نہیں رہے ۔بحریہ کے ٹھیکیدار ، مظفر ٹپی ، سراج درانی اور نہ جانے کون کون سا ’’ نورانی ‘‘ نہیں جس نے ہزاروں ایکڑ زمینوں پر قبضے نہ کئے ہوں ۔ ان سب کو کِس کی تائید و پشت پناہی حاصل تھی ؟؟ سب جانتے و پہچانتے ہیں ۔ایک’’روزنامہ ‘‘ کی خبر کے مطابق اُس ’’ منصوبہ ساز ‘‘ نے تو ٹھیکیدار کے ذریعے کروڑوں کا چیک اُن کی ’’ جیب ‘‘ میں بھی ڈال دیا جو ’’ قومی سلامتی ‘‘ کے لئے خطرہ محسوس کریں تو ’’ جوانوں ‘‘ کو متحرک کر دیتے ہیں ۔

اے این پی اور ایم کیو ایم کے قبضے ، لوٹ مار ، قتل اور غارت گری کِس سے پوشیدہ ہے ۔اس حمام میں تو بلوچستان کے حکومت میں شامل بعض علمائے کرام بھی پیچھے نہ رہے ۔ پنجاب کے خادم اعلیٰ ، تو کیا ان کی زنبیل میں بس ’’ میٹرو بس ‘‘ ہی رہ گئی تھی ۔ فیض و جالب کی شاعری سے تو لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا ؟ جناب والا آپ تو بہترین منتظم ہونے کے دعویدار تھے ۔ آپ کا حسن انتظام تو سیالکوٹ میں نظر آ گیا تھا جہاں بربریت کی انتہا کر کے دو نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔ ایسی بربریت کہ جس نے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کیا کہ ایسی سفاکیت کی مثال تو جنگلوں میں بھی نہیں ملتی ۔ آپ کے ’’ بہترین نظام ‘‘ سے ابھی تک مجرموں کے ساتھ کیا سلوک ہوا کسی کو معلوم نہیں ۔ اس ’’ حسن انتظام ‘‘ کے کیا کہنے کہ چھوٹے میاں صاحب آپ بدترین واقعہ کے ذمہ دار ’’ باوقار پولیس آفیسر ‘‘ کے خلاف کارروائی نہ کر سکے اور موصوف نے اس 23 مارچ کو صدر پاکستان سے ’’ میڈل ‘‘ بھی وصول کر لیا ۔

عوام کا خیال ہے کہ 63,62 کی دفعات بھی آئین میں محض نمائش کے لئے شامل کی گئی ہیں ۔ قومی دولت کے لٹیروں ، جعلی ڈگری ہولڈروں ، ٹیکس چوروں اور قاتلوں کا راستہ ہر دو دفعات نہیں روک رہیں ۔ دیانت دار مگر ضعیف چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم بھی شاید کوئی بڑا معجزہ نہ دکھا سکیں ۔ ایسے مایوس کن حالات میں لوگ فوجی حکمرانوں کو یاد کرتے ہیں ۔ مگر اس سادہ لوحی پہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ جس کے سبب ہوئے بیمار اسی عطار کے لونڈے سے بار بار شفا یابی کی اُمید کے کیا معانی ہیں ۔ ؟

’’ پہاڑوں ‘‘ پر بیٹھے لوگ وڈیو پیغامات کے ذریعے انقلاب کی بات کرتے ہیں ، وہ جن کے ’’ ’’ جہاد عظیم ‘‘ نے اس پاک سرزمین کی چولہیں ہلا کے رکھ دی ہیں ، لٹیروں ، فوجی طالع آزماؤں اور نہ طالبان کا پاکستان چاہیے بلکہ ہمیں ایک ایسا جمہوری پاکستان چاہیے جہاں محمد عربی ﷺ کا نظام رائج ہو ۔ ایسا نظام جو بھوک بھی مٹا دے ، عزت نفس بھی اور چادر و چار دیواری بھی دے ۔

بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ گولی اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری سے نظام حکومت تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ ایسی سوچ کے حامل طبقات کو یاد رکھنا چاہیے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے زمانہ قیام مکہ کے آخری تین سال ایسے تھے جن میں مدینہ طیبہ کے باشندوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ایمان لے آئی اور اس نے آپ ﷺ کو دعوت دی کہ آپ ان کے شہر میں سب مسلمانوں کے ساتھ تشریف لے آئیں ۔ جناب صدیق ؓ کی بیٹی سیدہ عائشہ ؓ نے کیا خوب بات کہی کہ ’’ مدینے کو قرآن نے فتح کیا ہے ‘‘ یعنی کوئی تلوار نہیں تھی اور نہ کوئی جابرانہ قوت جس سے مدینے کے لوگ اسلام کے پیرو بنے ۔ حضور ﷺ مہاجرین کے ساتھ تشریف لائے ، ایک مربی کا کردار سرانجام دیا اور پھر مختصر عرصہ میں انصار و مہاجرین نے مل کر ریاست مدینہ قائم کی ۔ جس نے رہتی دنیا تک کے لئے ایک نظام زندگی چھوڑا۔

جناب چیف جسٹس کے بعض فیصلوں پر لوگوں کے تحفظات اپنی جگہ ، وہ پیغمبر نہیں وہ بھی ایک انسان ہیں کہ جنہوں نے بے شمار جرات مندانہ فیصلے کئے ان کے بعض فیصلے ایسے ہو سکتے ہیں جن پر کسی کی کوئی دوسری رائے ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ اس گئے گزرے معاشرے میں ان کے فیصلے سنہری حروف میں لکھے جائیں گے ۔ ذرائع ابلاغ کی خامیاں اپنی جگہ مگر لوگوں کو باشعور اور با خبر بنانے میں ذرائع ابلاغ نے اہم فریضہ سرانجام دیا ۔ مایوسی کفر ہے ۔ اللہ نے ہمیں ایک اور موقع عنایت کیا ہے کہ ہم اپنے صحیح نمائندوں کا انتخاب کر کے اپنی تقدیر بدل دیں ۔ جنہو ںنے ہمیں لوٹا ، قوم کی عزت امریکہ کے پاس رہن رکھ دی ۔ جن کے باعث ہمیں بھوک اور ننگ کا سامنا ہے ۔ جن کی وجہ سے ہم پورے عالم میں باعثِ شرم ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے مجرموں کو پہچانیں ۔ جس دن ہم نے مجرم پہچان لئے ہم فلاح پا جائیں گے ۔

Archives