تاریخ ساز مواقع !

تاریخ ساز مواقع !

شکیل احمد ترابی

تاریخ ساز مواقع افراد اور اقوام کو بار بار میسر نہیں آتے ، پاکستان کی چار سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ( ن ) و ( ق ) اور اے این پی کو قدرت نے بہترین موقع عطا کیا تھا کہ وہ بالغ نظری ، وُسعت قلبی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتیں ۔ میرا امیدوار غیر جانبدار ، تمہارا جانبدار ، میرا نیکو کار اور تمہارا گناہ گار ۔ فلاں نے مشرف کا پی سی او حلف نہیں پڑھا اور فلاں نے ضیاء الحق کا پڑھا تھا ۔ تین دن تک چوٹی کے آٹھ سیاست دانوں نے ’’ اُٹھک بیٹھک ‘‘ کے سوا قوم کو کوئی خوشخبری نہ دی ۔ ’’ فخرو بھائی ‘‘ اور الیکشن کمیشن کے دیگر تین افراد نے کثرت رائے سے جسٹس میر ہزار خان کھوسو کو نگران وزیر اعظم مقرر کردیا ۔ فخرو بھائی کا منصفانہ انتخابات اور نگران وزیر اعظم کھوسو کا غیر جانبدارانہ کردار اور منصفانہ انتخابات کے لئے پُر امن فضا اور ’’ حالات ‘‘ فراہم کرنے کے حوالے سے امتحان شروع ہو چکا ہے ۔ سیاسی و صحافتی شخصیات نے کھوسو کے تقرر کے فوری بعد ماضی میں اُن کی جانبداری اور کمزور شخصیت کے حوالے سے حرف زنی کی ہے ۔مگر ایوان صدر میں ’’ مرد حُر ‘‘ کی موجودگی میں کون کتنا مُنصف اور کون کتنا مضبوط اگلے چند ہفتوں میں سب کو ’’ لگ پتہ جائے گا ‘‘۔

جُمعہ کی رات جب نگران وزیر اعظم کی تقرری کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کی آخری نِشست جاری تھی عین اُسی موقع پر میں بھی اُن دو درجن صحافیوں میں شامل تھا جو مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں بھارتی ہائی کمشنر شرت سبھروال کے عشائیے میں موجود تھے ۔ سفارتی تقاریب میں شرکت کے مواقع آئے روز میسر آتے رہتے ہیں مگر بھارت کے ہائی کمیشن کی کِسی تقریب میں میری یہ پہلی شرکت تھی ۔ دھیمے اور ملنسار شرت سبھروال کے سامنے اِس سے قبل کویت کی سفارتی تقریب میں ہزیمت کا سامنا کر چکا تھا جب پاکستان کے بظاہر مُحب مگر درحقیقت بے وقوف دوست صحافی نے سفارتی اور بنیادی انسانی آداب کو بالائے طاق رکھتے اُن سے غیر مودبانہ اور غلیظ لہجے میں گفتگو کی تھی ۔ ہمارے مہربان پیغمبر ﷺ نے تو پتھر کھا کر بھی لوگوں کو گالیاں نہیں ہدایت کی دُعائیں کیں تھیں ۔

بھارتی سفیر کے گھر منعقد ہونے والی تقریب میں وہ لمحہ تو بُھلائے نہیں بُھولے گا جب ایک انتہائی سینئر صحافی نے سبھروال پر فقرہ چُست کیا کہ آپ کی کرکٹ ٹیم میچ جیت گئی یا ہماری ٹیم نے اُسے جِتا دیا ۔ شرت سبھروال بظاہر مُسکرا دئیے مگر ناگواری اُن کی پیشانی سے عیاں تھی جب اُنہوں نے کہا کہ بھائی ہمارے متعلق تو جو چاہے بدگمانی کر لو مگر اپنی ٹیم سے متعلق ایسے جملے کہہ کر اُسے مشکوک تو نہ بناؤ جو دوسرے ملکوں میں جا کر وطن کی پہچان اور عزت ہوا کرتے ہیں ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے اپنے صحافی بھائی طارق چوہدری اور جناب عبد الودود قریشی کو مخاطب کر کے کہا کہ ’’ نادان ‘‘ کے سوال سُننے سے تو بہتر تھا کہ زمین پھٹتی اور ہم اِس کے اندر چلے جاتے، شرمندگی کے مناظر سے قطع نظر ہر ایک نے اپنے اپنے فہم کے مطابق گفتگو کی ۔

ایک صحافی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تلخی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے ۔ آپ کوئی ایسی رپورٹس بنا کے اپنے مُلک بھیجیں جس سے حالات ایک بار پھر معمول پر آ سکیں ۔ سفارتی تقاریب کی کوریج کا وسیع تجربہ رکھنے والے ساتھی نوید اکبر نے دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کے بحالی سے متعلق پوچھا تو بھارتی سفیر نے مُسکراہٹ کے سوا کچھ نہ کہا اور پہلے سوال پر منجھے ہوئے بھارتی سفارت کار نے کہا کہ آپ میری اہمیت کچھ زیادہ بڑھا رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں ادارے اِنتہائی فعال ہیں جن کی رپورٹس پر حکومت پالیسی بناتی ہے اور صدارتی خطاب کے بعد ہمارے وزیر اعظم پالیسی بیان دے چکے ہیں ۔

راقم نے اِس موقع پر گزارش کی نمائشی اقدامات اور امن کی آشاؤں سے نہیں بلکہ بنیادی تنازعات کے حل ، برداشت اور حقائق کو تسلیم کرنے سے حالات معمول پر آ سکتے ہیں اور بھارتی وزیر اعظم کے الفاظ یاد کرائے کہ دوست تبدیل ہو سکتے ہیں ہمسائے نہیں ۔ بنیادی تنازعات کے حل کی بات کی تو سفارت کار مُجھے غور سے دیکھ رہے تھے ۔ اُنہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ بنیادی تنازعے سے میری مُراد کیا ہے ۔ کیونکہ جوں ہی سفارت کار کے گھر پہنچے تو میرے مہربان دوست با خبر صحافی حامد میر مزاحاً بھارتی سفیر کو کہہ رہے تھے کہ شکیل ترابی بنیاد پرست صحافی ہے جس پر میں نے بروقت میر صاحب کی تصیح کی کہ بنیاد پرستی کا تو مجھے معلوم نہیں مگر میرا تعلق کشمیر سے ضرور ہے ۔

اُن خفیہ والوں جن کو سارا زمانہ جانتا ہے کا بھارتی تقاریب میں جانے والے صحافیوں سے برتاؤ اور کئی ناخوشگوار واقعات راقم کے علم میں تھے ۔ مگر اِس تقریب میں جا کر مُجھے اپنے ان ’’ شیر جوانوں ‘‘ کے ’’ طریق تفتیش ‘‘ سے سخت اُلجھن ہوئی کہ جو وفاقی دارالحکومت کے سرکردہ صحافیوں کو بھی پہچانتے نہیں تھے اور گاؤں دیہات کے کِسی پولیس تھانے کے حوالدار جو ملزمان سے جس انداز میں تفتیش کرتا ہے کی طرح صحافیوں سے اُن کے کوائف معلوم کر رہے تھے ۔ ہمارے اداروں میں اکثرذِمہ دار اور ذہین لوگ اہم عہدوں پر تعینات ہیں ۔ اُنہیں اِس ’’ بے ڈھنگے پن ‘‘ کا کوئی باوقار علاج فی الفور دریافت کرنا چاہیے تاکہ ہم مستقبل میں ناخوشگوار واقعات سے بچ سکیں جو مُلک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔ تقریب میں اِن ’’ بے ڈھنگے خفیہ والوں ‘‘ کا ذِکر آیا تو میں نے اور حامد میر نے 2001 ء میں بھارت میں آگرہ سمٹ کے موقع پر دہلی کے مُورایا شیرٹن ہوٹل سے کشمیر کی حُریت کانفرنس کے دفتر کے دورے کی یادیں تازہ کِیں جب قائد کشمیر سید علی گیلانی اور دیگر راہنماؤں سے ملنے ہم دونوں گئے تھے ۔ ہم نے رکشے میں سوار ہوتے ہوئے ارادہ تبدیل کر لیا کہ کِسی بھارتی خفیہ ایجنسی کی گاڑی رکشا کو آسانی سے ’’ کوئی ٹھوکر ‘‘ مار سکتی ہے ۔ ہم نے فوکسی ٹیکسی کرائے پر لی اور حریت دفتر پہنچے ۔ یقیناً اُن کی ایجنسی کے اہلکاروں نے ہماری نقل و حرکت نوٹ کی ہو گی جو کہ اُن کا فرض منصبی ہے ۔ مگر ہمیں اُس سارے سفر میں ’’ کسی خفیہ والے ‘‘ سے سابقہ پیش نہ آیا ۔پاکستان میں بھی ہمیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق خفیہ اداروں کی اصلاح کی فوری ضرورت ہے ۔

اتوار کے روز نگران وزیر اعظم کھوسو کے تقرر کے فوری بعد ’’ راجا کی بارات ‘‘ الوداعی گارڈ آف آنر جِسے ٹی وی چینلز نے براہ راست دِکھایا حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے رُخصت ہو گئی ۔ اِن ہی لمحات میں ’’ بہادر کمانڈو ‘‘ جو گیڈر کی طرح 19 اپریل 2009 ء کو مُلک سے بھاگ گیا تھا ازخود اختیار کی گئی جلا وطنی ختم کر کے مُلک واپس آ گیا ۔ موصوف ماضی میں کئی انٹرویوز میں فیس بُک کے ذریعے اپنے لاکھوں مداحین کا تذکرہ کرتے تھے ۔ ایم کیو ایم جس پر اپنے دور اقتدار میں اُنہوں نے بے پناہ ’’ نوازشات ‘‘ کی تھیں ۔ جن کے ذریعے 12 مئی 2007 ء کو منصف اعظم پاکستان جناب افتخار چودھری کے دورہ کراچی کو پامال کر کے درجنوں افراد کو قتل اور اگلے دن وکلاء کی ہڑتال کے موقع پر ایم کیو ایم نے بعض وکلاء کو زندہ جلا کے قتل کر دیا تھا ۔اُسی 12 مئی کی شام پارلیمنٹ کے سامنے وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی کی مدد سے کئے گئے جلسے میں مشرف نے کراچی کے افسوسناک واقع پر معذرت و افسوس کی بجائے اپنی قوم کو نہ ضِرف مُکے دکھائے تھے بلکہ اقتدار کے نشے میں اندھے ہو کر یہ تک کہا تھا کہ جو مُلک کا قانون توڑتا ہے اُس کا علاج ہم نے کراچی میں کردیا ۔ ’’ بہادر ‘‘ مشرف کئی گھنٹے تک کراچی ائیرپورٹ سے باہر تشریف نہ لائے ۔ باہر پہنچ کر ’’ مقبول لیڈر ‘‘ کو نہ ایم کیو ایم نظر آئی نہ لاکھوں مداحین ، درجنوں ڈھول بجانے والے اور سینکڑوں کرائے کے مزدوروں نے اُنہیں اُن کی ’’مقبولیت ‘‘ دِکھا دی ۔ائیرپورٹ پر ’’ شاندار استقبال ‘‘ دیکھ کر موصوف نے شام کو مزار قائد پر طے شدہ جلسہ ملتوی کر دیا۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ابھی تو ’’ مقبول ترین راہنما ‘‘ جناب مشرف آپ کو لال مسجد سمیت بہت سے ’’ دیگر کارناموں ‘‘ کے حوالے سے عدالتوں کا سامنا کرنا ہو گا ۔

پسِ خبر ! مشرف کی واپسی براہ راست دکھائے جانے کے مناظر روک کر چینلز نے تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان اور جماعت اِسلامی کے امیر جناب سید منور حسن کی پریس کانفرنس براہ راست دِکھائی ۔ ہر دو راہنماؤں نے مُلک سے بدیانتی کے خاتمے ، نا اہل قیادت سے چھٹکارے کے حوالے ایک دوسرے سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے کمیٹیوں کے قیام کی نوید قوم کو سنائی دی ۔

دونوں پارٹیوں کا ملک کی دفاعی ، خارجہ داخلہ پالیسی پر تقریباً ایک جیسا موقف رہا ہے ۔ اِن انتخابات میں ہر دو پارٹیوں کی قیادت نے وسعت قلبی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا تو آنے والے انتخابات میں قوم کو قابل ذکر تبدیلی نظر آئے گی ۔

Archives