اپنے معیار ، اپنے سچ

اپنے معیار ، اپنے سچ

شکیل احمد ترابی

انگریز کی عیاری ، ہندوؤں کی مکاری نے برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر رکھا تھا ۔ مسلمانوں کی اِس دِگرگوں صورت حال میں حضرت علامہ اقبال نے جاگتی آنکھوں مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا خواب دیکھا تھا ۔ خواب کو حقیقت بنانے کے لئے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے نا قا بل فراموش جدوجہد کی ۔ جان و مال عزت و آبرو سے بڑھ کر قیمتی اور کیا شے ہے ؟ سب کچھ تو قربان کر دیا گیا ، تب جا کر آزادی کی جنگ جیتی گئی ، خواب نے حقیقت کا رنگ دھارا اور مملکت پاکستان وجود میں آ گئی ۔

65 برس سے زائد بیت چکے ہم نے احسان فراموشی کا رویہ ترک نہ کیا ، چار موسم ، دنیا کا ہر طرح کا پھل ، اجناس ، قدرتی وسائل ، خوبصورت ترین علاقے اور ذہین ترین قوم ، کون سی نعمت ہے جو اس سرزمین کو پروردگار عالم نے نہ بخشی ہو ۔ مگر جرنیلوں ، سیاست دانوں اور بیورو کریٹوں نے اِسے چراگاہ سمجھ کر لوٹا ۔ قدرت نے ہمیں بار بار سنبھلنے کے مواقع فراہم کئے ، زلزلے اور سیلاب جیسے ہلکے جھٹکوں سے ہمیں سنبھل جانے کا پیغام دیا مگر ہم ہیں کہ اپنی روش بدلنے کو تیار نہیں ۔

قیام پاکستان کے بعد قرار داد مقاصد اور 1973 ء کا متفقہ اسلامی دستور ملک چلانے کے لئے بہترین اساس تھی ۔ مگر مقدس کلام کی طرح ہم نے اس آئین سے بھی کبھی استفادہ کی کوشش نہ کی ۔ مملکت کی 65 سالہ زندگی کا تقریباً نصف فوجی جرنیلوں اور بقیہ نصف کا بڑا حصہ سول آمروں کی آمریت کی نظر ہو گیا ۔

2008 ء سے 2013 ء کی اسمبلی اپنی مدت پوری کر گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بھلی ، گویا بدترین جمہوریت کا ایک دور مکمل ہوا ۔ آمر مشرف نے ملک کی تباہی اور اِسے غیروں کی غلامی میں دینے کے لئے ’’ کوئی دقیقہ ‘‘ فروگزاشت نہ کیا تھا ۔ مگر پیپلز پارٹی کے ’’مرد حُر ‘‘نے جمہوری دور میں غلامی کی سیاہ رات کے خاتمے کی بجائے اِس کے اندھیروں میں مزید اضافہ کیا ۔ پارلیمنٹ سے ملکی سلامتی کی قرار دادیں تو منظور ہو گئیں مگر رات ہی نہیں دن کے اُجالوں میں بھی میری ’’ آزاد ‘‘ مملکت کی سرحدی خلاف ورزیاں کی گئیں ۔ بے گناہ اور نونہال ڈرونز اور دیگر حملوں کا شکار ہوتے رہے ۔ عالمی استعمار کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگی ۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دفاتر میں قبرستانوں کی سی خاموشی طاری رہی ۔ ان دفاتر کو تو قبرستان بننا ہی تھا اس لئے کہ پاکستان میں چور چوکیدار بن گئے تھے ۔ ’’ چوکیداروں ‘‘ نے عالمی غنڈے کو کہا تھا کہ جو تمہاری مرضی ہے تم کرتے رہو ، بس ہمیں اتنا اختیار دے دو کہ ہم اپنی قوم کو ’’ بے وقوف مزید ‘‘ بنانے کے لئے بظاہر تمہارے سامنے احتجاج ریکارڈ کراتے رہیں ۔ زرداری تو ناحق بدنام ہوا ، جناب
کیانی جن کے پاس دفاع وطن کی کمان ہی نہیں حلفاً بھی پابند تھے کہ دشمن کے حملوں کا جواب دیتے مگر وہ بھی بیانات سے آگے نہ بڑھے ، NRO کی صورت میں جنرل کیانی نے مشرف کے نمائندے کے طور پر جس نظام اور قیادت کو ملک پر مسلط کیا تھا ۔ پانچ سال ملک سے زیادہ انہوں نے ’’ خائنوں اور بد دیانتوں ‘‘ کا مکمل پہرہ دیا اور ملک سے زیادہ اُن کا دفاع زیادہ مضبوط بنایا ۔ رحمان ملک نے دُرست مطالبہ کیا ہے کہ ’’ کیانی کو فیلڈ مارشل ‘‘ کا خطاب دیا جائے ۔ ایوب خان کو یہ ’’ اعزاز بخشا ‘‘ گیا تھا ۔ کیانی کی خدمات تو ایوب سے کہیں زیادہ ہیں ۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ’’ فیلڈ مارشل ‘‘ سے بہتر خطاب دینے کے لئے غور و خوض کیا جائے ۔

بہترین فرد جسٹس طارق پرویز کو متفقہ نگران وزیر اعلیٰ نامزد کر کے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ۔ اِیسی مثال وفاق اور دیگر صوبوں میں وقوع پذیر ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ یہ سطور شائع ہونے تک شاید ’’ نگران ‘‘ مقرر ہو چکے ہوں ۔ چیلنج نگرانوں سے زیادہ صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کا ہے ۔ جس مملکت کی دو تہائی سے زائد اکثریت اپنا نام لِکھ اور پڑھ نہ سکتی ہو اُس سے ووٹوں کے ذریعے ’’ بڑی تبدیلی ‘‘ کی اُمید دیوانے کے خواب سے بڑھ کر نہیں ۔ ایسی تبدیلی جو مُلک کی کایا پلٹ دے کو وہ سیاسی قیادت کیونکر لائے گی جس کی ’’ شبانہ روز ‘‘ کی ’’ جدوجہد ‘‘ کے نتیجے بدیانتی کا ننھا مُنا سا پودہ آج تناور درخت بن چکا ہے ۔

نظام کو جمہوری پٹڑی پر رکھنے کے لئے سب سے زیادہ کردار جناب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ادا کیا ۔ بظاہر جمہوریت کے رکھوالے اِسے بچانے کے لئے اپنے حق میں اشتہارات اور مضامین چھپواتے رہے مگر ایک بیدار مغز اور چابک دست منصف کے طور پر جو کردار افتخار چودھری نے ادا کِیا اُسے مستقبل کا مورخ کبھی فراموش نہیں کرے گا ۔

چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم گئے گزرے معاشرے میں اُمید کی ایک کرن ہیں ۔ کراچی کی حلقہ بندیوں جن پر انصاف فراہم کرنے والے سب سے بڑے ادارے سمیت ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا سے ہٹ کر ’’ فخرو بھائی ‘‘ ہر معاملے پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ آئین کی دفعہ 63,62 سمیت ابھی اُن کے ’’ عشق کے امتحان ‘‘ اور بھی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کو یقیناً بہت بڑے چیلنجز کا سامنا بھی ہے اور اُسے اپنا کردار ادا بھی کرنا ہے ۔ اِس ملک کے ذرائع ابلاغ بالخصوص ’’ الیکٹرانک میڈیا ‘‘ جس کی خرابیاں اپنی جگہ مگر جس کا 2007 ء کے غیر آئینی اقدامات کیخلاف اور عوام کو باشعور بنانے میں اہم کردار رہا ہے، کا اِن انتخابات میں سب سے اہم کردار ہے ۔

غیر جانبدار حلقے تو میڈیا کی کارکردگی سے مایوس ہیں ۔ ان حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ ایک ٹھیکیدار ریاض کے حرام کے مال کی ’’ چمک ‘‘ نے جن ’’ میڈیالارڈز ‘‘ کی آنکھیں چندھیا دیں تھیں ۔ اُن میڈیا لارڈز کے درپے تو اب بہت سے ’’ سیاسی ٹھیکیدار ‘‘ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے ۔ بڑے لِکھنے والوںکی اکثریت کے تو پہلے ہی ’’ اپنے معیار ، اپنے سچ ‘‘ تھے ، قلم زمینوں میں دفنا کر یار لوگوں نے ’’ کدالوں کے ذریعے ‘‘ سیاسی دہقانوں کے کھیتوں کی زرخیزی کے لئے کوئی لمحہ ضائع نہ کیا ۔ کدالیں ہاتھوں میں لئے یہ ’’ قلم کار ‘‘ پیشانیوں پر ” TO LET ” ( کرایہ کے لئے خالی ہے ) کی تختیاں سجائے ’’ ذرائع ابلاغ کے بازار حسن ‘‘ کے چوباروں پر کھڑے ’’ خریداروں ‘‘ کے منتظر ہیں ۔

ان وارداتیوں کے ’’ سچ کے نتیجے میں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ، ایم کیو ایم کے گناہ ، نیکی بن کر اور تحریک انصاف و جماعت اسلامی کی نیکیاں بھی گناہ بنا کر سادہ لوح عوام تک پہنچائی جا رہی ہیں ۔ آئین کی دفعہ 62,63 مجلس شوریٰ ( پارلیمنٹ ) کے اراکین کی اہلیت و نا اہلیت سے متعلق ہیں جن میں دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ کہا گیا کہ وہ گناہ کبیرہ سے اجتناب اور پاکستان کی ملازمت میں کِسی منعفت بخش عہدے پر فائز نہ ہو ۔ آئین کی یہ دفعات ماضی میں تو محض مذاق بن کر رہ گئیں تھیں ۔ عوامی حکومت نے اپنے خاتمے کے آخری دن چھٹی ختم کر کے اپنے بانی ذالفقار علی بھٹو کی روایات کو زندہ کر کے رات 12 بجے تک ’’ عوامی خدمت ‘‘ کے فرائض سرانجام دئیے ۔

سب سے زیادہ منفعت تو اُس کو پہنچی ، جو مملکت کے اہم ترین عہدے پر براجمان ہے ۔ جس کے ’‘ نورانی چہرے ‘‘ کو مملکت کے سربراہ کے طور پر ہم نے کم از کم ستمبر 2013 ء تک دیکھنا ہے ۔ آئے روز اقبال ، جالب و فیض کے کلام پڑھنے والے ، ڈرامائی انداز میں مائیک گرانے والے جنہوں نے علی بابا چالیس چور کی گردان گزشتہ سالوں میں کی ، وہ اب اپنے ساتھ شامل ہونے والے ’’ زرداری گناہ گاروں کو ’’ پارسائی ‘‘ کی سندیں دے رہے ہیں ، ان کے بھائی جان آئے روز آقائے نامدار محمد عربی ﷺ کے روضے کی جالیوں کو پکڑے گِڑ گِڑاتے دکھائی دیتے ہیں ۔

جی ہاں بھائی جان میاں محمد نواز شریف کی کوئی ذِمہ داری نہیں کہ ٹکٹ جاری کرنے سے قبل ایک دفعہ وہ 62,63 کو پڑھنے کی زحمت گوارہ کر لیں یہ ذِمہ داری صرف ’’ فخرو ‘‘ اور ذرائع ابلاغ کی کیوں ہے ؟؟ ہمیں کِسی سرکاری و نیم سرکاری اہلکار کی صفائی بیان کرنا مطلوب نہیں یہ اہلکاران ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہیں اپنے دفاع میں بذات خود بہت کچھ کر سکتے ہیں مگر ضمیر نام کی چیز ہمیں مجبور کئے ہے کہ وہ زبان دراز و ذہین خاتون جو پارلیمنٹ کی کمیٹیوں اور ’’ ٹاک شوز ‘‘ میں بظاہر ایک ماڈل و اداکارہ جو کہ ایک بڑے سرکاری ادارے کے مینجنگ ڈائریکٹر کی مطلقہ ہے کے حقوق کی جنگ لڑتی رہی ، جس نے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل تک بھیجنے کی بات کی وہ ’’ محترمہ اور اُس کا عاشق زار ‘‘ تو آج کل روزہ رسول ﷺ کی جالیوں کو چومنے والے میاں صاحب کے ہاں نظر آ رہے ہیں ۔ جن کی بے ہودہ گفتگو کی ریکارڈنگ اُس وقت انٹرنیٹ پر ’’ ماہرین ‘‘ نے چڑھائی جب ’’ محترمہ نے ٹھیکیدار کے ساتھ ساتھ ڈیفنس ہاؤسنگ کے ٹھیکیداروں ‘‘ سے متعلق گٹھ جوڑ بے نقاب کیا ۔

باوثوق ذرائع کہتے ہیں کہ میاں صاحب ’’ محترمہ ‘‘ کو ٹکٹ نہیں دیں گے ۔ مگر اِس بات پر یقین تو اُس لمحے آئے گا جب میاں صاحب پریس کانفرنس کرکے کم از کم یہ اعلان کریں کہ ’’ صرف محترمہ نہیں اُن کے ارب پتی ‘‘ ٹین ایجر عاشق زار قبیل کے کِسی فرد کو ٹکٹ نہیں دوں گا جو 62,63 پر پورا اُترتا نہ ہو ۔

62,63 کا سب سے بڑا سوال تو عمران خان سے بھی ہے جو ’’ تبدیلی کی سونامی ‘‘ کی بات کرتے ہیں اُن کی پارٹی کی مرکزی لیڈر کی امریکہ میں مقیم بیٹی کی مغربیوں کی تقلید میں زچگی کے قریب ’’ پیٹ ‘‘ کی سوشل میڈیا پر تصاویر کے ساتھ ساتھ وہی قصوری ، چٹھے ، مخدوم اور قریشی ہیں جو علاج کے نام پر پاکستان میں بیماریاں پھیلاتے رہے ہیں ۔

تبدیلی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے عوامی رہنماؤں سے گزارش ہے کہ فخرو ، میڈیا اور جناب چیف جسٹس ہی سے نہیں خاموشی کے لمحے دستیاب ہوں تو خود اپنے آپ سے بھی کچھ سوال کرو ،

مجھ  سے  نہ  پوچھ  مُلاں سے  نہ پوچھ
اپنے مَن میں ڈوب کے پا جا سراغِ زندگی

Archives